ہجرت نبوی کا نواں سال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبوک روانگی

قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَمِیسِ، وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِینَةِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِیَّ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَسْتَخْلِفُ عَلَى الْعَسْكَرِ أَبَا بَكْرٍ الصّدّیقَ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ یُصَلّی بِالنّاسِ

اس کے بعدرجب نوہجری بروزجمعرات کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمدبن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کومدینہ میں  اپناقائم مقام ،سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کومدینہ طیبہ کا کوتوال ، عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کومسجدنبوی کاامام،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےسیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواپنے لشکرپرنمازپڑھانے کے لئے اپناجانشین مقررفرمایااورسیدناعلی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کواہل وعیال کی نگرانی و خبرگیری کے لئے مدینہ میں  چھوڑااور بہت تیزتیزچلتے ہوئے سفرپرروانہ ہوگئے ،

عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِیهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، وَاسْتَخْلَفَ عَلِیًّا، فَقَالَ: أَتُخَلِّفُنِی فِی الصِّبْیَانِ وَالنِّسَاءِ؟ قَالَ:أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ، مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِی

مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف جاتے ہوئے سیدناعلی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کواپناجانشین مقررکرگئے تھے، سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا آپ مجھے پیچھے عورتوں  اوربچوں  میں  چھوڑتے ہیں  ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیاتم اس پرخوش نہیں  ہوکہ میرے بعدتمہاراوہ مقام ہوجوموسیٰ علیہ السلام کے بعدہارون علیہ السلام کاتھا؟ مگر میرے بعدکوئی نبی نہیں  ہوگا۔[1]

کچھ ایسے صحابی رضی اللہ عنہ بھی پیچھے رہ گئے جن کوکچھ شرعی مجبوریاں  لاحق تھیں  اورکچھ وہ لوگ بھی پیچھے رہ گئے جن کوکوئی شرعی مجبوری نہ تھی، ان میں  بنوسلمہ سے کعب رضی اللہ عنہ بن مالک ،بنوعمروبن عوف سے مرارہ رضی اللہ عنہ بن ربیع ،بنوواقف سے ہلال رضی اللہ عنہ بن امیہ ،بنوسالم سے ابوخیثمہ اورابولبابہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمنذر اورچھ اورمسلمان شامل تھے یعنی گیارہ صحابہ جن کے ایمان میں  شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں  تھی، اپنے نفس کی کمزوری سے بغیرکسی شرعی عذرسے پیچھے رہ گئے۔

غزوہ تبوک کے لشکرکی تعدادکے بارے میں  مختلف روایات ہیں  ،

كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ،وَغَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِنَاسٍ كَثِیرٍ یَزِیدُونَ عَلَى عَشَرَةِ آلَافٍ، وَلَا یَجْمَعُهُمْ دِیوَانُ حَافِظٍ

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے معقل کی روایت میں  یہ الفاظ ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے آدمیوں  کے ساتھ جہادکیا،جن کی تعداددس ہزارسے زیادہ تھی ،اورکسی دفترمیں  ان کانام نہ تھا۔[2]

وَلِلْحَاكِمِ فِی الْإِكْلِیلِ مِنْ حَدِیثِ مُعَاذٍ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ زِیَادَةً عَلَى ثَلَاثِینَ أَلْفًا وبهذه الْعدة جزم بن إِسْحَاق

ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھاہے حاکم نے اکلیل میں  معاذکی حدیث بیان کی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کی طرف نکلے توہمارے ساتھیوں  کی تعدادتیس ہزارسے زیادہ تھی ،ابن اسحاق نے یہی تعدادوثوق سے بیان کی ہے[3]

وكان الناس مع رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِینَ أَلْفًا، وَمِنْ الْخَیْلِ عَشْرَةُ آلَافٍ فَرَسٌ

واقدی لکھتے ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے والوں  کی تعدادتیس ہزارتھی اوردس ہزارگھوڑے تھے۔[4]

وَقَدْ نُقِلَ عَنْ أَبِی زُرْعَةَ الرَّازِیِّ أَنَّهُمْ كَانُوا فِی غَزْوَةِ تَبُوكَ أَرْبَعِینَ أَلْفًا

ابوزرعہ رازی سے منقول ہے کہ وہ چالیس ہزارکی تعدادمیں  تھے۔[5]

ایک روایت میں  کہتے ہیں  سترہزارآدمی تھےلیکن معروف اورقابل ترجیح یہ ہے کہ جیش تبوک کی تعدادتیس ہزارتھی۔

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپناقصہ بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیاہے ،وہاں انہوں  نے اپنے بڑھاپے کے زمانہ میں  جبکہ وہ نابیناہوچکے تھے اپنے بیٹے عبداللہ سے بیان کیاتھا۔

قَالَ كَعْبٌ: لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلَّا فِی غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَیْرَ أَنِّی كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِی غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ یُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُرِیدُ عِیرَ قُرَیْشٍ، حَتَّى جَمَعَ اللهُ بَیْنَهُمْ وَبَیْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَیْرِ مِیعَادٍ، وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لَیْلَةَ العَقَبَةِ، حِینَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ، أَذْكَرَ فِی النَّاسِ مِنْهَا، كَانَ مِنْ خَبَرِی:أَنِّی لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَیْسَرَ حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ، فِی تِلْكَ الغَزَاةِ، وَاللهِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِی قَبْلَهُ رَاحِلَتَانِ قَطُّ، حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِی تِلْكَ الغَزْوَةِ

سیدنا کعب بیان فرماتے ہیں  غزوہ تبوک کے سوااورکسی غزوہ میں  ایسانہیں  ہواتھاکہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہ ہواہوں  ،البتہ غزوہ بدرمیں  بھی شریک نہیں  ہواتھا،لیکن جولوگ غزوہ بدرمیں  شریک نہ ہوسکے تھے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کی خفگی کااظہارنہیں  فرمایاتھا،کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پرصرف قریش کے قافلے کی تلاش میں  نکلے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی پیشگی تیاری کے بغیرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کادشمنوں  سے سامناہوگیا،لیکن میں  لیلہ عقبہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  حاضرہواتھایہ وہی رات ہے جس میں  ہم نے (مکہ مکرمہ میں  )اسلام کے لیے عہدکیاتھا،اورمجھے تویہ غزوہ بدرسے بھی زیادہ عزیزہے اگرچہ بدرکالوگوں  کی زبانوں  پرزیادہ چرچاہے،تیسراواقعہ یہ ہے کہ میں  اپنی زندگی میں  کبھی اتناقوی ،اتناصاحب مال نہیں  ہواتھاجتنااس موقع پرتھا۔جبکہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کے غزوے میں  شریک نہ ہوسکاتھا،اللہ کی قسم!اس سے پہلے کبھی میرے پاس دواونٹ جمع نہیں  ہوئے تھے لیکن اس موقع پرمیرے پاس دواونٹ موجودتھے

وَلَمْ یَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُرِیدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَیْرِهَا، حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الغَزْوَةُ، غَزَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی حَرٍّ شَدِیدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِیدًا، وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِیرًا، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِینَ أَمْرَهُمْ لِیَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِی یُرِیدُ،وَالمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ كَثِیرٌ، وَلاَ یَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ، یُرِیدُ الدِّیوَانَ، قَالَ كَعْبٌ: فَمَا رَجُلٌ یُرِیدُ أَنْ یَتَغَیَّبَ إِلَّا ظَنَّ أَنْ سَیَخْفَى لَهُ، مَا لَمْ یَنْزِلْ فِیهِ وَحْیُ اللهِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے کے لیے تشریف لے جاتے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے ذومعنی الفاظ استعمال کیاکرتے تھے، لیکن جب اس غزوہ کاموقع آیاتوگرمی بڑی سخت تھی،سفربھی بہت لمباتھا،بیابانی راستہ اوردشمن کی فوج کی کثرت تعداد!تمام مشکلات سامنے تھیں  ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں  سے اس غزوے کے متعلق بہت تفصیل کے ساتھ بتادیاتھا،تاکہ اس کے مطابق پوری تیاری کرلیں  چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سمت کی بھی نشاندہی فرمادی جدھرسے آپ کاجانے کاارادہ تھا ، مسلمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت تھے اتنے کہ کسی رجسٹرمیں  سب کے ناموں  کالکھنابھی مشکل تھا،کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ کوئی بھی شخص اگراس غزوہ میں  شریک نہ ہوناچاہتاتووہ یہ خیال کرسکتاتھاکہ اس کی غیرحاضری کاکسی کوپتہ نہیں  چلے گاسوااس کے کہ اس کے متعلق وحی نازل ہو،

وَغَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الغَزْوَةَ حِینَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ ،وَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَالمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَیْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ، فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا، فَأَقُولُ فِی نَفْسِی: أَنَا قَادِرٌ عَلَیْهِ، فَلَمْ یَزَلْ یَتَمَادَى بِی حَتَّى اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الجِدُّ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَالمُسْلِمُونَ مَعَهُ، وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِی شَیْئًا، فَقُلْتُ أَتَجَهَّزُ بَعْدَهُ بِیَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ، ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس غزوہ کے لیے تشریف لے جارہے تھے، توپھل پکنے کازمانہ تھا،اورسایہ میں  بیٹھ کرلوگ آرام کرتے تھے (یہی چیزیں  میری توجہ کامرکزبنی ہوئی تھیں  اورمیں  انہی میں  الجھ کررہ گیا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تیاریوں  میں  مصروف تھے اورآپ کے ساتھ مسلمان بھی مصروف تھے،لیکن میں  روزانہ سوچاکرتاتھاکہ کل سے میں  بھی تیاری کروں  گااوراس طرح ہرروزاسے ٹالتارہا،مجھے اس کایقین تھاکہ تیاری کرلوں  گا،مجھے آسانیاں  میسرہیں  یوں  ہی وقت گزرتا رہا اور آخرلوگوں  نے اپنی تیاریاں  مکمل بھی کرلیں  اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین اسلام کوساتھ لے کرروانہ بھی ہوگئے،اس وقت تک میں  نے کوئی تیاری نہیں  کی تھی،اس موقع پربھی میں  نے اپنے دل کویہی کہہ کرسمجھالیاکہ کل یاپرسوں  تک تیاری کرلوں  گااورپھرلشکراسلام سے جاملوں  گا،

فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لِأَتَجَهَّزَ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا، ثُمَّ غَدَوْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا،فَلَمْ یَزَلْ بِی حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الغَزْوُ، وَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ، وَلَیْتَنِی فَعَلْتُ، فَلَمْ یُقَدَّرْ لِی ذَلِكَ،فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِی النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْتُ فِیهِمْ، أَحْزَنَنِی أَنِّی لاَ أَرَى إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَیْهِ النِّفَاقُ، أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَ اللهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ

لشکراسلام کےکوچ کے بعددوسرے دن میں  نے تیاری کے لیے سوچالیکن اس دن بھی کوئی تیاری نہیں  کی ،پھرتیسرے دن کے لیے سوچااوراس دن بھی کوئی تیاری نہیں  کی یوں  ہی وقت گزرگیااورلشکراسلام بہت آگے بڑھ گیا غزوے میں  شرکت میرے لیے بہت دورکی بات ہوگئی اورمیں  یہی ارادہ کرتارہاکہ یہاں  سے چل کرانہیں  پالوں  گا،کاش میں  نے ایساکرلیاہوتالیکن یہ میرے نصیب میں  نہیں  تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعدجب میں  باہرنکلتاتومجھے بڑارنج ہوتا،کیونکہ یاتووہ لوگ نظرآتے جن کے چہروں  سے نفاق ٹپکتاتھایاوہ لوگ جنہیں  اللہ تعالیٰ نے معذوراورضعیف قراردے دیاتھامجھے اس بات سے سخت صدمہ ہوتاتھا۔[6]

جب آپ مقام ذی اوان پرپہنچے تواللہ نے آپ کو مسجد ضرارکے متعلق وحی فرمائی

وَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، رِضْوَانُ اللهِ عَلَیْهِ، عَلَى أَهْلِهِ، وَأَمَرَهُ بِالْإِقَامَةِ فِیهِمْ، فَأَرْجَفَ بِهِ الْمُنَافِقُونَ، وَقَالُوا: مَا خَلَّفَهُ إلَّا اسْتِثْقَالًا لَهُ، وَتَخَفُّفًا مِنْهُ. فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ الْمُنَافِقُونَ، أَخَذَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، رِضْوَانُ اللهِ عَلَیْهِ سِلَاحَهُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجُرْفِ ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللهِ، زَعَمَ الْمُنَافِقُونَ أَنَّكَ إنَّمَا خَلَّفَتْنِی أَنَّكَ اسْتَثْقَلْتنِی وَتَخَفَّفَتْ مِنِّی،

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ سے روانہ ہوگئے توسیدناعلی رضی اللہ عنہ کواپنے اہل کی حفاظت کے لیے مدینہ منورہ میں  چھوڑدیاتھا،تومنافقین نے یہ کہناشروع کردیاکہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوجھ ہلکاکرنے کے لیے مدینہ منورہ میں  چھوڑگئے ہیں  کیونکہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پربڑابوجھ ہوتا،سیدناعلی رضی اللہ عنہ اس بات کوسن کربہت غصہ ہوئے اوراپنے ہتھیارپہن کرمقام جرف (مدینہ سے جانب شام تین میل پر واقع ایک مقام کا نام ہے )میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے،اورعرض کیااے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !منافقین نے یہ مشہورکردیاہے کہ آپ مجھے بوجھ سمجھ کرنجات حاصل کرنے کے لئے مدینہ میں  چھوڑ گئے ہیں  ،

فَقَالَ: كَذَبُوا، وَلَكِنَّنِی خَلَّفْتُكَ لِمَا تَرَكْتُ وَرَائِی، فَارْجِعْ فَاخْلُفْنِی فِی أَهْلِی وَأَهْلِكَ ،قَالَ:أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ، مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِی، فَرَجَعَ عَلِیٌّ إلَى الْمَدِینَةِ، وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَفَرِهِ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ جھوٹ بولتے ہیں  ،میں  نے توتمہیں  اپنے اہل وعیال کی خبرگیری کے لئے چھوڑا ہے ،اس لئے تم واپس چلے جاؤاورمیرے اوراپنے اہل وعیال کی نگرانی کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیاتم اس پرخوش نہیں  ہوکہ میرے بعدتمہاراوہ مقام ہوجوموسیٰ علیہ السلام کے بعدہارون علیہ السلام کا تھا؟ مگر میرے بعدکوئی نبی نہیں  ہوگا،اس پرسیدنا علی رضی اللہ عنہ مدینہ واپس لوٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفرپرروانہ ہوگئے۔[7]

ابن عبدالبرنے بھی اسی کوترجیح دی ہے مگر ابن قیم رحمہ اللہ نے بالجزم کہاہے

وَلَكِنَّ هَذِهِ كَانَتْ خِلَافَةً خَاصَّةً عَلَى أَهْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا الِاسْتِخْلَافُ الْعَامُّ فَكَانَ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِیِّ ، وَیَدُلُّ عَلَى هَذَا أَنَّ الْمُنَافِقِینَ لَمَّا أَرْجَفُوا بِهِ وَقَالُوا: خَلَّفَهُ اسْتِثْقَالًا أَخَذَ سِلَاحَهُ ثُمَّ لَحِقَ بِالنَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: كَذَبُوا، وَلَكِنْ خَلَّفْتُكَ لِمَا تَرَكْتُ وَرَائِی، فَارْجِعْ فَاخْلُفْنِی فِی أَهْلِی وَأَهْلِكَ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بالخصوص اہل بیت پرخلیفہ تھے اور خلیفہ عام محمد رضی اللہ عنہ بن مسلمہ ہی تھے،اس کی دلیل یہ ہے کہ منافقین نے یہ کہاکہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوجھ سمجھ کرپیچھے چھوڑگئے ہیں  توسیدناعلی رضی اللہ عنہ نے اپنااسلحہ پہنااورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کومنافقین کی باتوں  سے آگاہ کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ جھوٹ بولتے ہیں  ،میں  نے توتمہیں  اپنے اہل وعیال کی خبرگیری کے لئے چھوڑا ہے ،اس لئے تم واپس چلے جاؤاورمیرے اوراپنے اہل وعیال کی نگرانی کرو ۔[8]

وَشَهِدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی ثَلَاثِینَ أَلْفًا مِنَ النَّاسِ، وَالْخَیْلُ عَشَرَةُ آلَافِ فَرَسٍ

بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیس ہزارمجاہدین کے لشکرکے ساتھ،جن کے ساتھ دس ہزار شہسوارتھے تبوک کی طرف روانہ ہوئے۔[9]

مگراتنے ایثاروقربانی کے باوجودبھی سواری اور زادراہ کا سامان پورانہ ہوسکا ،ایک ایک اونٹ پراٹھارہ اٹھارہ آدمی باری باری سوارہوتے تھے،اس پرگرمی کی شدت اورپانی کی قلت مستزادتھی ،خوراک کی کمی کے باعث پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بعض اوقات درختوں  کی پتیاں  کھائیں  جس سے ان کے ہونٹوں  پرورم آگیا، سواری کے جانوروں  کی کمی کے باوجودپانی اورخوراک کے لئے حصول کے لئے اونٹوں  کوذبح کرناپڑا،تاکہ اس کے اندرجمع شدہ پانی کوپی کراوراس کے گوشت کوکھاکرگزارہ کیاجا سکے ، اس لئے اس غزوہ کانام جیش عسرت پڑگیا۔

جھنڈوں  کاعطافرمانا:

فَلَمّا رَحَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِیّةِ الْوَدَاعِ إلَى تَبُوكَ، وَعَقَدَ الْأَلْوِیَةَ وَالرّایَاتِ، فَدَفَعَ لِوَاءَهُ الْأَعْظَمَ إلَى أَبِی بَكْرٍ الصّدّیقِ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ، وَرَایَتُهُ الْعُظْمَى إلَى الزّبَیْرِ، وَدَفَعَ رَایَةَ الْأَوْسِ إلَى أُسَیْدِ بْنِ الْحُضَیْرِ، وَلِوَاءَ الْخَزْرَجِ إلَى أَبِی دُجَانَةَ، وَیُقَالُ: إلَى الْحُبَابِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَمُوحِ.

