ہجرت نبوی کا نواں سال

دجال کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاایک خطبہ

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ، فَخَفَّضَ فِیهِ وَرَفَّعَ، حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِی طَائِفَةِ النَّخْلِ، فَلَمَّا رُحْنَا إِلَیْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِینَا، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟» قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً، فَخَفَّضْتَ فِیهِ وَرَفَّعْتَ، حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِی طَائِفَةِ النَّخْلِ، فَقَالَ:غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِی عَلَیْكُمْ، إِنْ یَخْرُجْ وَأَنَا فِیكُمْ، فَأَنَا حَجِیجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ یَخْرُجْ وَلَسْتُ فِیكُمْ، فَامْرُؤٌ حَجِیجُ نَفْسِهِ وَاللهُ خَلِیفَتِی عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ،

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہےایک دن صبح کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کاذکرکیاکبھی اس کوبہت حقیرظاہرکیا(تاکہ مسلمان مایوس نہ ہوجائیں  )اورکبھی اس کے فتنہ کوبہت بڑافتہ بیان کیا(تاکہ مسلمان بے خوف نہ ہوجائیں  )آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اتنے متاثرہوئے کہ انہیں  ایسامحسوس ہونے لگاگویادجال نخلستان کے کسی حصہ میں  قریب ہی موجود ہے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت خوفزدہ ہوئے اوریہ کیفیت شام تک برقراررہی)شام کوجب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہوئے توآپ ان کے چہروں  سے پہچان گئے کہ وہ بہت خوفزدہ ہیں  ،آپ نے فرمایاتمہاراکیاحال ہے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے دجال کاذکرکچھ اس طرح کیا ہے کہ ہمیں  ایسامحسوس ہونے لگاکہ دجال یہیں  کہیں  نخلستان میں  چھپاہواہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے دجال سے زیادہ تم پراورباتوں  کاخوف ہے اگر دجال نکلا اور میں  موجودہواتومیں  اس سے جھگڑلوں  گا،تمہاری نوبت ہی نہیں  آئے گی اوراگرمیں  موجودنہ ہواتوپھرہرمسلمان اس سے جھگڑلے گااوراللہ ہرمسلمان کے لئے میرا خلیفہ ہے(یعنی میرے بعدوہ براہ راست مسلمانوں  کی مددفرمائے گا)،

إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ، عَیْنُهُ طَافِئَةٌ، كَأَنِّی أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ، فَلْیَقْرَأْ عَلَیْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ، إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَیْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ یَمِینًا وَعَاثَ شِمَالًا، یَا عِبَادَ اللهِ فَاثْبُتُوا» قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللهِ وَمَا لَبْثُهُ فِی الْأَرْضِ؟ قَالَ:أَرْبَعُونَ یَوْمًا، یَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَیَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَیَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَیَّامِهِ كَأَیَّامِكُمْ قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللهِ فَذَلِكَ الْیَوْمُ الَّذِی كَسَنَةٍ، أَتَكْفِینَا فِیهِ صَلَاةُ یَوْمٍ؟ قَالَ:لَا، اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِی الْأَرْضِ؟ قَالَ: كَالْغَیْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّیحُ،

دجال جوان ، گھونگریالے بال والاہے،ایک کی ایک آنکھ پھولی ہوئی ہے،میں  اس کوعبدالعزیٰ بن قطن سے مشابہت دے سکتاہوں  ،تم میں  سے جوشخص دجال کوپائے وہ سورہ کہف کی ابتدائی آیتیں  اس پرپڑھے،وہ یقیناًشام اورعراق کے درمیان سے نکلے گااوراپنے دائیں  بائیں  فسادمچائے گا،اے اللہ کے بندو!ایمان پرقائم رہنا،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھاوہ زمین میں  کتنا عرصہ رہے گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاچالیس دن،ایک دن ایک سال کے برابرہوگا،ایک دن ایک مہینہ کے برابرہوگااورایک دن ایک ہفتہ کے برابرہوگااوربقیہ دن ایسے ہی ہوں  گے جیسے (اب)ہوتے ہیں  ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیااے اللہ کے رسول جو دن ایک سال کاہوگا،کیااس میں  ایک ہی دن کی نمازکافی ہوگی؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہیں  ،بلکہ تم اندازہ کرکے نمازپڑھتے رہنا،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھازمین پراس کی رفتارکیاہوگی؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس بارش کی طرح جسے ہوااڑارہی ہو،

فَیَأْتِی عَلَى الْقَوْمِ فَیَدْعُوهُمْ، فَیُؤْمِنُونَ بِهِ وَیَسْتَجِیبُونَ لَهُ، فَیَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، فَتَرُوحُ عَلَیْهِمْ سَارِحَتُهُمْ، أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا، وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا، وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ، ثُمَّ یَأْتِی الْقَوْمَ، فَیَدْعُوهُمْ فَیَرُدُّونَ عَلَیْهِ قَوْلَهُ، فَیَنْصَرِفُ عَنْهُمْ، فَیُصْبِحُونَ مُمْحِلِینَ لَیْسَ بِأَیْدِیهِمْ شَیْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ،وَیَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ، فَیَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِی كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَیَعَاسِیبِ النَّحْلِ، ثُمَّ یَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا، فَیَضْرِبُهُ بِالسَّیْفِ فَیَقْطَعُهُ جَزْلَتَیْنِ رَمْیَةَ الْغَرَضِ، ثُمَّ یَدْعُوهُ فَیُقْبِلُ وَیَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ، یَضْحَكُ،

وہ ایک قوم کے پاس آئے گااوراسے(اپنے اوپرایمان لانے کی ) دعوت دے گاوہ قوم اس پرایمان لے آئے گی اوراس کی بات مانے گی،پھروہ آسمان کو(پانی برسانے کا)حکم دے گاآسمان پانی برسائے گا،پھروہ زمین کو(سبزہ وغیرہ اگانے کا)حکم دے گازمین (سبزہ وغیرہ)اگائے گی،اس قوم کے چرنے والے جانورجب شام کوواپس آئیں  گے توپہلے سے زیادہ ان کے کوہان لمبے ہوں  گے،تھن کشادہ ہوں  گے اورکوکھیں  تنی ہوئی ہوں  گی، پھروہ دوسری قوم کے پاس جائے گااسے بھی (اپنے اوپرایمان لانے کی)دعوت دے گا،قوم کے آدمی اس کی بات نہ مانیں  گے تووہ ان کے پاس سے چلاجائے گا،ان پرقحط سالی مسلط ہوجائے گی،مال ان کے ہاتھوں  سے نکل جائیں  گے،جب دجال ویران زمین سے گزرے گاتوکہے گااے زمین!اپنے خزانے نکال،خزانے نکل کراس کے پاس اس طرح جمع ہوجائیں  گے جس طرح شہدکی مکھیاں  اپنے سردارکے پاس جمع ہوجاتی ہیں  ،پھردجال ایک جوان کوبلائے گااورتلوارسے اس کے دوٹکڑے کردے گا،پھراسے زندہ کرے گا،پھراسے پکارے گا،وہ ہنستاہواآئے گا،اس کاچہرہ دمکتاہوگا،

فَبَیْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللهُ الْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ، فَیَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَیْضَاءِ شَرْقِیَّ دِمَشْقَ، بَیْنَ مَهْرُودَتَیْنِ، وَاضِعًا كَفَّیْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَیْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلَا یَحِلُّ لِكَافِرٍ یَجِدُ رِیحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ، وَنَفَسُهُ یَنْتَهِی حَیْثُ یَنْتَهِی طَرْفُهُ، فَیَطْلُبُهُ حَتَّى یُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ، فَیَقْتُلُهُ، ثُمَّ یَأْتِی عِیسَى ابْنَ مَرْیَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللهُ مِنْهُ، فَیَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَیُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِی الْجَنَّةِ، فَبَیْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللهُ إِلَى عِیسَى: إِنِّی قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِی، لَا یَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِی إِلَى الطُّورِ

دجال اسی حال میں  ہوگاکہ ناگہاں  اللہ عیسیٰ بن مریم کونازل فرمائے گاوہ شہردمشق کے مشرق کی طرف زردرنگ کاجوڑاپہنے ہوئے اپنے دونوں  ہاتھ دوفرشتوں  کے بازوؤں  پر رکھے ہوئے سفیدمنارہ کے پاس اتریں  گے ،جب وہ سرجھکائیں  گے تو (پانی یاپسینہ)قطروں  کی شکل میں  بہے گااورجب سراٹھائیں  گے توموتی کی طرح قطرے ٹپکیں  گے،جس کافرکوان کی خوشبوپہنچے گی وہ مرجائے گا،ان کی خوشبووہاں  تک پہنچے گی جہاں  تک ان کی نظرجائے گا،پھرعیسیٰ علیہ السلام دجال کوتلاش کریں  گے اورباب لدپراسے قتل کریں  گے،پھرعیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں  کے پاس آئیں  گے جن(کے ایمان )کواللہ نے دجال سے محفوظ رکھاہوگا،عیسیٰ علیہ السلام ان کے چہروں  کوشفقت کے ساتھ صاف کریں  گے اورجنت میں  جودرجات انہیں  ملنے والے ہیں  انہیں  بیان کریں  گے،وہ اسی حال میں  ہوں  گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس وحی بھیجے گاکہ میں  اپنے کچھ ایسے بندوں  کوباہرچھوڑرہاہوں  جن سے لڑنے کی کسی میں  طاقت نہیں  ،تم میرے ان بندوں  کوکوہ طورکی طرف لے جاؤ،

وَیَبْعَثُ اللهُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ، فَیَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَیْرَةِ طَبَرِیَّةَ فَیَشْرَبُونَ مَا فِیهَا، وَیَمُرُّ آخِرُهُمْ فَیَقُولُونَ: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ، وَیُحْصَرُ نَبِیُّ اللهِ عِیسَى وَأَصْحَابُهُ، حَتَّى یَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَیْرًا مِنْ مِائَةِ دِینَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْیَوْمَ، فَیَرْغَبُ نَبِیُّ اللهِ عِیسَى وَأَصْحَابُهُ، فَیُرْسِلُ اللهُ عَلَیْهِمُ النَّغَفَ فِی رِقَابِهِمْ، فَیُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ یَهْبِطُ نَبِیُّ اللهِ عِیسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَلَا یَجِدُونَ فِی الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ،

پھراللہ یاجوج ،ماجوج کوچھوڑدے گا،وہ ہربلندی سے (اترکرزمین پر)پھیلتے چلے جائیں  گے،ان کی اگلی جماعتیں  بحیرہ طبریہ پرسے گزریں  گی اورسب پانی پی جائیں  گی،دوسری جماعتیں  جب وہاں  سے گزریں  گی تو(آپس میں  )کہیں  گے یہاں  کبھی پانی تھا،عیسیٰ علیہ السلام اوران کے ساتھی محصورہوجائیں  گے(کھانے کی قلت ہوجائے گی)یہاں  تک کہ بیل کی ایک سری ان کواس سے زیادہ اچھی معلوم ہوگی جتنے اچھے آجکل تمہیں  سودینارمعلوم ہوتے ہیں  ،اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اوران کے ساتھی دعاکریں  گے جس کانتیجہ یہ ہوگاکہ یاجوج،ماجوج کی گردنوں  میں  ایک کیڑاپیداہوگا،اس کیڑے کی وجہ سے وہ صبح تک سب مرجائیں  گے،پھراللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اوران کے ساتھی زمین پراتریں  گے مگرزمین پرایک بالشت جگہ بھی ان کی گندگی سے خالی نہ پائیں  گے،

فَیَرْغَبُ نَبِیُّ اللهِ عِیسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللهِ، فَیُرْسِلُ اللهُ طَیْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَیْثُ شَاءَ اللهُ، ثُمَّ یُرْسِلُ اللهُ مَطَرًا لَا یَكُنُّ مِنْهُ بَیْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ، فَیَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى یَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ، ثُمَّ یُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِی ثَمَرَتَكِ، وَرُدِّی بَرَكَتَكِ، فَیَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ، وَیَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا، وَیُبَارَكُ فِی الرِّسْلِ، حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِی الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِی الْقَبِیلَةَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِی الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ،

عیسیٰ علیہ السلام اوران کے ساتھی پھراللہ سے دعاکریں  گے (اللہ ان کی دعاقبول فرمائے گااور)اللہ بختی اونٹوں  کی گردنوں  کی ماندکچھ پرندے بھیجے گا،یہ پرندے یاجوج،ماجوج کی لاشوں  کو اٹھاکراس مقام پرپھینک دیں  گے جہاں  پرپھینکنے کااللہ حکم دے گا،پھراللہ بارش برسائے گاجس سے ہرمکان اگرچہ وہ مٹی کاہویابالوں  کا،آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گا،اللہ تعالیٰ زمین کودھوکرمثل حوض کے صاف کردے گا،پھرزمین کوحکم دے گاکہ وہ اپنی پیداوارنکالے اوراپنی برکت کو دوبارہ ظاہرکرے(زمین حکم کی تعمیل کرے گی،جس سے خوب پیداوارہوگی)ایک انارایک جماعت کے لئے کافی ہوگا،اس کے چھلکے کابنگلہ بناکرلوگ اس کے سایہ میں  بیٹھیں  گے، دودھ میں  اتنی برکت ہوگی کہ ایک دودھ والی اونٹنی ایک بڑی جماعت کوکافی ہوگی،ایک دودھ والی گائے پورے خاندان کوکافی ہوگی اورایک دودھ والی بکری پورے گھرکوکافی ہوگی،

فَبَیْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللهُ رِیحًا طَیِّبَةً، فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ، وَیَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، یَتَهَارَجُونَ فِیهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ، فَعَلَیْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ ،

اسی حال میں  ان کوایک زمانہ گزرے گاکہ اللہ تعالیٰ ایک نہایت پاکیزہ ہوابھیجے گاجوان کی بغلوں  کے نیچے سے نکلے گی جس سے ہرمسلمان کی روح قبض ہوجائے گی،صرف بدترین لوگ رہ جائیں  گے،جوعلی الاعلان گدھوں  کی طرح جماع کریں  گے،ان ہی لوگوں  پرقیامت قائم ہوگی۔[1]

اسی طرح مختلف مواقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں  کودجال سے خبردارکرتے رہے،

حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:لَیْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَیَطَؤُهُ الدَّجَّالُ، إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِینَةَ، وَلَیْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلَّا عَلَیْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّینَ تَحْرُسُهَا، فَیَنْزِلُ بِالسِّبْخَةِ، فَتَرْجُفُ الْمَدِینَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، یَخْرُجُ إِلَیْهِ مِنْهَا كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے علاوہ کوئی شہرایسانہیں  جہاں  وہ نہ جائے،وہ(مدینہ طیبہ کے قریب)ایک شورزمین میں  آکرمقیم ہوگااس وقت مدینہ طیبہ کے تمام راستوں  پرفرشتے صف باندھے کھڑے ہوں  گے اورمدینہ منورہ کی حفاظت کررہے ہوں  گے،مدینہ منورہ میں  تین زلزلے آئیں  گے،تمام منافقین اورکافرمدینہ منورہ سے نکل کردجال کے پاس چلے جائیں  گے۔[2]

أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَوْمًا حَدِیثًا طَوِیلًا عَنِ الدَّجَّالِ، فَكَانَ فِیمَا حَدَّثَنَا، قَالَ: یَأْتِی، وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْهِ أَنْ یَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِینَةِ، فَیَنْتَهِی إِلَى بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِی تَلِی الْمَدِینَةَ، فَیَخْرُجُ إِلَیْهِ یَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَیْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ فَیَقُولُ لَهُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِی حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حَدِیثَهُ، فَیَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَیْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا، ثُمَّ أَحْیَیْتُهُ، أَتَشُكُّونَ فِی الْأَمْرِ؟ فَیَقُولُونَ: لَا، قَالَ فَیَقْتُلُهُ ثُمَّ یُحْیِیهِ، فَیَقُولُ حِینَ یُحْیِیهِ: وَاللهِ مَا كُنْتُ فِیكَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِیرَةً مِنِّی الْآنَ قَالَ: فَیُرِیدُ الدَّجَّالُ أَنْ یَقْتُلَهُ فَلَا یُسَلَّطُ عَلَیْهِ

ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایادجال کامدینہ منورہ میں  داخلہ حرام ہوگا،اوروہ مدینہ کے قریب ایک پتھریلی زمین پرچلاجائے گا،اس کے پاس ایک شخص جوسب سے بہترہوگاوہ کہے گامیں  گواہی دیتاہوں  کہ تودجال ہے جس کاذکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں  کیاہے،دجال لوگوں  سے کہے گابھلااگرمیں  اس کوقتل کرڈالوں  اورقتل کرنے کے بعدپھردوبارہ زندہ کردوں  توتمہیں  اس بارے میں  کچھ شک باقی رہے گا،وہ کہیں  گے نہیں  اگرتوایساکرگزرے گاتوہمیں  کچھ شک وشبہ باقی نہیں  رہے گا، دجال اس شخص کوقتل کردے گااورپھراس کوزندہ کردے گا، زندہ ہونے کے بعدوہ شخص کہے گااللہ کی قسم !مجھے تیرے بارے میں  پہلے اتنایقین نہیں  تھاجتنااب میراپکا یقین ہے کہ تودجال ہے، پھردجال اس کوقتل کرناچاہے گالیکن قتل نہ کرسکے گا ۔[3]

تمیم داری رضی اللہ عنہ کاقبول اسلام اوردجال کاقصہ

حَدَّثَنِی عَامِرُ بْنُ شَرَاحِیلَ الشَّعْبِیُّ،سَمِعْتُ نِدَاءَ الْمُنَادِی، مُنَادِی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، یُنَادِی: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ فِی صَفِّ النِّسَاءِ الَّتِی تَلِی ظُهُورَ الْقَوْمِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ یَضْحَكُ، فَقَالَ: لِیَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ، ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِنِّی وَاللهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ، لِأَنَّ تَمِیمًا الدَّارِیَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِیًّا، فَجَاءَ فَبَایَعَ وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِی حَدِیثًا وَافَقَ الَّذِی كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ مَسِیحِ الدَّجَّالِ،

عامربن شراجیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں  نے پکارنے والے کی آوازسنی وہ پکارنے والارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامنادی تھاجوپکارکرکہہ رہاتھانمازکے لیے جمع ہوجاؤ،میں  بھی مسجدکی طرف نکلی(جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوگئے)تو میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازپڑھی اور میں  لوگوں  کے پیچھےعورتیں  والی صف میں  تھی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں  کو(نفل) نمازپڑھانے کے بعد منبرپربیٹھ گئے اورمسکراتے ہوئے فرمایاہرشخص اپنی نمازکی جگہ بیٹھارہے ،پھرفرمایاتم جانتے ہومیں  نے تمہیں  کیوں  روکاہے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیااللہ اوراس کارسول زیادہ جانتے ہیں  ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کی قسم!میں  نے رغبت دلانے یاڈرانے کے لئے تمہیں  نہیں  بلایاہے بلکہ اس لئے بلایاہے کہ(تمہیں  تمیم داری رضی اللہ عنہ کاقصہ سناؤں  )تمیم داری عیسائی تھے لیکن اب وہ مشرف بہ اسلام ہوگئے ہیں  اورانہوں  نے بیعت کرلی ہے،اورمجھ سے ایک حدیث بیان کی ہے جواس حدیث کے موافق ہے جومیں  تم سے دجال کے بارے میں  بیان کیاکرتاتھا،

حَدَّثَنِی أَنَّهُ رَكِبَ فِی سَفِینَةٍ بَحْرِیَّةٍ، مَعَ ثَلَاثِینَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ، فَلَعِبَ بِهِمِ الْمَوْجُ شَهْرًا فِی الْبَحْرِ، ثُمَّ أَرْفَئُوا إِلَى جَزِیرَةٍ فِی الْبَحْرِ حَتَّى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِی أَقْرُبِ السَّفِینَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِیرَةَ فَلَقِیَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِیرُ الشَّعَرِ، لَا یَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ، مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقَالُوا: وَیْلَكِ مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ : أَیُّهَا الْقَوْمُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِی الدَّیْرِ، فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَیْطَانَةً، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا، حَتَّى دَخَلْنَا الدَّیْرَ، فَإِذَا فِیهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَیْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا، وَأَشَدُّهُ وِثَاقًا، مَجْمُوعَةٌ یَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، مَا بَیْنَ رُكْبَتَیْهِ إِلَى كَعْبَیْهِ بِالْحَدِیدِ، قُلْنَا: وَیْلَكَ مَا أَنْتَ؟

اس نے بیان کیاہے کہ تمیم داری بنی لخم اوربنی جذام قبیلوں  کے تیس آدمیوں  کے ساتھ کشتی میں  سوارہوئے ،ایک مہینہ تک موجیں  ان سے کھیلتی رہیں  ،ایک دن غروب آفتاب کے وقت ان کی کشتی(سمندرمیں  )ایک جزیرہ پرجاکررک گئی،سب لوگ چھوٹی کشتیوں  میں  بیٹھ کرجزیرہ میں  پہنچے،وہاں  انہیں  ایک جانورملاجس کے بال بہت موٹے اوربہت لمبے تھے ، بالوں  کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلاحصہ دکھائی نہ دیتاتھا،ان لوگوں  نے اس سے کہاتیری خرابی ہوتوکون ہے؟اس نے کہامیں  جساسہ ہوں  ،لوگوں  نے کہا کیسا جساسہ؟اس نے کہااس گرجامیں  چلو وہاں  ایک شخص ہے جوتمہاری خبرکابہت مشتاق ہے،جب اس نے اس شخص کانام لیاتویہ لوگ ڈرے کہ کہیں  وہ جن نہ ہو،بہرحال یہ لوگ جلدی جلدی چل کرگرجامیں  پہنچے،وہاں  انہوں  نے اتنابڑاایک آدمی دیکھاکہ اس سے پہلے اتنابڑاآدمی کبھی نہ دیکھاتھا،اس کے دونوں  ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے ، اوراس کی ٹانگیں  زانوؤں  سے لے کرٹخنوں  تک بیڑیوں  سے جکڑی ہوئی تھیں  ،ان لوگوں  نے کہاتیری خرابی ہوتوکون ہے؟

قَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِی، فَأَخْبِرُونِی مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ رَكِبْنَا فِی سَفِینَةٍ بَحْرِیَّةٍ، فَصَادَفْنَا الْبَحْرَ حِینَ اغْتَلَمَ فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ أَرْفَأْنَا إِلَى جَزِیرَتِكَ هَذِهِ، فَجَلَسْنَا فِی أَقْرُبِهَا، فَدَخَلْنَا الْجَزِیرَةَ، فَلَقِیَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِیرُ الشَّعَرِ، لَا یُدْرَى مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقُلْنَا: وَیْلَكِ مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: اعْمِدُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِی الدَّیْرِ، فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، فَأَقْبَلْنَا إِلَیْكَ سِرَاعًا، وَفَزِعْنَا مِنْهَا، وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَیْطَانَةً،

اس نے کہامیراحال دریافت کرنے پرتم قادرہوہی گئے (پہلے )تم مجھے بتاؤکہ تم کون ہو؟انہوں  نے کہاہم عرب کے لوگ ہیں  کشتی میں  سوارہوئے تھے لیکن جب ہم سوارہوئے توسمندرکوجوش میں  پایاپھرایک ماہ تک ہم سمندرکی لہروں  سے کھیلتے رہے اورپھراس ٹاپوکے پاس آلگے پھرہم ایک چھوٹی کشتی میں  بیٹھے اوراس ٹاپومیں  داخل ہوگئے ،ٹاپومیں  ہمیں  ایک بھاری دم اوربہت بالوں  والا جانورملا،بالوں  کی کثرت کی وجہ سے اس کااگاپیچھامعلوم نہیں  ہوتاتھاہم نے اس سے کہااے کمبخت!توکیاچیزہے؟اس نے کہامیں  جساسہ ہوں  ہم نے کہاجساسہ کیا؟اس نے کہادیرمیں  اس مردکے پاس چلوجوتمہاری خبرکامشتاق ہے چنانچہ ہم تیری طرف چلے آئے اورہم اس بات سے ڈرے کہ کہیں  یہ جن بھوت نہ ہو،

