ہجرت نبوی کا چھٹا سال

سریہ محمدبن مسلمہ انصاری(قبیلہ قرطاء کی طرف)محرم الحرام چھ ہجری

خَرَجْت فِی عَشْرِ لَیَالٍ خَلَوْنَ مِنْ الْمُحَرّمِ عَلَى رَأْسِ خَمْسَةٍ وَخَمْسِینَ شَهْرًا مِن مهاجر رَسُولُ اللهِ  صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ  بَعَثَهُ فِی ثَلَاثِینَ راكبا إلى الْقُرْطَاءِ.  وَهُمْ بَطْنٌ مِنْ بَنِی أَبِی بَكْرِ بْنِ كِلابٍ ، وَكَانُوا یَنْزِلُونَ الْبكراتِ بِنَاحِیَةِ ضَرِیَّةَ، وَبَیْنَ الْمَدِینَةِ وَضَرِیَّةَ سَبْعُ لَیَالٍ

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم الحرام چھ ہجری کو محمدبن مسلمہ انصاری  رضی اللہ عنہ کی قیادت میں  تیس اونٹوں  وگھوڑوں  پر سواروں  کاایک دستہ قرطاء(جوبصرہ ومکہ مکرمہ کے درمیان مکہ مکرمہ کے قریب بنو کلاب کاایک گاؤں  تھا ،اوروہ لوگ قبیلہ کلاب کی شاخ بنی بکرسے تعلق رکھتے تھے جوقیس بن عیلان کی اولادمیں  تھے) کی جانب روانہ فرمایایہ لوگ مدینہ منورہ سے سات دن کی مسافت پرضریہ کی جانب بکرات میں  آبادتھا جو کہ مدینہ وضریہ کے مابین سات راتوں  کا سفر ہے۔[1]

وَأَمَرَهُ وَأَنْ یَشُنّ عَلَیْهِمْ الْغَارَةَ . اللّیْلَ وَیَكْمُنَ النّهَارَ وأغار علیهم فَقَتَلَ نَفَرًا مِنْهُمْ وَهَرَبَ سَائِرُهُمْ وَاسْتَاقَ نَعَمًا وَشَاءً وَلَمْ یَعْرِضْ لِلظّعُنوَانْحَدَرُوا إِلَى الْمَدِینَةِ،وَغَابَ تِسْعَ عشرة لیلة وقدم لیلة بَقِیَتْ مِنَ الْمُحَرَّمِ ،فَخَمَّسَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ، وَفَضَّ عَلَى أَصْحَابِهِ مَا بَقِیَ، فَعَدَلُوا الْجَزُورَ بِعَشَرَةٍ مِنَ الْغَنَمِ، وَكَانَتِ النَّعَمُ مِائَةً وَخَمْسِینَ بَعِیرًا، وَالْغَنَمُ ثَلاثَةَ آلافِ شَاةٍ

اور انہیں  ہدایت فرمائی کہ(رازداری کے پیش نظر) وہ راتوں  میں  سفرکریں  اوردن میں  چھپے رہیں  ، اور جب وہاں  پہنچیں  توان کوچاروں  طرف سےگھیرکریک دم حملہ کردیں ، چنانچہ سرداردستہ نے اس  دایت پرعمل کیااور اس قبیلے پراچانک چھاپہ ماراجس میں  دشمن کے دس یابیس آدمی قتل ہوئے اورباقی لوگ اپنا گھر بار،مال ومویشی چھوڑکربھاگ کھڑے ہوئے،محمدبن مسلمہ کے دستہ کے ہاتھ کچھ اونٹ اوربکریاں  لگیں  جنہیں  وہ مدینہ لے کرآگئے، وہ سب مال غنیمت لیکرانیس دن کے بعدانتیس محرم الحرام کومدینہ منورہ میں  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خمس نکال کرباقی مال ان کے دستہ میں  شامل صحابہ  رضی اللہ عنہم  میں  تقسیم فرما دیا ،غنائم کی تقسیم میں  ایک اونٹ کو دس بکریوں  کے برابر قرار دیا گیا مال غنیمت میں  ایک سوپچاس اونٹ اور تین ہزار بکریاں  تھیں ۔[2]

فَأَخَذَتْ رَجُلًا مِنْ بَنِی حَنِیفَةَ، لَا یَشْعُرُونَ مَنْ هُوَ، حَتَّى أَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَدْرُونَ مَنْ أَخَذْتُمْ، هَذَا ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِیُّ

انہوں  نے بنی حنیفہ کے ایک شخص کوبھی گرفتارکیامگریہ نہیں  جانتے تھے کہ وہ کون ہےجب صحابہ  رضی اللہ عنہم  نے اس شخص کو آپ کی خدمت میں  پیش کیا،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاتمہیں  معلوم نہیں  تم کسے گرفتارکرکے لائے ہویہ بنی حنیفہ کاسردار ثمامہ بن اثال ہے۔[3]