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ثَنِیّةُ الْوَدَاعِ سے تبوک کی طرف روانہ ہوئے توآپ نے بڑے چھوٹے جھنڈے تیارفرمائے ،چھوٹے جھنڈوں  میں  سب سے بڑاسیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواوربڑے جھنڈوں  میں  سب سے بڑاجھنڈا زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کواورقبیلہ اوس کابڑاعلم اسیدبن حضیر رضی اللہ عنہ کواورقبیلہ خزرج کاعلم حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو عطافرمایا .[10]

اسی طرح انصاراورقبائل عرب کی ہرہرشاخ کوایک ایک بڑایاچھوٹاعلم عطافرمایا۔

ابوخیثمہ رضی اللہ عنہ کاواقعہ:

یہ ان لوگوں  میں  شامل تھے جوکسی مجبوری سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ نہیں  ہوسکے تھے،

وَكَانَ أَبُو خَیْثَمَةَ یُسَمّى عَبْدَ اللهِ بْنَ خَیْثَمَةَ السّالِمِیّ ، فَرَجَعَ بَعْدَ أَنْ سَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَیّامٍ حَتّى دَخَلَ عَلَى امْرَأَتَیْنِ لَهُ فِی یَوْمٍ حَارّ فَوَجَدَهُمَا فِی عَرِیشَیْنِ لَهُمَا، قَدْ رَشّتْ كُلّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَرِیشَهَا وَبَرّدَتْ لَهُ فِیهِ مَاءً، وَهَیّأَتْ لَهُ فِیهِ طَعَامًا، فَلَمّا انْتَهَى إلَیْهِمَا قَامَ عَلَى الْعَرِیشَیْنِ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ! رَسُولُ اللهِ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخّرَ فِی الضّحّ وَالرّیحِ وَالْحَرّ، یَحْمِلُ سِلَاحَهُ عَلَى عُنُقِهِ، وَأَبُو خَیْثَمَةَ فِی ظِلَالٍ بَارِدٍ وَطَعَامٍ مُهَیّأٍ وَامْرَأَتَیْنِ حَسْنَاوَیْنِ، مُقِیمٌ فِی مَالِهِ، مَا هَذَا بِالنّصَفِ! ثُمّ قَالَ: وَاَللهِ، لَا أَدْخُلُ عَرِیشَ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا حَتّى أَخْرُجَ فَأَلْحَقَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ.

اورابوخیثمہ رضی اللہ عنہ جن کانام عبداللہ بن خیثمہ رضی اللہ عنہ تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرپرروانہ ہونے کے دس دن بعدایک سخت گرم دن یہ اپنے گھرآئے،انہوں  نے اپنی دونوں  بیویوں  کوباغ میں  دیکھاکہ ہرایک نے پانی چھڑک کر اپنا اپنا چھپڑ ٹھنڈا کیا ہواہےاوراپنے شوہرکے لئے مزے دارکھانے اورٹھنڈے پانی کاانتظام کررکھاہے،ابوخیثمہ جب چھپڑمیں  داخل ہوئے تواس کے دروازے پر رک گئے،دونوں  بیویوں  کودیکھااورجوکچھ انہوں  نے تیارکررکھاتھااس کاجائزہ لیااورپھربولے سُبْحَانَ اللهِ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے آگلے پچھلے تمام گناہوں  کواللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیاہےوہ تودھوپ اورگرمی میں  تکلیف برداشت کریں  اوراپنے گلے میں  اسلحہ پہنیں  اورابوخیثمہ اپنے باغ میں  ٹھنڈے سائے تلے مزے دارکھانے اورخوبصورت عورتوں  سے لطف اندوزہو،واللہ!یہ انصاف نہیں  ،پھرکہنے لگے اللہ کی قسم!میں  تم میں  سے کسی کے چھپڑمیں  داخل نہیں  ہوں  گابلکہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  جاؤں  گامیرے لئے فورا سفر کاسامان تیارکرو،بیویوں  نے حکم کی تعمیل کی،

فَأَنَاخَ نَاضِحَهُ وَشَدّ عَلَیْهِ قَتَبَهُ وَتَزَوّدَ وارتحل، فجعلت امرأتاه یكلّمانه ولا یكلّمها، حَتّى أَدْرَكَ عُمَیْرَ بْنَ وَهْبٍ الْجُمَحِیّ بِوَادِی الْقُرَى یُرِیدُ النّبِیّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَصَحِبَهُ فَتَرَافَقَا، حَتّى إذَا دَنَوْا مِنْ تَبُوكَ قَالَ أَبُو خَیْثَمَةَ: یَا عُمَیْرُ! إنّ لِی ذُنُوبًا وَأَنْتَ لَا ذَنْبَ لَك، فَلَا عَلَیْك أن تَخَلّفَ عَنّی حَتّى آتِیَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَك. فَفَعَلَ عُمَیْرٌ،فَسَارَ أَبُو خَیْثَمَةَ حَتّى إذَا دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِتَبُوكَ قَالَ النّاسُ: هَذَا رَاكِبٌ الطّرِیقَ! قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: كُنْ أَبَا خَیْثَمَةَ! فَقَالَ النّاسُ: یَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا أَبُو خَیْثَمَةَ! فَلَمّا أَنَاخَ أَقْبَلَ فَسَلّمَ عَلَى النّبِیّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: أَوْلَى لَك یَا أَبَا خَیْثَمَةَ!ثُمّ أَخْبَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الْخَبَرَ، فَقَالَ له رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ خَیْرًا وَدَعَا لَهُ

پھروہ اپنے آبپاشی کے اونٹ پرسوارہوکر روانہ ہوئے اوررسول اللہ کی تلاش میں  اپنی سواری کودوڑانے لگے،ابوخیثمہ رضی اللہ عنہ آپ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ تبوک پہنچ چکے تھے،راستہ میں  ابوخیثمہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات عمیر رضی اللہ عنہ بن وہب سے ہوئی وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں  تھے،کچھ دیریہ دونوں  اکٹھے سفر کرتے رہے جب تبوک کے نزدیک پہنچے توابوخیثمہ رضی اللہ عنہ نے عمیر رضی اللہ عنہ بن وہب سے کہامیں  نے کچھ گناہ کیا ہے میری خواہش ہے کہ تم تھوڑی دورپیچھے رہ جاؤاورمجھے اکیلے کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہونے دو،وہ راضی ہوگئے،ابوخیثمہ رضی اللہ عنہ جب قریب پہنچے توتبوک میں  آپ کی مجلس میں  بیٹھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !ایک سوارآرہاہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کرے یہ ابوخیثمہ رضی اللہ عنہ ہو،لوگ غورسے دیکھ کرکہنے لگے اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! واقعی یہ ابوخیثمہ ہی ہیں  ،اپنااونٹ بٹھاکرابوخیثمہ آپ کی خدمت میں  حاضرہوئے اوراپنا تمام واقعہ آپ کوکہہ سنایا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بہترکلمات کہے اوران کے حق میں  دعائے خیر فرمائی۔[11]

 سفرمیں  نمازیں  جمع کرنا:

حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاةِ فِی سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِی غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَجَمَعَ بَیْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ،قَالَ سَعِیدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ:أَرَادَ أَنْ لَا یُحْرِجَ أُمَّتَهُ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں  ظہراورعصراوراسی طرح مغرب اورعشاء جمع کرکے پڑھتے تھے، سعیدکہتے ہیں  میں  نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایساکیوں  کرتے تھے ؟ انہوں  نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ آپ کی امت میں  کوئی آدمی تنگی میں  نہ رہے۔[12]

أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ یَجْمَعُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِیعًا

معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم غزوہ تبوک کے سفر میں  آپ کے ہمراہ تھے آپ ظہراورعصراورمغرب اورعشاء کی نمازیں  جمع کرکے پڑھتے تھے۔[13]

امام مالک نے بھی یہ روایت ذکرکی ہے اوراس میں  یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں

قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلاَةَ یَوْماً. فَخَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعاً، ثُمَّ دَخَلَ. ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِیعاً

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دونمازیں  موخرکیں  پھرآئے اورظہراورعصرکوجمع کرکے پڑھاپھرایک مقام میں  داخل ہوئے اورپھروہاں  سے نکل کرمغرب اور عشاء کوجمع کر کے پڑھا۔[14]

بستی ثمودمیں  آمد:

تبوک جاتے ہوئے راستہ میں  وہ عبرتناک مقام بھی آیاجہاں  اللہ کی نافرمان ،شرک ومعاصی میں  ڈوبی قوم ثمودپراللہ کاقہراورعذاب نازل ہواتھا،

أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا، وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِینَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَنْ یُهَرِیقُوا مَا اسْتَقَوْا، وَیَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِینَ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ یَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِی كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےمجاہدین اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ دیرکے لئے حجرمیں  اترے (یعنی ثمودکے ملک میں  )صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پینے کے لیے اس کے کنوئیں  سے اپنے مشکیزوں  میں  پانی لے لیا اوراس پانی سے آٹابھی گوندلیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم ہواتوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوحکم فرمایا کہ یہاں  کاپانی بہادیں  اور آٹااونٹوں  کوکھلادیں  ،اورحکم فرمایاکہ صرف اس کنوئیں  سے پانی بھریں  جس کنوئیں  سے(صالح علیہ السلام کی ) اونٹنی پانی پیتی تھی۔[15]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِالحِجْرِ قَالَ:لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، أَنْ یُصِیبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِینَ، ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّیْرَ حَتَّى أَجَازَ الوَادِیَ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام حجرسے گزرے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ان لوگوں  کی بستیوں  سے جنہوں  نے اپنی جانوں  پرظلم کیاتھاجب گزرناہوتوروتے ہوئے ہی گزرو(اللہ کے خوف اوراس کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے گزرو)،کہیں  ایسانہ ہوکہ جوعذاب ان پرنازل ہواتھاتم پربھی نازل ہو جائے،پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر سے اپناسرمبارک ڈھانپ لیا(اپنی سواری پرسوارہوئے)اوراس کوتیزی کے ساتھ چلاتے ہوئے اس وادی سے گزرگئے۔[16]

وادی القریٰ سے گزر:

عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَلَمَّا جَاءَ وَادِیَ القُرَى إِذَا امْرَأَةٌ فِی حَدِیقَةٍ لَهَا، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:اخْرُصُوا، وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، فَقَالَ لَهَا: أَحْصِی مَا یَخْرُجُ مِنْهَا

ابوحمیدساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم غزوہ تبوک کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ(مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر شام کے راستہ پر ایک قدیم آبادی) سے گزرے توہماری نظرایک عورت پرپڑی جواپنے باغ میں  کھڑی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایااس باغ کے پھلوں  کااندازہ لگاؤ(کہ اس میں  کتنی کھجورنکلے گی)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اندازہ لگایا،(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اندازہ لگایا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازہ میں  وہ پھل وزن میں  دس وسق(پچاس من)تھے،پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا،یادرکھنااس میں  سے جتنی کھجورنکلےاس کو تول لینا(یہ فرماکرآپ وہاں  سے منزل کی طرف روانہ ہوگئے).[17]

راستے میں  ایک جگہ پڑاؤفرمایا

قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ وَلَا مَاءَ مَعَهُمْ شَكَوْا ذَلِكَ إلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ اللهُ سُبْحَانَهُ سَحَابَةً فَأَمْطَرَتْ حَتَّى ارْتَوَى النَّاسُ، وَاحْتَمَلُوا حَاجَتَهُمْ مِنْ الْمَاءِ، قَالُوا: أَقْبَلْنَا عَلَیْهِ نَقُولُ: وَیْحَكَ، هَلْ بَعْدَ هَذَا شَیْءٌ! قَالَ: سَحَابَةٌ مَارَّةٌ ،ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ ضَلَّتْ نَاقَتُهُ فَخَرَجَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فِی طَلَبِهَا، وَعِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عُمَارَةُ بْنُ حَزْمٍ الْأَنْصَارِیُّ، وَكَانَ فِی رَحْلِهِ زَیْدٌ، وَكَانَ مُنَافِقًا،

ابن اسحاق لکھتے ہیں  صبح کے وقت لوگوں  نے پانی ختم ہونے کی شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعافرمائی،آپ کی دعاکی برکت سے اللہ تعالیٰ نے بادل بھیج کر بارش برسادی جس سے سب سیراب ہو گئے اور ضرورت کے مطابق اپنے مشکیزوں  کو پانی سے بھرلئے،کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک منافق سے کہاتم پر افسوس ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت میں  اب بھی کچھ شک وشبہ ہے، وہ بولااتفاقاًایک بادل آیااورپانی برساگیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو راستہ میں  ایک جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہوگئی جسے تلاش کرنے کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ادھرادھرروانہ ہوئے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمارہ بن حزم انصاری موجودتھے جن کے کجاوے میں  ایک منافق زید قینقاعی تھا، جب عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  تھے ،

فَقَالَ زَیْدٌ: لَیْسَ مُحَمَّدٌ یَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِیٌّ وَیخْبِرُكُمْ خَبَرَ السَّمَاءِ وَهُوَ لَا یَدْرِی أَمْرَ نَاقَتِهِ ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَارَةُ بْنُ حَزْمٍ عِنْدَهُ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: هَذَا مُحَمَّدٌ یخْبِرُكُمْ أَنَّهُ نَبِیٌّ وَیخْبِرُكُمْ بِأَمْرِ السَّمَاءِ، وَهُوَ لَا یَدْرِی أَیْنَ نَاقَتُهُ،وَإِنِّی وَاللهِ مَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا عَلَّمَنِیَ اللهُ ، وَقَدْ دَلَّنِی اللهُ عَلَیْهَا، هِیَ فِی الْوَادِی قَدْ حَبَسَتْهَا الشَّجَرَةُ بِزِمَامِهَا ، فَانْطَلَقُوا فَجَاءُوا بِهَا، فَرَجَعَ عُمَارَةُ إِلَى رَحْلِهِ

اس وقت زیدقینقاعی نے منافقوں  کے ایک گروہ کے سامنے خوب مذاق اڑایااور کہا آپ آسمان کی خبریں  تو سناتے ہیں  مگران کو اپنی اونٹنی کی کچھ خبرنہیں  کہ وہ اس وقت کہاں  ہے ؟عین اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ سے فرمایاکہ زیدنے ابھی یہ کہاہے کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کایہ دعوی ہے کہ وہ نبی ہیں  اور آپ آسمان کی خبریں  تو سناتے ہیں  مگران کو اپنی اونٹنی کی کچھ خبر نہیں  کہ وہ اس وقت کہاں  ہے ؟ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کی قسم !مجھے کسی چیزکاعلم نہیں  مگروہ جواللہ نے مجھے بتادیا ہے ، اور اب اللہ نے مجھے القاء کیاہے تومجھے علم ہواہے کہ وہ اونٹنی فلاں  وادی میں  ہے، اوراس کی مہارایک درخت میں  الجھ گئی ہے جس کی وجہ سے وہ وہاں  ٹھیری ہوئی ہےچنانچہ اس نشان دہی کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وادی میں  جاکراس اونٹنی کولے آئے۔[18]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں  سے اس بات کی بابت پوچھاتوقسمیں  کھانے لگے کہ ہم نے توایسی کوئی بات نہیں  کہی،

ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ یَتَخَلَّفُ عَنْهُ الرَّجُلُ فَیَقُولُونَ: تَخَلَّفَ فُلَانٌ،فَیَقُولُ:دَعُوهُ فَإِنْ یَكُ فِیهِ خَیْرٌ فَسَیُلْحِقُهُ اللهُ بِكُمْ، وَإِنْ یَكُ غَیْرَ ذَلِكَ فَقَدْ أَرَاحَكُمُ اللهُ مِنْهُ

پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکرکو لیکرآگے روانہ ہوئے توبعض لوگ قافلہ سے پیچھے رہ گئے،صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فلاں  شخص پیچھے رہ گئے ہیں  ،آپ نے برجستہ فرمایاانہیں  رہنے دواگران میں  ایمان ہوا توعنقریب اللہ انہیں  تم سے ملادے گا اور اگر دوسری صورت ہوئی تو اللہ نے تمہیں  ان سے نجات دے دی ۔

یَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ تَخَلَّفَ أَبُو ذَرٍّ، وَأَبْطَأَ بِهِ بَعِیرُهُ،فَقَالَ: دَعُوهُ، فَإِنْ یَكُ فِیهِ خَیْرٌ فَسَیَلْحَقُهُ اللهُ بِكَمْ، وَإِنْ یَكُ غَیْرَ ذَلِكَ فَقَدْ أَرَاحَكُمْ اللهُ مِنْهُ، وَتَلَوَّمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى بَعِیرِهِ، فَلَمَّا أَبْطَأَ عَلَیْهِ، أَخَذَ مَتَاعَهُ فَحَمَلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ یَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَاشِیًا

ایک موقعہ پرکسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوذر رضی اللہ عنہ (جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ )کااونٹ سست رفتارہے اس لیے وہ قافلہ سے پیچھے رہ گئے ہیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگران کے آنے میں  کوئی بہتری ہوگی توعنقریب اللہ انہیں  تم سے ملادے گااور اگر دوسری صورت ہوئی تواللہ نے تمہیں  ان سے نجات دے دی،ابوذر رضی اللہ عنہ نے اول اول اپنے اونٹ پر سوارقافلہ تک پہنچنے کاانتظارکیا،لیکن جب اس نے چلنے میں  سستی کی تو انہوں  نے اونٹ کو چھوڑ کر اپنا سامان کمرپر لادا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلہ کے نقوش قدم کاتتبع کرتے ہوئے پیدل روانہ ہوگئے،

وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ فِی بَعْضِ مَنَازِلِهِ، فَنَظَرَ نَاظِرٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، إنَّ هَذَا الرَّجُلَ یَمْشِی عَلَى الطَّرِیقِ وَحْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: كُنْ أَبَا ذَرٍّ،فَلَمَّا تَأَمَّلَهُ الْقَوْمُ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ، هُوَ وَاَللَّهِ أَبُو ذَرٍّ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللهُ أَبَا ذَرٍّ، یَمْشِی وَحْدَهُ، وَیَمُوتُ وَحْدَهُ، وَیُبْعَثُ وَحْدَهُ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ میں  کسی جگہ فروکش تھے کہ مجاہدین میں  سے کسی کی آدمی پرنظرپڑی تواس نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص تن تنہاپیدل چلاآرہاہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کرے یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں  ،جب لوگوں  نے غورسے دیکھاتوبول اٹھے ہاں  اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہی ہیں  ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ابوذر رضی اللہ عنہ پررحم فرمائے وہ اکیلاہی چل رہاہے،تنہاہی وفات پائیں  گے اورقبر سے بھی تنہاہی اٹھے گا،

قَالَ: لَمَّا نَفَى عُثْمَانُ أَبَا ذَرٍّ إلَى الرَّبَذَةِ ، وَأَصَابَهُ بِهَا قَدَرُهُ، لَمْ یَكُنْ مَعَهُ أَحَدٌ إلَّا امْرَأَتُهُ وَغُلَامُهُ، فَأَوْصَاهُمَا أَنْ اغْسِلَانِی وَكَفِّنَانِی، ثُمَّ ضَعَانِی عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِیقِ، فَأَوَّلُ رَكْبٍ یَمُرُّ بِكَمْ فَقُولُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعِینُونَا عَلَى دَفْنِهِ،فَلَمَّا مَاتَ فَعَلَا ذَلِكَ بِهِ. ثُمَّ وَضَعَاهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِیقِ، وَأَقْبَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِی رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ عُمَّارٍ، فَلَمْ یَرُعْهُمْ إلَّا بِالْجِنَازَةِ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِیقِ، قَدْ كَادَتْ الْإِبِلُ تَطَؤُهَا، وَقَامَ إلَیْهِمْ الْغُلَامُ. فَقَالَ: هَذَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعِینُونَا عَلَى دَفْنِهِ،قَالَ: فَاسْتَهَلَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ یَبْكِی وَیَقُولُ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، تَمْشِی وَحْدَكَ، وَتَمُوتُ وَحْدَكَ، وَتُبْعَثُ وَحْدَكَ،ثُمَّ نَزَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَوَارَوْهُ

بعد میں  آپ کاارشادصحیح ثابت ہواکیونکہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں  ابوذر رضی اللہ عنہ کوربذہ میں  جلاوطن کردیاتھاجب(بتیس ہجری میں  ) ان کی وفات کاوقت قریب آیا تو اس وقت ان کے قریب ان کی بیوی اورغلام کے سواکوئی اور نہ تھا،انہوں  نے ان دونوں  کووصیت فرمائی کہ تم دونوں  مجھے غسل اورکفن دینا،پھرمیری نعش کوراستے میں  کسی نمایاں  مقام پررکھ دینا اور جوپہلا قافلہ ادھرسے گزرے اس سے کہناکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ کاجنازہ ہے، ان کی تدفین میں  ہماری مددکریں  ،چنانچہ جب وہ فوت ہوگئے تو انہوں  نے ایسا ہی کیا ،کچھ دیربعد ادھرسے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اورعراق والوں  کی ایک جماعت کاگزرہواجوعمرہ کے لئے آرہے تھے ، راستے میں  رکھے ہوئے جنازہ کودیکھ کرچونک پڑے جسے اونٹ روندنے ہی والاتھا،انہیں  دیکھ کروہ غلام کھڑاہوگیااوراس نے کہایہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ کا جنازہ ہے ان کی تدفین میں  ہماری مددکریں  ،یہ سن کرعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اوررونے لگے اورفرمایا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایاتھاکہ تم تن تنہا پیدل سفر کرو گےتنہاہی وفات پاؤ گے اورقبر میں  سے بھی تنہاہی اٹھائے جاؤ گے، پھرقافلہ والے سواریوں  سے اترپڑے اورانہوں  نے آپ کودفن کیا۔[19]

سفرکے دوران بھی منافقین اکثراپنی مجلسوں  میں  بیٹھ کرنبی صلی اللہ علیہ وسلم اوران مسلمانوں  کو جنہیں  نیک نیتی کے ساتھ آمادہ جہادپاتے کامذاق اڑاتے تھے، اوراپنی تضحیک سے ان لوگوں  کی ہمتیں  پست کرنے کی کوشش کرتے تھے،

وَقَدْ كَانَ رَهْطٌ مِنْ الْمُنَافِقِینَ، مِنْهُمْ وَدِیعَةُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخُو بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَمِنْهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ، حَلِیفٌ لِبَنِی سَلِمَةَ، یُقَالُ لَهُ:مُخَشِّنُ بْنُ حُمَیِّرٍ- قَالَ ابْنُ هِشَامٍ: وَیُقَالُ مَخْشِیٌّ- یُشِیرُونَ إلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إلَى تَبُوكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضِ: أَتَحْسِبُونَ جَلَّادَ بَنِی الْأَصْفَرِ كَقِتَالِ الْعَرَبِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا! وَاَللَّهِ لَكَأَنَّا بِكَمْ غَدًا مُقَرَّنِینَ فِی الْحِبَالِ، إرْجَافًا وَتَرْهِیبًا لِلْمُؤْمِنِینَ، فَقَالَ مُخَشِّنُ بْنُ حُمَیِّرٍ: وَاَللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّی أُقَاضِی عَلَى أَنْ یُضْرَبُ كُلَّ (رجل)منّا مائَة جَلْدَةٍ، وَإِنَّا نَنْفَلِتُ أَنْ یَنْزِلَ فِینَا قُرْآنٌ لِمَقَالَتِكُمْ هَذِهِ

منافقوں  کی ایک جماعت جوبنوعمروبن عوف سے ودیعہ بن ثابت اوربنوسلمہ کے حلیف مخشن بن حمیراشجعی پرمشتمل تھی ابن ہشام کے مطابق ان کا نام مخشی ہی تھا،ایک دوسرے سے کہنے لگے کیاتم رومیوں  کی لڑائی کوعربوں  کی آپس کی لڑائی کی طرح سمجھتے ہو،واللہ!ایسامعلوم ہورہاہے کہ کل تم رسیوں  میں  جکڑے ہوئے قیدی ہوگے ،مخشن بن حمیرنے کہا اللہ کی قسم!میں  اس بات کوپسندکرتاہوں  کہ ہم میں  سے ہرآدمی کوسوسودرے سزاملے اورہماری اس بات کی وجہ سے قرآن میں  مذمت کے نزول سے بچ جائیں  ،

وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ- فِیمَا بَلَغَنِی- لِعَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ أَدْرِكْ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ احْتَرَقُوا، فَسَلْهُمْ عَمَّا قَالُوا، فَإِنْ أَنْكَرُوا فَقُلْ: بَلَى، قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، فَانْطَلَقَ إلَیْهِمْ عَمَّارٌ، فَقَالَ ذَلِكَ لَهُمْ: فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَعْتَذِرُونَ إلَیْهِ، فَقَالَ وَدِیعَةُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ عَلَى نَاقَتِهِ، فَجَعَلَ یَقُولُ وَهُوَ آخِذٌ بِحَقَبِهَا : یَا رَسُولَ اللهِ، إنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کوان کے پاس بھیجاکہ وہ آگ میں  جلنے کے مستحق ہوگئے ہیں  ان سے پوچھو کہ انہوں  نے کیاکہاہے؟اگروہ انکارکردیں  اورکہیں  کہ ہم نے کچھ نہیں  کہا تو تم کہوکیوں  نہیں  ،تم نے یہ یہ بات کہی ہے،عمار رضی اللہ عنہ ان کی طرف گئے اوران لوگوں  سے گفتگوکی تووہ عذرکرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  آئے ، ودیعہ بن ثابت نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم تومحض خوش گپیوں  اورمذاق میں  مصروف تھے،ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ۝۰ۭ قُلْ اَبِاللهِ وَاٰیٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ۝۶۵ [20]

ترجمہ:اگران سے پوچھوکہ تم کیاباتیں  کررہے تھے توجھٹ کہہ دیں  گے کہ ہم توہنسی مذاق اوردل لگی کررہے تھے،ان سے کہوکیاتمھاری ہنسی دل لگی اللہ اوراس کی آیات اوراس کے رسول ہی کے ساتھ تھی۔

وَقَالَ مُخَشِّنُ بْنُ حُمَیِّرٍ: یَا رَسُولَ اللهِ، قَعَدَ بِی اسْمِی وَاسْمُ أَبِی، وَكَأَنَّ الَّذِی عُفِیَ عَنْهُ فِی هَذِهِ الْآیَةِ مُخَشِّنُ بْنُ حُمَیِّرٍ، فَتَسَمَّى عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَسَأَلَ اللهَ تَعَالَى أَنْ یَقْتُلَهُ شَهِیدًا لَا یُعْلَمُ بِمَكَانِهِ، فَقُتِلَ یَوْمَ الْیَمَامَةِ، فَلَمْ یُوجَدْ لَهُ أَثَرٌ

مخشن بن حمیرنے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے تومیرے نام اورمیرے باپ کے نام کی نحوست لے ڈوبی ،اس کے بعداس نے اپنانام عبدالرحمان رکھ لیااوراللہ سے دعامانگی کہ اسے شہادت کی موت نصیب ہواوراس کی قبرسے کوئی واقف نہ ہو،چنانچہ یہ یمامہ کی جنگ میں  شہیدہوئے اورکچھ معلوم نہیں  ہواکہ ان کاجسم خاکی کہاں  غائب ہوا ۔[21]

تبوک کے چشمہ پرپہنچنا:

أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ یَجْمَعُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِیعًا، حَتَّى إِذَا كَانَ یَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِیعًا، ثُمَّ قَالَ:إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا، إِنْ شَاءَ اللهُ، عَیْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى یُضْحِیَ النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلَا یَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَیْئًا حَتَّى آتِیَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَیْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَیْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَیْءٍ مِنْ مَاءٍ،

معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے ابھی تبوک پہنچنے میں  ایک دن کی مسافت تھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خیمہ لگایاگیاآپ اس میں  تشریف لے گئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہرکی نمازمیں  تاخیرکی ،پھرآپ خیمہ سے باہرتشریف لائے اورظہر اور عصر کو ملا کرادا کیا پھر آپ خیمہ میں  تشریف لے گئے ،پھرکچھ دیربعدآپ باہرتشریف لائے اور مغرب اورعشاء کوملاکرپڑھا،نمازکے بعد آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کل تم ان شاء اللہ تبوک کے چشمہ پر پہنچو گے تمہارے وہاں  پہنچتے پہنچتے چاشت کاوقت ہو جائے گا (تم میں  سے جوشخص وہاں  پہلے پہنچ جائے )وہ میرے آنے تک اس چشمہ کے پانی میں  ہاتھ نہ ڈالے ، جب لشکراسلام وہاں  پہنچاتو دیکھا کہ دو آدمی پہلے سے وہاں  پہنچے ہوئے تھے اور چشمہ سے قطرہ قطرہ پانی رس رہاہے،

قَالَ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَیْئًا؟ قَالَا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ یَقُولَ. قَالَ: ثُمَّ غَرَفُوا بِأَیْدِیهِمْ مِنَ الْعَیْنِ قَلِیلًا قَلِیلًا، حَتَّى اجْتَمَعَ فِی شَیْءٍ، قَالَ وَغَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِیهِ یَدَیْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِیهَا، “ فَجَرَتِ الْعَیْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ أَوْ قَالَ: غَزِیرٍ شَكَّ أَبُو عَلِیٍّ أَیُّهُمَا قَالَ حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ یُوشِكُ، یَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَیَاةٌ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں  آدمیوں  سے دریافت کیاکہ تم نے اس چشمہ کےپانی میں  ہاتھ ڈالا ہے ؟انہوں  نے جواب دیا ہاں  ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  ملامت کی اور فرمایاجیسااللہ تعالیٰ کومنظورتھا، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چلوؤں  سے ایک برتن میں  اس چشمہ کاپانی جمع کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپناچہرہ مبارک اورہاتھ دھوئے اور اسے چشمہ میں  ڈال دیااس پانی کے گرتے ہی چشمے سے بے تحاشاپانی ابل کرنکلناشروع ہوگیاجسے تمام اسلامی لشکرنے استعمال کیا،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ رضی اللہ عنہ ! اگرتمہاری زندگی رہی تو تم دیکھوگے کہ اس (چشمہ) کاپانی باغوں  کوسیراب کرے گا۔[22]

یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے ہی کی برکت ہے کہ آج تبوک میں  اس کثرت سے پانی موجود ہے کہ مدینہ منورہ اورخیبرکے سواکہیں  اتنا پانی دیکھنے کااتفاق نہیں  ہوتا،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تبوک کاپانی ان دونوں  جگہوں  سے بھی زیادہ ہے۔

اس سے پہلے کہ قیصراپنی فوجی تیاریاں  مکمل کرتارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مقابلہ کرنے کے لئے تبوک پہنچ گئے،

وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَلَى حَرَسِهِ بِتَبُوكَ مِنْ یَوْمِ قَدِمَ إلَى أَنْ رَحَلَ مِنْهَا عَبّادَ بْنَ بِشْرٍ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادبن بشر رضی اللہ عنہ کواپنے لشکرپرنگران مقرر فرمایا۔[23]

 أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیرَةَ شَهْرٍ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے اس بات سے مدددی گئی ہے کہ دشمن پرایک ماہ کی مسافت پرمیرارعب پڑتاہے۔[24]

چنانچہ تبوک کے قیام کے دوران قیصر مرعوب ہوکرمقابلہ پرنہ آیااس نے سرحدسے فوجیں  ہٹالینے کے سواکوئی چارہ نہ پایا،غزوہ موتہ میں  تین ہزارمسلمانوں  کے عزم صادق اورجانفروشی اورایک لاکھ کے مقابلہ کی جوشان وہ دیکھ چکاتھا،اس کے بعداس میں  اتنی ہمت نہ تھی کہ خودنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں  جہاں  تیس ہزارفوج آرہی ہووہاں  وہ لاکھ دو لاکھ آدمی لے کرمیدان میں  آجاتا، مگرسابقہ حالات کے تجربات کے پیش نظر قیصراوراس کے تابعین کو اپنے علاقہ میں  ہونے کے باوجوداپنے علاقہ سے دورعسرت زدہ مسلمانوں  سے ٹکر لینے کاحوصلہ ہی نہ ہوا، اور انہوں  نے اپنی فوجیں  سرحدسے ہٹالیں  ۔

سخت آندھی کی پیشین گوئی :

عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ، قَالَ:حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:سَتَهُبُّ عَلَیْكُمُ اللَّیْلَةَ رِیحٌ شَدِیدَةٌ، فَلَا یَقُمْ فِیهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِیرٌ فَلْیَشُدَّ عِقَالَهُ فَهَبَّتْ رِیحٌ شَدِیدَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّیحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَیْ طَیِّئٍ،

ابوحمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچ گئے تو ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ آج رات کوسخت آندھی آئے گی لہذاتم میں  سے کوئی شخص کھڑانہ ہو،جس کے پاس اونٹ ہواسے چاہیے کہ اسے باندھ دے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حکم کی تعمیل کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق رات کوسخت آندھی آئی ایک شخص (اتفاق سے) کھڑاہوگیا،ہوانے اسے اڑاکر بنوطے کے پہاڑوں  میں  پھینک دیا۔[25]

دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشادفرمایا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک خطبہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان تبوک میں  تیس ہزارمجاہدین کو ایساپرحکمت اورپرمغز خطبہ ارشادفرمایاجس میں  سارادین بیان فرما دیا، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمدوثنابیان فرمائی پھرفرمایا:

أَیُّهَا النَّاسُ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیثِ كِتَابُ اللهِ، وَأَوْثَقَ الْعُرَى كَلِمَةُ التَّقْوَى، وَخَیْرَ الْمِلَلِ مِلَّةُ إِبْرَاهِیمَ، وَخَیْرَ السُّنَنِ سُنَّةُ مُحَمَّدٍ، وَأَشْرَفَ الْحَدِیثِ ذِكْرُ اللهِ، وَأَحْسَنَ الْقَصَصِ هَذَا الْقُرْآنُ، وَخَیْرَ الْأُمُورِ عَوَازِمُهَا، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَأَحْسَنَ الْهَدْیِ هَدْیُ الْأَنْبِیَاءِ، وَأَشْرَفَ الْمَوْتِ قَتْلُ الشُّهَدَاءِ