فَقَالَ: أَخْبِرُونِی عَنْ نَخْلِ بَیْسَانَ، قُلْنَا: عَنْ أَیِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا، هَلْ یُثْمِرُ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ یُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ، قَالَ: أَخْبِرُونِی عَنْ بُحَیْرَةِ الطَّبَرِیَّةِ، قُلْنَا: عَنْ أَیِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِیهَا مَاءٌ؟ قَالُوا: هِیَ كَثِیرَةُ الْمَاءِ، قَالَ: أَمَا إِنَّ مَاءَهَا یُوشِكُ أَنْ یَذْهَبَ، قَالَ: أَخْبِرُونِی عَنْ عَیْنِ زُغَرَ، قَالُوا: عَنْ أَیِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِی الْعَیْنِ مَاءٌ؟ وَهَلْ یَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَیْنِ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، هِیَ كَثِیرَةُ الْمَاءِ، وَأَهْلُهَا یَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا،

اس نے کہابیسان کے نخلستان کاحال بیان کرو؟انہوں  نے کہاتوکیاپوچھناچاہتاہے؟اس نے کہامیں  اس کی کھجوروں  کی حالت دریافت کرناچاہتاہوں  ،کیاکھجورکے درختوں  میں  پھل آتے ہیں  ؟ان لوگوں  نے کہاہاں  ،اس نے کہاسنوعنقریب اس میں  پھل نہیں  آئیں  گے،پھراس نے کہامجھے بحیرہ طبریہ کی حالت بتاؤ؟انہوں  نے کہاتو کیا پوچھنا چاہتا ہے؟اس نے کہاکیااس میں  پانی ہے؟انہوں  نے کہاہاں  اس میں  بہت پانی ہے،اس نے کہاعنقریب اس کاپانی خشک ہوجائے گا،پھراس نے کہاچشمہ زغرکی کیفیت بیان کرو، ان لوگوں  نے کہاتوکیامعلوم کرناچاہتاہے؟اس نے کہاکیااس میں  پانی ہے؟کیاوہاں  کے لوگ اس چشمہ کے پانی سے کاشت کرتے ہیں  ؟انہوں  نے کہاہاں  اس میں  بہت پانی ہے اورلوگ اس کے پانی سے کاشت کرتے ہیں  ،

قَالَ: أَخْبِرُونِی عَنْ نَبِیِّ الْأُمِّیِّینَ مَا فَعَلَ؟ قَالُوا: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ یَثْرِبَ، قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: كَیْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ یَلِیهِ مِنَ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ، قَالَ لَهُمْ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّ ذَاكَ خَیْرٌ لَهُمْ أَنْ یُطِیعُوهُ،

پھراس نے کہامجھے امیوں  کے نبی کی خبرسناؤان کی کیاحالت ہے؟انہوں  نے کہاوہ مکہ سے نکل کریثرب میں  مقیم ہوگئے ہیں  ،اس نے کہاکیااہل عرب کی ان سے جنگ ہوئی ہے؟انہوں  نے کہاہاں  ،اس نے پوچھاپھرکیاہوا؟انہوں  نے کہاوہ عرب پرغالب آگئے ہیں  اوراہل عرب نے ان کی اطاعت قبول کرلی ہے، اس نے کہاکیاواقعی ایساہوگیاہے؟ان لوگوں  نےکہاہاں  واقعی ایساہوگیاہے،اس نے کہا سنو! یہ بات ان لوگوں  کے حق میں  بہترہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں  ،

وَإِنِّی مُخْبِرُكُمْ عَنِّی، إِنِّی أَنَا الْمَسِیحُ، وَإِنِّی أُوشِكُ أَنْ یُؤْذَنَ لِی فِی الْخُرُوجِ، فَأَخْرُجَ فَأَسِیرَ فِی الْأَرْضِ فَلَا أَدَعَ قَرْیَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِی أَرْبَعِینَ لَیْلَةً غَیْرَ مَكَّةَ وَطَیْبَةَ، فَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَیَّ كِلْتَاهُمَا، كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا اسْتَقْبَلَنِی مَلَكٌ بِیَدِهِ السَّیْفُ صَلْتًا، یَصُدُّنِی عَنْهَا، وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً یَحْرُسُونَهَا،

پھراس نے کہااب میں  تم سے اپناحال بیان کرتاہوں  ،میں  مسیح دجال ہوں  ،عنقریب مجھے(یہاں  سے)نکلنے کی اجازت مل جائے گی،میں  زمین میں  پھروں  گااورچالیس رات کے عرصہ میں  مکہ مکرمہ اورطیبہ کے علاوہ ہر بستی میں  جاکرقیام کروں  گا،مکہ مکرمہ اورطیبہ کے اندرداخل ہونا میرے اوپرحرام ہے،اگرمیں  ان دونوں  مقاموں  میں  کسی ایک مقام میں  داخل ہوناچاہوں  گاتوایک فرشتہ ننگی تلوار لے کرمیرے سامنے آئے گااورمجھے داخل ہونے سے روک دے گا،اس کی ہرگھاٹی پرفرشتے پہرہ دارہوں  گے،

قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِی الْمِنْبَرِ: هَذِهِ طَیْبَةُ، هَذِهِ طَیْبَةُ، هَذِهِ طَیْبَةُ یَعْنِی الْمَدِینَةَ أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِی حَدِیثُ تَمِیمٍ، أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِی كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ، وَعَنِ الْمَدِینَةِ وَمَكَّةَ، أَلَا إِنَّهُ فِی بَحْرِ الشَّأْمِ، أَوْ بَحْرِ الْیَمَنِ، لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ، مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، مَا هُوَ وَأَوْمَأَ بِیَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ، قَالَتْ: فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،

یہ باتیں  بیان کرنے کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصاکومنبرسے لگا کرفرمایایہ طیبہ ہے،یہ طیبہ ہے،یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ طیبہ ہے،پھرفرمایاکیامیں  نے پہلے ہی یہ سب باتیں  تم سے بیان نہیں  کردی تھیں  ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہابیشک آپ نے بیان کردی تھیں  ،اس کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمیم کاقصہ پسند آیا،دجال اورمکہ ومدینہ کے متعلق جوچیزاس نے بیان کی تھی یہ اس کے موافق ہے، خبردار ہو جاؤ ، بیشک (میراخیال تھاکہ) دجال(اس وقت)بحرشام یابحریمن میں  ہوگالیکن نہیں  وہ مشرق کی طرف ہے،وہ مشرق کی طرف ہے،وہ مشرق کی طرف ہے،یہ فرماتے وقت آپ نے(ہاتھ سے)مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ [4]

وفدبنی بارق:

بنوبارق قبیلہ خزاعہ کاایک بطن تھایہ لوگ مکہ مکرمہ کے جنوب مغرب میں  آبادتھے۔

بنوبارق کاایک وفدمدینہ آیااوربارگاہ نبوی میں  حاضرہوا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  دعوت اسلام پیش کی جوانہوں  نے قبول کرلیاورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پربیعت کی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  ایک دستاویزعطافرمائی جس کامضمون یہ تھا۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ

هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ لِبَارِقٍ:

 لَا تُجَزَّ ثِمَارُهُمْ وَلَا تُرْعَى بِلَادُهُمْ فِی مِرْبَعٍ وَلَا مِصْیَفٍ إِلَّا بِمَسْأَلَةٍ مِنْ بَارِقٍ وَمَنْ مَرَّ بِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی عَرْكٍ أَوْ جَدْبٍ فَلَهُ ضِیَافَةُ ثَلَاثَةِ أَیَّامٍ، وَإِذَا أَیْنَعَتْ ثِمَارُهُمْ فَلِابْنِ السَّبِیلِ اللُّقَاطُ یُوَسِّعُ بَطْنَهُ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَقْتَثِمَ

 شَهِدَ أَبُو عُبَیْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَحُذَیْفَةُ بْنُ الْیَمَانِ، وَكَتَبَ أُبَیُّ بْنُ كَعْبٍ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ تحریرمحمدرسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی طرف سے بارق کے لئے ہے۔

ان کے پھل کاٹے نہیں  جائیں  گے اورگرمی کاموسم ہویاسردی کاان کے علاقوں  میں  ان سے پوچھے بغیرجانورنہیں  چرائے جائیں  گےاورجومسلمان مشقت (یاجنگ)یا قحط سالی کی حالت میں  ان کے پاس سے گزرے،بنوبارق اس کی تین دن مہمانی کریں  گے اورجب ان کے پھل پک جائیں  تومسافراپناپیٹ بھرنے کے لئے گرے ہوئے پھل چن سکے گابشرطیکہ وہ چوری نہ کرے(پھل توڑکرنہ کھائے)

یہ تحریرابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھی اورابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اورحذیفہ رضی اللہ عنہ بن الیمان گواہ ہوئے۔[5]

وفدجعفی:

یہ یمن کاقحطانی قبیلہ تھا،یہ لوگ قبیلہ مذحج کے بطن سعدالعشیرہ بن مالک کہلانی کی ایک شاخ تھے ان کی جائے سکونت صنعاء سے تقریباًچالیس فرسنح کی مسافت پر تھی۔

كَانَتْ جُعْفِیُّ یُحَرِّمُونَ الْقَلْبَ فِی الْجَاهِلِیَّةِ ،فَوَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ رَجُلانِ مِنْهُمْ. قَیْسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ شَرَاحِیلَ مِنْ بَنِی مُرَّانَ بْنِ جُعْفِیٍّ. وَسَلَمَةُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ مَشْجَعَةَ بْنِ الْمُجَمِّعِ. وَهُمَا أَخَوَانِ لأُمٍّ ،فَأَسْلَمَا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: بَلَغَنِی أَنَّكُمْ لا تَأْكُلُونَ الْقَلْبَ؟قَالا: نَعَمْ ،قَالَ: فَإِنَّهُ لا یَكْمُلُ إِسْلامُكُمْ إِلا بِأَكْلِهِ، وَدَعَا لَهُمَا بِقَلْبٍ فَشُوِیَ،ثُمَّ نَاوَلَهُ سَلَمَةَ بْنَ یَزِیدَ. فَلَمَّا أَخَذَهُ أُرْعِدَتْ یَدُهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:كُلْهُ. فَأَكَلَهُ،وَقَالَ:

قبیلہ جعفی کے لوگ زمانہ جاہلیت میں  دل کوحرام سمجھتے تھے ،قبیلہ جعفی کے دوآدمی قیس بن سلمہ بن شراحیل اورسلمہ بن یزیدبن مشجعہ(جوآپس میں  ماں  جائے بھائی تھے)بارگاہ رسالت میں  حاضرہوئےاوراسلام قبول کرلیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایامجھے اطلاع ملی ہے کہ تم دل نہیں  کھاتے،انہوں  نے جواب دیاآپ کی اطلاع درست ہے واقعی ہم دل نہیں  کھاتے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارااسلام دل کھانے سے مکمل ہوگا(آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں  یہ تعلیم دیناچاہتے تھے کہ کسی حلال چیزکواپنے اوپرحرام نہیں  کرلیناچاہیے)پھرآپ نے ان دونوں  کے لئے دل منگوایااوراسے بھوناپھرآپ نے ان کوکھانے کے لئے دیا،سلمہ بن یزیدکواسے کھانے میں  تذبذب ہوامگرجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیاکہ اسے کھالے تواس نے دل کھالیااورکہا

عَلَى أَنِّی أَكَلْتُ الْقَلْبَ كَرْهًا ، وَتَرْعَدُ حِینَ مَسَّتْهُ بَنَانِی

اس بات پرکہ میں  نے جبراًدل کوکھایاجب میری انگلیوں  نے اسے چھواتووہ کانپتی تھیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس بن سلمہ کے لئے ایک فرمان لکھوایاجس کامضمون یہ تھا۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ

كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ لِقَیْسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ شَرَاحِیلَ

 أَنِّی اسْتَعْمَلْتُكَ عَلَى مُرَّانَ وَمَوَالِیهَا وَحَرِیمٍ وَمَوَالِیهَا وَالْكِلَابِ وَمَوَالِیهَا مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَصَدَّقَ مَالَهُ وَصَفَّاهُ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قیس بن شراحیل کے لئے۔

میں  نے تمہیں  مران ،حریم اورکلاب اوران کے حلیفوں  پرجونمازپڑھیں  ،زکوٰة دیں  اوراپنے مال سے صدقہ دیں  اوراسے پاک کریں  ،امیرمقررکیاہے۔

ثُمَّ قَالَا: یَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمَّنَا مُلَیْكَةَ بِنْتِ الْحُلْوِ كَانَتْ تَفُكُّ الْعَانِیَ وَتُطْعِمُ الْبَائِسَ وَتَرْحَمُ الْمِسْكِینَ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَقَدْ وَأَدَتْ بُنَیَّةً لَهَا صَغِیرَةً فَمَا حَالُهَا؟قَالَ:الْوَائِدَةُ وَالْمَوْؤُدَةُ فِی النَّارِفَقَامَا مُغْضَبَیْنِ،فَقَالَ: إِلَیَّ فَارْجِعَافَقَالَ:وَأُمِّی مَعَ أُمِّكُمَا ،فَأَبَیَا وَمَضَیَا وَهُمَا یَقُولَانِ: وَاللهِ إِنَّ رَجُلًا أَطْعَمَنَا الْقَلْبَ وَزَعَمَ أَنَّ أُمَّنَا فِی النَّارِ لَأَهْلٌ أَنْ لَا یُتَّبَعَ

پھران دونوں  نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہماری ماں  ملیکہ بنت الحلوغریبوں  کوکھاناکھلاتی ،مسکینوں  پررحم کرتی اورقیدیوں  کوچھڑاتی تھی، وہ فوت ہوچکی ہے اس نے اپنی چھوٹی بیٹی کوزندہ زمین میں  دفن کردیاتھا،اس کاکیاحال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایازندہ درگور کرنے والی دوزخ میں  ہے، یہ سن کران کی رگ جہالت پھڑک اٹھی اوردونوں  ناراض ہوکراٹھ کھڑے ہوئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیرے پاس آؤوہ دونوں  واپس آئے، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میری والدہ بھی تمہاری والدہ کے ساتھ ہیں  ،لیکن وہ نہ مانے اوریہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ اللہ کی قسم!انہوں  نے ہمارادل دکھایاہے اوریہ دعویٰ کیا کہ ہماری ماں  دوزخ میں  ہے وہ اس کااہل ہے کہ ہرگزاس کااتباع نہ کیاجائے،

وَذَهَبَا فَلَمَّا كَانَا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ لَقِیَا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَوْثَقَاهُ وَطَرَدَا الْإِبِلَ،فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَنَهُمَا فِیمَنْ كَانَ یَلْعَنُ فِی قَوْلِهِ:لَعَنِ اللهُ رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَیَّةَ وَلِحْیَانَ وَابْنِی مُلَیْكَةَ مِنْ حَرِیمٍ وَمُرَّانَ

یہ دونوں  چلے گئے،راستے میں  ان کوایک صحابی ملے جن کے پاس صدقہ کے اونٹ تھے ان دونوں  نے ان کوپکڑکران کے ہاتھ پاؤں  باندھ دیئے اوراونٹ لے کربھاگ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوجب اس کی اطلاع ہوئی تودوسرےجن پرلعنت کی گئی ہے ان کے ساتھ ان دونوں  پربھی لعنت فرمائی کہ رعل وذکوان عصیہ ولحیان اورملیکہ کے دونوں  بیٹوں  جوحریم ومران کے خاندان سے ہیں  اللہ لعنت کرے۔

قَالُوا: وَفَدَ أَبُو سَبْرَةَ وَهُوَ یَزِیدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الذُّؤَیْبِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ ذُهْلِ بْنِ مُرَّانَ بْنِ جُعْفِیٍّ عَلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنَاهُ سَبْرَةُ وَعَزِیزٌفَأَسْلَمُوا،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِعَزِیزٍ: مَا اسْمُكَ؟قَالَ: عَزِیزٌ،قَالَ: لا عَزِیزَ إِلا اللهُ أَنْتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ،وَقَالَ لَهُ أَبُو سَبْرَةَ: یَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بِظَهْرِ كَفِّی سِلْعَةٌ قَدْ مَنَعْتَنِی مِنْ خِطَامِ رَاحِلَتِی،فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَجَعَلَ یَضْرِبُ بِهِ عَلَى السِّلْعَةِ وَیَمْسَحُهَا. فَذَهَبَتْ ،فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُ: یَا رَسُولَ اللهِ أَقْطِعْنِی وَادِیَ قَوْمِی بِالْیَمَنِ. وَكَانَ یُقَالُ لَهُ حُرْدَانُ. فَفَعَلَ ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو خَیْثَمَةَ بْنُ عبد الرحمن

اسی قبیلہ کے ایک اورشخص ابوسبرہ رضی اللہ عنہ یزیدبن مالک اپنے دوبیٹوں  سبرہ اورعزیزکوساتھ لے کرحاضرخدمت ہوا اورمشرف بہ اسلام ہوگیا،اس موقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزیز رضی اللہ عنہ سے پوچھاتمہارانام کیا ہے ؟انہوں  نے عرض کیاعزیز،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کے سواکوئی عزیزنہیں  ،اب تمہارانام عبدالرحمٰن ہے،ابوسبرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ہاتھ کی پشت پرایک پھوڑا ہے جس کی وجہ سے میں  اونٹنی کی مہارنہیں  پکڑسکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگواکران کے پھوڑے پرپھیرا یہاں  تک کہ اس کانام ونشان تک باقی نہ رہا،پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسبرہ رضی اللہ عنہ اوران کے بیٹوں  کے لئے دعافرمائی،ابوسبرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے میری قوم کی وادی یمن بطورجاگیرعطافرمائیں  ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عطافرمادی اس وادی کانام حروان تھایہی عبدالرحمٰن خیثمہ بن عبدالرحمٰن کے والدتھے۔[6]

وفدبنی غافق:

یہ قبیلہ ازدکاایک بطن تھا،یہ یمن کے مغرب میں  تہامہ میں  آبادتھے۔

وَقَدِمَ جُلَیْحَةُ بْنُ شَجَّارِ بْنِ صُحَارٍ الْغَافِقِیُّ عَلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ ، فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ نَحْنُ الْكَوَاهِلُ مِنْ قَوْمِنَا وَقَدْ أَسْلَمْنَا وَصَدَقَاتُنَا مَحْبُوسَةٌ بِأَفْنِیَتِنَا ، فَقَالَ:لَكُمْ مَا لِلْمُسْلِمِینَ وَعَلَیْكُمْ مَا عَلَیْهِمْ،فَقَالَ عَوْزُ بْنُ سُرَیْرٍ الْغَافِقِیُّ آمَنَّا بِاللهِ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ

نوہجری میں  بنوغافق کاایک وفد جلیحہ بن شجاربن صحارغافقی کی سربراہی میں  بارگاہ رسالت میں  حاضرہوا،اہل وفدنے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم اپنے قبیلے کے نمائندے ہیں  ہم اسلام قبول کرچکے ہیں  ، اورہمارے صدقات ہمارے صحنوں  میں  رکھے ہوئے ہیں  ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے وہی حقوق ہی جودوسرے مسلمانوں  کے ہیں  ، اورتمہاری وہی ذمہ داریاں  ہیں  جودوسرے مسلمانوں  کی ہیں  ،وفدکے ایک رکن عوز رضی اللہ عنہ بن سریرغافقی نے عرض کیا ہم اللہ پرایمان لائے اورہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا۔[7]

وفدبنی تجیب:

بنوتجیب قبیلہ کندہ کاایک بطن ہے،یہ حضرموت کے وسط میں  الکسرمیں  رہتے تھے۔

وَقَدِمَ عَلَى رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ تُجِیبَ، وَهُمْ مِنَ السّكُونِ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلا، قَدْ سَاقُوا مَعَهُمْ صَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمُ الَّتِی فَرَضَ اللهُ عَلَیْهِمْ،فَسُرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ، وَأَكْرَمَ مَنْزِلَهُمْ،وَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ، سُقْنَا إِلَیْكَ حَقَّ اللهِ فِی أَمْوَالِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:رُدُّوهَا فَاقْسِمُوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ،قَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ، مَا قَدِمْنَا عَلَیْكَ إِلَّا بِمَا فَضُلَ عَنْ فُقَرَائِنَا،فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: یَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَفَدَ عَلَیْنَا وَفْدٌ مِنَ الْعَرَبِ مِثْلَ مَا وَفَدَ بِهِ هَذَا الْحَیُّ مِنْ تُجِیبَ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:أن الْهُدَى بِیَدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَرَادَ بِهِ خَیْرًا شَرَحَ صَدْرَهُ لِلإِیمَانِ

نوہجری میں  بنی تجیب کاایک تیرہ رکنی وفدرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہوا،یہ لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اوراپنے قبیلے کی زکوٰة لے کرآئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں  کومرحبافرمایااوراچھی جگہ ٹھہرایااورخاص مہمان بنایا،وفدکے سربراہ نے کہااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اپنے قبیلے کی زکوٰة لے کرحاضرخدمت ہوئے ہیں  ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے واپس لے جاؤاوراپنے قبیلے کے فقراء میں  تقسیم کر دو، انہوں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !حاجتمندوں  کودے کر جو کچھ بچ گیاہے وہی لائے ہیں  ، سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !جوکام بنوتجیب کے وفدنے کیاہے وہ آج تک کسی عرب کے وفدنے نہیں  کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہدایت اللہ کے ہاتھ میں  ہے جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ کرتاہے اس کاسینہ ایمان کے لئے کھول دیتاہے،

وَسَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَشْیَاءَ، فَكتب لَهُمْ بِهَا،وَجَعَلُوا یَسْأَلُونَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَالسُّنَنِ، فَازْدَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِیهِمْ رَغْبَة وَأَمَرَ بِلالا أَنْ یُحْسِنَ ضِیَافَتَهُمْ،فَأَقَامُوا أَیَّامًا وَلَمْ یَطْلُبُوا اللُّبْثَ، فَقِیلَ لَهُمْ: مَا یُعْجِلُكُمْ؟فَقَالُوا: نَرْجِعُ إِلَى مَنْ وَرَاءَنَا فَنُخْبِرُهُمْ بِرُؤْیَتِنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَكَلامِنَا إِیَّاهُ وَمَا رَدَّ عَلَیْنَا

ان لوگوں  نے دین کے بارے میں  چندسوالات پوچھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جوابات لکھوادیئے،انہوں  نے مختلف مسائل پرقرآن اورسنت کے بارے میں  پوچھاان کی دین میں  رغبت دیکھ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے،اوربلال رضی اللہ عنہ کوتاکیدفرمائی کہ ان کی اچھی طرح مہمان داری کریں  ،یہ لوگ کچھ دن آپ کے مہمان رہے لیکن ان کو واپسی کی بہت جلدی تھی،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھاتم یہاں  سے جلدازجلدجانے کے لئے کیوں  بے چین ہو؟انہوں  نے کہاہم چاہتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں  جوبرکات وفیوض حاصل ہوئے ہیں  ان کی خبراپنے اہل قبیلہ کوجلدازجلدپہنچائیں  ،

ثُمَّ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُوَدِّعُونَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَیْهِمْ بِلالا، فَأَجَازَهُمْ بِأَرْفَعَ مَا كَانَ یُجِیزُ بِهِ الْوُفُودَ، قَالَ، هَلْ بَقِیَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟قَالُوا: غُلامٌ خَلَّفْنَاهُ عَلَى رِحَالِنَا هُوَ أَحْدَثُنَا سِنًّا، قَالَ: أَرْسِلُوهُ إِلَیْنَا،فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى رِحَالِهِمْ قَالُوا لِلْغُلامِ: انْطَلِقْ إلى رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَاقْضِ حَاجَتَكَ مِنْهُ، فَإِنَّا قَدْ قَضَیْنَا حَوَائِجَنَا مِنْهُ وَوَدَّعْنَاه

جب وہ مدینہ طیبہ سے رخصت ہونے لگے تو بلال رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفدکے ہررکن کو فرداًفرداًانعام عطافرمایا،اورپھرپوچھاکہ تم میں  کوئی رہ تو نہیں  گیا،ان لوگوں  نے عرض کیاایک لڑکاہے جسے ہم اپنے کجاودں  پرچھوڑآئے ہیں  وہ ہم سب میں  کم سن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے یہاں  لے آؤ،جب یہ لوگ اپنی جگہ پرپہنچے تواس لڑکے سے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤاوران سے اپنی حاجت بیان کرووہ ضرورت پوری کردیتے ہیں  اوردعافرماتے ہیں  ،

فَأَقْبَلَ الْغُلامُ حَتَّى أَتَى رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فقال: یا رَسُولَ اللهِ، إِنِّی امْرِؤٌ مِنْ بَنِی أَبْذَى ،یَقُولُ الْغُلامُ:مِنَ الرَّهْطِ الَّذِینَ أَتَوْكَ آنِفًا فَقَضَیْتَ حَوَائِجَهُمْ، فَاقْضِ حَاجَتِی یَا رَسُولَ اللهِ؟قَالَ: وَمَا حَاجَتُكَ؟قَالَ: إِنَّ حَاجَتِی لَیْسَتْ كَحَاجَةِ أَصْحَابِی، وَإِنْ كَانُوا قَدِمُوا رَاغِبِینَ فِی الإِسْلامِ وَسَاقُوا مَا سَاقُوا من صدقاتهم، وإنی والله ما أعلمنی مِنْ بِلادِی إِلَّا أَنْ تَسْأَلَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَغْفِرَ لِی وَأَنْ یَرْحَمَنِی، وَأَنْ یَجْعَلَ غِنَایَ فِی قَلْبِی ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ إِلَى الْغُلامِ:اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَاجْعَلْ غِنَاهُ فِی قَلْبِهِ،ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِمِثْلِ مَا أَمَرَ بِهِ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ

وہ لڑکاروانہ ہوایہاں  تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہوگیا،اس لڑکے نےعرض کی میں  بھی اسی گروہ سے تعلق رکھتاہوں  جوابھی آپ کی خدمت میں  حاضر ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت پوری کردی ہیں  اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری حاجت بھی پوری فرمادیں  ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیاتمہاری کیاحاجت ہے؟ اس نے عرض کیامیری حاجت ایسی نہیں  ہے جیسے میرے ساتھیوں  کی تھی میں  تواسلام کی رغبت میں  حاضرخدمت ہواہوں  اور اپنے ساتھ صدقات بھی لیکر آئے ہیں  اوراللہ کی قسم !میں  نہیں  جانتاکہ میرے گھروالوں  کوکیاضرورت ہے سوائے اس کے کہ آپ اللہ عزوجل سے دعافرمائیں  کہ وہ میری مغفرت فرمادے ،مجھ پراپنی رحمت خاص نازل فرمائے اورمیرے دل کوغنی سے بھردے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکے لیے ہاتھ اٹھائے اورفرمایا اے اللہ!اس کی مغفرت کراوراس پراپنی رحمت خاص نازل فرمااس کی تونگری اس کے دل میں  ڈال دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایاکہ اس کو بھی اتنا ہی انعام دیاجائےجتنااس کے ساتھیوں  میں  سے ہرایک کودیاہے،

فانطلقوا راجعین إلى أهلیهم، ثُمَّ وَافَوْا رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی الْمَوْسِمِ بِمِنًى سَنَةَ عَشْرٍ، فَقَالُوا: نَحْنُ بَنُو أَبْذَى، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:مَا فَعَلَ الْغُلامُ الَّذِی أَتَانِی مَعَكُمْ؟ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا رَأَیْنَا مِثْلَهُ قَطُّ، وَلا حُدِّثْنَا بِأَقْنَعَ مِنْهُ بِمَا رَزَقَهُ اللهُ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ اقْتَسَمُوا الدُّنْیَا مَا نَظَرَ نَحْوَهَا وَلا الْتَفَتَ إِلَیْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الْحَمْدُ لِلَّهِ، إِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَمُوتَ جمیعا

پھریہ سب لوگ اپنے وطن واپس چلے گئے، حجة الوداع میں  منٰی کے مقام پر اس قبیلے کے آدمی آپ کی خدمت میں  حاضرہوئے توآپ نے ان سے پوچھاکہ اس نوجوان کا کیا حال ہے جوتمہارے ساتھ آیا تھا؟انہوں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس کے استغناکایہ حال ہے کہ سارے جہان کی دولت اس کے قدموں  میں  ڈھیر کردی جائیں  تووہ آنکھ اٹھاکربھی نہیں  دیکھتا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کاشکرہے میں  امیدکرتاہوں  کہ وہ پورے کا پورامرے گا،

فقال رجل منهم: أو لیس یَمُوتُ الرَّجُلُ جَمِیعًا یَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:تشعب أَهْوَاؤُهُ وَهُمُومُهُ فِی أَوْدِیَةِ الدُّنْیَا، فَلَعَلَّ أَجَلَهُ أَنْ یُدْرِكَهُ فِی بَعْضِ تِلْكَ الأَوْدِیَةِ، فَلا یُبَالِی اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِی أَیِّهَا هَلَكَ،قَالُوا: فَعَاشَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِینَا عَلَى أَفْضَلِ حَالٍ، وَأَزْهَدِهِ فِی الدُّنْیَا، وَأَقْنَعِهِ بِمَا رُزِقَ،وجعلأبو بَكْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ یذكره ویسأل عنه حتى بلغه حاله وما قام به. فكتب إلى زیاد بن لبید یوصیه به خیرا

ایک شخص نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہرشخص پوراپورانہیں  مرتا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآدمی کے دماغ پردنیاکے مختلف ہموم اور افکار سوار ہو جاتے ہیں  ،نہ معلوم وہ دنیاکی کس فکرمیں  مرے،اللہ بھی ایسے آدمی کی پرواہ نہیں  کرتا،وہ سب کہنے لگے اس نے بڑی اچھی حالت میں  زندگی بسرکی ہے ،دنیاکی اس کوکوئی خواہش نہیں  ،اللہ نے اس کوجوکچھ دیاہے اس پرقانع ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدجب ارتدادکی لہرچلی اوربہت سے اہل یمن اسلام سے منحرف ہوگئے تویہ شخص اسلام پرثابت قدم رہااوراس نے بڑی ہمت سے کام لے کر لوگوں  کواللہ کی یاددلائی اوراسلام کی خوبیاں  ان کے ذہن نشین کیں  ،اس کانتیجہ یہ ہواکہ اس کی قوم سے ایک فردبھی مرتدنہ ہوا ، سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کواس کی ان مساعی کی خبرملی توان کے دل میں  اس کی قدرومنزلت بڑھ گئی ،آپ ہمیشہ اس کے حالات پوچھتے رہتے تھے اوراپنے گورنرزیادبن لبیدکواس کے ساتھ بہترسلوک کرنے کاحکم دیا۔[8]

وفدبنی سعدبن بکر:

یہ قبیلہ سعدبن بکربنوہوزان کاایک بطن تھا،یہ لوگ تہامہ کے مشرق میں  آبادتھے،اسی قبیلہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلائی حلیمہ رضی اللہ عنہ بنت ذویب تھیں  ،نوہجری میں  بنوسعدبن بکرکی نمائندگی ان کے سردار ضمام رضی اللہ عنہ بن ثعلبہ نے کی،جوسرخ وسفید،مضبوط جسم کے مالک اوردومینڈھیوں  والے تھے ،وہ بدوی سادگی کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے۔

أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، یَقُولُ:بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی المَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِی المَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَیُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟وَالنَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَیْنَ ظَهْرَانَیْهِمْ،فَقُلْنَا: هَذَا الرَّجُلُ الأَبْیَضُ المُتَّكِئُ.فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: یَا ابْنَ عَبْدِ المُطَّلِبِ،فَقَالَ لَهُ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:قَدْ أَجَبْتُكَ ،فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّی سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَیْكَ فِی المَسْأَلَةِ، فَلاَ تَجِدْ عَلَیَّ فِی نَفْسِكَ؟!فَقَالَ:سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہےایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجدمیں  بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص(ضمام رضی اللہ عنہ بن ثعلبہ) اپنی ناقہ کی مہارتھامے بلاتکلف مسجدنبوی میں  آیا اور اپنی سانڈنی کوایک کونے میں  بٹھاکراس کازانوباندھا ،اور مجمع کے قریب پہنچ کرسلام وکلام کے بغیر بولےآپ لوگوں  میں  محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )یابروایت دیگرابن عبدالمطلب کون شخص ہیں  ؟اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں  میں  تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرکے کہا یہ گورے رنگ کے جوتکیہ لگائے بیٹھے ہیں  محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں  ،تب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہواکہ اے عبدالمطلب کے فرزند! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہومیں  آپ کی بات سن رہاہوں  ،ضمام رضی اللہ عنہ نے کہا میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دینی باتیں  پوچھوں  گا اوراس کاحلفیہ جواب لیناچاہتاہوں  آپ میرے بدوی لہجے کی درشتی سے دل میں  غبارنہ لائے گا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم جوکچھ پوچھناچاہتے ہوبلاتکلف پوچھو۔

فَقَالَ:یَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَكَ

ضمام رضی اللہ عنہ !اے محمد،آپ کاقاصدہمارے پاس آیاتھااس نے ہم سے یہ کہاکہ آپ کایہ دعویٰ ہے کہ آپ کواللہ نے رسول بناکربھیجاہے ؟

قَالَ:صَدَقَ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!اس نے سچ کہا۔

قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟

ضمام رضی اللہ عنہ !آسمان کوکس نے پیداکیا؟

قَالَ:اللهُ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!اللہ تعالیٰ نے۔

قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟

ضمام رضی اللہ عنہ !زمین کوکس نے پیداکیاہے؟

قَالَ:اللهُ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!اللہ تعالیٰ نے۔

قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِیهَا مَا جَعَلَ؟

ضمام رضی اللہ عنہ !پہاڑوں  کوکس نے نصب کیا،اورکس نے ان پہاڑوں  میں  جوچیزیں  پائی جاتی ہیں  پیداکیں  ؟

قَالَ:اللهُ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!اللہ تعالیٰ نے۔

قَالَ: فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَاءَ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ، وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟

ضمام رضی اللہ عنہ !توآپ اس ہستی کی قسم کھاکرجس نے آسمان کوپیداکیا،زمین کو پیدا کیا،اوران پہاڑوں  کونصب کیا،یہ فرمائیں  کہ کیاواقعی اللہ نے آپ کورسول بناکربھیجاہے؟

قَالَ:نَعَمْ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!ہاں  ۔

قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَیْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِنَا، وَلَیْلَتِنَا

ضمام رضی اللہ عنہ !آپ کے قاصدنے بیان کیاکہ ہم پردن اوررات میں  پانچ نمازیں  ضروری ہیں  ۔

قَالَ:صَدَقَ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!اس نے سچ کہا۔

قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟

ضمام رضی اللہ عنہ !اس ذات کی قسم جس نے آپ کورسول بناکربھیجاہے کیااللہ نے آپ کواس کاحکم دیاہے؟

قَالَ:نَعَمْ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!ہاں  ۔

قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَیْنَا زَكَاةً فِی أَمْوَالِنَا

ضمام رضی اللہ عنہ !آپ کے قاصدنے یہ بھی ہم سے کہاہے کہ ہم پرہمارے مالوں  میں  سے زکوٰة نکالناضروری ہے۔

قَالَ:صَدَقَ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!اس نے سچ کہا۔

قَالَ:فَبِالَّذِی أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟

ضمام رضی اللہ عنہ !اس ذات کی قسم جس نے آپ کورسول بناکربھیجاہے کیااللہ نے آپ کواس بات کاحکم دیاہے؟

قَالَ:نَعَمْ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!ہاں  ۔

قَالَ:وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَیْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِی سَنَتِنَا

ضمام رضی اللہ عنہ !آپ کے قاصدنے یہ بھی کہاہے کہ ہرسال ماہ رمضان کے روزے ہم پرضروری ہیں  ۔

قَالَ:صَدَقَ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!اس نے سچ کہا۔

قَالَ:فَبِالَّذِی أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟

ضمام رضی اللہ عنہ !اس ذات کی قسم جس نے آپ کورسول بناکربھیجاہے کیااللہ نے آپ کواس کاحکم دیاہے؟

قَالَ:نَعَمْ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!ہاں  ۔

قَالَ:وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَیْنَا حَجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْهِ سَبِیلًا

ضمام رضی اللہ عنہ !آپ کے قاصدنے یہ بھی بیان کیاکہ ہم میں  سے اس شخص پربیت اللہ کاحج لازمی ہے جووہاں  تک پہنچنے کی استطاعت رکھتاہو۔

قَالَ:صَدَقَ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!اس نے سچ کہا۔

فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِی مِنْ قَوْمِی، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِی سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ،قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، قَالَ:وَالَّذِی بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَزِیدُ عَلَیْهِنَّ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ،فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:لَئِنْ صَدَقَ لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ

یہ سوال وجواب ہوچکے توضمام رضی اللہ عنہ نے کہاجودین آپ لائے ہیں  میں  اس پرایمان لایاہوں  اورکہامیرانام ضمام بن ثعلبہ ہے میں  اپنی قوم کاقاصدہوں  جومیرے پیچھے ہے اورمیں  بنوسعدبن بکرکافرد ہوں  ، پھروہ پیٹھ پھیرکرچلے اوریہ کہتے جارہے تھے قسم اس ذات کی جس نے آپ کوحق کے ساتھ مبعوث فرمایاہے، نہ میں  اس سے زیادہ کروں  گا اور نہ اس سے کم کروں  گا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگراس نے سچ کہاہے توضرورجنت میں  داخل ہوگا۔[9]

ابن اسحاق ،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں  کہ بنوسعدبن بکرنے ضمام بن ثعلبہ کووفدکی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجااورجس طرح پہلے ذکرہواہے اس طرح بیان کیااوریہ الفاظ اس سے زیادہ بیان کیے۔

قَالَ:فَأَنْشُدُكَ اللهَ إِلَهَكَ، وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَعْبُدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَیْئًا، وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِی كَانَ آبَاؤُنَا یَعْبُدُونَ؟

ضمام رضی اللہ عنہ !میں  آپ سے آپ کے رب ،آپ سے پہلے لوگوں  کے رب اورآپ سے بعدآنے والے لوگوں  کے رب کی قسم دے کرپوچھتاہوں  کیااللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیاہے کہ ہم اس کی عبادت کریں  ،اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ بنائیں  اوراپنے ان بتوں  کوچھوڑدیں  جن کی ہمارے باپ داداعبادت کرتے تھے؟

فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: اللهُمَّ نَعَمْ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم !ہاں  ۔

ثُمَّ جَعَلَ یَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِیضَةً فَرِیضَةً: الصَّلَاةَ وَالزَّكَاةَ وَالصِّیَامَ وَالْحَجَّ، وَفَرَائِضَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا یَنْشُدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِیضَةٍ كَمَا نَشَدَهُ فِی الَّتِی قَبْلَهَا،حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ: فَإِنِّی أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،وَسَأُؤَدِّی هَذِهِ الْفَرَائِضَ، وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَیْتَنِی عَنْهُ لَا أَزِیدُ وَلَا أَنْقُصُ،ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِیرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حِینَ وَلَّى: إِنْ یَصْدُقْ ذُو الْعَقِیصَتَیْنِ یَدْخُلِ الْجَنَّةَ

پھرضمام رضی اللہ عنہ نے اسلام کے تمام فرائض نماز،زکوٰة،روزہ ،حج اورباقی فرائض ایک ایک کرکے پوچھے جس طرح پہلے سوال کے متعلق قسم دی تھی اس طرح ہرفرض سے پہلے آپ کوقسم دیتاتھا،جب اس کے سوالات ختم ہوئے تو بولا میں  شہادت دیتاہوں  کہ اللہ کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں  اوریہ بھی گواہی دیتاہوں  کہ محمداس کے بندے اوررسول ہیں  ،یہ تمام فرائض اپنی قوم کوپہنچاؤں  گااورجن چیزوں  سے آپ نے منع فرمایاہے اجتناب کروں  گااوران میں  ذرہ برابربھی کمی بیشی نہیں  کروں  گا، پھرانہوں  نے اونٹ کا زانو کھولا اور اس پرسوارہوکرواپس چلاگیا۔جب وہ پیٹھ پھیرکرجانے لگاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایااگراس دومینڈھیوں  والے نے سچ کہاہے توجنت میں  داخل ہوجائے گا۔[10]

قَالَ: فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ یَقُولُ: مَا رَأَیْتُ أحد أَحْسَنَ مَسْأَلَةً وَلا أَوْجَزَ مِنْ ضِمَامِ بْنِ ثعلبة.

سیدناعمر رضی اللہ عنہ بن خطاب سے مروی ہے کہ میں  نے ضمام رضی اللہ عنہ سے بہتراورموثرگفتگوکرنے والاکوئی شخص نہیں  دیکھا۔[11]

ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَاجْتَمَعُوا عَلَیْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ:بِئْسَتِ اللاتُ وَالْعُزَّى

ضمام رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں  واپس گئے تو سارے قبیلہ والے ان کے اردگرد جمع ہوگئےتوسب سے پہلے جوالفاظ ان کے منہ سے نکلے وہ یہ تھے لات اورعزیٰ دونوں  ذلیل وخوار ہیں  ۔

فَقَالُوا: مَهْ یَا ضمام اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُنُونَ وَالْجُذَامَ، قَالَ: وَیْلَكُمْ إِنَّهُمَا مَا یَضُرَّانِ وَلَا یَنْفَعَانِ إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا، وَأَنْزَلَ عَلَیْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِیهِ، وَإِنِّی أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،وَإِنِّی قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ ، فَوَاللهِ مَا أَمْسَى مِنْ ذَلِكَ الْیَوْمِ فِی حَاضِرَتِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا

ان کے قبیلے والے یہ سن کرپہلے توبہت چلاّئے اوربولے ضمام !زبان بندرکھو،برص،جنون یاجذام سے بچو،ضمام رضی اللہ عنہ بولے تم پرافسوس!یہ نہ نفع پہنچاسکتے ہیں  اورنہ ہی کوئی نقصان،اللہ تعالیٰ نے اپنارسول بھیجاہے،اس پرکتاب نازل فرمائی ہے اورتم کواس گمراہی سے نکال لیاہے جس میں  تم پھنسے ہوئے تھے میں  گواہی دیتاہوں  کہ اللہ کے سواکوئی بھی عبادت کے لائق نہیں  اوربلاشبہ محمداس کے بندے اوراس کے رسول ہیں  ،میں  آپ کی طرف سے تمہارے پاس دوچیزیں  لایاہوں  جن کاآپ نے حکم دیاہے اورجن سے آپ نے منع فرمایاہے،اورضمام رضی اللہ عنہ نے دلنشین اندازمیں  اس ساری گفتگوکی روئدادسنائی جوان کے اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین ہوئی تھی تو سارا قبیلہ شام ہونے سے پہلے پہلے مشرف باسلام ہوگیا۔[12]

وفدبنی کلب:

بنوکلب کانام متعددقحطانی اورعدنانی قبائل کے لئے بولاجاتاہے ،وفدمیں  آنے والے اراکین بنوکلب بن دبرہ سے تعلق رکھتے تھے جوبنوقضاعہ کاایک بطن تھا ،یہ لوگ دومتہ الجندل ،تبوک اوراطراف شام میں  آبادتھے ،رومیوں  سے میل جول کی وجہ سے یہ لوگ حلقہ بگوش نصرانیت ہوگئے تھے۔

قال عَمْرِو بْنُ جَبَلَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ الْجُلاحِ الْكَلْبِیُّ:شَخَصْتُ أَنَا وَعَاصِمٌ. رَجُلٌ مِنْ بَنِی رَقَاشٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ. حَتَّى أَتَیْنَا النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَ عَلَیْنَا الإِسْلامَ فَأَسْلَمْنَا ،وَقَالَ: أَنَا النَّبِیُّ الأُمِّیُّ الصَّادِقُ الزَّكِیُّ وَالْوَیْلُ كُلَّ الْوَیْلِ لِمَنْ كَذَّبَنِی وَتَوَلَّى عَنِّی وَقَاتَلَنِی. وَالْخَیْرُ كُلَّ الْخَیْرِ لِمَنْ أَوَانِی وَنَصَرَنِی وَآمَنَ بِی وَصَدَّقَ قُولِی وَجَاهَدَ مَعِی. قَالا: فَنَحْنُ نُؤْمِنُ بِكَ وَنُصَدِّقُ قَوْلَكَ. فَأَسْلَمْنَا،وَأَنْشَأَ عَبْدُ عَمْرٍو یَقُولُ:

عمروبن جبلہ بن وائل بن الجلاح الکلبی سے روایت ہے کہ میں  اورایک شخص عاصم جوبنی عامرجے بنی رقاش میں  سے تھے روانہ ہوئے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  حاضرہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اسلام پیش کیااورہم نے اسلام قبول کرلیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  سچانبی ہوں  اورپاکیزگی کے ساتھ آیاہوں  ، خرابی اورپوری خرابی اس شخص کی ہے جومجھے جھٹلائےاور مجھ سے منہ موڑےاورمجھ سے جنگ کرے، اوربھلائی اورپوری بھلائی اس شخص کی ہے جومجھے جگہ دے،میری مدد کرے ،مجھ پرایمان لائےمیرے قول کی تصدیق کرے اورمیرے ساتھ ہوکرجہادکرے،دونوں  نے عرض کیا،بیشک ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں  اورآپ پرایمان لاتے ہیں  ۔عبدبن عمرونے یہ شعرکہے۔

أَجَبْتُ رَسُولَ اللهِ إِذْ جَاءَ بِالْهُدَى ،وَأَصْبَحْتُ بَعْدَ الْجَحْدِ بِاللهِ أَوْجَرَا

میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومان لیاجب آپ ہدایت لائے،پہلے میں  اللہ کامنکرتھااب مومن ہوں  اوراس کامجھے اجرملے گا

وَوَدَّعْتُ لَذَّاتِ الْقِدَاحِ وَقَدْ أُرَى ،بِهَا سَدِكًا عُمْرِی وَلِلَّهْوِ أَصْوُرَا

نیزوں  کے ذریعے سے فال وشگون لینے کے مزے میں  نے ترک کردیے،حالانکہ ایسے ہی لہوولعب میں  میری عمرگزری تھی

وَآمَنْتُ بِاللهِ الْعَلِیِّ مَكَانُهُ ،وَأَصْبَحْتُ لِلأَوْثَانِ مَا عِشْتُ مُنْكِرَا

میں  اللہ پرایمان لایاجس کی منزلت برترہے ،میں  جب تک زندہ ہوں  بتوں  کامنکررہوں  گا۔[13]

وَفَدَ حَارِثَةُ بْنُ قَطَنِ بْنِ زَائِرِ بْنِ حِصْنِ بْنِ كَعْبِ ابن عُلَیْمٍ الْكَلْبِیُّ وَحَمَلُ بْنُ سَعْدَانَةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ مُغَفَّلِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُلَیْمٍ إِلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فأسلما،وَكَتَبَ لِحَارِثَةَ بْنِ قَطَنٍ كِتَابًا فِیهِ:

بعدمیں  اسی قبیلے کے دواورآدمی ابن سعدانہ اورحارثہ رضی اللہ عنہ بن قطن بارگاہ رسالت میں  حاضرہوئے اورمشرف بہ اسلام ہوگئے،جب یہ وفدمدینہ طیبہ سے رخصت ہونے لگاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارثہ رضی اللہ عنہ بن قطن کوایک فرمان عطافرمایاجس کامضمون یہ تھا۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ

هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ لِأَهْلِ دُومَةِ الْجَنْدَلِ وَمَا یَلِیهَا مِنْ طَوَائِفِ كَلْبٍ مَعَ حَارِثَةَ بْنِ قَطَنٍ