اے لوگو! تمام باتوں  میں  سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے،اورسب سے مضبوط سہاراکلمہ تقویٰ ہے،سب سے بہتردین ،دین ابراہیمی ہے،سب طریقوں  سے بہترین طریقہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ ہے،تمام باتوں  میں  بہتربات وہ ہے جوذکراللہ زبان سے اداہو،سب سے بہتر وعظ ونصیحت اورعبرت کے سچے قصے قرآن مجیدمیں  ہیں  ،بہترین کام وہ ہیں  جن کے کرنے کااللہ نے ارادہ کیاہے،اوربدترین کام وہ ہیں  جواللہ کے دین میں  خودنکال لئے جائیں  ،تمام راہوں  میں  سب سے بہترین اورعمدہ راہ پیغمبروں  کی ہے،سب سے بہترموت کفارکے ہاتھوں  میدان جنگ میں  جہادفی سبیل کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرناہے،

وَأَعْمَى الْعَمَى الضَّلَالَةُ بَعْدَ الْهُدَى، وَخَیْرَ الْأَعْمَالِ مَا نَفَعَ، وَخَیْرَ الْهُدَى مَا اتُّبِعَ، وَشَرَّ الْعَمَى عَمَى الْقَلْبِ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلَى، وَمَا قَلَّ وَكَفَى خَیْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى، وَشَرُّ الْمَعْذِرَةِ حِینَ یَحْضُرُ الْمَوْتُ، وَشَرُّ النَّدَامَةِ یَوْمُ الْقِیَامَةِ

اور تمام اندھے پنوں  سے اندھاپن یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ہدایت موجودہونے کے باوجودانسان گمراہی کواختیارکرے،بہترعمل وہ ہے جونفع دے اور بہتر ہدایت وہ ہے جس کی پیروی جائے ،بدترین اندھاوہ ہے جس کے دل کی آنکھیں  اندھی ہو گئی ہوں  ،اوپروالاہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہترہے ، جو تھوڑا اورکفایت کرنے والا ہو وہ زیادہ اورغافل کردینے والے سے بہترہے ،اورسب سے بری معذرت وہ ہے جوموت کے وقت کی جائے اورسب سے بری شرمندگی قیامت کے روزہوگی،

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ لَا یَأْتِی الْجُمُعَةَ إِلَّا دَبْرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا یَذْكُرُ اللهَ إِلَّا هَجْرًا، وَمِنَ أَعْظَمِ الْخَطَایَا اللِّسَانُ الْكَذَّابُ، وَخَیْرُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ، وَخَیْرُ الزَّادِ التَّقْوَى، وَرَأْسُ الْحِكَمِ مَخَافَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَخَیْرُ مَا وَقَرَ فِی الْقُلُوبِ الْیَقِینُ، وَالِارْتِیَابُ مِنَ الْكُفْرِ، وَالنِّیَاحَةُ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِیَّةِ، وَالْغُلُولُ مِنْ حُثَاءِ جَهَنَّمَ

اور لوگوں  میں  کچھ ایسے لوگ بھی ہیں  جوجمعہ میں  دیرسے آتے ہیں  ،اورکچھ ایسے لوگ بھی ہیں  جن کی زبان پر اللہ کاذکربہت کم ہوتاہے،اورسب سے عظیم خطا جھوٹی زبان ہے اور بہترین تونگری دل کا تونگرہونا ہے،اوربہترین زادتقویٰ ہے اوردانائی کاکمال اللہ کاخوف ہے اوربہترین بات وہ ہے جودلوں  میں  یقین کوجاگزین کرے اوردینی عقائدمیں  چوں  چرا کرنا،شک وشبہ کرناکفرہے،میت پرنوحہ کرنا( چیخنا چلانا ، کپڑے پھاڑنا،سینہ کوبی کرنا،پچھاڑیں  کھانا،ماتم وشیون کرنا)جاہلیت کاعمل ہے،اورخیانت کی سزادوزخ کی آگ ہے،

وَالسُّكْرُ كَیٌّ مِنَ النَّارِ، وَالشِّعْرُ مِنْ إِبْلِیسَ، وَالْخَمْرُ جُمَّاعُ الْإِثْمِ، وَالنِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّیْطَانِ ، وَالشَّبَابُ شُعْبَةٌ مِنَ الْجُنُونِ، وَشَرُّ الْمَكَاسِبِ كَسْبُ الرِّبَا، وَشَرُّ الْمَأْكَلِ مَالُ الْیَتِیمِ ، وَالسَّعِیدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِهِ، وَالشَّقِیُّ مَنْ شَقِیَ فِی بَطْنِ أُمِّهِ،وَإِنَّمَا یَصِیرُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَوْضِعِ أَرْبَعِ أَذْرُعٍ، وَالْأَمْرُ إِلَى الْآخِرَةِ وَمِلَاكُ الْعَمَلِ خَوَاتِمُهُ، وَشَرُّ الرَّوَایَا رَوَایَا الْكَذِبِ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِیبٌ

گندے اور فحش اشعارسب ابلیس کی طرف سے ہیں  ،اورشراب گناہ کی جامع ہے اورعورتیں  شیطان کے جال ہیں  ، اورجوانی جنون کاایک حصہ ہے،اورسب سے بری کمائی سودکی کمائی ہے اورسب سے براکھانایتیم کامال کھاناہے، نیک بخت انسان وہ ہے جودوسروں  سے نصیحت حاصل کرے اوربدبخت انسان وہ ہے جوماں  کے پیٹ میں  ہی بدبخت لکھ دیا گیاہو،اورتم میں  سی ایک آدمی چارہاتھ جگہ کی طرف جانے والا ہے اورمعاملہ آخرت پرموقوف ہے اورکام کادارومدارانجام پرہے،اورسب سے برے راوی جھوٹے راوی ہیں  اورجوکچھ آنے والاہے وہ قریب ہے،

وَسِبَابُ الْمُؤْمِنِ فِسْقٌ، وَقِتَالُ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ، وَأَكْلُ لَحْمِهِ مِنْ مَعْصِیَةِ اللهِ، وَحُرْمَةُ مَالِهِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ ،وَمَنْ یَتَأَلَّى عَلَى اللهِ یُكْذِبْهُ، وَمَنْ یَغْفِرْ یُغْفَرْ لَهُ، وَمَنْ یَعْفُ یَعْفُ اللهُ عَنْهُ، وَمَنْ یَكْظِمِ الْغَیْظَ یَأْجُرْهُ اللهُ، وَمَنْ یَصْبِرْ عَلَى الرَّزِیَّةِ یُعَوِّضْهُ اللهُ، وَمَنْ یَتْبَعِ السُّمْعَةَ یُسَمِّعِ اللهُ بِهِ، وَمَنْ یَصْبِرْ یُضَعِّفِ اللهُ لَهُ، وَمَنْ یَعْصِ اللهَ یُعَذِّبْهُ اللهُ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِی وَلِأُمَّتِی، اللهُمَّ اغْفِرْ لِی وَلِأُمَّتِی ، قَالَهَا ثَلَاثًا

اورکسی ایمان دارکوگالی دینافاسق بنناہے،مومن سے جنگ کرناکفرہے اوراس کی غیبت کرنااللہ کی معصیت ہے اور اس کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے،اورجواللہ کی قسم کھائے گاوہ اس کی تکذیب کرے گا اور جواس سے مغفرت طلب کرے گاوہ اسے بخش دے گااور جومعاف کرے گااللہ اس کی لغزشیں  بھی معاف فرما دے گااورجواپنے غصہ کوضبط کرے گا اللہ اسے اجروثواب عنایت فرمائے گا،جو مصیبت پرصبرکرے گا اللہ انہیں  اس کا بدلہ دے گا،اور جو شہرت پسندہوگااللہ اسے شہرت دے گااورجوصبرکرے اللہ اسے دگنادے گااورجواللہ کی نافرمانی کرے گااللہ اسے عذاب دے گا،اے اللہ !مجھے اورمیری امت کو بخش دے ، اے اللہ مجھے اورمیری امت کوبخش دے ،آپ نے یہ بات تین دفعہ دہرائی۔[26]

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ، إِنَّ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ: رَجُلًا عَمِلَ فِی سَبِیلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِیرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمَیْهِ حَتَّى یَأْتِیَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ: رَجُلًا فَاجِرًا جَرِیئًا، یَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا یَرْعَوِی إِلَى شَیْءٍ مِنْهُ

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے سہارا لگائے ہوئے خطبہ دے رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں  تم کو بہترین اور بدترین لوگوں  کے بارے میں  نہ بتلاؤں  ؟ لوگوں  میں  سے بہترین شخص وہ ہے جو کہ اللہ کے راستہ میں  اپنے گھوڑے یا اونٹ کی پشت پر سوار ہو کر یا پیدل چلتا ہے یہاں  تک کہ اس کی موت آجاتی ہے،جب کہ بدترین شخص وہ ہے جو کہ فاجر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے اور اس پر کسی طریقہ سے عمل نہیں  کرتا۔[27]

دومة الجندل کے حکمران اکیدربن عبدالملک کی گرفتاری

فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَیْلَةً

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رومیوں  کے سرحدی علاقہ تبوک میں  دس سے کچھ زیادہ دن قیام فرمایا۔[28]

بعض کہتے ہیں  وہاں  بیس روز خیمہ زن رہے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اردگرد کے علاقے میں  کاروائی شروع کردی اور تبوک کومرکزقراردیا،

قَالُوا:بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ خالد بن الولید مِنْ تَبُوكَ فِی أَرْبَعِمِائَةٍ وَعِشْرِینَ فَارِسًا إلَى أُكَیْدِرِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بِدُومَةِ الْجَنْدَلِ وَكَانَ أُكَیْدِرٌ مِنْ كِنْدَةَ قَدْ مَلَكَهُمْ وَكَانَ نَصْرَانِیّا،فَقَالَ خَالِدٌ: یَا رَسُولَ اللهِ، كَیْفَ لِی بِهِ وَسَطَ بِلَادِ كَلْبٍ، وَإِنّمَا أَنَا فِی أُنَاسٍ یَسِیرٌ؟فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: سَتَجِدُهُ یَصِیدُ الْبَقَرَ فَتَأْخُذَهُ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ بن ولید کو چار سو بیس سواروں  کے ساتھ اکیدربن عبدالملک کی طرف روانہ فرمایا،یہ عیسائی مذہب کا پیرو تھااورہرقل کی طرف سے دومة الجندل کا حکمران تھا،خالد رضی اللہ عنہ بن ولیدنے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کلب کے علاقہ میں  تھوڑے سے مجاہدین کے ساتھ میں  اس کامقابلہ کس طرح کرسکتاہوں  ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ سے فرمایا اکیدرتمہیں  نیل گائے کا شکارکرتا ہوا ملے گااس کوگرفتارکرلینا،

قَالَ: فَخَرَجَ خَالِدٌ حَتّى إذَا كَانَ مِنْ حِصْنِهِ بِمَنْظَرِ الْعَیْنِ فِی لَیْلَةٍ مُقْمِرَةٍ صَائِفَةٍ، وَهُوَ عَلَى سَطْحٍ لَهُ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ الرّبَابُ بِنْتُ أُنَیْفِ بْنِ عَامِرٍ مِنْ كِنْدَةَ، وَصَعِدَ عَلَى ظَهْرِ الْحِصْنِ مِنْ الْحَرّ، وَقَیْنَتُهُ تُغَنّیهِ، ثُمّ دعا بشراب فشرب. فأقبلت البقرتَحُكّ بِقُرُونِهَا بَابَ الْحِصْنِ، فَأَقْبَلَتْ امْرَأَتُهُ الرّبَابُ فَأَشْرَفَتْ عَلَى الْحِصْنِ فَرَأَتْ الْبَقَرَ فَقَالَتْ: مَا رَأَیْت كَاللّیْلَةِ فِی اللّحْمِ! هَلْ رَأَیْت مِثْلَ هَذَا قَطّ؟ هَلْ رَأَیْت مِثْلَ هَذَا قَطّ؟

خالد رضی اللہ عنہ بن ولیدایک چاندنی رات میں  اکیدرکے علاقہ میں  پہنچے ،اکیدر اوراس کی اہلیہ اپنے قلعہ مارو میں  فصیل پر بیٹھے تھے پھر پانی منگوا کر پیا اتنے میں  نیل گائیں  آکرقلعہ کے دروازے پراپنے سینگ مارتی تھیں  ، اس کی بیوی نے اٹھ کرقلعہ کے دروازے کی طرف دیکھاتوبولی میں  نے آج جیسانظارہ کبھی نہیں  دیکھا ، اورایک جگہ لکھا ہے، تم نے اپنی زندگی میں  کبھی ایسادیکھاہے،

قَالَ: یَقُولُ أُكَیْدِرٌ: وَاَللهِ، مَا رَأَیْت جَاءَتْنَا لَیْلَةً بَقَرٌ غَیْرَ تِلْكَ اللّیْلَةِ، ثُمّ قَالَتْ :مَنْ یَتْرُكُ هَذَا؟قَالَ: لَا أَحَدَ!وَلَقَدْ كُنْت أُضْمِرُ لَهَا الْخَیْلَ إذَا أَرَدْت أَخْذَهَا شَهْرًا أَوْ أَكْثَرَ، ثُمّ أَرْكَبُ بِالرّجَالِ وَبِالْآلَةِ.فَنَزَلَ فَأَمَرَ بِفَرَسِهِ فَأُسْرِجَ، وَأَمَرَ بِخَیْلٍ فَأُسْرِجَتْ، وَرَكِبَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ بَیْتِهِ، مَعَهُ أَخُوهُ حَسّانُ وَمَمْلُوكَانِ، فَخَرَجُوا مِنْ حِصْنِهِمْ بِمَطَارِدِهِمْ ، فَلَمّا فَصَلُوا مِنْ الْحِصْنِ، وَخَیْلُ خَالِدٍ تَنْظُرُهُمْ لَا یَصْهِلُ مِنْهَا فَرَسٌ وَلَا یَتَحَرّكُ، فَسَاعَةَ فَصَلَ أَخَذَتْهُ الْخَیْلُ فَاسْتَأْسَرَ أُكَیْدِرٌ وَامْتَنَعَ حَسّانُ، فَقَاتَلَ حَتّى قُتِلَ، وَهَرَبَ الْمَمْلُوكَانِ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ مِنْ أَهْلِ بَیْتِهِ فَدَخَلُوا الْحِصْن

اکیدرنے کہا اللہ کی قسم! آج رات سے پہلے میں  نےکبھی کسی گائے کوایساکرتے نہیں  دیکھا،پھروہ بولی اس موقعہ کوکون ضائع کرسکتاہے ؟ اکیدرنے کہاکوئی بھی نہیں  ،پھر اکیدر فورا ًاپنے بھائی حسان اوردو غلاموں  کے ساتھ شکار کے لئے نیچے اترا اور نیل گائے کو شکارکرنے کے لئے اس کے پیچھے دوڑے، ابھی تھوڑی دورہی نکلے تھے کہ خالد رضی اللہ عنہ بن ولیدسے مدبھیڑہوگئی ، مسلمانوں  کو دیکھ کر اکیدرکے بھائی حسان نے مقابلہ کیا مگر جلد ہی سیف اللہ کی ضربوں  کی تاب نہ لاکرخاک نشین ہو گیااور اکیدر کوگرفتارکرکے اس کی مشکیں  باندھ دیں  جبکہ ان کا تیسرا ساتھی بھاگ کرقلعہ میں  داخل ہوگیا،

وَكَانَ عَلَى حَسّانَ قَبَاءُ دِیبَاجٍ مُخَوّصٌ بِالذّهَبِ، فَاسْتَلَبَهُ خَالِدٌ فَبَعَثَ بِهِ إلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَمْرِو بْنِ أُمَیّةَ الضّمْرِیّ حَتّى قَدِمَ علیهم فأخبرهم بأخذهم أكیدر

اس وقت اکیدرنے ایک ایساکوٹ پہناہواتھاجس پرسونے کی تاروں  سے کھجورکے پتے بنے ہوئے تھے ،خالد رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ سلب میں  لے لیااوراپنے پہنچنے سے پہلے عمروبن امیہ الضمری کے ذریعہ اس کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  بھیج دیا، اورانہوں  نے اکیدرکے گرفتارہونے کی خبردی،

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَیْتُ قَبَاءَ أُكَیْدِرَ حِینَ قُدِمَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ یَلْمِسُونَهُ بِأَیْدِیهِمْ وَیَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ، لَمِنْدِیلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا

انس رضی اللہ عنہ بن مالک اور جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں  میں  نے دیکھاجب اکیدرکے بھائی حسان کا یہ کوٹ آپ کی خدمت میں  پہنچا تو مسلمان اس کوچھوتے تھے اور بڑاتعجب کرتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس سے تعجب کررہے ہو؟اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں  میری جان ہے!جنت میں  سعد رضی اللہ عنہ بن معاذکے ہاتھ صاف کرنے والے رومال اس سے بہترہیں  ۔[29]

صحیح روایت میں  ہے کہ اکیدرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  ایک ریشمی پوشاک بطورتحفہ پیش کی،

حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أُكَیْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےاکیدر دومہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  ایک ریشمی پوشاک بطور ہدیہ بھیجی۔[30]