 لَنَا الضَّاحِیَةُ مِنَ الْبَعْلِ وَلَكُمُ الضَّامِنَةُ مِنَ النَّخْلِ، عَلَى الْجَارِیَةِ الْعُشْرُ، وَعَلَى الْغَائِرَةِ نِصْفُ الْعُشْرُ، لَا تُجْمَعُ سَارِحَتُكُمْ، وَلَا تُعْدَلُ فَارِدَتُكُمْ، تُقِیمُونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَتُؤْتُونَ الزَّكَاةَ بِحَقِّهَا لَا یُحْظَرُ عَلَیْكُمُ النَّبَاتُ، وَلَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ عُشْرُ الْبَتَاتِ لَكُمْ بِذَلِكَ الْعَهْدُ وَالْمِیثَاقُ، وَلَنَا عَلَیْكُمُ النُّصْحُ وَالْوَفَاءُ وَذِمَّةُ اللهِ وَرَسُولِهُ، شَهِدَ اللهُ وَمَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ دستاویزمحمدرسول اللہ کی طرف سے دومتہ الجندل کے باشندوں  اوران کے نواح میں  حارثہ بن قطن اوران کے ساتھ کلب کے جولوگ رہتے ہیں  ان کے لئے ہے۔

ہمارے لئے بارانی زمین اورتمہارے لئے کھجورکے درختوں  والااندرونی حصہ ہے،جاری پانی والی زمین پرعشراورگہرے پانی والی زمین پرنصف عشرہے ، تمہارے مویشی جمع نہ ہوں  اورنہ تمہاری بکریوں  پرظلم ہو،نمازوقت پرپڑھاکرواورزکوٰة اپنے حق کے موافق اداکیاکرو،تمہارے لئے گھاس وغیرہ کی ممانعت نہیں  اورنہ تم سے گھریلوسامان کاعشرلیاجائے گا،تم پرلازم ہے کہ اس عہدومیثاق کی پابندی کرواورہم پرلازم ہے کہ تمہاری خیرخواہی کریں  اوروفاکاحق ادا کریں  ،اوراللہ اوراس کے رسول کی ذمہ داری کوپوراکرنالازم ہے ،اللہ تعالیٰ اورمسلمانوں  میں  سے جولوگ حاضرہیں  وہ گواہ ہیں  ۔[14]

وفدعبدالقیس:

یہ قبیلہ ربیعہ عدنانیہ کاعظیم بطن تھا،پہلے یہ تہامہ میں  آبادتھے اس کے بعداس نے بحرین کواپناوطن بنالیا،اس کی ایک شاخ عمان کے قریب بھی آبادتھی،اس قبیلے کے بہت سے لوگوں  نے نصرانیت قبول کرلی تھی،یہ سعیدالفطرت لوگ تھے اورفتح مکہ سے بہت پہلے دعوت اسلام پرلبیک کہہ چکے تھے۔

إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فِی مَسْجِدِ عَبْدِ القَیْسِ بِجُوَاثَى مِنَ البَحْرَیْنِ

مسجدنبوی کے بعدسب سے پہلا جمعہ عبدالقیس ہی کی مسجدمیں  قائم ہواجوانہوں  نے بحرین کے مقام جواثیٰ میں  تعمیرکی تھی۔[15]

اس قبیلہ کے نمائندے احکام دین سیکھنے کے لئے دومرتبہ بارگاہ رسالت میں  حاضرہوئے،پہلی مرتبہ ۵ہجری یااس سے کچھ پہلے یابعداوردوسری مرتبہ ۹ہجری یا۱۰ہجری میں  ،پہلی مرتبہ ان کی آمدکی وجہ یہ ہوئی کہ اس قبیلہ کا ایک شخص منقذبن حبان تجارت کی غرض سے مدینہ منورہ آتاجاتارہتاتھا،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرماکرمدینہ منورہ تشریف لائے تواس کے بعدیہ شخص اپنا سامان تجارت لے کرمدینہ آیاتویہاں  کی دنیاہی بدلی ہوئی تھی،بت پرستی کی جگہ یہاں  توحیدکی پکارتھی چنانچہ وہ اسلام کی تعلیمات سے متاثرہوکرمسلمان ہوگیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعوتی خط دے کراس شخص کواپنی قوم میں  بھیجااس کی قوم نے بھی اسلام قبول کرلیااورپھرحرمت والے مہینے میں  ان کے تیرہ یاچودہ آدمی الاشج العصری کی قیادت میں  بارگاہ رسالت میں  حاضرہوئے ۔

ایک روایت میں  ہے کہ عبدالقیس کاوفدجارود رضی اللہ عنہ بن عمروکی سربراہی میں  بارگاہ رسالت میں  حاضرہواتھا۔(غزوہ تبوک ازمحمداحمدباشمیل)

فَقَدِمَ عَلَیْهِ عِشْرُونَ رَجُلا رَأْسُهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْفٍ الأَشَجُّ

اوردوسری مرتبہ بیس آدمی حاضرخدمت ہوئے جن کے امیرعبداللہ بن عوف الاشج تھے۔[16]

یاتیس آدمی۔[17]

وقیل: كانوا أربعة عشر راكبًا

کہاجاتاہے کہ چودہ آدمی تھے۔[18]

ان کے پہلی مرتبہ وردمدینہ کے بارے میں  زرقانی نے شرح مواہب میں  بیہقی سے نقل کیاہے

قَالَ: بَیْنَمَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُحَدِّثُ أَصْحَابُهُ إِذْ قَالَ لَهُمْ: سَیَطْلُعُ مِنْ هَاهُنَا رَكْبٌ هُمْ خَیْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ ، فَقَامَ عمر فَتوجه نحوهم فَتلقى ثَلَاثَة عشر رَاكِبًا، فَقَالَ: من الْقَوْم؟فَقَالُوا: مِنْ بَنِی عَبْدِ الْقَیْسِ ، قَالَ: فَمَا أَقْدَمَكُمْ هَذِهِ الْبِلَادَ، التِّجَارَةُ؟قَالُوا: لَا ،قَالَ: أَمَا إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَكُمْ آنِفًا فَقَالَ خَیْرًاثُمَّ مَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَتَوُا النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ لِلْقَوْمِ: هَذَا صَاحِبُكُمُ الَّذِی تُرِیدُونَ

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بیٹھے ہوئے گفتگوفرمارہےتھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ابھی تمہارے پاس کچھ لوگ آرہے ہیں  جواہل مشرق میں  سب سے بہترہیں  ، سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادسناتو فرط اشتیاق سے ان لوگوں  کو دیکھنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ،مجلس نبوی سے باہرنکلے توانہیں  تیرہ آدمیوں  کاایک قافلہ ملا،انہوں  نے پوچھاتم کس قوم سے ہو؟ انہوں  نے کہاہم بنی عبدالقیس ہیں  ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھاکیایہاں  تجارت کے لیے آئے ہیں  ؟انہوں  نے کہانہیں  ،ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہوئے ہیں  ،انہوں  نے اہل قافلہ کورحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادسے آگاہ کیا،اورپھرانہیں  ساتھ لے کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے، سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں  سے کہایہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں  جن کی خدمت اقدس میں  حاضرہونے کے لیےتم یہاں  آئے ہو،

فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وسلَّم وَثَبُوا مِنْ رَوَاحِلِهِمْ فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فقبَّلوا یَدَه،ثُمَّ نَزَلَ الْأَشَجُّ فَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَأَخْرَجَ عَیْبَتَهُ فَفَتَحَهَا، فَأَخْرَجَ ثَوْبَیْنِ أَبْیَضَیْنِ مِنْ ثِیَابِهِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ أَتَى رَوَاحِلَهُمْ فَعَقَلَهَا، وكان رجلًا دمیمًا

ان لوگوں  نے دورسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتواپناسامان وہیں  چھوڑکردیوانہ واررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ پڑے، اور آپ کے دست مبارک چومنے لگے،تاہم اس وفدکے سردارمنذربن عائذ(المعروف بہ الاشج)پیچھے رہ گئے،وہ اگرچہ نوجوان تھے لیکن بڑے بردباراورزیرک تھے،انہوں  نے اپنے گردآلود لباس میں  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہونامناسب نہ سمجھا،انہوں  نے پہلے تواپنے قافلے کے اونٹ باندھے ،پھرسفرکے کپڑے اتارکردوسراصاف ستھراسفیدلباس زیب تن کیا،پھرنہایت اطمینان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہوئے، اورآپ کے دست مبارک کو بوسہ دیا،الاشج کی شکل وصورت یونہی سی تھی اوراس میں  کوئی دلکشی نہیں  تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظراٹھاکردیکھاتوانہوں  نے عرض کیا۔

فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: یَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لا یُسْتَقَى فِی مُسُوكِ الرِّجَالِ إِنَّمَا یُحْتَاجُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَصْغَرَیْهِ لِسَانِهِ وَقَلْبِهِ

اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آدمی کی قدروقیمت اس کے قدوقامت اورشکل وصورت سے نہیں  ہوتی اس کی قیمت اس کے دوچھوٹے سے اعضاء سے ہوتی ہے ، زبان اور دل ۔ [19]

ایک دوسری روایت میں  ہے کہ اس موقع پرخودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ارشادفرمائے۔

فَنَظَرَ إِلَیْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ لا یُسْتَسْقَى فِی مُسُوكِ الرِّجَالِ إِنَّمَا یُحْتَاجُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَصْغَرَیْهِ لِسَانِهِ وَقَلْبِهِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کرفرمایاکہ انسان کی کھال کی مشک نہیں  بنائی جاتی البتہ اس کی دوچیزوں  کی ضرورت ہوتی ہے ایک اس کی زبان دوسرے اس کے دل۔[20]

فقال له صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِیكَ لَخَصْلَتَیْنِ یُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوکرفرمایاتم میں  دوخصلتیں  ایسی ہیں  جن کواللہ پسندکرتاہے،دانائی اوربردباری(بروایت دیگرحلم اوروقاروتمکنت)۔[21]

قَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمِ اللهُ جَبَلَنِی عَلَیْهِمَا؟قَالَ:بَلِ اللهُ جَبَلَكَ عَلَیْهِمَا ،الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَبَلَنِی عَلَى خُلُقَیْنِ یُحِبُّهُمَا اللهُ وَرَسُولُهُ ،وَأَنْزَلَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ فِی دَارِ رَمْلَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ. وَأَجْرَى عَلَیْهِمْ ضِیَافَةً. وَأَقَامُوا عَشَرَةَ أَیَّامٍ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ الأَشَجُّ یُسَائِلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفِقْهِ وَالْقُرْآنِ

انہوں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ دونوں  خصلتیں  پیدائشی اورخلقی ہیں  یامجھ میں  اب پیداہوگئی ہیں  ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپیدائشی اورخلقی ہیں  ،الاشج رضی اللہ عنہ نے کہااللہ کاشکرہے کہ اللہ نے مجھے دوایسی خصلتوں  کے ساتھ پیداکیاجن کواللہ اوراس کارسول پسندکرتاہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں  کورملہ رضی اللہ عنہا بنت حارث کے مکان پرٹھہرایااوردس دن مہمان رکھا،اس دوران میں  اشج رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن اوردینی مسائل سیکھتے رہے۔

صحیح مسلم اوردیگرکتب صحاح میں  وفدعبدالقیس کی آمدکاحال اورطریقے سے مذکورہے،اس میں  یہ تصریح نہیں  کی گئی کہ اس قبیلہ کے لوگ دومرتبہ بارگاہ رسالت میں  باریاب ہوئے،علامہ شبلی نعمانی نے سیرة النبی میں  لکھاہے کہ ابن مندہ اوردولائی نے اس قبیلہ کے دووفدوں  کاذکرکیاہے، اوراسی بناپرعلامہ قسطلانی رحمہ اللہ اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کے دووفد قراردیئے ہیں  ،پہلا۵ہجری میں  اوردوسرا۱۰ہجری میں  مدینہ آیا۔

صحیح مسلم اوردوسری کتب صحاح کی روایتوں  کاخلاصہ یہ ہے۔

ابْنَ عبَّاس یَقُولُ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ قَالَ مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا مِنْ رَبِیعَةَ.قَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَیْرِ الْخَزَایَا وَلَا النَّدَامَى فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّا حَیٌّ مِنْ رَبِیعَةَ وإنَّا نأتیك شُقَّةٍ بَعِیدَةٍ، وَإِنَّهُ یَحُولُ بَیْنَنَا وَبَیْنَكَ هَذَا الْحَیُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصُلْ إلیك فی شهر حرام فمُرنا بأمر فصلْ ندعوا إِلَیْهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے جب عبدالقیس کاوفدمدینہ آیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا،یہ وفدکس قبیلہ کاہے؟جواب ملاقبیلہ ربیعہ کا(عبدالقیس کادوسرانام ربیعہ تھا)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(تم لوگ خوشی سے مسلمان ہوکرآئے ہواس لئے)تم لوگ نہ دنیامیں  رسواہوگے نہ آخرت میں  شرمندہ،انہوں  نے عرض کیااے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کے اورہمارے علاقے کے درمیان کفار مضرکا جنگجو قبیلہ بستاہےاس لئے ہم صرف ان ہی مہینوں  میں  آپ تک پہنچ سکتے ہیں  جن میں  کفارکے نزدیک (بھی)لڑائی حرام ہے،دوسرے مہینوں  میں  سفرممکن نہیں  ہے،لہذاہمیں  اختصارکے ساتھ دین کے چندایسے احکام بتادیں  جن پرعمل کرکے ہم جنت کے مستحق قرارپائیں  ، اورجولوگ ہم سے پیچھے رہ گئے ہیں  واپس جاکران کوبھی آپ کے ارشادات سے آگاہ کردیں  ۔

فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِالْإِیمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ أَتَدْرُونَ مَا الْإِیمَانُ بِاللَّهِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ محمد رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِیتَاءَ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رمضان وأن تعطوا من المغانم الخمس،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  تمہیں  چارباتوں  کاحکم دیتاہوں  اورچارباتوں  سے منع کرتاہوں  ،امرکی چارباتیں  یہ ہیں  ، زبان سے کلمہ شہادت پڑھنااوردل سے اس پریقین رکھنا،نمازپڑھنااورزکوٰة اداکرنا،ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا،مال غنیمت میں  سے پانچواں  حصہ بیت المال میں  جمع کرنا،ابھی چونکہ حج فرض نہیں  ہواتھااس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  اس کاحکم نہیں  دیا۔

وأنهاكم عَنْ أَرْبَعٍ، عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِیرِ وَالْمُزَفَّتِ – وَرُبَّمَا قَالَ وَالْمُقَیَّرِ – فَاحْفَظُوهُنَّ وَادْعُوا إِلَیْهِنَّ مَنْ وراءكم

اورچارباتوں  سے منع کرتاہوں  دبا(کدوکاتونبا)حنتم(سبزلاکھی گھڑیا)نقیر(کھدی ہوئی لکڑی کابرتن )مزفت(روغنی برتن)قسم کے برتنوں  کوترک کرنا ہوگا (ان برتنوں  میں  عرب شراب ڈال کرپیاکرتے تھے چونکہ بنوعبدالقیس شراب پینے کے سخت عادی تھے اورشراب کاذخیرہ انہی برتنوں  میں  رکھتے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے استعمال سے منع فرمایا)میری یہ باتیں  یادرکھواورجوتمہارے پیچھے رہ گئے ہیں  ان تک بھی انہیں  پہنچادو۔[22]

قَالُوا: یَا نَبِیَّ اللهِ، مَا عِلْمُكَ بِالنَّقِیرِ؟ قَالَ:بَلَى، جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ، فَتَقْذِفُونَ فِیهِ مِنَ الْقُطَیْعَاءِ قَالَ سَعِیدٌ: أَوْ قَالَ: مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ تَصُبُّونَ فِیهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَیَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ، أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَیَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّیْفِ قَالَ: وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ كَذَلِكَ قَالَ، وَكُنْتُ أَخْبَؤُهَا حَیَاءً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،

انہوں  نے سوال کیااے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کوعلم ہے کہ نقیرکسےکہتے ہیں  ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں  جانتاہوں  ،کھجورکی موٹی لکڑی ،لکڑی کواندرسے کھودکرتم اس میں  کھجوریں  رکھتے ہواوران پرکھجورکے درخت کارس ڈال دیتے ہو،پھراس میں  پانی ملاتے ہو،رس اورپانی مل کرجوش کھاتاہے ،ٹھنڈاہوجانے کے بعدتم اسے پیتے ہو اور پھر نشہ میں  چورہوکراپنے ہی بھائی پر تلوارچلاتے ہو،راوی نے کہاہمارے لوگوں  میں  اس وقت ایک شخص موجودتھا(جس کانام جہم تھا)اس کونشہ کی بدولت ایک زخم لگ چکاتھااس نے کہاکہ لیکن میں  اس کوشرم کے مارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپاتاتھا۔

فَقُلْتُ: فَفِیمَ نَشْرَبُ یَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:فِی أَسْقِیَةِ الْأَدَمِ الَّتِی یُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَرْضَنَا كَثِیرَةُ الْجِرْذَانِ، وَلَا تَبْقَى بِهَا أَسْقِیَةُ الْأَدَمِ، فَقَالَ نَبِیُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ

پھرانہوں  نے پوچھااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لئے کون سے ظروف کااستعمال جائزہے؟فرمایاچمڑے کے ڈول،مشکیزے اورکپے وغیرہ جن کا منہ باندھاجاتاہے ،انہوں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے ہاں  چوہے بہت ہیں  وہاں  چمڑے کے برتن نہیں  رہ سکتے یعنی ایسی چیزوں  کوچوہےکتردیتے ہیں  ،اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخواہ ان کوچوہے کتراکریں  ،دویاتین مرتبہ یہی فرمایا۔[23]

قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الجارود بن بشر بن المعلى وَكَانَ نَصْرَانِیًّا، فَجَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ،فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّی عَلَى دِینٍ، وَإِنِّی تَارِكٌ دِینِی لِدِینِكَ، فَتَضْمَنُ لِی بِمَا فِیهِ؟قَالَ: نَعَمْ أَنَا ضَامِنٌ لِذَلِكَ، إِنَّ الَّذِی أَدْعُوكَ إِلَیْهِ خَیْرٌ مِنَ الَّذِی كُنْتَ عَلَیْهِ،فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمَ أَصْحَابُهُ

اس وفدمیں  ایک نصرانی ابومنذربشرالمعروف بہ جارودبن بشر بن المعلی بھی تھے جو مذہبی کتب کے عالم تھے انہوں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں  توپہلے ہی آسمانی مذہب کا پابند ہوں  کیامیرے تبدیل مذہب سے آپ میرے ضامن ہوں  گے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں  میں  تمہاراضامن ہوں  ،اللہ نے تم کو تمہارے مذہب سے بہترمذہب کی ہدایت کی ہے،یہ سن کرجاروداوران کے ساتھی مشرف بہ اسلام ہوگئے اوراس کااسلام بہت خوب رہا،

ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ! احْمِلْنَا، فَقَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدِی مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ بَیْنَنَا وَبَیْنَ بِلَادِنَا ضَوَالَّ مِنْ ضَوَالِّ النَّاسِ، أَفَنَتَبَلَّغُ عَلَیْهَا؟قَالَ: لَا، تِلْكَ حَرَقُ النَّارِ

جب وہ رخصت ہونے لگے توانہوں  نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے سواریاں  عنایت فرمائیں  ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کی قسم!میرے پاس ایسی کوئی چیزنہیں  جسے میں  تمہیں  بطورسواری دے سکوں  ،انہوں  عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے اورہماری آبادیوں  کے درمیان بعض لوگوں  کی گم شدہ سواریاں  ہوتی ہیں  کیاہم ان پر قبضہ کرکے ان کے ذریعہ اپنے گھروں  کوپہنچ جائیں  ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہیں  ،یہ توجہنم میں  جانے والی باتیں  ہیں  ۔

مسنداحمدمیں  وفدعبدالقیس کی آمدکاحال اس طرح بیان کیاگیاہے۔

شہاب بن عبادسے روایت ہے کہ قبیلہ عبدالقیس کاوفدنوہجری میں  مدینہ آیاتھا

أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ وَهُمْ یَقُولُونَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا، فَلَمَّا انْتَهَیْنَا إِلَى الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا، فَقَعَدْنَا فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَا لَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَیْنَا فَقَالَ:مَنْ سَیِّدُكُمْ وَزَعِیمُكُمْ؟فَأَشَرْنَا بِأَجْمَعِنَا إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ،فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: أَهَذَا الْأَشَجُّ وَكَانَ أَوَّلَ یَوْمٍ وُضِعَ عَلَیْهِ هَذَا الِاسْمُ بِضَرْبَةٍ لِوَجْهِهِ بِحَافِرِ حِمَارٍ

اس وفدکے بعض ارکان نے بیان کیاکہ جب ہم لوگ مدینہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تومسلمان بہت خوش ہوئے،انہوں  نے ہمیں  اچھی جگہ دی اوربہت خاطرتواضع کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں  خوش آمدیدکہااورہمیں  دعاسے نوازا،آپ نے ہمیں  دیکھا تو پوچھا تمہارا سردار اور زعیم کون ہے؟جملہ ارکان وفدنے منذربن عائذکی طرف اشارہ کیاکہ یہ ہمارے سربراہ ہیں  ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیایہی وہ شخص ہے جوالاشج رضی اللہ عنہ ہیں  (یعنی جن کے چہرے پر زخم کا نشان ہے)منذر رضی اللہ عنہ بن عائذکے چہرے پرکبھی کسی گدھے نے لات ماری تھی جس کی وجہ سے ان کے چہرے پرنشان پڑگیاتھااسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے الاشج کا لقب استعمال کیایہ پہلادن تھاکہ وہ الاشج کے لقب سے پکارے گئے اس سے پہلے اس کوالاشج نہیں  کہتے تھے۔

قُلْنَا: نَعَمْ. یَا رَسُولَ اللهِ،فَتَخَلَّفَ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ، وَضَمَّ مَتَاعَهُمْ، ثُمَّ أَخْرَجَ عَیْبَتَهُ فَأَلْقَى عَنْهُ ثِیَابَ السَّفَرِ، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِیَابِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،وَقَدْ بَسَطَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَهُ، وَاتَّكَأَ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ الْأَشَجُّ أَوْسَعَ الْقَوْمُ لَهُ، وَقَالُوا: هَاهُنَا یَا أَشَجُّ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَى قَاعِدًا، وَقَبَضَ رِجْلَهُ: هَاهُنَا یَا أَشَجُّ فَقَعَدَ عَنْ یَمِینِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِهِ، وَأَلْطَفَهُ، وَسَأَلَهُ عَنْ بِلَادِهِ وَسَمَّى لَهُ قَرْیَةً قَرْیَةً الصَّفَا، وَالْمُشَقَّرَ وَغَیْرَ ذَلِكَ مِنْ قُرَى هَجَرَ

ہم لوگوں  نے عرض کیاجی ہاں  ،اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !دوسرے اراکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شوق ملاقات میں  پہلے ہی آپ کی خدمت میں  پہنچ گئے لیکن منذربن عائذنے پہلے سواریوں  کو باندھااورلوگوں  کاسامان کوایک جگہ سلیقے سے رکھاپھراپنی گٹھڑی کھولی اس میں  میلے کپڑے رکھے اورنئے کپڑے نکال کرپہنے پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضر ہوئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاؤں  پھیلاکرٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے،جب وہ مجلس نبوی میں  پہنچے تو لوگ ان کوجگہ دینے کے لئے سمٹ گئے اورکہا آپ یہاں  تشریف لائیں  چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں  پہلومیں  بیٹھ گئے،آپ نے ان کی آمدپرخوشی کا اظہار فرمایا اور ان سے لطف ومحبت کے ساتھ گفتگوفرمائی جس میں  ان کے ملک کے ایک ایک گاؤں  کانام پوچھامثلاصقامشقر وغیرہ۔

فَقَالَ: بِأَبِی وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللهِ، لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءِ قُرَانَا مِنَّا، فَقَالَ: إِنِّی قَدْ وَطِئْتُ بِلَادَكُمْ، وَفُسِحَ لِی فِیهَا،قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ:یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَكْرِمُوا إِخْوَانَكُمْ، فَإِنَّهُمْ أَشْبَاهُكُمْ فِی الْإِسْلَامِ أَشْبَهُ شَیْءٍ بِكُمْ أَشْعَارًا، وَأَبْشَارًا أَسْلَمُوا طَائِعِینَ غَیْرَ مُكْرَهِینَ، وَلَا مَوْتُورِینَ إِذْ أَبَى قَوْمٌ أَنْ یُسْلِمُوا حَتَّى قُتِلُوا،قَالَ: فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحُوا قَالَ: كَیْفَ رَأَیْتُمْ كَرَامَةَ إِخْوَانِكُمْ لَكُمْ، وَضِیَافَتَهُمْ إِیَّاكُمْ؟قَالُوا: خَیْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فِرَاشَنَا، وَأَطَابُوا مَطْعَمَنَا، وَبَاتُوا، وَأَصْبَحُوا یُعَلِّمُونَا كِتَابَ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَسُنَّةَ نَبِیِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَأَعْجَبَتِ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَفَرِحَ بِهَا

منذر رضی اللہ عنہ بن عائذنے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں  باپ آپ پرقربان،آپ توہمارے ملک سے ہم سے زیادہ واقف معلوم ہوتے ہیں  ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں  میں  تمہارے ملک میں  بسلسلہ تجارت گیاہوں  وہاں  کے لوگوں  نے میری بڑی خاطر تواضح کی، پھر آپ نے انصارسے مخاطب ہوکرفرمایااے گروہ انصار!اپنے بھائیوں  کی خاطر تواضح کرو،یہ اسلام لانے میں  تمہارے مشابہت رکھتے ہیں  ،یہ لوگ بغیرکسی جبراوردباؤکے خوشی خوشی ایمان لائے ہیں  جب کہ دوسرے لوگوں  نے اسلام قبول کرنے سے انکارکردیایہاں  تک کہ میدان جنگ میں  مارے گئے،دوسرے دن صبح کونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل وفدسے پوچھاتمہارے انصاری بھائیوں  نے تمہاری ضیافت اور خاطر تواضح کیسی کی؟انہوں  نے عرض کیا،یہ بہترین بھائی ہیں  ،انہوں  نے ہمارے لئے آرام دہ بسترمہیاکیا،بہترین کھاناکھلایااوررات کواورصبح کویہ لوگ ہمیں  ہمارے رب تبارک وتعالیٰ کی کتاب اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دیتے رہے،یہ سن کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے ،رخصت کے وقت سب اراکین انعام سے سرفراز ہوئے۔[24]

ابورزین العقیلی رضی اللہ عنہ کاقبول اسلام

ان کانام لقیط تھااوربنوعقیل بن کعب سے تعلق رکھتے تھے ،قرائن سے معلوم ہوتاہے کہ وہ نوہجری میں  بارگاہ رسالت میں  حاضرہوئے اور نعمت ایمان حاصل کی ،ان کے حالات زندگی کے بارے میں  کتب سیرخاموش ہیں  البتہ ان سے مروی چنداحادیث کتب حدیث میں  موجودہیں  ۔[25]

عَنْ أَبِی رَزِینِ بْنِ عَامِرٍ الْعُقَیْلِیِّ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ الإِیمَانِ، فَقَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَلا یَكُونَ شَیْءٌ أَحَبَّ إِلَیْكَ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرُسُلِهِ، وَلأَنْ تُؤْخَذَ فَتُحْرَقَ بِالنَّارِ أَحَبُّ إِلَیْكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِاللهِ وَأَنْتَ تَعْلَمُ، وَأَنْ تُحِبَّ غَیْرَ ذِی نَسَبٍ لا تُحِبُّهُ إِلا بِاللهِ ،

ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضر ہوکر عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !ایمان کی حقیقت کیاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی گواہی دیناکہ اللہ کے سواکوئی معبودنہیں  اوروہ لاشریک ہے ،محمدبلاشبہ اس کے بندے اوررسول ہیں  ،اللہ اوراس کارسول تجھ کوتمام ماسویٰ سے محبوب ہوجائیں  اورآگ میں  جل کرخاک ہوجانااللہ کے شریک ٹھہرانے سے زیادہ پسندہوجائے اورجن لوگوں  سے رشتہ اورنسب کاکوئی تعلق بھی نہ ہوان سے اللہ ہی کے نام پرمحبت کی جائے ،جب یہ علامات پیداہوجائیں  توسمجھ لیناکہ اب تمہارے دل میں  ایمان کی محبت سماگئی ہے جیسے سخت گرمی میں  پیاسے کے دل میں  پانی کی محبت،

فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، كَیْفَ أَعْلَمُ أَنِّی مُؤْمِنٌ؟قَالَ: إِذَا عَمِلْتَ حَسَنَةً عَلِمْتَ أَنَّهَا حَسَنَةً، وَأَنَّكَ تُجَازَى بِهَا، وَإِذَا عَمِلْتَ سَیِّئَةً عَلِمْتَ أَنَّهَا سَیِّئَةً، وَأَنَّهُ لا یَغْفِرُهَا إِلا هُوَ

میں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں  یہ بات کیسے سمجھوں  کہ اب میں  مومن کامل ہوگیاہوں  ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیری امت میں  ہرشخص کہ جب نیکی کرے تواس کومحسوس ہوکہ یہ نیکی ہے اوراس پریقین رکھے کہ اللہ اس کابدلہ ضرورعطافرمائے گا اور جب کوئی برائی کرے تواسے محسوس ہوکہ یہ برائی ہے اوراللہ سے استغفارکرے اوریہ یقین رکھے کہ بخشنے والابجزاس کے کوئی نہیں  تویقیناًوہ شخص مومن کامل ہے ۔[26]

وفدبنوالمنتفق:

ان کے حالات کسی کتاب میں  نہیں  ملتے ،قرینہ سے معلوم ہوتاہے کہ ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ ہی کوابن المنتفق کہاجاتاتھاکیونکہ بعض روایتوں  میں  ان کانام لقیط بن منتفق بھی بیان کیاگیاہے۔

أَنَّ لقیط بن عامر خَرَجَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ یُقَالُ لَهُ: نهیك بن عاصم بن مالك بن المنتفق،قَالَ لقیط: فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبِی حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَوَافَیْنَاهُ حِینَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَقَامَ فِی النَّاسِ خَطِیبًا،فَقَالَ: أَیُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنِّی قَدْ خَبَّأْتُ لَكُمْ صَوْتِی مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَیَّامٍ، أَلَا لِتَسْمَعُوا الْیَوْمَ، أَلَا فَهَلْ مِنِ امْرِئٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ ؟ فَقَالُوا لَهُ: اعْلَمْ لَنَا مَا یَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَلَا ثَمَّ رَجُلٌ لَعَلَّهُ یُلْهِیهِ حَدِیثُ نَفْسِهِ، أَوْ حَدِیثُ صَاحِبِهِ، أَوْ یُلْهِیهِ ضَالٌّ، أَلَا إِنِّی مَسْئُولٌ، هَلْ بَلَّغْتُ، أَلَا اسْمَعُوا تَعِیشُوا أَلَا اجْلِسُوا فَجَلَسَ النَّاسُ، وَقُمْتُ أَنَا وَصَاحِبِی حَتَّى إِذَا فَرَغَ لَنَا فُؤَادُهُ وَنَظَرُهُ

لقیط رضی اللہ عنہ بن عامراپنے ساتھی نہیک رضی اللہ عنہ بن عاصم بن مالک بن منتفق کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہوئے،لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  ہم آپ کی خدمت اس وقت پہنچے جب آپ صبح کی نمازکے بعدلوگوں  میں  خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے،آپ نے فرمایالوگو!میں  چاردن خاموش رہاتاکہ تم آج میری بات سنو!کیاکسی آدمی کو اس کی قوم نے اس لئے بھیجاہے کہ وہ معلوم کرے کہ اللہ کے رسول کیاکہتے ہیں  ؟پھرفرمایایہ ممکن ہے کہ کسی آدمی کواس کے دل کی بات یااس کے ساتھی کی بات یاکوئی گم کردہ راہ شخص غافل کردےجبکہ مجھ سے یہ سوال کیاجائے گاکہ کیامیں  نے دین پہنچادیاتھا؟لہذاسن لوتاکہ تم(میری باتوں  کوراہنمابناکر) خوشگوارزندگی بسرکرسکو،پھرآپ نے فرمایا لوگو! بیٹھ جاؤ،سب لوگ بیٹھ گئے لیکن میں  اورمیراساتھی کھڑے رہے یہاں  تک کہ آپ نے ہمیں  دیکھ لیااورہماری طرف توجہ فرمائی۔

قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، مَا عِنْدَكَ مِنْ عِلْمِ الْغَیْبِ؟ فَضَحِكَ لَعَمْرُ اللهِ. عَلِمَ أَنِّی أَبْتَغِی السَّقْطَةَ، فَقَالَ: ضَنَّ رَبُّكَ بِمَفَاتِیحِ خَمْسٍ مِنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَا إِلَّا اللهُ وَأَشَارَ بِیَدِهِ،فَقُلْتُ: مَا هُنَّ یَا رَسُولَ اللهِ؟

میں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے پاس علم غیب میں  کیاہے؟چونکہ آپ کی دانست میں  یہ سوال کرکے میں  لغزش کامرتکب ہواتھالہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے پھرفرمایاغیب میں  سے پانچ چیزوں  کی چابیاں  تیرے رب نے اپنے پاس محفوظ رکھی ہیں  چنانچہ انہیں  اللہ کے سواکوئی نہیں  جانتا،ساتھ ہی آپ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایامیں  نے پوچھااےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ پانچ چیزیں  کونسی ہیں  ؟

قَالَ:عِلْمُ الْمَنِیَّةِ، قَدْ عَلِمَ مَتَى مَنِیَّةُ أَحَدِكُمْ وَلَا تَعْلَمُونَهُ، وَعِلْمُ الْمَنِیِّ حِینَ یَكُونُ فِی الرَّحِمِ قَدْ عَلِمَهُ وَمَا تَعْلَمُونَهُ، وَعِلْمُ مَا فِی غَدٍ قَدْ عَلِمَ مَا أَنْتَ طَاعِمٌ وَلَا تَعْلَمُهُ، وَعِلْمُ یَوْمِ الْغَیْثِ یُشْرِفُ عَلَیْكُمْ أَزِلِینَ مُشْفِقِینَ، فَیَظَلُّ یَضْحَكُ قَدْ عَلِمَ أَنَّ غَوْثَكُمْ إِلَى قَرِیبٍ ،قَالَ: وَعِلْمُ یَوْمِ السَّاعَةِ ، قَالَ لقیط: فَقُلْتُ: لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ یَضْحَكُ خَیْرًا یَا رَسُولَ اللهِ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاموت کاعلم۔وہ جانتاہے کہ تم میں  سے کسی کی موت کب واقع ہوگی لیکن تم اسے نہیں  جانتے۔منی کے بارے میں  علم جبکہ وہ رحم کے اندرہوتی ہےاسے بھی اللہ ہی جانتاہے اورتم اسے نہیں  جانتے۔اس بات کاعلم کہ کل کیاہونے والاہے،اللہ رب العزت جانتاہے کہ کل توکیاکرے گالیکن تمہیں  اس کاعلم نہیں  ۔بارش کے دن کاعلم چنانچہ جب تم مایوسی اورخوف کی حالت میں  ہوتے ہووہ تم پرجھانک رہاہوتااورہنس رہاہوتاہے کہ تمہارایہ خوف ایک قریبی مدت تک کے لئے ہے،جبکہ پانچویں  چیزآپ نے یہ بتلائی۔قیامت کاعلم جس کے بارے میں  کسی کومعلوم نہیں  کہ یہ کب آئے گی؟لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  میں  نے کہااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !تب توہم اپنے ہنسنے والے رب کے فضل ومہربانی سے محروم نہیں  رہیں  گے۔

قُلْنَا:یَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنَا مِمَّا تُعَلِّمُ النَّاسَ وَتَعْلَمُ، فَإِنَّا مِنْ قَبِیلٍ لَا یُصَدِّقُونَ تَصْدِیقَنَا أَحَدًا مِنْ مَذْحِجٍ الَّتِی تَرْبُو عَلَیْنَا، وَخَثْعَمَ الَّتِی تُوَالِینَا، وَعَشِیرَتِنَا الَّتِی نَحْنُ مِنْهَا،

میں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں  وہ بات بتائیں  جس کاآپ کوعلم ہے اورجوآپ لوگوں  کوسکھاتے ہیں  ،میں  ان لوگوں  میں  سے ہوں  کہ مذحج اورخثعم کے لوگ جو ہمارے ساتھ دوستی اورقرابت رکھتے ہیں  ان میں  سے کوئی بھی ہماری بات ماننے کے لئے تیارنہیں  ۔

قَالَ: تَلْبَثُونَ مَا لَبِثْتُمْ، ثُمَّ یُتَوَفَّى نَبِیُّكُمْ، ثُمَّ تَلْبَثُونَ مَا لَبِثْتُمْ ، ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّائِحَةُ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا شَیْئًا إِلَّا مَاتَ، وَالْمَلَائِكَةُ الَّذِینَ مَعَ رَبِّكَ، فَأَصْبَحَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ یَطُوفُ فِی الْأَرْضِ وَخَلَتْ عَلَیْهِ الْبِلَادُ، فَأَرْسَلَ رَبُّكَ السَّمَاءَ تَهْضِبُ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ مَصْرَعِ قَتِیلٍ، وَلَا مَدْفِنِ مَیِّتٍ إِلَّا شَقَّتِ الْقَبْرَ عَنْهُ، حَتَى تَخْلُفَهُ مِنْ عِنْدِ رَأْسِهِ فَیَسْتَوِیَ جَالِسًا،فَیَقُولُ رَبُّكَ: مَهْیَمْ، لِمَا كَانَ فِیهِ یَقُولُ: یَا رَبِّ أَمْسِ، الْیَوْمَ، لِعَهْدِهِ بِالْحَیَاةِ یَحْسَبُهُ حَدِیثًا بِأَهْلِهِ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم دنیامیں  کچھ وقت گزاروگے پھرتمہارے نبی فوت ہوجائیں  گے،اس کے بعدایک چیخ بھیجی جائے گی جوروئے زمین پرکسی جاندارکوزندہ نہیں  چھوڑے گی،فرشتے تمہارے رب کے جلومیں  ہوں  گے اورتمہارارب زمین پرجلوہ افروز ہو گا جبکہ شہرخالی ہوں  گے،پھرتمہارارب عرش کے پاس سے بارش نازل فرمائے گاجو ہر مقتول کی قتل گاہ اورہرمیت کی قبرتک پہنچے گی حتی کہ سر کے پاس سے اس کواٹھاکربٹھادے گی،پھرتیرارب ہرشخص سے پوچھے گادنیامیں  تیراکیامعاملہ تھاتونے زندگی کس حال میں  گزاری؟وہ جواب دے گااے میرے رب!کل اورآج(یعنی زمین پرٹھہرنے کی مدت کوکم سمجھتے ہوئے یاتواسے ایک دن کے برابرسمجھے گااوراسے کل سے تعبیرکرے گا یا اسے دن کے بعض حصہ کے برابرسمجھتے ہوئے آج سے تعبیرکرے گا،نیزوہ گمان کرے گا کہ کل ہی تواپنے اہل کے پاس تھاجنہیں  آج چھوڑکرآیاہے ۔

فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ فَكَیْفَ یَجْمَعُنَا بَعْدَ مَا تُمَزِّقُنَا الرِّیَاحُ وَالْبِلَى وَالسِّبَاعُ؟ قَالَ:أُنَبِّئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِی آلَاءِ اللهِ، الْأَرْضُ أَشْرَفْتَ عَلَیْهَا وَهِیَ فِی مَدَرَةٍ بَالِیَةٍ فَقُلْتَ: لَا تَحْیَا أَبَدًا، ثُمَّ أَرْسَلَ اللهُ عَلَیْهَا السَّمَاءَ، فَلَمْ تَلْبَثْ عَلَیْكَ إِلَّا أَیَّامًا حَتَّى أَشْرَفْتَ عَلَیْهَا وَهِیَ شَرْبَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ یَجْمَعَكُمْ مِنَ الْمَاءِ عَلَى أَنْ یَجْمَعَ نَبَاتَ الْأَرْضِ فَتَخْرُجُونَ مِنَ الْأَصْوَاءِ، وَمِنْ مَصَارِعِكُمْ، فَتَنْظُرُونَ إِلَیْهِ وَیَنْظُرُ إِلَیْكُمْ

میں  نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارارب ہمیں  کیوں  کرجمع کرے گاجبکہ ہوائیں  ہمارے جسموں  کے اعضاء کومنتشرکرچکی ہوں  گی یادرندے انہیں  کھاچکے ہوں  گے یامرورایام سے وہ بوسیدہ ہوچکے ہوں  گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  تمہیں  اللہ کی نعمتوں  میں  سے اس کی مثال دیتا ہوں  ، کیا تونے زمین کونہیں  دیکھا؟وہ مٹی کاایک ڈھیلا ہوتی ہے جسے دیکھ کرتوخیال کرتاہے کہ یہ کبھی بھی سرسبز وشاداب نہیں  ہوگی،پھراللہ اس پربارش برساتاہے تووہ گندم اورسبزہ اگانے والی زمین بن جاتی یاایک ایسے حوض کی شکل اختیارکرلیتی ہے کہ جس سے بکثرت پانی جمع ہو اور تو جہاں  سے چاہے اس میں  سے پانی پی سکتاہے،تیرے معبودکی قسم!مردہ زمین کوزندہ کرنے کی نسبت اللہ رب العزت پانی میں  سے تمہارے جسموں  کے اعضاء کو اکٹھا کرنے پرزیادہ قادرہے،چنانچہ تم اپنی قتل گاہوں  اورقبروں  سے نکل کراس کی طرف دیکھوگے اورتمہارارب تمہاری طرف دیکھتاہوگا۔

قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، كَیْفَ وَنَحْنُ مِلْءُ الْأَرْضِ، وَهُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ یَنْظُرُ إِلَیْنَا وَنَنْظُرُ إِلَیْهِ؟ قَالَ: أُنَبِّئُكَ بِمِثْلِ هَذَا فِی آلَاءِ اللهِ، الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آیَةٌ مِنْهُ صَغِیرَةٌ تَرَوْنَهُمَا وَیَرَیَانِكُمْ سَاعَةً وَاحِدَةً، وَلَا تُضَارُّونَ فِی رُؤْیَتِهِمَا وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ یَرَاكُمْ وَتَرَوْنَهُ مِنْ أَنْ تَرَوْا نُورَهُمَا وَیَرَیَانِكُمْ، لَا تُضَارُّونَ فِی رُؤْیَتِهِمَا

میں  نے کہااےاللہ کے رسول!یہ دیکھناکس طرح ہو گا؟کہ ہم سے توزمین بھری پڑی ہوگی،جبکہ ذات باری تعالیٰ یکتاوتنہاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  اس کی مثال بھی تمہیں  اللہ رب العزت کی نعمتوں  میں  سے دوں  گادیکھوسورج اورچانداگرچہ بڑی مخلوقات ہیں  تاہم اللہ کی نشانیوں  میں  سے ایک چھوٹی سی نشانی ہیں  ،چنانچہ ایک ہی وقت میں  یہ تمہیں  دیکھتے ہیں  (یعنی تم ان کے سامنے ہوتے ہو)اورتم سب بھی انہیں  یوں  دیکھتے ہوکہ اس میں  کوئی مزاحمت نہیں  ہوتی اورنہ ہی کوئی دقت پیش آتی ہے۔

قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا یَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا إِذَا لَقِینَاهُ؟قَالَ: تُعْرَضُونَ عَلَیْهِ بَادِیَةً لَهُ صَفَحَاتُكُمْ لَا یَخْفَى عَلَیْهِ مِنْكُمْ خَافِیَةٌ، فَیَأْخُذُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ بِیَدِهِ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَیَنْضَحُ بِهَا قِبَلَكُمْ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا یُخْطِئُ وَجْهَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مِنْهَا قَطْرَةٌ.فَأَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْهَهُ مِثْلَ الرَّیْطَةِ الْبَیْضَاءِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَتَنْضَحُهُ، أَوْ قَالَ: فَتَخْطِمُهُ بِمِثْلِ الْحُمَمِ الْأَسْوَدِ،

میں  نے عرض کیااللہ کے رسول!جب ہم اپنے رب سے ملاقات کریں  گے اللہ رب العزت ہم سے کیاسلوک فرمائیں  گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اپنے رب کے سامنے یوں  پیش ہوگے کہ تمہارے اعمال وافعال اس پرظاہراورنمایاں  ہوگےحتی کہ تمہاری کوئی حرکت بھی اس پرمخفی نہیں  ہوگی پھرتیرارب اپنے دست مبارک سے ایک چلوپانی تم پرچھڑکے گا،تمہارے رب کی قسم!اس میں  سے ایک قطرہ بھی کسی چہرہ کوخطانہیں  کرے گا،یہ مسلمان کے چہرہ کو تو سفیدچادرکی طرح (بے داغ)بنادے گالیکن کافرکی ناک پرنکیل کانشان بنادے گایوں  جیسے سیاہ کوئلہ ہوتاہے،

أَلَا ثُمَّ یَنْصَرِفُ نَبِیُّكُمْ وَیَفْتَرِقُ عَلَى أَثَرِهِ الصَّالِحُونَ فَیَسْلُكُونَ جِسْرًا مِنَ النَّارِ، یَطَأُ أَحَدُكُمُ الْجَمْرَةَ، یَقُولُ: حَسِّ، یَقُولُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ ، أَوْ أَنَّهُ؛ أَلَا فَتَطِّلِعُونَ عَلَى حَوْضِ نَبِیِّكُمْ عَلَى أَظْمَأَ، وَاللهِ نَاهِلَةً عَلَیْهَا قَطُّ رَأَیْتُهَا، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا یَبْسُطُ أَحَدٌ مِنْكُمْ یَدَهُ إِلَّا وَقَعَ عَلَیْهَا قَدَحٌ یُطَهِّرُهُ مِنَ الطَّوْفِ وَالْبَوْلِ وَالْأَذَى، وَتُخْنِسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، فَلَا تَرَوْنَ مِنْهُمَا وَاحِدًا

پھرتمہارے نبی ایک طرف کوروانہ ہوں  گے اوران کے پیچھے صالحین چلیں  گے سبھی آپ کے ساتھ پل پرسے گزریں  گے ،پھران میں  سے کسی ایک کاپاؤں  آگ کے انگارہ پرپڑے گاتوبے اختیاراس کے منہ سے اف کی آوازنکل جائے گی اوراللہ عزوجل فرمائے گاخبردار، پھرتم سب پیاس کی حالت میں  اپنے نبی کے حوض پر وار دہوگے کہ ایسے پیاسے تم نے کبھی نہ دیکھے ہوں  گے،تیرے معبودکی قسم!جب تم میں  سے کوئی ایک اپناہاتھ پھیلائے گاتواس میں  ایک پیالہ موجودہوگا،چنانچہ یہ پانی تمہیں  بول و براز اورنجاست سے پاک کردے گا،سورج اورچاندچھپ جائیں  گے اورکوئی بھی انہیں  نہ دیکھ پائے گا۔

قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُولَ اللهِ فَبِمَ نُبْصِرُ؟ قَالَ: بِمِثْلِ بَصَرِكَ سَاعَتَكَ هَذِهِ، وَذَلِكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فِی یَوْمٍ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ وَوَاجَهَتْ بِهِ الْجِبَالَ، قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُولَ اللهِ فَبِمَ نُجْزَى مِنْ سَیِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالسَّیِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ یَعْفُوَ

میں  نے کہااللہ کے رسول! ہم کس چیزکے ساتھ دیکھیں  گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس طرح کہ اس وقت تم اپنی آنکھوں  سے دیکھ رہے ہو اوریہ دیکھنااس قدرواضح ہوگاجیسے کہ طلوع شمس کے وقت روئے زمین کی ہرچیزچمک اٹھتی ہے۔ لیقط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  میں  نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم اپنی نیکیوں  اوربرائیوں  کا کیسا بدلہ پائیں  گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانیکی کابدلہ دس مثل اوربرائی کابدلہ ایک مثل،الایہ کہ اللہ اسے معاف فرمادے۔

قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُولَ اللهِ مَا الْجَنَّةُ وَمَا النَّارُ؟ قَالَ: لَعَمْرُ إِلَهِكَ إِنَّ النَّارَ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ مَا مِنْهَا بَابَانِ إِلَّا یَسِیرُ الرَّاكِبُ بَیْنَهُمَا سَبْعِینَ عَامًا، وَإِنَّ الْجَنَّةَ لَهَا ثَمَانِیَةُ أَبْوَابٍ مَا مِنْهَا بَابَانِ إِلَّا یَسِیرُ الرَّاكِبُ بَیْنَهُمَا سَبْعِینَ عَامًا ،قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ فَعَلَامَ نَطَّلِعُ مِنَ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: عَلَى أَنْهَارٍ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى، وَأَنْهَارٍ مِنْ خَمْرٍ مَا بِهَا صُدَاعٌ وَلَا نَدَامَةٌ، وَأَنْهَارٍ مِنْ لَبَنٍ مَا یَتَغَیَّرُ طَعْمُهُ، وَمَاءٍغَیْرِ آسِنٍ، وَفَاكِهَةٍ، وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تَعْلَمُونَ وَخَیْرٌ مِنْ مِثْلِهِ مَعَهُ وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ أَوَلَنَا فِیهَا أَزْوَاجٌ أَوْ مِنْهُنَّ مُصْلِحَاتٌ؟ قَالَ الْمُصْلِحَاتُ لِلصَّالِحِینَ .وَفِی لَفْظٍ الصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِینَ تَلَذُّونَهُنَّ وَیَلَذُّونَكُمْ مِثْلَ لَذَّاتِكُمْ فِی الدُّنْیَا غَیْرَ أَنْ لَا تَوَالُدَ

پھرمیں  نے عرض کیااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جنت اورجہنم کیاچیزیں  ہیں  ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتیرے معبودکی قسم!جہنم کے سات دروازے ہیں  اورہردودروازوں  کادرمیانی فاصلہ اس قدرہے کہ ایک سواران کے درمیان سترسال تک چلتارہے،جبکہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں  اوراس کے ہردودروازوں  کافاصلہ بھی اسی قدرہے۔

پھرمیں  نے کہااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جنت کی نعمتوں  کے بارے میں  کچھ ارشادفرمائیں  ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس میں  نہریں  جاری ہوں  گی،صاف شفاف شہدکی نہریں  ، ایسی شراب کی نہریں  کہ جس کے پینے سے نہ سردردکی شکایت ہواورنہ ندامت کا سامنا کرنا پڑے،ایسے دودھ کی نہریں  کہ جس کاذائقہ کبھی تبدیل نہ ہوگا،پانی ایساکہ خراب نہ ہواورپھل ہردم تروتازہ،اس کے علاوہ پاک بیویاں  ،میں  نے عرض کیااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیاہمارے لئے اس (جنت)میں  بیویاں  ہوں  گی اورکیاان میں  سے مصلحات بھی ہوں  گی؟فرمایا،مصلحات،مصلحین کے لئے ہے،یایوں  فرمایاکہ صالحات صالحین کے لئے ہیں  ،تم ان سے لذت حاصل کروگے اوروہ تم سے،جیسے کہ اس دنیامیں  تم لذت حاصل کرتے ہوتاہم اولادنہیں  ہوگی۔

ثُمَّ یَقُولُ: سَلُونِی، فَیَسْأَلُونَهُ حَتَّى تَنْتَهِیَ نَهْمَةُ كُلِّ عَبْدٍ مِنْهُمْ،قَالَ: ثُمَّ یُسْعَى عَلَیْهِمْ بِمَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ،قَالَ لقیط فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ أَقْصَى مَا نَحْنُ بَالِغُونَ وَمُنْتَهُونَ إِلَیْهِ؟فَلَمْ یُجِبْهُ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  میں  نے پوچھااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جنت کی وہ آخری اور انتہائی نعمت کون سی ہو گی جس تک ہم پہنچیں  گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایااس میں  ایسی بے شمارنعمتیں  ہیں  کہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھی نہ ہوں  نہ کانوں  نے کبھی سنی ہوں  اورقلب بشرمیں  کبھی جن کاخیال تک نہ گزراہو،ایک روایت میں  ہے کہ آپ نے اس سوال کاجواب نہ دیا۔لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  میں  نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم اس تک پہنچنے آورآسکنے والے نہیں  ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کاکوئی جواب نہیں  دیا۔

قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُولَ اللهِ عَلَامَ أُبَایِعُكَ؟ فَبَسَطَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَدَهُ وَقَالَ: عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِیتَاءِ الزَّكَاةِ، وَزِیَالِ الْمُشْرِكِ، وَأَنْ لَا تُشْرِكَ بِاللهِ إِلَهًا غَیْرَهُ،قَالَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ وَإِنَّ لَنَا مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ فَقَبَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَدَهُ وَظَنَّ أَنِّی مُشْتَرِطٌ مَا لَا یُعْطِینِیهِ، قَالَ: قُلْتُ نَحِلُّ مِنْهَا حَیْثُ شِئْنَا وَلَا یَجْنِی امْرُؤٌ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ فَبَسَطَ یَدَهُ وَقَالَ: لَكَ ذَلِكَ تَحِلُّ حَیْثُ شِئْتَ وَلَا یَجْنِی عَلَیْكَ إِلَّا نَفْسُكَ،قَالَ: فَانْصَرَفْنَا عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: هَا إِنَّ ذَیْنَ هَا إِنَّ ذَیْنَ – مَرَّتَیْنِ – لَعَمْرُ إِلَهِكَ مَنْ أَتْقَى النَّاسِ فِی الْأُولَى وَالْآخِرَةِ

اس پرمیں  نے کہااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں  کس چیزپرآپ کی بیعت کروں  ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنادست مبارک پھیلایااورفرمایانمازقائم کرو،زکوٰة اداکرنے پراورشرک چھوڑنے پرکہ اللہ کے ساتھ کسی اورکوشریک نہیں  ٹھہرائے گا،میں  نے عرض کیااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !(کیااس بیعت کاصلہ ہمیں  یہ بھی ملے گاکہ)مشرق ومغرب کے درمیان جوکچھ ہے وہ ہمارے لئے ہوگا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناہاتھ پیچھے ہٹالیاکیونکہ میں  آپ سے ایک ایسی چیزحاصل کرنے کی شرط کررہاتھاجو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نہیں  دے سکتے تھے،اس پرمیں  نے کہا(چلئے یہی سہی کہ)زمین پرہم جہاں  بھی چائیں  اترپڑیں  ،نیزیہ کہ ہرشخص پراس کے اپنے ہی نفس کاوبال ہوگا؟یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناہاتھ دوبارہ پھیلادیااورفرمایایہ تیرے لئے جائزہے۔لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  ،پھرہم لوٹے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابلاشبہ یہ دونوں  ،بلاشبہ یہ دونوں  (دومرتبہ فرمایا)دنیااورآخرت میں  سب سے زیادہ پرہیزگارلوگوں  میں  سے ہیں  ۔

فَقَالَ لَهُ كعب بن الخدریة أَحَدُ بَنِی بَكْرِ بْنِ كِلَابٍ : مَنْ هُمْ یَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: بَنُو الْمُنْتَفِقِ بَنُو الْمُنْتَفِقِ بَنُو الْمُنْتَفِقِ، أَهْلُ ذَلِكَ مِنْهُمْ

اس پربنوبکربن کلاب کے ایک شخص کعب رضی اللہ عنہ بن خدریہ نے پوچھااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ کون لوگ ہیں  ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابنومنتفق،بنومنتفق،اس کے اہل انہی میں  سے ہیں  ۔

قَالَ: فَانْصَرَفْنَا وَأَقْبَلْتُ عَلَیْهِ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِأَحَدٍ مِمَّنْ مَضَى مِنْ خَیْرٍ فِی جَاهِلِیَّتِهِمْ؟فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَیْشٍ: وَاللهِ إِنَّ أَبَاكَ الْمُنْتَفِقَ لَفِی النَّارِ ،قَالَ: فَكَأَنَّهُ وَقَعَ حَرٌّ بَیْنَ جِلْدِ وَجْهِی وَلَحْمِهِ مِمَّا قَالَ لِأَبِی عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ: وَأَبُوكَ یَا رَسُولَ اللهِ؟ثُمَّ إِذَا الْأُخْرَى أَجْمَلُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ وَأَهْلُكَ؟ قَالَ: وَأَهْلِی لَعَمْرُ اللهِ حَیْثُ مَا أَتَیْتَ عَلَى قَبْرِ عَامِرِیٍّ، أَوْ قُرَشِیٍّ مِنْ مُشْرِكٍ قُلْ: أَرْسَلَنِی إِلَیْكَ مُحَمَّدٌ، فَأُبَشِّرُكَ بِمَا یَسُوءُكَ، تُجَرُّ عَلَى وَجْهِكَ وَبَطْنِكَ فِی النَّارِ،

لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  پھرہم چلے گئےاس کے بعددوبارہ میں  آپ کی خدمت میں  حاضرہواتوعرض کیااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیادورجاہلیت میں  کسی چل بسنے والے کے لئے بھی کوئی بھلائی ہے؟لیکن آپ کے جواب دینے سے قبل قریش کے ایک شخص درمیان میں  بول پڑے کہ تیراباپ منتفق آگ میں  ہے،یہ سن کرمیں  نے اپنے چہرے کی جلداورگوشت کے درمیان گرمی محسوس کی(یعنی مجھے شدیدغصہ آیا)کہ لوگوں  کے سامنے انہوں  نے میرے باپ کے بارے میں  ایسی بات کہی ہے،میں  نے ارادہ کیاآپ سے پوچھوں  کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدبھی؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پھرمیں  نے اپنے سوال کومتبادل نرم الفاظ سے بدل دیاکہ اورآپ کے اہل؟اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کی قسم میرے اہل بھی،توجہاں  کہیں  بھی کسی عامری،قرشی یادوسی کی قبرپرجائے تواسے میری طرف سے یہ خوشخبری سنادے (اگرچہ اسے بری لگے ) کہ توآگ میں  اپنے پیٹ اور منہ کے بل گھسیٹاجائے گا(کیونکہ ان مشرکین نے دین حنیف کوبدل کراسے شرک سے آلودہ کیااورتوحیدکوچھوڑکرشرک کے مرتکب ہوئے جبکہ انبیاء کی دعوت سے جو توحید پرمبنی تھی لوگوں  پرحجت قائم ہوچکی)

قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُولَ اللهِ وَمَا فَعَلَ بِهِمْ ذَلِكَ، وَقَدْ كَانُوا عَلَى عَمَلٍ لَا یُحْسِنُونَ إِلَّا إِیَّاهُ، وَكَانُوا یَحْسِبُونَ أَنَّهُمْ مُصْلِحُونَ؟قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ بَعَثَ فِی آخِرِ كُلِّ سَبْعِ أُمَمٍ نَبِیًّا فَمَنْ عَصَى نَبِیَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّینَ، وَمَنْ أَطَاعَ نَبِیَّهُ كَانَ مِنَ الْمُهْتَدِینَ

میں  نے عرض کیااےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس میں  ان کاکیاقصور؟وہ تودنیامیں  وہی کرتے تھے جسے وہ پسندکرتے تھے اوران کاگمان غالب یہی تھاکہ وہ نیک لوگ ہیں  ؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایایہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرسات امتوں  کے آخرمیں  ایک نبی بھیجاہے جس نے اپنے نبی کی نافرمانی کی وہ گمراہوں  میں  سے ہے اورجس نے اپنے نبی کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتگان میں  سے ہے۔[27]

قَالَ: حَدَّثَنِی الْمُغِیرَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْیَشْكُرِیُّ، عَنْ أَبِیهِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى الْكُوفَةِ لِأَجْلِبَ بِغَالًا، قَالَ: فَأَتَیْتُ السُّوقَ وَلَمْ تُقَمْ، قَالَ: قُلْتُ لِصَاحِبٍ لِی: لَوْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ وَمَوْضِعُهُ یَوْمَئِذٍ فِی أَصْحَابِ التَّمْرِ، فَإِذَا فِیهِ رَجُلٌ مِنْ قَیْسٍ یُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْمُنْتَفِقِ،وَهُوَ یَقُولُ: وُصِفَ لِی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَحُلِّیَ، فَطَلَبْتُهُ بِمِكة فَقِیلَ لِی: هُوَ بِمنى فطلبتُه بمنىّ، فقیل لی: هو بعَرَفات، فَانْتَهَیْتُ إِلَیْهِ، فَزَاحَمْتُ عَلَیْهِ، فَقِیلَ لِی: إِلَیْكَ عَنْ طَرِیقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعُوا الرَّجُلَ أَرِبَ مَا لَهُ

ایک روایت یوں  ہےمغیرہ بن عبداللہ یشکری اپنے والدعبداللہ سے روایت کرتے ہیں  کہ میں  خچرخریدنے کے لئے کوفہ گیا،بازارگیاتواس وقت بازارنہ لگاتھا،میں  نے اپنے رفیق سے کہااتنی دیرمسجدہی میں  چلیں  اس وقت اس کی جگہ کھجوروالوں  کے محلہ میں  تھی،میں  نے وہاں  قبیلہ قیس کے ایک شخص کوجسے ابن المنتفق کہتے تھے بیٹھے دیکھا،وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاحلیہ مبارک مجھ سے بیان کیا،میں  نے آپ کومکہ میں  تلاش کیا تو کسی نے کہاآپ منیٰ میں  ہیں  تو میں  نے منی میں  تلاش کرنا شروع کیا ،اور کسی نے کہاآپ میدان عرفات میں  ہیں  ،میں  آپ کے پاس پہنچا تو(بھیڑبہت تھی)گھسنے لگا،مجھ سے کسی نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستہ سے ایک طرف ہٹ جا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس آدمی کوآنے دو،ضرورت مند ہے (دیکھو) اسے کیا ضرورت ہے؟

قَالَ: فَزَاحَمْتُ عَلَیْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَیْهِ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ـ أَوْ قَالَ زِمَامِهَا هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ ـ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ رَاحِلَتَیْنَا، قَالَ: فَمَا یَزَعُنِی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ـ أَوْ قَالَ: مَا غَیَّرَ عَلَیَّ، هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ ـ قَالَ: قُلْتُ: ثِنْتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا: مَا یُنَجِّینِی مِنَ النَّارِ؟ وَمَا یُدْخِلُنِی الْجَنَّةَ؟ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ بِوَجْهِهِ قَالَ: لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِی الْمَسْأَلَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ، فَاعْقِلْ عَنِّی إِذًا، اعْبُدِ اللهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَیْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ ،وَمَا تُحِبُّ أَنْ یَفْعَلَهُ بِكَ النَّاسُ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ یَأْتِیَ إِلَیْكَ النَّاسُ فَذَرِ النَّاسَ مِنْهُ ،ثُمَّ قَالَ: خَلِّ سَبِیلَ الرَّاحِلَةِ

وہ کہتے ہیں  میں  گھس گھساکرآپ کی خدمت میں  جاہی پہنچا،اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سانڈنی کی مہارپکڑلی اورمیں  نے عرض کیا،میں  آپ سے دوباتیں  معلوم کرنا چاہتا ہوں  آتش دوزخ سے مجھے کیاعمل نجات دے سکتاہے؟ اورجنت کے لئے کیاعمل درکارہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے توآسمان کی طرف نظراٹھاکردیکھاپھرسرمبارک نیچے جھکالی اس کے بعدمیری طرف متوجہ ہوکرفرمایااگرچہ تونے سوال توبہت مختصرکیامگربات بڑی لمبی دریافت کی ہے، اچھاتواب اس کومجھ سے خوب سمجھ لےصرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کراورکسی کواس کے ساتھ شریک نہ کر،فرض نمازاچھی طرح پڑھاکر،فرض زکوٰة دیاکر،رمضان کے روزے رکھاکر ،اورجوبات تو چاہتا ہے کہ لوگ تیرے ساتھ کریں  دوسروں  کوبھی اس بات سے معاف رکھاکر ،اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااچھااب سانڈنی کاراستہ چھوڑدے۔

اس روایت کے دوسرے طریقہ میں  بھی اسی قسم کامضمون ہے لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں  ۔

قَالَ:قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، دُلَّنِی عَلَى عَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّةَ وَیُنَجِّینِی مِنَ النَّارِ،قَالَ: بَخٍ بَخٍ، لَئِنْ كُنْتَ قَصَّرْتَ فِی الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ فِی الْمَسْأَلَةِ: اتَّقِ اللهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَیْئًا، وَتُقِیمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤَدِّی الزَّكَاةَ، وَتَحُجُّ الْبَیْتَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ،خَلِّ عَنْ طَرِیقِ الرِّكَابِ

میں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے کوئی ایساعمل بتادیں  جوجنت میں  پہنچادے اوردوزخ سے بچالے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایابہت خوب ،بہت خوب تم نے درخواست تومختصرکی مگرسوال بہت گہراکیاہے،اللہ سے ڈر اورکسی کواس کے ساتھ شریک نہ کر،باقاعدہ نمازپڑھاکر،زکوٰة دیاکر،حج کر،رمضان کے روزے رکھاکر،اس کے بعدفرمایااچھااب میری سواری کے سامنے سے ہٹ جا۔[28]

وفدبہراء:

یہ قبیلہ بھی بنوقضاعہ کاایک بطن تھااسے بنوبلی کابھائی کہاجاتاہے،یہ لوگ بنوبلی کی آبادیوں  کے شمال میں  رہتے تھے اوران کی منازل عقبہ اورایلات (ایلہ)تک پھیلی ہوئی تھیں  ۔

قَدِمَ وَفْدُ بَهْرَاءَ مِنَ الْیَمَنِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَقْبَلُوا یَقُودُونَ رَوَاحِلَهُمْ، حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى بَابِ المقداد ، وَنَحْنُ فِی مَنَازِلِنَا بِبَنِی حُدَیْلَةَ،فَخَرَجَ إِلَیْهِمُ المقداد، فَرَحَّبَ بِهِمْ فَأَنْزَلَهُمْ وَجَاءَهُمْ بِجَفْنَةٍ مِنْ حَیْسٍ، قَدْ كُنَّا هَیَّأْنَاهَا قَبْلَ أَنْ یَحِلُّوا لِنَجْلِسَ عَلَیْهَا فَحَمَلَهَا المقداد، وَكَانَ كَرِیمًا عَلَى الطَّعَامِ، فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى نَهِلُوا، وَرُدَّتْ إِلَیْنَا الْقَصْعَةُ وَفِیهَا أُكَلٌ، فَجَمَعْنَا تِلْكَ الْأُكَلَ فِی قَصْعَةٍ صَغِیرَةٍ،ثُمَّ بَعَثْنَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَعَ سِدْرَةَ مَوْلَاتِی، فَوَجَدَتْهُ فِی بَیْتِ أم سلمة

نوہجری میں  بہراء کاتیرہ رکنی وفدمدینہ منورہ آیایہ لوگ اپنی سواریاں  ہنکاتے ہوئےمقداد رضی اللہ عنہ بن عمروالاسودکے گھرکے سامنے آکراپنے اونٹ بٹھائے،اورہم بنی حدیلہ کی بستی میں  اپنے گھروں  کے اندرتھے،مقداد رضی اللہ عنہ نے ان کاخیرمقدم کیااوراپنامہمان بنایا ، انہوں  نے مہمانوں  کے سامنے حیس رکھاجوکھجور،ستواورگھی ملاکرتیارکیاگیاتھاجسے مہمانوں  نے بڑی رغبت سے تناول کیامقداد رضی اللہ عنہ نے اس میں  سے کچھ حیس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  بھیجاجواس وقت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں  تھے،آپ نے کچھ کھاکر برتن واپس کردیا،

قَالَتْ: فَأَكَلَ مِنْهَا الضَّیْفُ مَا أَقَامُوا، نُرَدِّدُهَا عَلَیْهِمْ،وَمَا تَغِیضُ حَتَّى جَعَلَ الْقَوْمُ یَقُولُونَ: یَا أبا معبد، إِنَّكَ لَتَنْهَلُنَا مِنْ أَحَبِّ الطَّعَامِ إِلَیْنَا مَا كُنَّا نَقْدِرُ عَلَى مِثْلِ هَذَا إِلَّا فِی الْحِینِ، وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الطَّعَامَ بِبِلَادِكُمْ إِنَّمَا هُوَ الْعُلْقَةُ أَوْ نَحْوُهُ، وَنَحْنُ عِنْدَكَ فِی الشِّبَعِ ،فَأَخْبَرَهُمْ أبو معبد بِخَبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا أُكَلًا وَرَدَّهَا، فَهَذِهِ بَرَكَةُ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَجَعَلَ الْقَوْمُ یَقُولُونَ: نَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ، وَازْدَادُوا یَقِینًا. وَذَلِكَ الَّذِی أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَأَقَامُوا أَیَّامًا، ثُمَّ جَاءُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُوَدِّعُونَهُ، وَأَمَرَ لَهُمْ بِجَوَائِزِهِمْ، وَانْصَرَفُوا إِلَى أَهْلِیهِمْ

اب مقداددونوں  وقت وہی پیالہ مہمانوں  کے سامنے رکھتے وہ خوب سیرہوکرکھاتے مگرکھاناکم ہونے میں  نہ آتا،ایک روزانہوں  نے مقداد رضی اللہ عنہ سے پوچھامقداد!ہم نے سناہے کہ مدینہ والوں  کی خوراک بہت سادہ ہوتی ہے لیکن تم توہمیں  ہرروزبڑاپرتکلف اورلذیذکھاناکھلاتے ہو،مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا،بھائیو!یہ سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیاں  اس کھانے کولگ چکی ہیں  ،یہ سنتے ہی وہ سب بیک زبان پکاراٹھےبے شک محمداللہ کے رسول ہیں  ،اس کے بعدانہوں  نے بارگاہ نبوی میں  حاضرہوکراسلام قبول کیا،قرآن اوراحکام سیکھےاورچنددن کے بعدواپس چلے گئےاورمعمول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفدکے تمام اراکین کو رخصت ہوتے وقت عطیات سے نوازا۔[29]

وفدبنی عامربن صعصعہ:

یہ قبیلہ بنوہوزان کاایک بطن تھا،اوربنوہوزان قبیلہ عرب کے مشہورقبیلہ قیس عیلان میں  سے تھے،یہ لوگ نجدمیں  آبادتھےپھرطائف کے ایک حصے تک پہنچ گئے،سردیاں  نجدمیں  اورگرمیاں  طائف میں  گزارتے تھے،

قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ بَنِی عَامِرٍ فِیهِمْ عَامِرِ بْنِ الطّفَیْلِ ، وأَرْبَدُ بْنُ قَیْسٍ بن جزء بن خالد بن جعفر، وجَبّارُ بْنُ سَلْمَى بن مالك بن جعفر، وَكَانَ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ رُؤَسَاءَ الْقَوْمِ وَشَیَاطِینَهُمْ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنوعامرکاجووفدحاضرہوا،اس میں  عامربن طفیل(جس نے بئرمعونہ پرسترصحابہ کو شہید کرایا تھا)لبید رضی اللہ عنہ کااخیافی بھائی اربدبن قیس (یا ربیعہ ) اور جباربن سلمی بھی شریک تھے، یہ لوگ اس قوم کے سرداراوربڑے شیطان صفت لوگ تھے، نوہجری میں  یہ تینوں  اپنے قبیلہ کے تیرہ معتبرآدمیوں  کوساتھ لے کرمدینہ منورہ آئے،عامربن طفیل اور اربدبن قیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوخفیہ طور پر اچانک شہید کر دینے کامنصوبہ بناکرآئے تھے،البتہ جباربن اسلم اورقبیلہ کے دوسرے لوگ صدق دل سے حق کے طالب تھے، عامراوراربدخاندان سلول کے ہاں  مہمان ہوئے ،جباربن اسلم تیرہ آدمیوں  کولے کربارگاہ نبوی میں  حاضرہوئے،

فَقَالُوا: یَا رَسُول اللهِ أَنْتَ سَیِّدُنَا وَذُو الطَّوْلِ عَلَیْنَا، فَقَالَ:مَهْ مَهْ، قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا یَسْتَجِرَّنَّكُمُ الشَّیْطَانُ، السَّیِّدُ اللهُ، السَّیِّدُ اللهُ، السَّیِّدُ اللهُ