عَنْ عَلِیٍّ، أَنَّ أُكَیْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَ حَرِیرٍ

سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہےاکیدر دومہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  ایک ریشمی پوشاک بطور ہدیہ بھیجی۔[31]

لہذاقابل ترجیح یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ پوشاک بطورتحفہ دی گئی تھی اسے چھینانہیں  گیاتھا۔

وَرَوَى أَبُو یَعْلَى بِإِسْنَادٍ قَوِیٍّ مِنْ حَدِیثِ قَیْسِ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ أَخْرَجَ قَبَاءً مِنْ دِیبَاجٍ مَنْسُوجًا بِالذَّهَبِ، فَرَدَّهُ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَیْهِ ، ثُمَّ إِنَّهُ وَجَدَ فِی نَفْسِهِ مِنْ رَدِّ هَدِیَّتِهِ فَرَجَعَ بِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ادْفَعْهُ إِلَى عُمَرَ

اس کی تائیداس روایت سے بھی ہوتی ہے جوابویعلی نے قوی سندکے ساتھ بیان کیاہے کہ جب اکیدررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہواتواس نے ایک ریشمی قباپیش کی جس میں  سونے کی کشیدہ کاری کی گئی تھی ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قباواپس کردی،پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیاکہ اسے تحفے کی واپسی سے صدمہ ہواہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قباواپس منگالی اورفرمایایہ سیدناعمر رضی اللہ عنہ کودے دو۔[32]

فَقَالَ عُمَرُ: كَیْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قُلْتَ فِیهَا مَا قُلْتَ؟قَالَ:إِنِّی لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا تَبِیعُهَا، أَوْ تَكْسُوهَا،فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ یُسْلِمَ

سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہامیں  اسے کس طرح پہن سکتاہوں  جبکہ آپ خودہی اس کے متعلق جوکچھ ارشادفرماناتھافرماچکے ہیں  ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  نے تمہیں  پہننے کے لئے نہیں  دیابلکہ اس لئے دیاہے کہ تم اسے بیچ دویاکسی (غیرمسلم)کوپہنادو، سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے یہ قبامکہ مکرمہ میں  مقیم اپنے ایک مشرک بھائی کوبھیج دی تھی۔[33]

وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ: إنْ ظَفِرْت بِأُكَیْدِرٍ فَلَا تَقْتُلْهُ وَائْتِ بِهِ إلَیّ،وَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ لِأُكَیْدِرٍ: هَلْ لَك أَنْ أُجِیرَك مِنْ الْقَتْلِ حَتّى آتِیَ بِك رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ تَفْتَحَ لِی دُومَةَ؟قَالَ: نَعَمْ، ذَلِكَ لَك

اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ بن ولیدسے فرمایاتھاکہ اگرتم اکیدر کوگرفتارکرلینے میں  کامیاب ہوجاؤتواسےقتل کرنے کے بجائے میرے پاس لے آنا،چنانچہ خالد رضی اللہ عنہ بن ولیدنے اکیدرسے کہاکیاتمہیں  منظورہے کہ تمہیں  قتل کرنے کے بجائے زندہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  پیش کیا جائے بشرطیکہ تم دومہ (قلعہ) کادروازہ کھول دو؟ اکیدر نے اپنی جان بخشی کے عوض قلعہ کادروازہ کھولنامنظورکرلیا،

فلمّا صالح خالد أكیدر، وَأُكَیْدِرٌ فِی وَثَاقٍ، انْطَلَقَ بِهِ خَالِدٌ حَتّى أَدْنَاهُ مِنْ بَابِ الْحِصْنِ وَنَادَى أُكَیْدِرٌ أَهْلَهُ: افْتَحُوا بَابَ الْحِصْنَ! فَرَأَوْا ذَلِكَ، فَأَبَى عَلَیْهِمْ مُضَادٌ أَخُو أُكَیْدِرٍ ، فَقَالَ أُكَیْدِرٌ لِخَالِدٍ: تَعْلَمُ وَاَللهِ لَا یَفْتَحُونَ لِی مَا رَأَوْنِی فِی وَثَاقٍ، فَخَلّ عَنّی فَلَك اللهُ وَالْأَمَانَةُ أَنْ أَفْتَحَ لَك الْحِصْنَ إنْ أَنْت صَالَحْتنِی عَلَى أَهْلِهِ، قَالَ خَالِدٌ: فَإِنّی أُصَالِحُك

صلح کے بعدخالد رضی اللہ عنہ اکیدرکو قلعہ کے پاس لے آئے، اکیدر کے بھائی مضادنے جوقلعہ کے اندر تھا اپنے بھائی کواس حالت میں  دیکھاتواس نے قلعہ کادروازہ کھولنے سے انکار کر دیا،اکیدرنے خالد رضی اللہ عنہ سے کہااس سے بھی کسی شرط پرصلح کر لو تاکہ یہ دروازہ کھول دے مجھے اور میرے بھائی کوقتل نہ کرو،بلکہ ہمیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  پیش کردووہ ہمارے متعلق جوفیصلہ کریں  گے وہ ہمیں  منظور ہوگا، خالد رضی اللہ عنہ نے اس پررضامندی کا اظہار کیا،

فَقَالَ أُكَیْدِرٌ: إنْ شِئْت حَكّمْتُك وَإِنْ شِئْت حَكّمْنِی.قَالَ خَالِدٌ: بَلْ، نَقْبَلُ مِنْك مَا أَعْطَیْت. فَصَالَحَهُ عَلَى أَلْفَیْ بَعِیرٍ، وَثَمَانِمِائَةِ رَأْسٍ ، وَأَرْبَعِمِائَةِ دِرْعٍ، وَأَرْبَعِمِائَةِ رُمْحٍ، عَلَى أَنْ یَنْطَلِقَ بِهِ وَأَخِیهِ إلى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَیَحْكُمَ فِیهِمَا حُكْمَهُ

اکیدرنے کہااگرتم چاہوتوفیصلہ کرلو اورچاہوتومیں  جوفیصلہ کرلوں  ،خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایابلکہ تم جوکچھ دوگے میں  قبول کرلوں  گا، چنانچہ اکیدرنے اس سے ایک ہزاراونٹ،آٹھ سو غلام ، چارسو زریں  اور چا ر سونیزے دے کرصلح کر لی،اوراکیدراوراس کے بھائی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے کہ جووہ فیصلہ کردیں  وہ فیصلہ ہوگا،

فَلَمّا قَاضَاهُ خَالِدٌ عَلَى ذَلِكَ خَلّى سَبِیلَهُ فَفُتِحَ الْحِصْنُ، فَدَخَلَهُ خَالِدٌ وَأَوْثَقَ أَخَاهُ مُضَادًا أَخَا أُكَیْدِرٍ، وَأَخَذَ مَا صَالَحَ عَلَیْهِ مِنْ الْإِبِلِ وَالرّقِیقِ وَالسّلَاحِ، ثُمّ خَرَجَ قَافِلًا إلَى الْمَدِینَةِ، وَمَعَهُ أُكَیْدِرٌ وَمُضَادٌ. فَلَمّا قَدِمَ بِأُكَیْدِرٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ صَالَحَهُ عَلَى الْجِزْیَةِ وَحَقَنَ دمه ودم أَخِیهِ وَخَلّى سَبِیلَهُمَا،وَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا فِیهِ أَمَانُهُمْ وَمَا صَالَحَهُمْ، وَخَتَمَهُ یَوْمَئ،ِذٍ بِظُفْرِهِ

جب فیصلہ ہوگیاتوخالد رضی اللہ عنہ نے اسے آزادکردیاتومضادنے قلعہ کا دروازہ کھول دیا،اورخالد رضی اللہ عنہ نے جن چیزوں  پرصلح کی تھی وہ حاصل کرلیں  ،اورپھریہ قافلہ اکیدراوراس کے بھائی مضادکے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا ،جب اکیدررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہواتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ اداکرنے پرصلح کرلی اور دونوں  بھائیوں  کو آزاد کر دیا،اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امان اورصلح کی دستاویزلکھ دی اور اس علاقہ کی حکومت اکیدرکے ہاتھ میں  رہنے دی۔[34]

اکیدرنے اسلام قبول نہیں  کیا،صلح کے بعدوہ اپنے قلعہ میں  رہتارہا،خلیفہ اول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کے عہدخلافت میں  اس نے عہدشکنی کی توخالد رضی اللہ عنہ نے اس کے قلعہ کامحاصرہ کرلیااوراس کوحالت شرک میں  قتل کیا۔

سترہ کے متعلق سوال:

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّی؟ فَقَالَ:مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تبوک ہی میں  خیمہ زن تھے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !سترہ کتنااونچا ہوناچاہیے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپالان کی پچھلی لکڑی کے برابر(تقریباً۲۶سنٹی میڑ)۔[35]

کعب بن مالک کاتذکرہ:

وَلَمْ یَذْكُرْنِی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ، فَقَالَ: وَهُوَ جَالِسٌ فِی القَوْمِ بِتَبُوكَ:مَا فَعَلَ كَعْبٌ،فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَلِمَةَ: یَا رَسُولَ اللهِ، حَبَسَهُ بُرْدَاهُ، وَنَظَرُهُ فِی عِطْفِهِ،فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ،وَاللهِ یَا رَسُولَ اللهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ إِلَّا خَیْرًا،فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

مدینہ منورہ سے روانگی اورتبوک پہنچنے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب رضی اللہ عنہ کاکوئی تذکرہ نہ فرمایا،البتہ تبوک کے قیام کے دوران ایک دن جبکہ آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکعب رضی اللہ عنہ نے یہ کیاکیاکہ(جہادکے لئے)نہ آئے،بنوسلمہ کے ایک شخص نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ حسن وجمال یالباس پراتراکررہ گیا (دولت اورتکبرنے انہیں  آنے سے بازرکھا)معاذبن جبل رضی اللہ عنہ نے کہااے شخص تم نے بہت بری بات کہی ،پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کی قسم! ہم ان کے متعلق سوائے بہتری کے اورکچھ نہیں  جانتے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔[36]

زادراہ کاخاتمہ:

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، أَوْ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:افْعَلُوا، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ، وَلَكِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ اللهَ لَهُمْ عَلَیْهَا بِالْبَرَكَةِ، لَعَلَّ اللهَ أَنْ یَجْعَلَ فِی ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:نَعَمْ،

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یاابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے تبوک میں  قیام کے دوران کچھ دن بعدزادراہ ختم ہوگیااورلوگ فاقہ کی تکلیف میں  مبتلاہوگئےجب فاقہ کی تکلیف زیادہ ہوئی توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہوکرعرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگرآپ ہمیں  اجازت دیں  توہم اپنے اونٹوں  کوجن پرہم پانی لاتے ہیں  نحرکرلیں  ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی،سیدناعمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کومعلوم ہواتووہ خدمت میں  حاضرہوئے اورعرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ایسا کیا گیا تو سواریاں  کم ہوجائیں  گی،لیکن سب لوگوں  کوبلابھیجئے اورانہیں  کہیے کہ اپنااپنابچاہواتوشہ لے کرآئیں  ، پھراللہ تعالیٰ سےبرکت کی دعا فرمائیں  ،شایداس میں  اللہ کوئی راستہ نکال دے(یعنی برکت اوربہتری عطافرمائے)

 قَالَ: فَدَعَا بِنِطَعٍ، فَبَسَطَهُ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَجِیءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ، قَالَ: وَیَجِیءُ الْآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ، قَالَ: وَیَجِیءُ الْآخَرُ بِكَسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَیْءٌ یَسِیرٌ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَیْهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ:خُذُوا فِی أَوْعِیَتِكُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا فِی أَوْعِیَتِهِمْ، حَتَّى مَا تَرَكُوا فِی الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّی رَسُولُ اللهِ، لَا یَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَیْرَ شَاكٍّ، فَیُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ

پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دسترخوان منگوایااوراس کوبچھادیاپھرآپ نے حکم دیاکہ باقی ماندہ زادراہ لے آؤ،آپ کے حکم کی تعمیل میں  کوئی ایک مٹھی بھرجوارلایاکوئی مٹھی بھر کھجورلایا،کوئی روٹی کاٹکڑایہاں  تک کہ سب مل کرتھوڑاسادسترخوان پراکٹھاہوگیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان توشوں  پر برکت کی دعا فرمائی، اوراس کے بعدفرمایااپنے اپنے برتنوں  میں  توشہ بھرلو،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے برتن بھرنے شروع کیے حتی کہ پورے لشکرمیں  جتنے برتن تھے سب بھرلئے،پھرسب نے خوب سیرہوکر کھاناکھایا، اور کھانا پھربھی بچ رہا،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  گواہی دیتاہوں  کہ اللہ کے سواکوئی معبودنہیں  اورمیں  بیشک اللہ کارسول ہوں  ،جوشخص بغیرشک کے ان دونوں  کلمات کے ساتھ اللہ سے ملے گاتووہ جنت میں  داخل ہونے سے نہیں  روکا جائے گا۔[37]

ایک مقدمہ:

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: قَاتَلَ یَعْلَى بْنُ مُنْیَةَ أَوِ ابْنُ أُمَیَّةَ رَجُلًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَانْتَزَعَ یَدَهُ مِنْ فَمِهِ، فَنَزَعَ ثَنِیَّتَهُ وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: ثَنِیَّتَیْهِ فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:أَیَعَضُّ أَحَدُكُمْ كَمَا یَعَضُّ الْفَحْلُ؟ لَا دِیَةَ لَهُ

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یعلی بن منیہ یایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کاایک مزدوربھی سفرتبوک میں  شامل تھااس کی ایک شخص سے لڑائی ہوگئی،ان میں  سے ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی انگلی کودانتوں  سے کاٹا،اس آدمی نے اپنی انگلی کوکھینچ کرباہرنکالاتو(انگلی کاٹنے والے )آدمی کے دانت گرپڑے،پھروہ دونوں  آدمی جھگڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے،(اورآپ سے قصاص کامطالبہ کیا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کا قصاص نہ دلوایا،اورفرمایاکیاوہ اپنی انگلی تمہارے منہ میں  رہنے دیتاکہ تم اسے اونٹ کی طرح چباڈالتے۔[38]

علامات قیامت:

عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِی قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: اعْدُدْ سِتًّا بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَةِ: مَوْتِی، ثُمَّ فَتْحُ بَیْتِ المَقْدِسِ، ثُمَّ مُوْتَانٌ یَأْخُذُ فِیكُمْ كَقُعَاصِ الغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ المَالِ حَتَّى یُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِینَارٍ فَیَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لاَ یَبْقَى بَیْتٌ مِنَ العَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَ بَنِی الأَصْفَرِ، فَیَغْدِرُونَ فَیَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِینَ غَایَةً، تَحْتَ كُلِّ غَایَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک خیمہ میں  تشریف فرماتھےاتنے میں  عوف بن مالک رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں  حاضرہوئے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقیامت سے پہلے یہ چھ باتیں  ضرورہوں  گی انہیں  شمارکرلو(سب سے پہلے)میری موت،پھربیت المقدس کی فتح،پھرموتان کی بیماری تم لوگوں  میں  اس طرح پھیل جائے گی جس طرح بکریوں  میں  عقاص نامی بیماری پھیلتی ہے،پھرمال کی کثرت اتنی ہوجائے گی کہ اگرکسی شخص کوسواشرفیاں  دی جائیں  گی جب بھی وہ ناخوش ہی رہے گا،پھرایک فتنہ اٹھے گااورعرب کاکوئی گھرباقی نہ بچے گاجس میں  وہ داخل نہ ہو،پھرتمہارے اوررومیوں  کے درمیان ایک صلح ہوگی،رومی بدعہدی کریں  گے اوراسی (۸۰)جھنڈوں  کے ساتھ تمہارے مقابلہ کوآئیں  گےہرجھنڈے کے ساتھ بارہ ہزارآدمی ہوں  گے۔[39]

عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بن عوف کی امامت:

أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِیرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ قَالَ: الْمُغِیرَةُ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِلَیَّ أَخَذْتُ أُهَرِیقُ عَلَى یَدَیْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ وَغَسَلَ یَدَیْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ یُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَیْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ یَدَیْهِ فِی الْجُبَّةِ، حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَیْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَیْهِ إِلَى الْمِرْفَقَیْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّیْهِ،

مغیرہ رضی اللہ عنہ بن شعبہ کہتے ہیں  میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں  شرکت کی،ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجرکی نمازسے قبل قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئےاس وقت آپ موزے پہنے ہوئے تھے،اورمیں  ایک لوٹالے کرآپ کے ساتھ روانہ ہوا،ضرورت سے فارغ ہوکرجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تومیں  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں  پرپانی ڈالا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تین مرتبہ دونوں  ہاتھوں  کودھویا،پھرمنہ دھویاآپ نے کلائیاں  دھونے کاارادہ کیاتومعلوم ہواکہ جبہ کی آستینیں  بہت تنگ ہیں  ،آپ نے ہاتھوں  کوجبہ کے نیچے سے نکالاپھران کوکہنیوں  سمیت دھویا(پیروں  کودھونے کے بجائے)آپ نے موزوں  پرمسح کیا،

ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ: الْمُغِیرَةُ فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى لَهُمْ فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَیْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِینَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِیحَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَیْهِمْ» ثُمَّ قَالَ:أَحْسَنْتُمْ أَوْ قَالَ: قَدْ أَصَبْتُمْ یَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا

وضوکرنے کے بعدمیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا،جب ہم وہاں  پہنچے تودیکھاکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نمازپڑھارہے ہیں  ، میں  نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کوپیچھے ہٹانے کاارادہ کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایارہنے دو،یہ کہہ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازمیں  شامل ہوگئے،آپ کوجماعت کے ساتھ صرف ایک رکعت ملی،جب عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیراتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اورنمازپوری کرلی(نمازکے بعد جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومقتدی کی حیثیت سے نمازاداکرتے دیکھاتو)سخت خوف زدہ ہوئے اورکثرت سے تسبیح پڑھنے لگے،جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیراتوفرمایاتم نے اچھاکیااوربحالت مسرت فرمایاتم لوگ وقت مقررہ پرنمازپڑھاکرو۔[40]

شاہ ایلہ کاہدیہ:

عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ، قَالَ:وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ، صَاحِبِ أَیْلَةَ، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَیْضَاءَ، فَكَتَبَ إِلَیْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا

ابوحمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہےتبوک کے قیام کے دوران ایلہ کابادشاہ ابن علماء کاقاصدآپ کی خدمت اقدس میں  حاضرہوااوربادشاہ کی طرف سے ایک خط پیش کیابادشاہ نے قاصدکے ہمراہ ایک سفیدخچرہدیةً بھیجا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوخط کاجواب دیا،اورایک چادرتحفہ میں  روانہ کی، اوراس کواس کے ملک پربرقراررکھا۔[41]

 سیاسی حکمت عملی :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کررومیوں  پرحملہ کرنے کے سلسلہ میں  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشاورت فرمائی، سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگرآپ کواللہ کی طرف سے آگے چلنے کاحکم ہے توچلئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگرمجھے اللہ کی طرف سے حکم ہوتاتوپھرتم سے مشورہ کرنے کی ضرورت نہ تھی ،انہوں  نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! رومیوں  کے پاس بے شمارفوجیں  ہیں  ، آج مسلمانوں  میں  ان کامقابلہ کرنے کی طاقت نہیں  ،آپ ان کے نزدیک پہنچ چکے ہیں  اورآپ کے نزدیک آنے سے وہ خوفزدہ ہوگئے ہیں  ،بہترہے کہ اس سال آپ واپس تشریف لے چلیں  بعدمیں  آپ جس طرح چاہیں  یاجس طرح اللہ آپ کونیاحکم دے عمل کرلیں  ۔

قیصرکے یوں  طرح دے جانے سے مجاہدین کو جواخلاقی فتح حاصل ہوئی اس کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرحلہ پرکافی سمجھا،اوربجائے اس کے کہ تبوک سے آگے بڑھ کر سرحد شام میں  داخل ہوتے آپ نے اس بات کوترجیح دی کہ اس فتح سے انتہائی ممکن سیاسی وحربی فوائدحاصل کرلیں  ،چنانچہ آپ نے تبوک میں  ۲۰دن ٹھہرکران بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں  کوجو سلطنت روم اوردارالاسلام کے درمیان واقع تھیں  اوراب تک رومیوں  کے زیراثررہی تھیں  ،فوجی دباؤسے سلطنت اسلامی کا باجگذاراورتابع فرمان بنادیا۔

وَلَمَّا انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ أَتَاهُ صَاحِبُ أَیْلَةَ، فَصَالَحَهُ وَأَعْطَاهُ الْجِزْیَةَ، وَأَتَاهُ أَهْلُ جَرْبَا وَأَذْرُحَ فَأَعْطَوْهُ الْجِزْیَةَ، وَكَتَبَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا فَهُوَ عِنْدَهُم

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچے توشام کے شہر ایلہ کا عیسائی حکمران یحنة بن رؤبة خود آپ کی خدمت میں  حاضر ہوا،اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کرلی اورجزیہ دینے پرآمادگی اورتیاری کااظہار کر لیا،اس موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  جربااوراذرح(اردن) کے نصرانی حکمران بھی خود حاضرہوئے اور جزیہ پر مصالحت کرلی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صلح نامہ لکھواکرعطافرمایا۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ

هَذَا أَمَنَةٌ مِنَ اللهِ وَمُحَمَّدٍ النَّبِیِّ رَسُولِ اللهِ لیحنة بن رؤبة وَأَهْلِ أَیْلَةَ

سُفُنِهِمْ وَسَیَّارَتِهِمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، لَهُمْ ذِمَّةُ اللهِ وَمُحَمَّدٍ النَّبِیِّ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْیَمَنِ وَأَهْلِ الْبَحْرِ، فَمَنْ أَحْدَثَ مِنْهُمْ حَدَثًا فَإِنَّهُ لَا یَحُولُ مَالُهُ دُونَ نَفْسِهِ، وَإِنَّهُ لِمَنْ أَخَذَهُ مِنَ النَّاسِ، وَإِنَّهُ لَا یَحِلُّ أَنْ یَمْنَعُوا مَاءً یَرِدُونَهُ، وَلَا طَرِیقًا یَرِدُونَهُ مِنْ بَحْرٍ أَوْ بَرٍّ

هَذَا كِتَابُ جُهَیْمِ بْنِ الصَّلْتِ وَشُرَحْبِیلَ بْنِ حَسَنَةَ بِإِذْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ اللہ اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یحنة بن رؤبة اورایلہ کے لوگوں  کے لئے امن کی تحریرہے۔

خشکی اورسمندرمیں  ان کے قافلوں  اور کشتیوں  کے لئے اللہ اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاذمہ ہے ،اوریہی ذمہ ان شامی اورساحلوں  پرمقیم لوگوں  کے لئے بھی ہے جویحنہ کے ساتھ ہوں  ،البتہ اگران کاکوئی آدمی معاہدہ کی خلاف ورزی کرے گاتواس کامال اس کی جان نہ بچاسکے گااورجوآدمی اس کامال لے لے گاوہ اس کے لئے طیب ہوگا،انہیں  کسی چشمہ پرقیام کرنے اورخشکی یاسمندرکے کسی راستے پرچلنے سے منع نہیں  کیاجاسکتا۔

یہ تحریرجہیم بن صلت اورشرحبیل بن حسنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے تحریرکی۔[42]

وَإِذَا عَبْدُ اللهِ ذُو الْبِجَادَیْنِ الْمُزَنِیُّ قَدْ مَاتَ، وَإِذَا هُمْ قَدْ حَفَرُوا لَهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی حُفْرَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ یُدَلِّیَانِهِ إلَیْهِ،وَهُوَ یَقُولُ: أَدْنِیَا إلَیَّ أَخَاكُمَا، فَدَلَّیَاهُ إلَیْهِ، فَلَمَّا هَیَّأَهُ لِشِقِّهِ قَالَ: اللهمّ إنِّی أَمْسَیْتُ رَاضِیًا عَنْهُ، فَارْضَ عَنْهُ، قَالَ: یَقُولُ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: یَا لَیْتَنِی كُنْتُ صَاحِبَ الْحُفْرَةِ

قیام تبوک کے دوران ہی ذوالبجان رضی اللہ عنہ اللہ کوپیارے ہوگئے(ان کانام عبداللہ بن عبدنہم بن عفیف مزنی تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خودان کی قبرمیں  اترے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وسیدناعمر رضی اللہ عنہ نے ان کی میت آپ کوپکڑائی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  قبرمیں  اتاردیاتوفرمایااے اللہ!میں  (اس کی وفات تک)اس سے راضی تھاتوبھی اس سے راضی ہوجا،راوی حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں  کاش یہ میری قبرہوتی۔[43]

وَإِنَّمَا سُمِّیَ ذَا الْبِجَادَیْنِ، لِأَنَّهُ كَانَ یُنَازِعُ إلَى الْإِسْلَامِ ، فَیَمْنَعُهُ قَوْمُهُ مِنْ ذَلِكَ، وَیُضَیِّقُونَ عَلَیْهِ، حَتَّى تَرَكُوهُ فِی بِجَادِ لَیْسَ عَلَیْهِ غَیْرُهُ، وَالْبِجَادُ:الْكِسَاءُ الْغَلِیظُ الْجَافِی، فَهَرَبَ مِنْهُمْ إلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَلَمَّا كَانَ قَرِیبًا مِنْهُ، شَقَّ بِجَادَهُ بِاثْنَیْنِ، فَاِتَّزَرَ بِوَاحِدِ، وَاشْتَمَلَ بِالْآخَرِ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقِیلَ لَهُ: ذُو الْبِجَادَیْنِ لِذَلِكَ

بجادین کامفردبجادہے یعنی سیاہ بالوں  سے بناہواموٹاٹاٹ ،ابن ہشام نے اس کی وجہ تسمیہ یہ بتائی ہے کہ انہیں  اسلام کابہت شوق تھا،ان کی قوم کے افرادانہیں  اس بات سے روکتے اورتنگ کرتے تھے حتی کہ انہوں  نے ان سے سب کچھ اتروالیا،صرف ایک ٹاٹ جسم پررہ گیا،وہ اسی حالت میں  نکل بھاگے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوگئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے انہوں  نے اس ٹاٹ کے دوحصے کیے ایک کوازاربنالیااوردوسرااوپرلپیٹ لیا،وہ اسی حلیے میں  بارگاہ رسالت میں  پہنچے اس بناپرانہیں  دوٹاٹ اوڑھنے والاکہاجانے لگا۔[44]

یہ رومی سلطنت کے منطقہ اثرمیں  ایسی دراڑیں  تھیں  کہ اسلامی حدودواقتداربراہ راست رومی سلطنت کی سرحدتک پہنچ گئے،خارجہ تعلقات کے نقطہ نظرسے اس غزوے کاایک بہت بڑافائدہ یہ ہواکہ اسلام مستقبل قریب کی بین الاقوامی طاقت کی حیثیت سے محسوس کیاجانے لگا،داخلی طورپراس غزوے کے متعدداثرات ہوئے ، رومی سلطنت جن عرب قبائل کوقیاصرہ روم اب تک عرب کے خلاف استعمال کرتے رہے تھے اب ان کابیشترحصہ رومیوں  کے مقابلہ پرمسلمانوں  کامعاون بن گیا،جس کاسب سے بڑافائدہ یہ ہواکہ سلطنت روم کے ساتھ ایک طویل کشمکش میں  الجھ جانے سے پہلے اسلام کو عرب پراپنی گرفت مضبوط کرلینے کاپوراموقع مل گیا،اندرون ملک میں  اجتماعی نفساتی تبدیلی ہوئی ، عرب رواتیاًایران اورروماکی برتری سے مرعوب اورمغلوب تھے، اس غزوہ نے برتری کے اس طلسم کوبڑی حدتک کمزورکردیا،اورعرب ذہنی طورپران طاقتوں  سے ٹکرا جانے کے لئے تیارہونے لگے ،تبوک کی اس فتح بلاجنگ نے عرب میں  ان لوگوں  کی کمرتوڑدی جواب تک جاہلیت قدیمہ کے بحال ہونے کی آس لگائے بیٹھے تھے، خواہ وہ علانیہ مشرک ہوں  یااسلام کے پردہ میں  منافق بنے ہوئے ہوں  ،اس آخری مایوسی نے ان میں  سے اکثروبیشترکے لئے اس کے سواکوئی چارہ نہ رہنے دیا کہ اسلام کے دامن میں  پناہ لیں  ، اوراگرخودنعمت ایمانی سے بہرہ ورنہ بھی ہوں  توکم ازکم ان کی آئندہ نسلیں  بالکل اسلام میں  جذب ہوجائیں  ،اس کے بعدجوایک برائے نام اقلیت شرک وجاہلیت میں  ثابت قدم رہ گئی وہ اتنی بے بس ولاچارہوگئی تھی کہ اس اصلاحی انقلاب کی تکمیل میں  کچھ بھی مانع نہ ہوسکتی تھی جس کے لئے اللہ نے اپنے رسول کو بھیجا تھا۔

تبوک سے واپسی:

فَلَمَّا أَتَى وَادِیَ القُرَى قَالَ لِلْمَرْأَةِ:كَمْ جَاءَ حَدِیقَتُكِ ، قَالَتْ: عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، خَرْصَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّی مُتَعَجِّلٌ إِلَى المَدِینَةِ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ یَتَعَجَّلَ مَعِی، فَلْیَتَعَجَّلْ

بیس روزقیام کے بعدجب آپ فتح مندہوکر تبوک سے روانہ ہوئے،واپسی پرجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ سے گزرے توباغ والی عورت سے آپ نے پوچھاتمہارے باغ نے کتناپھل دیا،اس عورت نے جواب دیادس وسق ،یعنی اس قدرپھل کہ جس قدررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کااندازہ لگایاتھا ،پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  مدینہ جلدی جاناچاہتاہوں  لہذاجوشخص میرے ساتھ جلدی جاناچاہئے وہ جلدی کرے (چنانچہ آپ تیزی کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوگئے )۔[45]

جابر رضی اللہ عنہ کی شادی:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْیُعَجِّلْ، قَالَ: فَتَلاَحَقَ بِیَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ لَنَا، قَدْ أَعْیَا فَلاَ یَكَادُ یَسِیرُ،فَقَالَ لِی:مَا لِبَعِیرِكَ؟قَالَ: قُلْتُ: عَیِیَ، قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَزَجَرَهُ، وَدَعَا لَهُ فَمَا زَالَ بَیْنَ یَدَیِ الإِبِلِ قُدَّامَهَا یَسِیرُ،فَقَالَ لِی:كَیْفَ تَرَى بَعِیرَكَ؟قَالَ: قُلْتُ: بِخَیْرٍ، قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ

جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس غزوہ(غزوہ تبوک) میں  شریک تھا،جب غزوہ سے فارغ ہوکرواپس ہوئے تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مدینہ منورہ جلدی جانا چاہئے وہ جاسکتاہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے آکرمیرے پاس تشریف لائے میں  اپنے پانی لادنے والے اونٹ پرسوارتھا،اس وقت تک اونٹ اتناتھک چکاتھاکہ ٹھیک طورپرچل بھی نہیں  سکتاتھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیاجابر!تمہارے اونٹ کوکیاہوگیاہے ؟ میں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ بہت تھک گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے آکراسے ڈانٹا پھراسے کوڑے سے مارکردعافرمائی(اللہ نے آپ کی دعاقبول فرمائی)پھرتووہ برابر دوسرے اونٹوں  کے آگے آگے چلتارہا،جب کچھ وقت گزر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھااے جابر!اب تمہارے اونٹ کی کیا کیفیت ہے ؟میں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کی (دعا کی)برکت سے اب وہ ٹھیک چل رہاہے،

قَالَ: أَفَتَبِیعُنِیهِ؟ قَالَ: فَاسْتَحْیَیْتُ وَلَمْ یَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَیْرُهُ،فَقُلْتُ: بَلْ، هُوَ لَكَ یَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:لَا، بَلْ بِعْنِیهِ،قُلْتُ: لَا، بَلْ هُوَ لَكَ یَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:لَا، بَلْ بِعْنِیهِ،قَالَ:بَلْ بِعْنِیهِ قَدْ أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِیرَ،فَبِعْتُهُ إِیَّاهُ عَلَى أَنَّ لِی فَقَارَ ظَهْرهِ، حَتَّى أَبْلُغَ المَدِینَةَ،قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ إِنِّی عَرُوسٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ،فَأَذِنَ لِی ، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى المَدِینَةِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیاتم اس اونٹ کو میرے ہاتھ بیچوگے ؟جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میں  شرمندہ ہوگیاکیونکہ ہمارے پاس پانی لانے کواس کے سوااورکوئی اونٹ نہیں  رہاتھا،میں  نےعرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ اونٹ ویسے ہی آپ کے لئے پیش ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہیں  ،تم اسے میرے ہاتھ بیچ دو،میں  نے کہانہیں  وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاہے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہیں  ،تم اسے میرے ہاتھ بیچ دو،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  اس اونٹ کو چار دینار میں  خریدتاہوں  ،چنانچہ میں  نے وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبیچ دیااور میں  نے عرض کیامیں  اس اونٹ کو اس شرط پر آپ کو فروخت کرتاہوں  کہ مدینہ منورہ تک میں  اس پرسواررہوں  گا،میں  نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی ابھی نئی نئی ہوئی ہے اس لئے مجھے گھرجلدی جانے کی اجازت فرمائیں  ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت عنایت فرما دی اس لیے میں  سب سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا،

قَالَ: وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِی حِینَ اسْتَأْذَنْتُهُ:هَلْ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَیِّبًا؟ فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ ثَیِّبًا، فَقَالَ:هَلَّا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ،قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، تُوُفِّیَ وَالِدِی أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِی أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مِثْلَهُنَّ، فَلاَ تُؤَدِّبُهُنَّ، وَلاَ تَقُومُ عَلَیْهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَیِّبًا لِتَقُومَ عَلَیْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: أَمْهِلُوا، حَتَّى تَدْخُلُوا لَیْلًا أَیْ عِشَاءً لِكَیْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ المُغِیبَة