بنوعامرنے اثنائے گفتگومیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر کہاآپ ہمارے آقا ہیں  اورہم میں  آپ ہی سب سے افضل اورسب سے بڑھ کر فیاض ہیں  ،ارشادہوابات منہ سے نکالتے وقت خیال رکھوکہ شیطان تم کوہنکانہ لے جائے(یعنی تکلف اورتملق بھی ناپسندیدہ چیزہے)آقاتواللہ ہے،آقاتواللہ ہے،آقاتواللہ ہے،اس کے بعدجبار رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھی مشرف بہ ایمان ہوگئے۔[30]

عامربن طفیل اوراربدبن قیس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ملاقات کی۔

عامرنے کہامحمد( صلی اللہ علیہ وسلم )!میں  تین باتوں  کاآپ کواختیاردیتاہوں  ۔

أَفَتَجْعَلُ لِی الْوَبَرَ وَلَكَ الْمَدَرَ؟ أَتَجْعَلُ لِی الْأَمْرَ مِنْ بَعْدَكِ؟ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ بِأَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ،قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وسلَّم:لافلما قفل مِنْ عِنْدِهِ،ثُمَّ ولیا.رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: اللهم اكفنیهما. اللهم واهد بنی عامر وأغن الْإِسْلَام عَن عامر. یعنی ابن الطفیل

دیہاتی علاقوں  پرتم حکومت کرواورشہرمیرے قبضے میں  ہوں  ۔ اگریہ نہیں  تواپنے بعدمجھے اپناجانشین نامزدکرجاؤ۔ اگریہ بھی منظورنہیں  تومیں  بنوغطفان کوایک ہزارگھوڑے اورایک ہزارگھوڑیوں  کے ساتھ مدینہ طیبہ پرہلہ بول دوں  گا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں  سے کوئی بات نہ مانی اورفرمایااللہ تجھے قدرت نہیں  دے گا،جب وہ دونوں  اٹھ کھڑے ہوئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعافرمائی الٰہی!ان دونوں  کے مقابلے کے لئے مجھے کافی ہواے اللہ!بنی عامرکوہدایت دے اوراے اللہ!اسلام کوعامربن طفیل سے بے نیازکردے ۔

ثُمَّ قَالَ لِأَرْبَدَ: إذَا قَدِمْنَا عَلَى الرَّجُلِ، فَإِنِّی سَأَشْغَلُ عَنْكَ وَجْهَهُ، فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَاعْلُهُ بِالسَّیْفِ،فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَامِرٌ لِأَرْبَدَ: وَیْلَكَ یَا أَرْبَدُ أَیْنَ مَا كُنْتُ أَمَرْتُكَ بِهِ؟وَاَللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ رَجُلٌ هُوَ أَخْوَفَ عِنْدِی عَلَى نَفْسِی مِنْكَ. وَاَیْمُ اللهِ لَا أَخَافُكَ بَعْدَ الْیَوْمِ أَبَدًا،قَالَ: لَا أَبَا لَكَ! لَا تَعْجَلْ عَلَیَّ، وَاَللَّهِ مَا هَمَمْتُ بِاَلَّذِی أَمَرْتنِی بِهِ مِنْ أَمْرِهِ إلَّا دَخَلْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ الرَّجُلِ، حَتَّى مَا أَرَى غَیْرَكَ، أَفَأَضْرِبكَ بِالسَّیْفِ؟

عامراوراربدنے یہ سازش کی تھی عامرنے اربدسے کہاکہ جب ہم محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس پہنچیں  گے تومیں  ان کوباتوں  میں  مشغول کرلوں  گا،اورتم ان پرتلوارکا وار کر دینا، جب یہ دونوں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باہرنکل آئے توعامربن طفیل نے اربدکوغصہ سے کہااے اربدافسوس !جیسامیں  نے تجھے کہاتھاتونے ایساکیوں  نہیں  کیا،اللہ کی قسم! روئے زمین پر آپ سے زیادہ ڈرپوک آدمی نہیں  ، اللہ کی قسم! آج کے بعد میں  تجھ سے کبھی بھی نہ ڈرو گا،اربدنے کہاتومجھ پرناحق ناراض ہورہاہے اللہ کی قسم! میں  نے جب بھی انہیں  قتل کرنے کاارادہ کیاتومیرے اوران کے درمیان ایک آدمی حائل ہوگیااورمجھے تیرے سوااورکوئی دکھائی نہ دیاتوپھرکیامیں  تجھ پرتلوارکاوار کردیتا،پھریہ لوگ اپنے علاقے کی طرف واپس چلے گئے۔[31]

فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْمَدِینَةِ صَادَفَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ یُقَالُ لَهَا: سَلُولِیَّةٌ فَنَزَلَ عَنْ فرسه، ونام فی بیتها، فأخذته عدة فِی حَلْقِهِ، فَوَثَبَ عَلَى فَرَسِهِ وَأَخَذَ رُمْحَهُ، وَأَقْبَلَ یَجُولُ، وَهُوَ یَقُولُ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبِكْرِ، وَمَوْتٌ فِی بَیْتِ سَلُولِیَّةٍ، فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ حَالُهُ حتَّى سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ مَیِّتًا

اللہ کی قدرت عامرایک سلولیہ عورت کے ہاں  اترااورگھرمیں  سوگیا،اسی دوران اس کی گردن پراونٹوں  کاطاغوتی پھوڑانکل آیا،اسے گھوڑے پربٹھایاگیا کہ بسترپرمرنے کی ذلت سے بچ جائے،وہ فرط غم سے یہ کہتاہواوہ گھوڑے کی پشت پرہی ہلاک ہوگیاآہ !اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اورایک سلولیہ عورت کے گھرمیں  موت،اس کو اسی مقام پردفن کردیاگیا۔[32]

فلما قدموا أَتَاهُمْ قَوْمُهُمْ:فَقَالُوا: مَا وَرَاءَكَ یَا أربد؟قَالَ:لَا شَیْءَ وَاَللَّهِ، لَقَدْ دَعَانَا إلَى عِبَادَةِ شَیْءٍ لَوَدِدْتُ أَنَّهُ عِنْدِی الْآنَ، فَأَرْمِیَهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى أَقْتُلَهُ الْآنَ، فَخَرَجَ بَعْدَ مَقَالَتِهِ بِیَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ مَعَهُ جَمَلٌ لَهُ یَبِیعُهُ فَأَرْسَلَ الله عَلَیْهِ وَعَلَى جَمَلِهِ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْهُمَا

جب وفدسرزمین بنی عامرمیں  پہنچاتولوگوں  نے اربدسے حالات دریافت کیے ،اربدنے کہاآپ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کادین ہیچ ہے ،اللہ کی قسم !وہ شخص اگراس وقت میرے سامنے ہو تو تیروں  سے اس کوقتل کردوں  ،ابھی دودن ہی گزرے تھے کہ وہ اونٹ پرسوارہوکرنکلااربداوراس کے اونٹ پرآسمانی بجلی گری اوروہ جل کربھسم ہوگیا۔[33]

عامراوراربددونوں  بدنصیب نعمت اسلام سے محروم رہے اوروفدکے باقی اراکین دولت اسلام سے مالامال ہوکرواپس ہوئے ،اسی کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی۔

وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَاۗءُ وَهُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللهِ۝۰ۚ وَهُوَشَدِیْدُ الْمِحَالِ۝۱۳ۭ [34]

ترجمہ:وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں  کوبھیجتاہے اور(بسااوقات)انہیں  جس پرچاہتاہے عین اس حالت میں  گرادیتاہے جبکہ لوگ اللہ کے بارے میں  جھگڑرہے ہوتے ہیں  ،فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے۔[35]

ان دونوں  کاقصہ انہی کے قبیلہ بنوعامرکے ایک صحابی موئلہ بن جمیل نے روایت کیاہے

أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وسلَّم فَأَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِینَ سَنَةً، وَبَایَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وسلَّم وَمَسَحَ یَمِینَهُ وَسَاقَ إِبِلَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَصَدَّقَهَا بِنْتَ لَبُونٍ ،ثُمَّ صَحِبَ أَبَا هُرَیْرَةَ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وسلَّم وَعَاشَ فِی الْإِسْلَامِ مِائَةَ سَنَةٍ ، وَكَانَ یُسَمَّى ذَا اللِّسانین مِنْ فَصَاحَتِهِ

یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اورمسلمان ہوگئے تھے ،ان کی عمراس وقت بیس سال کی تھی ،انہوں  نے بیعت کی آپ کاداہناہاتھ چھوااوراپنے اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  پیش کیے،آپ نے دوسالہ مادہ اونٹنی صدقہ میں  دی،اس کے بعدوہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے اوربحالت اسلام سوسال زندہ رہے،انہیں  ان کی فصاحت کے سبب دوزبانوں  والاکہا جاتا تھا۔ [36]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاایک خواب:

 فَأَخْبَرَنِی أَبُو هُرَیْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَیْتُ فِی یَدَیَّ سِوَارَیْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَهَمَّنِی شَأْنُهُمَا، فَأُوحِیَ إِلَیَّ فِی المَنَامِ: أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَیْنِ، یَخْرُجَانِ بَعْدِی فَكَانَ أَحَدُهُمَا العَنْسِیَّ، وَالآخَرُ مُسَیْلِمَةَ الكَذَّابَ، صَاحِبَ الیَمَامَةِ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  سویاہواتھاکہ میں  نے خواب میں  دیکھاکہ میرے ہاتھ میں  سونے کے دوکنگن ہیں  ،مجھے اس خواب کودیکھ کررنج ہوا پھرخواب میں  آپ پروحی نازل ہوئی کہ میں  ان پرپھونک ماروں  چنانچہ میں  نے پھونک ماری(پھونک مارتے ہی)وہ دونوں  کنگن اڑگئے، میں  نے اس خواب کی یہ تعبیر کی یہ کہ میرے بعددوکذاب ظاہرہوں  گے(جونبوت کادعویٰ کریں  گے)ایک صنعاء کارہنے والاعنسی اوردوسرایمامہ کارہنے والامسیلمہ۔[37]

اللہ تعالیٰ نے دونوں  کوہلاک کردیااس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوفرمایاتھاوہ حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوا۔

مسیلمہ کذاب کی مدینہ منورہ میں  آمد:

بنوحنیفہ ایک بڑاقبیلہ تھاجوربیعہ بن نزاربن معدبن عدنان کی اولادسے تھا،اوربنوبکربن وائل کاایک بطن تھا،یہ لوگ یمامہ(نجد)میں  آبادتھے ،نوہجری(بروایت دیگر۱۰ہجری)میں  بنوحنیفہ بن بنوحنیفہ بن بجیم بن صَعْبِ کا وفدنجدسے بارگاہ رسالت میں  حاضرہوا،

أَنهم كَانُوا سَبْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا فِیهِمْ مُسَیْلِمَةُ

جحافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں  وسترہ آدمیوں  پرمشتمل تھاان میں  مسیلمہ بھی شامل تھا۔[38]

ابن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں

قَدِمَ وَفْدُ بَنِی حَنِیفَةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بَضْعَةَ عَشَرَ رَجُلا

بنی حنیفہ کے انیس آدمیوں  کاایک وفدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔[39]

وَهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا

چودہ آدمیوں  پرمشتمل تھا۔[40]

أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ وَفْدِ قَوْمِهِ

اوروفدمیں  فتنہ پردازابوثمامہ مسیلمہ بن ثمامہ کذاب بھی شامل تھا۔[41]

فَأُنْزِلُوا دَارَ رَمْلَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ.وَأُجْرِیَتْ عَلَیْهِمْ ضِیَافَةٌ

یہ لوگ رملہ بنت الحارث کے مکان پرٹھیرائے گئے اورمہمان نوازی کی گئی اور پھروفدکے اراکین خدمت نبوی میں  حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے ۔

أن مُسَیْلِمَةُ صدر منه الِاسْتِنْكَافِ والْأَنَفَةِ والِاسْتِكْبَارِ والطموح إلى الْأَمَّارَةِ، وأنه لم یحضر مع سائر الْوَفْدَ إلىرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

ایک روایت ہےمسیلمہ کذاب بنوحنیفہ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ مدینہ آیامگرغروروتکبرکی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  حاضر نہ ہوا ۔[42]

فَلَمَّا انْتَهَوْا إلَى الْیَمَامَةِ ارْتَدَّ عَدُوُّ اللهِ وَتَنَبَّأَ وَتَكَذَّبَ لَهُمْ، وَقَالَ: إنِّی قَدْ أُشْرِكْتُ فِی الْأَمْرِ مَعَهُ

ایک روایت میں  ہےمسیلمہ نے اسلام قبول کرلیاتھا،مگربعدمیں  جب وہ یمامہ میں  پہنچ گئے تواللہ کادشمن مسلمہ مرتدہوکرنبوت کادعوی کردیا،اورکہنے لگامیں  نبوت میں  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک ہوں  ۔[43]

وَیَقُولُ لَهُمْ فِیمَا یَقُولُ مُضَاهَاةً لِلْقُرْآنِ: لَقَدْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَى الْحُبْلَى، أَخْرَجَ مِنْهَا نَسَمَةً تَسْعَى، مِنْ بَیْنَ صِفَاقٍ وَحْشًا

اوراس نے اپنامسجع کلام بطورقرآن مجیدسنناشروع کیا،اللہ نے حاملہ پرانعام کیااس سے ایک روح نکالی جوصفاق اورانتڑیوں  کے درمیان چلتی ہے۔

 أَنَّ عُبَیْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ مُسَیْلِمَةَ الكَذَّابَ قَدِمَ المَدِینَةَ فَنَزَلَ فِی دَارِ بِنْتِ الحَارِثِ، وَكَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ الحَارِثِ بْنِ كُرَیْزٍ، وَهِیَ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَهُوَ الَّذِی یُقَالُ لَهُ: خَطِیبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَفِی یَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَضِیبٌ، فَوَقَفَ عَلَیْهِ فَكَلَّمَهُ،

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے مروی ہےجب مسیلمہ کذاب مدینہ منورہ آیاتواس نے بنت حارث کے گھرقیام کیاکیونکہ بنت حارث بن کریزاس کی بیوی تھی یہی عبداللہ بن عامرکی ماں  بھی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت رضی اللہ عنہ بن قیس بن شماس انصاری جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کے نام سے مشہورتھے کوساتھ لے کراس کے پاس تشریف لے گئےجواپنے ساتھیوں  کے درمیان بیٹھاتھااوراس سے گفتگوکی اس وقت آپ کے دست مبارک میں  کھجورکی ایک چھڑی تھی۔

فَقَالَ لَهُ مُسَیْلِمَةُ: إِنْ شِئْتَ خَلَّیْتَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الأَمْرِ، ثُمَّ جَعَلْتَهُ لَنَا بَعْدَكَ،فَقَالَ: لَوْ سَأَلْتَنِی هَذِهِ القِطْعَةَ مَا أَعْطَیْتُكَهَا، وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللهِ فِیكَ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَیَعْقِرَنَّكَ اللهُ، وَإِنِّی لَأَرَاكَ الَّذِی أُرِیتُ فِیهِ، مَا رَأَیْتُ، وَهَذَا ثَابِتٌ یُجِیبُكَ عَنِّی ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْه

مسیلمہ نے کہااے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )میں  اس شرط پرمسلمان ہوتاہوں  کہ آپ کے بعدحکومت مجھے ملے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخلافت توبڑی چیزہے اگرتومجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے تومیں  تجھے نہیں  دے سکتا ،اللہ نے تیری نسبت جوفیصلہ کردیاہے وہ ہوکررہے گاتواس سے تجاوزنہیں  کرسکتا،اوراگرتواسلام سے پیٹھ پھیرے گاتواللہ تجھے ہلاک کردے گااوربیشک میں  تجھے وہی شخص سمجھتاہوں  جس کی نسبت میں  نے خواب میں  دیکھا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں  جومیری طرف سے تجھے جواب دیں  گےیہ کہہ کرآپ وہاں  سے چلے آئے۔ [44]

چنانچہ ان دومیں  سے ایک کذاب مسیلمہ ہواجس نے دس ہجری میں  نبوت کادعویٰ کیا،اوردوسرااسودعنسی(اسودکااصل نام عیہلہ بن کعب بن عوف عنسی تھالیکن سیاہ فام ہونے کی وجہ سے اسودکے نام سے مشہورہوگیاتھا،عنس قبیلہ مذحج کی ایک شاخ تھی ،اسودنے یمن کے ایک موضع جس کانام کہف خارہے پیداہوااوروہیں  نشوونماپائی)اسودعنسی نے جب یمن میں  نبوت کادعویٰ کیا،

وفیروز قَاتل الْأسود الْعَنسِی الْكذَّاب الَّذِی ادّعى النُّبُوَّة قَتله بِصَنْعَاء فَأتى الْخَبَر من السَّمَاء إِلَى النَّبِی صلى الله عَلَیْهِ وَسلم فِی مَرضه الَّذِی توفّی فِیهِآ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیروزدیلمی رضی اللہ عنہ کوچندسواروں  کے ساتھ اس کوقتل کرنے کے لئے بھیجا،اس کے قتل کی خبرمرض الوفات میں  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی۔[45]

وَفَیْرُوزَ وَغَیْرِهِمَا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى الْأَسْوَدِ لَیْلًا وَقَدْ سَقَتْهُ الْمَرْزُبَانَةُ الْخَمْرَ صَرْفًا حَتَّى سَكِرَ وَكَانَ عَلَى بَابِهِ أَلْفُ حَارِسٍ فَنَقَبَ فَیْرُوزُ وَمَنْ مَعَهُ الْجِدَارَ حَتَّى دَخَلُوا فَقَتَلَهُ فَیْرُوزُ وَاحْتَزَّ رَأْسَهُ، وَأَرْسَلُوا الْخَبَرَ إِلَى الْمَدِینَةِ فَوَافَى بِذَلِكَ عِنْدَ وَفَاةِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

فیروزاوران کے ساتھی رات کے وقت اسودعنسی کے گھرپرپہنچے اوروہ اس وقت شراب نوشی میں  مصروف تھا،انہوں  نے کچھ دیرتک انتظارکیایہاں  تک کہ وہ نشے میں  مدحوش ہو گیا،اوراس کے مکان کے دروزے پرایک ہزارچوکیدار موجودتھے،فیروزاوران کے ساتھی دیوارمیں  نقب لگاکراندرداخل ہوئے اورفیروزنےاسے قتل کرکے اس کا سر کاٹ لیا،اوراسودعنسی کے قتل کی خبرمدینہ منورہ میں  بھیجی جونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے پہنچ گئی۔([46]

عن ابن عمر: أتى الخبر إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وسلَّم مِنَ السَّماء اللیلة الَّتِی قُتِلَ فِیهَا الْعَنْسِیُّ لیبشِّرنا، فَقَالَ: قُتِلَ الْعَنْسِیُّ الْبَارِحَةَ قَتَلَهُ رَجُلٌ مُبَارَكٌ مِنْ أَهْلِ بَیْتٍ مُبَارَكِینَ ،قِیلَ: وَمَنْ؟قَالَ: فَیْرُوزُ فیرروز

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  جس رات اسودعنسی قتل ہوااس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسودکے قتل کی خوشخبری کے لیےوحی نازل ہوئی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسودعنسی قتل کردیاگیاہے اوراسے ایک مسلمان نے قتل کیاہے جوایک بابرکت خاندان سے تعلق رکھتاہے،عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کانام کیاہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایافیروز،فیروز۔[47]

وفی ذلك یقول عبد الرحمن هذا:

عبدالرحمٰن نے اس بارہ میں  یہ اشعارکہے ۔

لعمری وماعمری علی بھلین،لقدجرعت عنس لقتل الاسود

میری زندگی کی قسم،اورمیری قسم معمولی قسم نہیں  ،قبیلہ عنس اسودعنسی کے قتل سے گھبرااٹھے

وقال رسول اللہ سیروالقتلیہ،علیٰ خیرموعودواسعداسعد

رسول اللہ نے حکم دیاکہ اس کے قتل کے لئے جاؤ،اوربہترین وعدہ اورخوش نصیبی کی بشارت دی

فسرناالیہ فی فوارس بھمة،علیٰ حین امرمن وَصَاةَ مُحَمَّدٍ

پس ہم چندسواراس کے قتل کے لئے روانہ ہوگئے،تاکہ آپ کے حکم اوروصیت کی تعمیل ہو۔[48]

عَنْ عُرْوَةَ أُصِیبَ الْأَسْوَدُ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِیَوْمٍ وَلَیْلَةٍ فَأَتَاهُ الْوَحْیُ فَأَخْبَرَ بِهِ أَصْحَابَهُ ثُمَّ جَاءَ الْخَبَرُ إِلَى أَبِی بَكْرٍ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ وَقِیلَ وَصَلَ الْخَبَرُ بِذَلِكَ صَبِیحَةَ دفن النَّبِی صلى الله عَلَیْهِ وَسلم

عروہ کہتے ہیں  کہ اسودعنسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک دن اورایک رات قبل ماراگیا،اسی وقت آپ کوبذریعہ وحی کے اس کی خبردی گئی،آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کواس سے مطلع کیا،اس کے بعدجب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوگئے تب قاصد باقاعدہ خبر لے کرآیا،اوربعض کہتے ہیں  کہ آپ کے دفن کے روزقاصدخبرلے کرآیا۔[49]

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَقَالَ لِی شَیْخٌ مِنْ أَهْلِ الْیَمَامَةِ مِنْ بَنِی حَنِیفَةَ: إِنَّ حَدِیثَهُ كَانَ عَلَى غَیْرِ هَذَا، زَعَمَ أَنَّ وَفْدَ بَنِی حَنِیفَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَخَلَّفُوا مسیلمة فِی رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا ذَكَرُوا لَهُ مَكَانَهُ، فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَدْ خَلَّفْنَا صَاحِبًا،لَنَا فِی رِحَالِنَا وَرِكَابِنَا یَحْفَظُهَا لَنَا، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِمَا أَمَرَ بِهِ لِلْقَوْمِ، وَقَالَ:أَمَا إِنَّهُ لَیْسَ بِشَرِّكُمْ مَكَانًا ، یَعْنِی حِفْظَهُ ضَیْعَةَ أَصْحَابِهِ، وَذَلِكَ الَّذِی یُرِیدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ.ثُمَّ انْصَرَفُوا وَجَاءُوهُ بِالَّذِی أَعْطَاهُ، فَلَمَّا قَدِمُوا الْیَمَامَةَ ارْتَدَّ عَدُوُّ اللَّهِ وَتَنَبَّأَ، وَقَالَ: إِنِّی أُشْرِكْتُ فِی الْأَمْرِ مَعَهُ، أَلَمْ یَقُلْ لَكُمْ حِینَ ذَكَرْتُمُونِی لَهُ: أَمَا إِنَّهُ لَیْسَ بِشَرِّكُمْ مَكَانًا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَا كَانَ یَعْلَمُ أَنِّی قَدْ أُشْرِكْتُ فِی الْأَمْرِ مَعَهُ

ابن اسحاق نے بنوحنیفہ کے ایک شخص کے حوالے سے بیان کیاہےبنوحنیفہ کاوفدمدینہ پہنچاتووہ لوگ مسیلمہ کواپنے خیموں  میں  سامان اورسواریوں  کی حفاظت کے لئے پیچھے چھوڑگئے اورخودبارگاہ رسالت میں  حاضرہوکرحلقہ بگوش اسلام ہوگئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفدکے ہرفرد کوپانچ اوقیہ چاندی عطافرمائے ،انہوں  نے عرض کیاکہ ہم اپنے ایک ساتھی کوسامان اورسواریوں  کی حفاظت کے لئے پیچھے چھوڑآئے ہیں  ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بھی اتناہی عطیہ دینے کاحکم دیاجتناانہیں  دیاتھا،اورفرمایاوہ تم جیساآدمی نہیں  ہے کہ اپنے ساتھیوں  کے سازوسامان کی حفاظت کرسکے،اس گفتگوکے بعدیہ لوگ واپس ہوئے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عطاکردہ عطایابھی ان کے ساتھ تھے،

جب یہ لوگ یمامہ پہنچے تواللہ کادشمن( مسیلمہ)مرتدہوگیااورنبوت کادعویٰ کردیا،اورکہنے لگامیں  بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نبوت ہوں  ، کیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےتم لوگوں  سے میراتذکرہ نہیں  کیاتھاکہ وہ تم جیساآدمی نہیں  ہے، اوریہ اس وجہ سے تھاکہ انہیں  معلوم تھاکہ میں  بھی ان کی نبوت میں  شریک ہوں  ۔[50]

اس شخص کی وجہ سے اس کی قوم فتنے میں  مبتلاہوگئی اورانہوں  سنے اس کونبی تسلیم کرلیااور اس کی اتنی قدرومنزلت کی کہ اسے یمامہ کارحمان کہاجانے لگا

وَأَحَلَّ لَهُمْ الْخَمْرَ وَالزِّنَا، وَوَضَعَ عَنْهُمْ الصَّلَاةَ، وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ یَشْهَدُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّهُ نَبِیٌّ

اس نے اپنی قوم کواپنی اتباع کی ترغیب دینے کے لئےشراب وزناکوجائزقراردے دیاتھا،اور انہیں  نمازوں  کی چھوٹ دے دی تھی، اوروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شہادت دیتارہتاتھاکہ آپ اللہ کے نبی ہیں  ۔

وہ ملعون(اللہ تعالیٰ اس پرلعنت کرے)قرآنی آیات کے مقابلے میں  کہنے لگا۔

لَقَدْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَى الْحُبْلَى، أَخْرَجَ مِنْهَا نَسَمَةً تَسْعَى، مِنْ بَیْنَ صِفَاقٍ وَحَشًى

اللہ تعالیٰ نے حاملہ پراحسان فرمایاہے کہ اس کے دل کے پردے اورانتڑیوں  کے درمیان سے ایک چلتاپھرتاروح نکالاہے۔

اس نے سورہ کوثرکے طرزپرایک مسجع عبارت کہی تھی جویہ تھی۔

إِنَّا أَعْطَیْنَاكَ الْجَمَاهِرَ، فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَجَاهِرْ، إِنَّ مُبْغَضَكَ رَجُلٌ كَافِرٌ

ہم نے آپ کوجواہرات عطاکیے ہیں  ،پس آپ اپنے اللہ کی عبادت کریں  اورہجرت کریں  ،بلاشبہ آپ سے بغض رکھنے والاکافرشخص ہے۔

آیت الکرسی کے مقابلے میں  اس ملعون نے یہ آیت بنائی۔

یَا ضُفْدَعُ بِنْتَ ضُفْدَعْ، نُقِّی مَا تُنَقِّینْ، أَعْلَاكِ فِی الْمَاءْ، وَأَسْفَلُكِ فِی الطِّینْ، لَا الشَّارِبَ تَمْنَعِینْ، وَلَا الْمَاءَ تُكَدِّرِینْ

اے مینڈکی،مینڈکی کی بچی!اسے صاف کرجسے توصاف کرتی ہے تیرابالائی حصہ توپانی میں  ہے اورنچلہ حصہ مٹی میں  ہے ،نہ توپانی پینے والے کوروکتی ہے اورنہ پانی کوگدلاکرتی ہے۔[51]

سورۂ الفیل کے مقابلے میں  یوں  آیت بنائی۔

وَالْفِیلْ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْفِیلْ له ذنب وثیل ومشفر أو خرطوم طویل انّ ذلك من خلق ربنا لقلیل

ہاتھی ، اورتوکیاجانے کہ ہاتھی کیاہےاس کی چھوٹی دم اور لمبی سونڈہوتی ہےاوراللہ نے انہیں  بہت تھوڑی تعدادمیں  تخلیق کیاہے۔[52]

سورۂ النازعات کامعارضہ کرتے ہوئے کہا۔

وَالْعَاجِنَاتِ عَجْنًا، وَالْخَابِزَاتِ خَبْزًا، وَاللاقِمَاتِ لَقْمًا، إِهَالَةً وَسَمْنًا، إِنَّ قُرَیْشًا قَوْمٌ یَعْتَدُونَ

آٹاگوندھنے والیاں  اورروٹی پکانے والیاں  اورلقمے بنانے والیاں  ،سالن اورگھی سے،قریشی لوگ بہت آگے نکل گئے۔[53]

العصرکے مقابلے میں  اس نے یہ آیت بنائی۔

یَا وبْر یَا وبْر، إِنَّمَا أَنْتَ أُذُنَانِ وَصَدْرٌ، وَسَائِرُكَ حَقْرٌ فَقْرٌ

اے وبرجانورتیرے توبس دوکان ہیں  اورسینہ ہے اورباقی جسم توتیرابالکل حقیراورعیب دارہے۔[54]

سورئہ العادیات کے مقابلے میں  کہا۔

والزّارعات زَرْعا، والحاصدات حَصْدا, والذَاریات ذَرْوا، والطّاحنات طحنًا، والنازلات نزلا، فالجامعات جمعا، والعاجنات عجنا، فالخابزات خبزا، والثاردات ثردا،واللاقمات لقما لحماد سمنالقدفضلتکم علی اھلالوبروماسبقکم اھلا المدرفیقکم فامنوہ والمعترفاووہ والباغی فناوؤہ

قسم ہے کھیتی کرنے والوں  کی اورقسم ہے کھیتی کاٹنے والوں  کی اورقسم ہے بھوسہ صاف کرنے کے لیے گیہوں  کوہوامیں  اڑانے والوں  کی ،اورقسم ہے آٹاپیسنے والوں  کی اورقسم ہے روٹی پکانے والوں  کی اورقسم ہے سالن پکانے والوں  کی ،اورقسم ہے تیل اورگھی کے لقمے کھانے والوں  کی کہ تم کوصوف وا۔۔۔(بادیہ نشین)عربوں  پرفضیلت دی گئی ہے اورمٹی سے مکان بنانے والے شہری عرب بھی تم سے بڑھ کرنہیں  ہیں  ،تم اپنی روکھی سوکھی روٹی کی حفاظت کرو، عاجز و درماندہ کوپناہ دواورطلب اورمانگنے والے کواپنے پاس ٹھہراؤ۔[55]

اورسورئہ الشمس کے مقابلے میں  کہا۔

والشمس وضحاها، فی ضوئها ومن جلاها. واللیل إذا عداها، یطلبها لیغشاها، فأدركها حتى أتاها وأطفأ نورها فمحاها، وقدحرم المذق نقالہ مالک لاتمجعون

علامہ خیرالدین آفندی آلوسی سابق وزیرطونس نے کتاب الجواب الفسیح میں  عبدالمسیح نصرانی کاقول نقل کیاہے کہ میں  نے مسلمہ کاپورامصحف پڑھاہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ اس نے ایک ضخیم کتاب ہی تیارکرڈالی تھی اوردعویٰ یہ تھاکہ وہ الہامی کتاب ہے۔

دس ہجری میں  مسیلمہ کذاب نے دوقاصدوں  کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط بھیجاجس کامضمون یہ تھا۔

مِنْ مُسَیْلِمَةَ رَسُولُ اللهِ، إِلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ: سَلامٌ عَلَیْكَ.

أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّی أُشْرِكْتُ مَعَكَ فِی الأَمْرِ، وَإِنَّ لَنَا نِصْفَ الأَرْضِ، وَلِقُرَیْشٍ نِصْفَ الأَرْضِ، وَلَكِنَّ قُرَیْشًا قَوْمٌ یَعْتَدُونَ. والسلام

مسیلمہ اللہ کے رسول کی طرف سے محمدرسول اللہ کی طرف

میں  تمہارے ساتھ کام میں  شریک کردیاگیاہوں  ،نصف زمین ہمارے لئے اورنصف قریش کے لئے مگرقریش انصاف نہیں  کرتے،والسلام۔[56]

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، حَیْثُ قُتِلَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ: إِنَّ هَذَا وَابْنَ أُثَالٍ، كَانَا أَتَیَا النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، رَسُولَیْنِ لِمُسَیْلِمَةَ الْكَذَّابِ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:أَتَشْهَدَانِ أَنِّی رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَیْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ:لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا، لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہےابن نواحہ اورابن اثال مسیلمہ کے قاصدبن کرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیاکیاتم دونوں  شہادت دیتے ہوکہ میں  اللہ کارسول ہوں  ؟ انہوں  نے جواب دیاہاں  ،ہم شہادت دیتے ہیں  کہ مسیلمہ اللہ کارسول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  اللہ اوراس کے رسول پرایمان لایااگرمیں  کسی قاصدکوقتل کرنا جائز ہوتاتوتم دونوں  کوقتل کرتا۔ [57]

وَكَانَ ذَلِكَ فِی آخِرِ سَنَةِ عَشْرٍ

دس ہجری حجة الوداع کے بعد۔[58]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کایہ جواب دیا۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ

مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى مُسَیْلِمَةَ الْكَذَّابِ

سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى

أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ یَورِثُهَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محمدرسول اللہ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کی طرف

اس شخص پرسلامتی ہوجوہدایت کاراستہ اختیارکرے

امابعد !تحقیق زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں  میں  سے جسے چاہئے عطافرمائے اوراچھاانجام اللہ سے ڈرنے والوں  کاہے[59]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعدسیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدخلافت میں  مرتدین کی سرکوبی کے لئے گیارہ لشکرترتیب دیئے تھے جن میں  ایک لشکرعکرمہ رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں  روانہ کیا،ان کی پسپائی کے باعث خالد رضی اللہ عنہ بن ولیداورشرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کوروانہ کیا،جنہوں  نے ربیع الاول ۱۲ہجری میں  یمامہ کے مقام پرزبردست جنگ کے بعد اسے تباہ کن شکست دی اوراسی لڑائی میں  وہ جہنم واصل ہوا،مسیلمہ کذاب کے قتل کے بعداس کی قوم بنوحنیفہ نے صلح کی خاطرہتھیارڈال دیئے،بنوحنیفہ کاسارامال اورہتھیارضبط کرلئے گئے،شرائط صلح طے ہوچکی تھیں  کہ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کاحکم پہنچاکہ بنوحنیفہ کے تمام بالغ مردقتل کردیئے جائیں  ،لیکن خالد رضی اللہ عنہ نے صلح نامہ طے پانے کے بعدایساکرنے سے معذوری ظاہرکی کیونکہ یہ بدعہدی کے مترادف تھا،مسلمانوں  کایہ طرزعمل دیکھ کربنوحنیفہ نے اسلام قبول کرلیا۔جنگ یمامہ جو۱۱ہجری میں  شروع ہوئی اور۱۲ہجری میں  ختم ہوئی میں  بڑی خون ریزہ ہوئی ،فریقین کابہت زیادہ جانی نقصان ہوا،چھ سات سومسلمان شہیدہوئے جن میں  بعض اکابراورنامورقراء اورحفاظ بھی شامل تھے۔

تمیم رضی اللہ عنہ بن اسیدکاقبول اسلام

قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ: انْتَهَیْتُ إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ یَخْطُبُ،قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ غَرِیبٌ، جَاءَ یَسْأَلُ عَنْ دِینِهِ، لَا یَدْرِی مَا دِینُهُ،قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَیَّ، فَأُتِیَ بِكُرْسِیٍّ، حَسِبْتُ قَوَائِمَهُ حَدِیدًا،قَالَ: فَقَعَدَ عَلَیْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَ یُعَلِّمُنِی مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ،ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ، فَأَتَمَّ آخِرَهَا

فتح مکہ کے بعدبنورباب کاایک شخص تمیم بن اسیدجن کی کنیت ابورفاعہ تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضرہوااس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدمیں  خطبہ ارشادفرمارہے تھے، ابورفاعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں  ایک مسافرہوں  اوراپنے دین کی باتیں  پوچھنے آیاہوں  میں  نہیں  جانتاکہ میرادین کیاہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ روک کر ان کی طرف متوجہ ہوئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجورکی چھال کی بنی ہوئی ایک کرسی لائی گئی جس کے پائے لوہے کے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پرتشریف فرماہوئے اور مجھے سکھانے لگے جواللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوسکھایاتھا ،اورپھراس کے بعدجاکرخطبہ کوتمام فرمایا۔[60]

وفدبنی لیث:

یہ عدنانی کنانی قبیلہ تھا،یہ لوگ اضلاع نجدمیں  آبادتھے،ربیعہ بن الحارث بن عبدالمطلب نے بنی لیث میں  پرورش پائی تھی اورہذیل نے اس کوقتل کردیا تھا ۔

نوہجری میں  غزوہ تبوک کی تیاری سے پہلے بنولیث کاایک بیس رکنی وفدمالک رضی اللہ عنہ بن الحویرث اللیشی کی سرکردگی میں  بارگاہ رسالت میں  حاضرہوااوراسلام قبول کرلیا

فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِینَ لَیْلَةً ، فعلمهم الصلاة، وأمره بتعلیم قومهم إذا رجعوا إلیهم

یہ لوگ بیس دن مدینہ منورہ میں  قیام پذیررہے اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  احکام دین کی تعلیم دی،اورنمازسکھائی،اور جب وہ واپس جائیں  تواپنے قبیلے والوں  کوبھی نمازپڑھناسکھانے کا بھی حکم دیا۔[61]

مَالِكِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ اللَّیْثِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِینَ لَیْلَةً فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِنَا وَسَأَلْنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا فَأَخْبَرَنَاهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ رَفِیقًا رَحِیمًا فَقَالَ:ارْجِعُوا إِلَى أَهَالِیكُمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَیْتُمُونِی أُصَلِّی فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْیُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْیَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ

مالک رضی اللہ عنہ بن الحویرث اللیشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  حاضرہوئے اورہم اس وقت نوجوان تھے، ہم لوگ بیس دن مدینہ منورہ میں  قیام پذیررہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیاکہ ہم اپنے گھروالوں  کی طرف سے فکرمندہیں  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےپوچھاکہ ہم اپنے گھروالوں  کے لیے کیاچھوڑکرآئے ہیں  ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبتلایاکہ ہم کیاچھوڑکرآئے ہیں  ،اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان دوست تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجب تم اپنے گھروں  کی طرف جاؤتوانہیں  دین کی باتیں  سکھلاؤاوران پرعمل کراؤاوراس طرح نمازپڑھوجس طرح مجھے نمازپڑھتے ہوئے دیکھاہے جب نمازکاوقت ہوجائے توتم میں  سے کوئی اذان کہے اورجوتم میں  بڑاہووہ امامت کرائے۔[62]

خالد رضی اللہ عنہ بن ولیدایک اورجہادمیں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَیْدَةَ، عَنْ أَبِیهِ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا إِلَى خَالِدٍ لِیَقْبِضَ الخُمُسَ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِیًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ: أَلاَ تَرَى إِلَى هَذَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: یَا بُرَیْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِیًّا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لاَ تُبْغِضْهُ فَإِنَّ لَهُ فِی الخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ

بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکرتیارکیااوراس پرخالد رضی اللہ عنہ بن ولیدکوسپہ سالارمقررفرمایا(مجاہدین کواللہ نے فتح سے ہمکنارکیااور)بہت سامال غنیمت ہاتھ آیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کوبھیجاکہ وہ جاکرخمس کواپنی تحویل میں  لے لیں  (اورمجاہدین میں  تقسیم کردیں  )بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض تھا،(جب انہوں  نے خمس میں  سے ایک لونڈی لے لی پھر)وہ نہاکرآئے تومیں  نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہاآپ نے ان کودیکھا(انہوں  نے اپنے حصہ سے زائدلے لیا)بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  پھرجب ہم نبی کریم کی خدمت میں  پہنچے تومیں  نے اس کاذکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے بریدہ رضی اللہ عنہ !کیاتم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہو؟میں  نے کہاہاں  ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان سے بغض مت رکھوکیونکہ خمس میں  ان کااس سے بھی زیادہ حصہ ہے۔[63]

قَالَ: فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ عَلِیٍّ

اس واقعہ کے بعدبریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بعدمجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں  ہے۔[64]

[1] صحیح مسلم کتاب الفتن بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ۷۳۷۳

[2] صحیح مسلم کتاب الفتن بَابٌ فِی خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِی الْأَرْضِ ۷۳۹۰

[3]صحیح مسلم کتاب الفتن بَابٌ فِی صِفَةِ الدَّجَّالِ، وَتَحْرِیمِ الْمَدِینَةِ عَلَیْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْیَائِهِ۷۳۷۵

[4] صحیح مسلم كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ باب قصة الجساسة عن فاطمہ بنت قیس ۷۳۸۶

[5] ابن سعد۲۱۹؍۱،مجوعة الوثائق السیاسیة للعہدالنبوی والخلافة۲۴۱؍۱

[6] ابن سعد ۲۴۵؍۱

[7] ابن سعد۳۵۲؍۱،سبل الهدى والرشاد، فی سیرة خیر العباد۳۹۰؍۶

[8] عیون الآثر۳۰۸؍۲،سبل الھدی ۲۸۵؍۶،شرح الزرقانی علی المواھب ۲۰۳؍۵

[9] صحیح بخاری کتاب العلم بَابُ مَا جَاءَ فِی العِلْمِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى وَقُلْ رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا۶۳،صحیح مسلم کتاب الایمان بَابٌ فِی بَیَانِ الْإِیمَانِ بِاللهِ وَشَرَائِعِ الدِّینِ۱۰۲

[10] زاد المعاد ۳۶۵،۳۶۶؍۳

[11] الاصابہ۳۹۵؍۳،عیون الآثر۲۸۸؍۲،سبل الهدى والرشاد، فی سیرة خیر العباد۳۵۵؍۶،السیرة الحلبیة۳۱۰؍۳

[12] زاد المعاد ۳۶۶؍۳

[13] ابن سعد۲۵۲؍۱

[14] ابن سعد۲۵۳؍۱

[15] صحیح بخاری کتاب الجمعة بَابُ الجُمُعَةِ فِی القُرَى وَالمُدُنِ ۸۹۲

[16]ابن سعد۲۳۸؍۱

[17] ابن مندہ ودولابی

[18] شرح الزرقانی علی المواھب ۱۳۸؍۵

[19] ابن سعد۸۰؍۶

[20] ابن سعد۲۳۸؍۱

[21]صحیح مسلم کتاب الایمان باب الامربالایمان باللہ تعالیٰ ورسولہﷺ۱۱۷

[22] البدایة والنہایة۵۶؍۵، زادالمعاد ۵۳۰؍۳،مسنداحمد۳۴۰۶

[23] صحیح مسلم کتاب الایمانبَابُ الْأَمْرِ بِالْإِیمَانِ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَشَرَائِعِ الدِّینِ، وَالدُّعَاءِ إِلَیْهِ ۱۱۸،دلائل النبوة للبیہقی۳۲۵؍۵

[24] مسنداحمد۱۵۵۵۰

[25] اسدالغابة

[26] أسد الغابة ۴۹۱؍۴

[27] زاد المعاد ۵۸۸تا۵۹۱؍۳،البدایة والنہایة۹۵؍۵،السیرة النبویة لابن کثیر۱۵۶؍۴

[28] مسنداحمد۲۷۱۵۴

[29] زادالمعاد۵۷۳؍۳،عیون الآثر۳۱۳؍۲

[30] ابن سعد۲۵؍۷،دلائل النبوة للبیہقی۳۱۸؍۵،زادالمعاد۵۲۷؍۳

[31] ابن ہشام۵۶۸؍۲

[32] البدایة والنہایة۶۹؍۵

[33] البدایة والنہایة ۷۰؍۵

[34] الرعد۱۳

[35] ابن ہشام۵۶۹؍۲

[36] البدایة النہایة۶۹؍۵

[37]صحیح بخاری کتاب المناقب بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِی الإِسْلاَمِ۳۶۲۱،صحیح مسلم کتاب الرویابَابُ رُؤْیَا النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ۵۹۳۵

[38] فتح الباری۸۷؍۸

[39]ابن سعد۳۴۰؍۱

[40] زادالمعاد ۴۱۷؍۳

[41] فتح الباری ۸۹؍۸،شرح الزرقانی علی المواھب ۱۴۶؍۵

[42] السیرة النبویة والدعوة فی العھد المدنی ۶۵۸

[43] ابن ہشام۵۷۶؍۲،الروض الانف۴۷۱؍۷،عیون الآثر۲۹۲؍۲،تاریخ طبری ۱۳۸؍۳،البدایة والنہایة ۶۱؍۵،السیرة النبویة لابن کثیر۹۶؍۴

[44] صحیح بخاری کتاب المناقب بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِی الإِسْلاَمِ۳۶۲۰ ، وکتاب المغازی بَابُ وَفْدِ بَنِی حَنِیفَةَ، وَحَدِیثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ۴۳۷۳،وبَابُ قِصَّةِ الأَسْوَدِ العَنْسِیِّ ۴۳۷۸،صحیح مسلم کتاب الرویابَابُ رُؤْیَا النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ۵۹۳۵،دلائل النبوة للبیہقی۳۵۸؍۶،البدایة والنہایة ۶۰؍۵، السیرة النبویة لابن کثیر۹۵؍۴

[45] المصباح المضی فی كتاب النبی الأمی ورسله إلى ملوك الأرض من عربی وعجمی۱۵۷؍۲

[46] فتح الباری۹۳؍۸،شرح الزرقانی علی المواھب۱۵۴؍۵

[47] البدایة والنہایة۳۴۲؍۶،الكامل فی التاریخ لابن الاثیر۲۰۰؍۲، تاریخ الطبری۲۳۶؍۳، المنتظم فی تاریخ الأمم والملوك لابن الجوزی ۲۰؍۴، تاریخ ابن خلدون۴۸۳؍۲،إمتاع الأسماع۲۲۸؍۱۴

[48] الإصابة فی تمییز الصحابة۲۵۶؍۴

[49] فتح الباری ۹۳؍۸، شرح الزرقانی علی المواھب۱۵۴؍۵

[50] زادالمعاد۵۳۴؍۳،دلائل النبوة للبیہقی۳۳۱؍۵،ابن ہشام۵۷۷؍۲،الروض الانف ۴۷۰؍۷،عیون الآثر۲۹۲؍۲،تاریخ طبری۱۳۸؍۳،البدایة والنہایة۶۱؍۵

[51] الكامل فی التاریخ۲۱۵؍۲،غرائب التفسیر وعجائب التأویل۳۷۱؍۱،تفسیرابن کثیر۲۵۵؍۴، إعراب القرآن وبیانه۶۰؍۱

[52] تاریخ الخمیس فی أحوال أنفس النفیس۱۵۸؍۲،غرائب التفسیر وعجائب التأویل۳۷۲؍۱

[53] تفسیرابن کثیر۲۵۵؍۴

[54] تفسیرابن کثیر۲۰۳؍۱،تفسیرالقاسمی۔محاسن التأویل ۱۴؍۶،توفیق الرحمن فی دروس القرآن۵۲۵؍۴، التفسیر المنیر فی العقیدة والشریعة والمنهج۳۹۱؍۳۰

[55] المفصل فى تاریخ العرب قبل الإسلام۳۹۴؍۱۶

[56] إعلام السائلین عن كتب سید المرسلین لابن طولون۱۱۳؍۱

[57] مسنداحمد۳۷۰۸،تاریخ الخمیس۱۵۷؍۲

[58] ابن اثیر۱۴۵؍۲

[59]۔ابن هشام ۶۰۱؍۲، الروض الانف ۵۰۰؍۷، تاریخ طبری ۱۴۶؍۳،البدایة والنہایة۶۲؍۵،دلائل النبوة للبیهقی ۳۳۱؍۵،زادالمعاد۵۳۴؍۳

[60]صحیح مسلم کتاب الجمعةبَابُ حَدِیثِ التَّعْلِیمِ فِی الْخُطْبَةِ ۲۰۲۵، السنن الکبری للنسائی۹۷۴۰، مسنداحمد۲۰۷۵۳، اسدالغابة۴۲۷؍۱

[61] اسدالغابة۱۸؍۵

[62] معجم الصحابة لابن قانع۴۵؍۳

[63] صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ بَعْثِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَلَیْهِ السَّلاَمُ، وَخَالِدِ بْنِ الوَلِیدِ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ، إِلَى الیَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الوَدَاعِ عن بریدہ۴۳۵۰،فضائل الصحابة الاحمدبن حنبل۱۱۷۹

[64] مسنداحمد۲۲۹۶۷،الاعتقاد والهدایة إلى سبیل الرشاد على مذهب السلف وأصحاب الحدیث۳۵۴؍۱

Related Articles