جب میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکیاتم نے کسی کنواری سے نکاح کیاہے یابیوہ سے؟میں  نے عرض کیامیں  نے ایک بیوہ سے نکاح کیاہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاتم نے کسی کنواری لڑکی سے نکاح کیوں  نہیں  کیاکہ وہ تم سے کھیلتی اورتم اس سے کھیلتے،میں  نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والدشہیدہوگئے اورمیری چھ چھوٹی چھوٹی بہنیں  ہیں  مجھے یہ اچھامعلوم نہیں  لگاکہ ان جیسی کم سن نادان لڑکی سے نکاح کروں  کہ نہ تووہ ان کوادب سکھا سکے اورنہ ہی ان کی خدمت کرسکے ،میں  نے بیوہ سے نکاح اس لئے کیاہے کہ وہ ان کی کنگھلی کرے ،آداب سکھائے اوران کی مناسب دیکھ بھال کرے،( جابر رضی اللہ عنہ کاجواب سنکر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم نے اچھاکیا،جب تم رات کو مدینہ پہنچوتوفوراًبیوی کے پاس نہ چلے جانا،بلکہ اس کو اتنی مہلت دیناکہ وہ بالوں  میں  کنگھی کرلے،اورجس کا شوہرموجودنہ رہاہووہ زیرناف بال مونڈ لے،پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرمایا،

قَالَ: أَصَبْتَ إنْ شَاءَ اللهُ، أَمَا إنَّا لَوْ قَدْ جِئْنَا صِرَارًا أَمَرْنَا بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ، وَأَقَمْنَا عَلَیْهَا یَوْمَنَا ذَاكَ، وَسَمِعَتْ بِنَا، فَنَفَضَتْ نَمَارِقَهَا قَالَ: قُلْتُ: وَاَللَّهِ یَا رَسُولَ اللهِ مَا لَنَا مِنْ نَمَارِقَ، قَالَ:إنَّهَا سَتَكُونُ

ایک روایت میں  ہےہم مقام صرار

(صرار موضع على ثلاثة أمیال من المدینة على طریق العراق

یہ مقام مدینہ منورہ سے عراقی راستے پرتین میل کے فاصلے پرہے۔[46]

پہنچ کرایک اونٹ ذبح کریں  گے اوراس دن وہاں  ٹھیریں  گے اوراسے(تمہاری بیوی کو)ہماری آمدکاپتہ چلے گا تووہ تکیے جھاڑکررکھے گی ،جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے ہاں  توکوئی تکیے نہیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجلدہی ہوں  گے۔[47]

حَتَّى أَتَیْتُ المَدِینَةَ، فَلَقِیَنِی خَالِی، فَسَأَلَنِی عَنِ البَعِیرِ،فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِیهِ، فَلاَمَنِی ،قَالَ:فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا،فَلَمَّا قَدِمْنَا المَدِینَةَ وَدَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ المَسْجِدَ فِی طَوَائِفِ أَصْحَابِهِ، فَدَخَلْتُ إِلَیْهِ وَعَقَلْتُ الجَمَلَ فِی نَاحِیَةِ البَلاَطِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا جَمَلُكَ،فَخَرَجَ، فَجَعَلَ یُطِیفُ بِالْجَمَلِ وَیَقُولُ:الجَمَلُ جَمَلُنَا،

جب میں  مدینہ منورہ پہنچاتو ماموں  سے ملاقات ہوئی تو انہوں  نے مجھ سے اونٹ کاحال دریافت کیا، میں  نے اس اونٹ کی تمام کیفیت بیان کی اوربتایاکہ انہوں  نے اسے فروخت کر دیا ہے ،یہ سن کر ماموں  نے مجھے ڈانٹاکہ کیوں  فروخت کرڈالا ( تیرے پاس ایک اونٹ تھاوہ بھی بیچ ڈالا اوراب پانی کس پرلادکرلائے گا)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرار (مدینہ کے پاس ایک مقام کانام ہے اورخطابی نے کہاوہ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پرعراق کی راہ میں  ایک کنواں  ہے)پر پہنچے توایک گائے ذبح کی جس کاگوشت سب لوگوں  نے کھایا،جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد نبوی میں  داخل ہوئے تومیں  بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  حاضر ہوا،اوربلاط کے ایک گوشے میں  نے اونٹ کو باندھ دیا،اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کااونٹ حاضرہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدکے باہرتشریف لائے اور اونٹ کوکھول کرچکردینے لگے، اورساتھ ہی جابر رضی اللہ عنہ سے کہتے جاتے اونٹ توبس ہماراہی اونٹ ہے،

أَمَرَنِی أَنْ آتِیَ الْمَسْجِدَ، فَأُصَلِّیَ رَكْعَتَیْنِ،قَالَ:یَا بِلاَلُ، اقْضِهِ وَزِدْهُ ، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِیرَ، وَزَادَهُ قِیرَاطًا، قَالَ: یَا جَابِرُ، أَتَوَفَّیْتَ الثَّمَنَ؟قُلْتُ: نَعَمْ،حَتَّى وَلَّیْتُ، فَقَالَ:ادْعُ لِی جَابِرًا، قُلْتُ: الآنَ یَرُدُّ عَلَیَّ الجَمَلَ، وَلَمْ یَكُنْ شَیْءٌ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْهُ، قَالَ:خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ

پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مسجدمیں  جاؤاوردورکعت نماز پڑھو،اور فرمایا اےبلال رضی اللہ عنہ ان کوقیمت اداکر دو اورکچھ زیادہ بھی دے دو،حکم کے مطابق بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے چاردیناراورایک قیراط سونا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے جابر رضی اللہ عنہ ! کیا تمہیں  پوری قیمت مل گئی؟میں  نے جواب دیاہاں  ، وہاں  سے جانے لگاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجابر رضی اللہ عنہ کوذرا بلاؤ،میں  نے سوچاکہ شایداب میراونٹ پھرمجھے واپس کردیں  گے حالانکہ اس سے زیادہ ناگوارمیرے لیے کوئی چیزنہیں  تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایایہ اپنااونٹ لے جا،اوراس کی قیمت بھی تمہاری ہے،یہ کہہ کرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  قیمت بھی دے دی، اوران کااونٹ بھی واپس کردیا۔[48]

خط کشیدہ الفاظ صحیح مسلم میں  ہیں  ۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فو الله مَا زَالَ یَنْمِى عِنْدِی، وَیَرَى مَكَانَهُ مِنْ بَیْتِنَا

جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطاکردہ درہم اللہ کی قسم !ہمارے لیے ہمیشہ موجب برکت بنے رہے ،ہمارے گھرمیں  ان کی خصوصی حیثیت تھی۔[49]

غزوہ تبوک کے دوران رونماایک معجزہ:

أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَیْدٍ الْأَنْصَارِیَّ كَانَ یَقُولُ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَجَهَدَ بِالظَّهْرِ جَهْدًا شَدِیدًا، فَشَكَوْا إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَا بِظَهْرِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ، فَتَحَیَّنَ بِهِمْ مَضِیقًا فَسَارَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِیهِ، فَقَالَ: مُرُّوا بِسْمِ اللَّهِ فَمَرَّ النَّاسُ عَلَیْهِ بِظَهْرِهِمْ، فَجَعَلَ یَنْفُخُ بِظَهْرِهِمْ:اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَیْهَا فِی سَبِیلِكَ، إِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِیِّ وَالضَّعِیفِ، وَعَلَى الرَّطْبِ وَالْیَابِسِ، فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِقَالَ: فَمَا بَلَغْنَا الْمَدِینَةَ حَتَّى جَعَلَتْ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا قَالَ فَضَالَةُ:هَذِهِ دَعْوَةُ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوِیِّ وَالضَّعِیفِ، فَمَا بَالُ الرَّطْبِ وَالْیَابِسِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ غَزَوْنَا غَزْوَةَ قُبْرُسَ فِی الْبَحْرِ، فَلَمَّا رَأَیْتُ السُّفُنَ فِی الْبَحْرِ وَمَا یَدْخُلُ فِیهَا، عَرَفْتُ دَعْوَةَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

فضالہ بن عبیدانصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم غزوہ تبوک میں  رسول اللہ کے ساتھ تھے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی سواری کے جانوروں  کی تھکاوٹ کاحال بیان کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایاکہ یہ جانورایک تنگ جگہ پرمیرے سامنے سے گزارے جائیں  ،چنانچہ جانوروں  کوایک تنگ جگہ سے آپ کے سامنے سے گزاراگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں  پھونک مارتے اورفرماتے اے اللہ!ان جانوروں  کواپنے راستے میں  سواری کے قابل بنادے،بلاشبہ توبحروبرمیں  قوی وضعیف اورخشک وتر پر سوارکرتاہے،مدینہ منورہ پہنچنے تک ان جانوروں  کی یہ حالت تھی کہ سواروں  کے لیے انہیں  قابوکرنامشکل ہوگیا، وہ بارباراپنی مہارچھڑاتے تھے،راوی حدیث فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کاکہناہے قوی اورضعیف کے متعلق دعاتومیری سمجھ میں  آگئی مگرتراورخشک کی دعاسمجھ میں  نہیں  آرہی تھی، پھرجب ہم شام گئے اورہم نے قبرص کی جنگ میں  سمندری سفرکیااورسمندرمیں  کشتیاں  چلتی دیکھیں  تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری دعامیری سمجھ میں  آگئی۔[50]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کرنے کی سازش :

منافقین جویہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں  کااپنے وقت کی ایک بڑی قوت روم سے ٹکرلینے کانتیجہ ان کی تباہی وبربادی کی شکل میں  ظاہر ہوگا، اورانہیں  اس ڈھوگ سے نجات مل جائے گی جوانہوں  نے رچایاہواتھا، اوراس سانحہ کے بعدہم مدینہ منورہ میں  رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے سرپرشاہی تاج رکھ دیں  گے ، مگر جب انہوں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفتح وکامرانی کے ساتھ واپس جاتے دیکھا،اوریہ بھی دیکھاکہ اسلامی سلطنت کی سرحدیں  پھیل کر روم کی سرحدتک پہنچ گئی ہیں  ،توانہوں  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کرنے کی سازش تیارکی،

قَالَ:وَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا مِنْ تَبُوكَ إِلَى الْمَدِینَةِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ مَكَرَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ فَتَآمَرُوا أَنْ یَطْرَحُوهُ مِنْ رَأْسِ عَقَبَةٍ فِی الطَّرِیقِ ،فَلَمَّا بَلَغُوا الْعَقَبَةَ أَرَادُوا أَنْ یَسْلُكُوهَا مَعَهُ، فَلَمَّا غَشِیَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ خَبَرَهُمْ فَقَالَ:مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ یَأْخُذَ بِبَطْنِ الْوَادِی فَإِنَّهُ أَوْسَعُ لَكُمْ ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الْعَقَبَةَ وَأَخَذَ النَّاسُ بِبَطْنِ الْوَادِی

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے مدینہ منورہ کی طرف واپس تشریف لائے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ میں  ہی تھے کہ کچھ منافقین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کودھوکادے کرضررپہنچاناچاہا چنانچہ انہوں  نے مشورہ کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوراستہ میں  ایک پہاڑکی چوٹی سے گرادیاجائے، جب قافلہ نبوی چوٹی پرپہنچاتومنافقین نے بھی چاہاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلیں  ،اب رات ہوچلی تھی اورتاریکی بڑھ چکی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں  سے جوچاہے کہ وادی کے درمیان سے جائے توکوئی حرج نہیں  وہ تمہارے لیے کافی ہوگی، یہ کہہ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑی راستہ اختیارفرمایا، اور چندلوگوں  کے سواباقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وادی میں  سے گزرنے لگے،

إِلَّا النَّفَرُ الَّذِینَ هَمُّوا بِالْمَكْرِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا سَمِعُوا بِذَلِكَ اسْتَعَدُّوا وَتَلَثَّمُوا، وَقَدْ هَمُّوا بِأَمْرٍ عَظِیمٍ ،وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حُذَیْفَةَ بْنَ الْیَمَانِ وَعَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ فَمَشَیَا مَعَهُ، وَأَمَرَ عمارا أَنْ یَأْخُذَ بِزِمَامِ النَّاقَةِ، وَأَمَرَ حذیفة أَنْ یَسُوقَهَا،فَبَیْنَا هُمْ یَسِیرُونَ إِذْ سَمِعُوا وَكْزَةَ الْقَوْمِ مِنْ وَرَائِهِمْ قَدْ غَشَوْهُ

منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکرکرنے کاارادہ کررکھاتھا،جب انہوں  نے سناتویہ تیارہوگئے اورچہروں  پر نقاب ڈال کرایک انتہائی شدیدترین خباثت کے لیے تیارہوگئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان اورعمار رضی اللہ عنہ بن یاسرتھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کواونٹنی کی مہار پکڑ نےاورحذیفہ رضی اللہ عنہ کوپیچھے سے اونٹنی ہانکنے کاحکم فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں  ساتھی بے فکرہوکرچل رہے تھےکہ ان کے پیچھے سے ایک گروہ کے اچانک حملہ کرنے کی آوازآئی اوراتنے میں  انہوں  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوگھیرلیا

فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ حذیفة أَنْ یَرُدَّهُمْ،وَأَبْصَرَ حذیفة غَضَبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ وَمَعَهُ مِحْجَنٌ، وَاسْتَقْبَلَ وُجُوهَ رَوَاحِلِهِمْ، فَضَرَبَهَا ضَرْبًا بِالْمِحْجَنِ، وَأَبْصَرَ الْقَوْمَ وَهُمْ مُتَلَثِّمُونَ وَلَا یَشْعُرُ إِلَّا أَنَّ ذَلِكَ فِعْلُ الْمُسَافِر،فَأَرْعَبَهُمُ اللهُ سُبْحَانَهُ حِینَ أَبْصَرُوا حذیفة، وَظَنُّوا أَنَّ مَكْرَهُمْ قَدْ ظَهَرَ عَلَیْهِ، فَأَسْرَعُوا حَتَّى خَالَطُوا النَّاسَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے اورحذیفہ رضی اللہ عنہ کوحکم دیاکہ انہیں  ہٹادیں  ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پرناراضگی دیکھی توواپس ہوئے، ان کے پاس ڈھال تھی انہوں  نے ان (منافقین)کی طرف منہ کرلیا،وہ ان لوگوں  کوپہچان تونہ سکے ،مگران کے چھپے چہرے دیکھ کرسمجھ گئے کہ یہ دشمن ہیں  ،اس لئے انہوں  نے ان کی سواریوں  کے منہ پراپنی ڈھال سے ضربیں  لگانی شروع کردیں  اوراس واقعہ کومحض مسافروں  کی ایک عادت ہی سمجھا،جب حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان منافقین کودیکھاتواللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں  رعب ڈال دیا،ان کے دلوں  میں  توپہلے ہی چور تھاجب انہوں  نے یہ صورت حال دیکھی توخوف زدہ ہوگئے اورسمجھے کہ ان کامکرکااظہارہوگیاہے چنانچہ وہ تیزی سے منتشرہوکر اپنے دوسرے ساتھیوں  کے ساتھ شامل ہوگئے،

وَأَقْبَلَ حذیفة حَتَّى أَدْرَكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ قَالَ: اضْرِبِ الرَّاحِلَةَ یَا حذیفة، وَامْشِ أَنْتَ یَا عمار،فَأَسْرَعُوا حَتَّى اسْتَوَوْا بِأَعْلَاهَا ،فَخَرَجُوا مِنَ الْعَقَبَةِ یَنْتَظِرُونَ النَّاسَ،فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لحذیفة: هَلْ عَرَفْتَ مِنْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ أَوِ الرَّكْبِ أَحَدًا؟قَالَ حذیفة: عَرَفْتُ رَاحِلَةَ فُلَانٍ وَفُلَانٍ، وَقَالَ: كَانَتْ ظُلْمَةُ اللیْلِ، وَغَشِیَتْهُمْ، وَهُمْ مُتَلَثِّمُونَ

پھرحذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملے،جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے حذیفہ رضی اللہ عنہ تم سواری کوہنکاؤاوراے عمار رضی اللہ عنہ تم چلتے رہو، چنانچہ تیزی کے ساتھ یہ چھوٹاساقافلہ پہاڑکی چوٹی پرچڑھ گیا،پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرمایاتم اس جماعت یاسواروں  میں  سے کسی کوجانتے ہو؟حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیاکہ میں  فلاں  فلاں  کی سواری کوجانتاہوں  اورعرض کیاچونکہ رات اندھیری تھی اوروہ اندھیرے میں  ڈوبے ہوئے تھے اس کے علاوہ انہوں  نے چہروں  پرنقاب ڈال رکھی تھی اس لیے زیادہ نہیں  پہچان سکا،

فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلِمْتُمْ مَا كَانَ شَأْنُ الرَّكْبِ وَمَا أَرَادُوا؟ قَالُوا: لَا وَاللهِ یَا رَسُولَ اللهِ،قَالَ: فَإِنَّهُمْ مَكَرُوا لِیَسِیرُوا مَعِی حَتَّى إِذَا اطَّلَعْتُ فِی الْعَقَبَةِ طَرَحُونِی مِنْهَا،قَالُوا: أَوَلَا تَأْمُرُ بِهِمْ یَا رَسُولَ اللهِ إِذًا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ؟ قَالَ: أَكْرَهُ أَنْ یَتَحَدَّثَ النَّاسُ وَیَقُولُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ یَدَهُ فِی أَصْحَابِهِ، فَسَمَّاهُمْ لَهُمَا وَقَالَ اكْتُمَاهُمْ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیاتم جانتے ہوکہ ان حملہ آوروں  کاکیامعاملہ ہے اوران کاکیاخیال تھا ؟انہوں  نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! میں  نہیں  جانتا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاانہوں  نے میرے ساتھ چلنے کے لیے مکرسے کام لیاتاکہ جب میں  چوٹی کے اوپرچڑھوں  تومجھے وہاں  سے گرادیں  ،حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے حکم کیوں  نہ دیاکہ ہم ان کی گردن ماردیتے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں  اسے ناپسندکرتاہوں  کہ لوگ چرچاکریں  کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں  پرہاتھ ڈالناشروع کردیاہے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ اوریاسر رضی اللہ عنہ کوان منافقین کے ناموں  سے باخبرکیا اورفرمایایہ بات پوشیدہ رکھنا۔ [51]

وحذیفة صاحب سر رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فی المنافقین، لم یعلمهم أحد إلا حذیفة ، وكان عمر إذا مات میت یسأل عن حذیفة، فإن حضر الصلاة علیه صلى علیه عمر، وَإِن لم یحضر حذیفة الصلاة علیه لم یحضر عمر

حذیفہ رضی اللہ عنہ جنہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے نام بتلائے تھے،حذیفہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ان منافقین کانام کوئی نہیں  جانتاتھا،اس لئے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو راز دان رسول کہا جاتا ہے،جب کوئی شخص فوت ہوجاتاتھاتوامیرالمومنین سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ اس کی نمازجنازہ سے پہلےحذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں  دریافت کرتے تھے کہ یہ منافق تونہیں  تھا،اگرحذیفہ رضی اللہ عنہ اس شخص کی نمازجنازہ پڑھتے توسیدناعمر رضی اللہ عنہ بھی نمازپڑھتے ،اوراگرحذیفہ رضی اللہ عنہ اس شخص کی نمازجنازہ نہ پڑھتے توسیدناعمر رضی اللہ عنہ بھی اس کی نمازجنازہ نہ پڑھتے[52]

وقال لیث بْن أَبِی سلیم: لما نزل بحذیفة الموت جزع جزعًا شدیدًا، وبكى بكاء كثیرًا، فقیل: ما یبكیك؟ فقال: ما أبكی أسفا عَلَى الدنیا بل الموت أحب إلی، ولكنی لا أدری علام أقدم، عَلَى رضا أم عَلَى سخط؟ وقیل: لما حضره الموت قال: هذه آخر ساعة من الدنیا، اللهم إنك تعلم أنی أحبك، فبارك لی فی لقائك ثم مات

لیث بن ابوسلیم کہتے ہیں  جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کی موت کاوقت آیاتووہ بہت رونے لگے، ان سے پوچھاگیاآپ کیوں  اس طرح رورہے ہیں  ؟فرمانے لگے میں  اس لیے نہیں  رورہاکہ دنیاکوچھوڑکرجارہاہوں  بلکہ میں  توموت کوپسندکرتاہوں  لیکن میں  یہ نہیں  جانتا کہ میں  اللہ کی رضامیں  میں  مر رہا ہوں  یااس کے غضب میں  ؟ یہ بھی کہاجاتاہے کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ پرموت کاوقت آیاتوفرمانے لگے یہ میری دنیامیں  آخری گھڑیاں  ہیں  اے اللہ!توجانتاہے کہ میں  تجھ سے محبت کرتاہوں  ،میری ملاقات کوقبول فرمااوریہ کہہ کرفوت ہوگئے۔[53]

المعجم الکبیرللطبرانی میں  ان منافق سازشیوں  کے نام یہ ہیں  ۔

وَالْحَارِثُ بْنُ یَزِیدَ الطَّائِیُّ، حَلِیفٌ لِبَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ مِنْ بَنِی مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِوَأَوْسُ بْنُ قَیْظِیٍّ، وَهُوَ مِنْ بَنِی حَارِثَةَوَالْجَلَّاسُ بْنُ سُوَیْدِ بْنِ الصَّامِتِ، وَهُوَ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَجِدُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَبِیلِ بْنِ الْحَارِثِ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَقَیْسُ بْنُ قَهْدٍ مِنْ بَنِی مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِوَهُوَ جَدُّ یَحْیَى بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسٍ وَسُوَیْدٌ وَدَاعِسٌ، وَهُمَا مِنْ بَنِی بَلْحُبْلى وَقَیْسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ وَزَیْدُ بْنُ اللصِیتِ، وَكَانَ مِنْ یَهُودِ قَیْنُقَاعَ وَفِیهِ غِشُّ الْیَهُودِوَسَلَامَةُ بْنُ الْحُمَامِ، مِنْ بَنِی قَیْنُقَاعَ۔۔[54]

حافظ ابن کثیرنے یہ نام بیان کیے ہیں  ۔

هُمْ مُعَتِّب بْنُ قُشَیْرٍ وَوَدِیعَةُ بْنُ ثَابِتٍ وَجَدُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَبْتَل بْنِ الْحَارِثِ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَالْحَارِثُ بْنُ یَزِیدَ الطَّائِیُّ،وَأَوْسُ بْنُ قَیْظِی والحارث بن سُوَیْد وَسَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ وَقَیْسُ بْنُ فَهْدٍوَسُوَیْدٌ وَدَاعِسٌ مِنْ بَنِی الْحُبُلِیّ ،وَقَیْسُ بْنُ عَمْرِوِ، بْنِ سَهْلٍ وَزَیْدُ بْنُ اللصِیتِ وَسُلَالَةُ بْنُ الْحِمَامِ، وَهُمَا مِنْ بَنِی قَیْنُقَاعَ أَظْهَرَا الْإِسْلَام۔ (تفسیرابن کثیر۱۸۳؍۴)

اورتفسیرطبری میں  یہ نام بیان کیے گئے ہیں  ۔

وكان الذین بنوه اثنی عشر رجلا

خِذَام بن خالد، من بنی عبید بن زید، أحد بنی عمرو بن عوف، ومن داره أخرج مسجد الشقاق وثعلبة بن حاطب، من بنی عبید، وهو إلى بنی أمیة بن زیدومُعَتِّب بْنُ قُشَیْرٍ، من بنی ضبیعة بن زید وأبو حبیبة بن الأزعر، من بنی ضبیعة بن زید وعباد بن حنیف، أخو سهل بن حنیف، من بنی عمرو بن عوف وجاریة بن عامر وابناه: مجمع بن جاریة، وزید بن جاریة،

ونَبْتَل بْنِ الْحَارِثِ، وهم من بنی ضبیعةوبَحْزَج، وهو إلى بنی ضبیعةوبجاد بن عثمان، وهو من بنی ضبیعة وَوَدِیعَةُ بْنُ ثَابِتٍ، وهو إلى بنی أمیةرهط أبی لبابة بن عبد المنذرّ۔[55]

منافقین مدینہ کے ساتھ اب تک وقتی مصالح کے لحاظ سے چشم پوشی اوردرگزرکامعاملہ کیاجارہاتھا،اب چونکہ بیرونی خطرات کادباؤکم ہوگیاتھابلکہ گویارہاہی نہیں  تھاچنانچہ استین کے ان سانپوں  کاسرکچلناضروری تھاتاکہ یہ بیرونی طاقتوں  سے سازبازکرکے ریاست میں  کوئی اندرونی خطرہ کھڑانہ کرسکیں  ،اس سلسلہ میں  اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ کی یہ آیات نازل فرمائیں  ۔

[1] صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهِیَ غَزْوَةُ العُسْرَةِ۴۴۱۶

[2] صحیح مسلم كتاب التَّوْبَةِ بَابُ حَدِیثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَیْهِ۷۰۱۹

[3]۔فتح الباری ۱۱۷؍۸

[4] مغازی واقدی۱۰۰۲؍۳

[5] فتح الباری ۱۱۷؍۸

[6] صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ حَدِیثِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ۴۴۱۸،صحیح مسلم کتاب التوبة بَابُ حَدِیثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَیْهِ ۷۰۱۶

[7] ابن ہشام۵۱۹؍۲،الروض الانف ۳۸۸؍۷،عیون الآثر۲۶۸؍۲،تاریخ طبری ۱۰۴؍۳، زادالمعاد ۴۶۳؍۳، دلائل النبوة للبیہقی ۲۲۰؍۵، شرح الزرقانی علی المواھب۷۹؍۴

[8] زادالمعاد۴۹۰؍۳

[9] عیون الاثر۲۶۸؍۲ ،زادالمعاد۴۶۳؍۳،ابن سعد۱۲۵؍۲

[10]۔ مغازی واقدی۹۹۶؍۳

[11] مغازی واقدی۹۹۸؍۳،ابن ہشام ۵۲۰؍۲،عیون الآثر۲۶۹؍۲،تاریخ طبری ۱۰۴؍۳،دلائل النبوة للبیہقی ۲۲۲؍۵، السیرة النبویة لابن کثیر۱۳؍۴

[12] صحیح مسلم کتاب صلاة المسافرین بَابُ الْجَمْعِ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ فِی الْحَضَر ِ۱۶۳۰

[13] صحیح مسلم کتاب الفضائل بَابٌ فِی مُعْجِزَاتِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ۵۹۴۷

[14] موطاامام مالک کتاب قصرالصلوٰة فی السفرباب الْجَمْعُ بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ۲

[15] صحیح مسلم کتاب الزھدوالرقاق بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِینَ۷۴۶۶

[16] صحیح بخاری کتاب الصلوٰة بَابُ الصَّلاَةِ فِی مَوَاضِعِ الخَسْفِ وَالعَذَابِ ۴۳۳،وکتاب احادیث الانبیاء بَابُ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا۳۳۸۱، وکتاب المغازی بَابُ نُزُولِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الحِجْرَ۴۴۱۹،صحیح مسلم کتاب الزھدوالرقاق بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِینَ۷۴۶۴، مسند احمد ۵۴۰۴،دلائل النبوة للبیہقی ۲۳۳؍۵،زادالمعاد۴۶۶؍۳

[17] ۔صحیح بخاری کتاب الزکوٰة بَابُ خَرْصِ الثَّمَرِ۱۴۸۱،صحیح مسلم کتاب الفضائل بَابٌ فِی مُعْجِزَاتِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ۵۹۴۸،مسنداحمد۲۳۶۰۴،البدایة والنہایة۱۶؍۵

[18] ابن ہشام ۵۲۳؍۲،الروض الانف ۳۹۲؍۷،عیون الآثر۲۷۰؍۲،البدایة والنہایة۱۳؍۵، زادالمعاد۴۶۷؍۳، تاریخ طبری ۱۰۶؍۳،دلائل النبوة للبیہقی۳۲۳؍۵،شرح الزرقانی علی المواھب ۸۹؍۴،مغازی واقدی۱۰۱۰؍۳

[19] ابن ہشام۵۲۳؍۲،الروض الانف ۳۹۲؍۷،تاریخ طبری ۱۰۷؍۳،البدایة والنہایة۱۲؍۵،زادالمعاد۴۶۷؍۳،دلائل النبوة للبیہقی۲۲۱؍۵،مغازی واقدی ۱۰۰۰؍۳، السیرة النبویة لابن کثیر۱۵؍۴

[20] التوبة ۶۵

[21] ابن ہشام۵۲۴؍۲،الروض الانف ۳۹۴؍۷،عیون الآثر ۲۷۱؍۲،زادالمعاد۴۶۹؍۳

[22] صحیح مسلم کتاب الفضائل بَابٌ فِی مُعْجِزَاتِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ۵۹۴۷

[23] مغازی واقدی ۱۰۳۴؍۳

[24] صحیح بخاری كِتَابُ التَّیَمُّمِ باب وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا، فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَیْدِیكُمْ مِنْهُ۳۳۵

[25] صحیح بخاری کتاب الزکوٰة بَابُ خَرْصِ الثَّمَرِ۱۴۸۱،صحیح مسلم کتاب الفضائل بَابٌ فِی مُعْجِزَاتِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ۵۹۴۸

[26] دلائل النبوة ۲۴۱؍۵،زادالمعاد۴۷۴؍۳،مغازی لواقدی ۱۰۱۶؍۳،السیرة النبویة لابن کثیر۲۴؍۴

[27] مسند احمد ۱۱۳۱۹، السنن الكبرى للنسائی۴۲۹۹، السیرة النبویة لابن كثیر۲۳؍۴،خاتم النبیین صلى الله علیه وآله وسلم۹۵۸؍۳

[28] ابن ہشام۵۲۷؍۲،الروض الانف ۳۹۸؍۷،عیون الآثر۲۷۳؍۲،تاریخ طبری ۱۰۹؍۳، زادالمعاد۴۷۲؍۳

[29] صحیح بخاری کتاب اللباس بَابُ مَسِّ الحَرِیرِ مِنْ غَیْرِ لُبْسٍ ۵۸۳۶،مسند احمد ۱۳۴۹۲،المسند الموضوعی الجامع للكتب العشرة۱۳؍۳، مغازی واقدی۱۰۲۵؍۳

[30] مسنداحمد۱۳۱۴۸

[31] صحیح مسلم كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّینَةِ بَابُ تَحْرِیمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِیرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ یَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ۵۴۲۲،مسندابی یعلی۴۳۷

[32] فتح الباری ۲۳۱؍۵، عمدة القاری شرح صحیح بخاری۱۷۱؍۱۳

[33] صحیح بخاری كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِیضِ عَلَیْهَابَابُ الهَدِیَّةِ لِلْمُشْرِكِینَ۲۶۱۹

[34] مغازی واقدی ۱۰۲۵؍۳،عیون الآثر۲۷۲؍۲، زادالمعاد۴۷۱؍۳،ابن سعد۱۲۶؍۲

[35] صحیح مسلم کتاب الصلوٰةبَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّی۱۱۱۴،السنن الکبری للنسائی ۸۲۳

[36]صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ حَدِیثِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ۴۴۱۸،صحیح مسلم کتاب التوبة بَابُ حَدِیثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَیْهِ۷۰۱۶،ابن ہشام۵۳۲؍۲،الروض الانف ۴۰۷؍۷،عیون الآثر۲۷۷؍۲،البدایة والنہایة۲۹؍۵،دلائل النبوة للبیہقی۲۷۳؍۵

[37] صحیح مسلم کتاب الایمان بَابُ مَنْ لَقِی اللهَ بِالْإِیمَانِ وَهُو غَیْرُ شَاكٍّ فِیهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ۱۳۹

[38] صحیح بخاری کتاب الدیات بَابُ إِذَا عَضَّ رَجُلًا فَوَقَعَتْ ثَنَایَاهُ۶۸۹۲،صحیح مسلم كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِینَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّیَاتِ بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَیْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَیْہ۴۳۶۶

[39] صحیح بخاری کتاب الجزیة والموادعةبَابُ مَا یُحْذَرُ مِنَ الغَدْرِ۳۱۷۶،سنن ابن ماجہ کتاب الفتن بَابُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ۴۰۴۲،دلائل النبوة للبیہقی۳۲۰؍۶

[40] صحیح مسلم کتاب الصلوٰة بَابُ تَقْدِیمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ یُصَلِّی بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الْإِمَامُ وَلَمْ یَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِیمِ۹۵۳،۹۵۲،سنن ابوداودکتاب الطھارة بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّیْنِ۱۴۹،مسنداحمد۱۸۱۹۴

[41] صحیح مسلم کتاب الفضائل بَابٌ فِی مُعْجِزَاتِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ۵۹۴۸،دلائل النبوة للبیہقی۲۳۸؍۵

[42] زادالمعاد۴۷۰؍۳،البدایة والنہایة۲۱؍۵،ابن ہشام ۵۲۵؍۲،الروض الانف ۳۹۵؍۷، عیون الآثر۲۷۱؍۲،ابن سعد۲۲۱؍۱،السیرة النبویة لابن کثیر۲۹؍۴

[43] ابن ہشام۵۲۸؍۲،مغازی واقدی ۱۰۱۴؍۳

[44]ابن ہشام۵۲۸؍۲

[45] صحیح بخاری کتاب الزکوٰة بَابُ خَرْصِ الثَّمَرِ۱۴۸۱

[46] معجم البلدان۳۹۸؍۳

[47] ابن ہشام۲۰۶؍۲

[48] صحیح بخاری کتاب الجہادبَابُ اسْتِئْذَانِ الرَّجُلِ الإِمَامَ ۲۹۶۷، وبَابُ مَنْ ضَرَبَ دَابَّةَ غَیْرِهِ فِی الغَزْوِ۲۸۶۱، وکتاب البیوع بَابُ شِرَاءِ الدَّوَابِّ وَالحُمُرِ، وَإِذَا اشْتَرَى دَابَّةً أَوْ جَمَلًا وَهُوَ عَلَیْهِ، هَلْ یَكُونُ ذَلِكَ قَبْضًا قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللهُ عَنْهُمَا: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَبِعْنِیهِ یَعْنِی جَمَلًا صَعْبًا۲۰۹۷،وکتاب الوکالة بَابُ إِذَا وَكَّلَ رَجُلٌ رَجُلًا أَنْ یُعْطِیَ شَیْئًا، وَلَمْ یُبَیِّنْ كَمْ یُعْطِی، فَأَعْطَى عَلَى مَا یَتَعَارَفُهُ النَّاسُ۲۳۰۹،وکتاب النکاح بَابُ طَلَبِ الوَلَدِ ۵۲۴۵، وبَابُ تَسْتَحِدُّ المُغِیبَةُ وَتَمْتَشِطُ الشَّعِثَةُ ۵۲۴۷،صحیح مسلم کتاب المساقاة بَابُ بَیْعِ الْبَعِیرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ عن جابر ۴۱۰۰

[49] ابن ہشام۲۰۶؍۲

[50] مسنداحمد۲۳۹۵۵

[51] زادالمعاد۴۷۷؍۳

[52]۔اسدالغابة۷۰۶؍۱

[53] اسدالغابة۷۰۶؍۱

[54] المعجم الکبیرللطبرانی۳۰۱۷

[55] تفسیرطبری ۴۶۹؍۱۴

Tags:
Related Articles