ثمامہ  رضی اللہ عنہ  بن اثال کاایمان لانا

 أَبَا هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ خَیْلا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِی حَنِیفَةَ یُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، سَیِّدُ أَهْلِ الْیَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِیَةٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِفَخَرَجَ إِلَیْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:مَا عِنْدَكَ یَا ثُمَامَةُ؟ قَالَ: عِنْدِی یَا مُحَمَّدُ خَیْرٌ، إن تقتل تقتل ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَیَّ شَاكِر، وَإِنْ كُنْتَ تُرِیدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ،فَتُرِكَ حَتَّى كَانَ الغَدُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:مَا عِنْدَكَ یَا ثُمَامَةُ؟قَالَ: مَا قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ،فَتَرَكَهُ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الغَدِ، فَقَالَ:مَا عِنْدَكَ یَا ثُمَامَةُ؟فَقَالَ: عِنْدِی مَا قُلْتُ لَكَ

ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے ایک لشکر کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نجد کی طرف روانہ کیا جب یہ دستہ سرداربنی حنیفہ ثمامہ بن اثال (جو کہ اہل یمامہ کا سردار تھا) کو(جوعمرہ کی نیت سے مکہ جارہاتھاکوبھی)گرفتارکرکے لایا،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایاکہ ثمامہ بن اثال کومسجدکے ایک ستون سے باندھ دیاجائے (تاکہ وہ اپنی آنکھوں  سے اللہ کی بندگی نماز،مسلمانوں  کی آپس میں  محبت ، بھائی چارہ کانظارہ کرسکے اور شایداس طرح اس کادل نرم ہوجائے)رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے قریب سے گزرے توفرمایا اے ثامہ!تمہارامیری نسبت کیاگمان ہے؟ثمامہ نے جواب دیاکہ میراآپ کی نسبت اچھا گمان ہے اگرآپ مجھے قتل کریں  گے توایک قاتل کوقتل کریں  گے جس کاخون بہانارواہے اوراگراحسان فرمائیں  گے توایک شکرگزارپراحسان کریں  گے اور اگر فدیے میں  مال مطلوب ہے توجتناآپ چاہیں  گے آپ کومل جائے گا،ثمامہ کایہ جواب سن کرآپ  صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کے حال پرچھوڑکرخاموشی سے آگے چلے گئے، دوسرے روز پھر اس کے قریب سے گزرے تووہ سوال کیااے ثامہ! تمہارامیری نسبت کیاگمان ہے ؟ اب ثمامہ نے مختصرجواب دیااگرآپ مجھ پراحسان فرمائیں  گے توایک شکرگزارشخص پراحسان ہوگا، اب بھی آپ نے اسے اس کے حال پرچھوڑکر خاموشی سے آگے روانہ ہوگئے ،تیسرے روزبھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب سے گزرے اوروہی پہلاسوال دہرایا اے ثمامہ!تمہارامیری نسبت کیاگمان ہے؟ثمامہ نے آپ کے خلق جمیل اورعفووکرم کے مدنظرعرض کیا میں  اپناگمان کل گوش گزارکرچکاہوں  ۔آپ نے ثمامہ کومخاطب ہوکرفرمایااے ثمامہ میں  نے تجھے معاف اورآزاد کیا۔

فقال  رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ،فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِیبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،یَا مُحَمَّدُ، وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الوُجُوهِ إِلَیَّ، وَاللهِ مَا كَانَ مِنْ دِینٍ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ دِینِكَ، فَأَصْبَحَ دِینُكَ أَحَبَّ الدِّینِ إِلَیَّ، وَاللهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضُ إِلَیَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ البِلاَدِ إِلَیَّ،وَإِنَّ خَیْلَكَ أَخَذَتْنِی وَأَنَا أُرِیدُ العُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ یَعْتَمِرَ

اورصحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کوحکم فرمایاکہ ثمامہ کوکھول دو،چنانچہ ثمامہ آزاد ہوکرمسجدسے باہرنکل گیااور مسجد کے قریب ایک کھجورکے درخت کے پاس جاکرغسل کیااورپھرمسجدنبوی میں  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  حاضرہوکرکلمہ شہادت اشھدان لاالہ الاللہ واشھدان محمدرسول اللہ پڑھا اورکہاعرض کیاواللہ اے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم !اس سے بیشترروئے زمین پرمجھے آپ کے چہرے سے زیادہ مبغوض کوئی چہرہ نہ تھامگرآج مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ محبوب چہرہ اورکوئی نظرنہیں  آتا،واللہ اس سے پہلے مجھے آپ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ دین اورکوئی نظرنہ آتاتھامگرآج مجھے آپ کامذہب تمام ادیان عالم سے زیادہ پسندیدہ ہے ،اللہ کی قسم! اس سے پہلے آپ کے شہرمدینہ سے زیادہ مبغوض کوئی شہر نہیں  تھامگرآج یہ شہرمجھے تمام شہروں  سے زیادہ پیاراہے،میں  عمرہ کے ارادہ سے مکہ جارہاتھاکہ مجھے آپ کے سواروں  نے گرفتارکرلیااب مجھے جوآپ حکم فرمائیں  میں  حاضرہوں ،ان کے عمرہ کا ارادہ سنکرآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  عمرہ کرنے کی اجازت فرمائی اور فرمایاتم صحیح سلامت رہوگے اورتمہیں  کوئی ضررنہیں  پہنچے گا،

فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ: صَبَوْتَ، قَالَ: لاَ، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ وَاللهِ، لاَ یَأْتِیكُمْ مِنَ الیَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ، حَتَّى یَأْذَنَ فِیهَا النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،وَكَانَتِ الْیَمَامَةُ رِیفَ مَكَّةَ، فَانْصَرَفَ إِلَى بِلَادِهِ، وَمَنَعَ الْحَمْلَ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى جَهِدَتْ قُرَیْشُ، فَكَتَبُوا إلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُونَهُ بِأَرْحَامِهِمْ أَنْ یَكْتُبَ إلَى ثمامة یُخَلِّی إلَیْهِمْ حَمْلَ الطَّعَامِ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

ثمامہ  رضی اللہ عنہ  بن اثال کے مسلمان ہونے کی خبر مکہ مکرمہ میں  پہنچ گئی جب وہ مکہ میں تلبیہ  لَبَّیْكَ اللهُمَّ لَبَّیْكَ، لَبَّیْكَ لَا شَرِیكَ لَكَ لَبَّیْكَ کہتے یعنی اللہ کی وحدانیت اورشرک کی نفی کرتے ہوئے داخل ہوئے توکسی قریشی نے ان پرطعن کرتے ہوئے کہااے ثمامہ  رضی اللہ عنہ  توبے دین ہوگیاہے،اس کی بات سن کر ثمامہ  رضی اللہ عنہ  نے کہاہرگزنہیں  بلکہ میں  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اللہ وحدہ لاشریک پرایمان لے آیاہوں  ،اللہ کی قسم اب میں  کبھی تمہارے مشرکانہ دین کی طرف رجوع نہیں  کروں  گااوریہ بات اچھی طرح گرہ باندھ لوکہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مجھے اجازت نہیں  فرمائیں  گے اس وقت تک یمامہ سے جوغلہ تمہارے پاس آتاتھااب اس کاایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں  پہنچ سکے گا،چنانچہ جب ثمامہ  رضی اللہ عنہ  عمرہ اداکرکے یمامہ پہنچے تومکہ غلہ بھیجنا بند دیایہاں  تک کہ قریشیوں  کوروٹی کے لالے پڑگئے اوروہ گوبر اور دوسری غلاظتیں  کھانے پرمجبورہوگئے اور پھرمجبورہوکرانہوں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  ایک عرضی لکھی کہ آپ صلہ رحمی فرماتے ہیں ،ہم آپ کے رشتہ دار اور عزیز ہیں  ، ثمامہ نے مکہ میں  غلہ آنے کاراستہ بندکردیا ہے ،آپ سے درخواست ہے ہم پراحسان فرمائیں  اورثمامہ  رضی اللہ عنہ  کو حکم فرمائیں  کہ وہ غلہ بھیجنابددستورجاری رکھیں ،قریشیوں  کی درخواست پڑھ کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ثمامہ بن اثال  رضی اللہ عنہ  کوحکم فرمایاکہ وہ مکہ میں  غلہ بھیجنا بددستور جاری رکھیں ۔ [4]

خط کشیدہ الفاظ ابن اسحاق میں  ہیں ۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد جب اہل یمامہ میں مسلمہ کذاب نے نبوت کادعوی کیااورلوگوں  کویقین دلانے کے لئے وحی کے طورپر کچھ اوٹ پٹانگ شعربھی کہے اس پراشوب دورمیں ثمامہ بن اثال دل وجان سے اسلام کے ساتھ وابستہ رہے،انہوں  نے مسلمہ کے بے سروپاشعروں  کاجواب دینے اور اپنی قوم کو راہ راست پرلانے کے لئے قرآن کریم کی یہ آیات تلاوت فرمائیں

فقال:بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حٰـمۗ۝۱ۚتَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۝۲ۙ غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ۝۰۝۳  [5]

ترجمہ :بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔حم،اس کتاب کانازل فرمانااس اللہ کی طرف سے ہے جوغالب اورداناہے،گناہ کابخشنے والااورتوبہ کاقبول فرمانے والاسخت عذاب والاانعام وقدرت والاجس کے سواکوئی معبودنہیں  اسی کی طرف واپس لوٹناہے۔

أین هذا من هذیان مُسَیْلِمَةُ فَأَطَاعَهُ مِنْهُمْ ثَلَاثَةَ آلَافٍ وَانْحَازُوا إلَى الْمُسْلِمِینَ

اور بڑی درمندی سے اپنی قوم کو مسیلمہ کی اتباع سے روکنے کے لئے کہا اے میرے بھائیو!اب تم خودانصاف کرواللہ تعالیٰ کے اس کلام سے مسیلمہ کذاب کے کلام سے کیا نسبت ہوسکتی ہے ،ان کے دل میں اسلام کی حقانیت اوراخلاص میں  ڈوبے درمندانہ یہ کلمات اثرکرگئے اورتین ہزارلوگ مسیلمہ کذاب کاساتھ چھوڑکراپنے دین پرقائم ہو گئے ۔[6]

حِینَ ارْتَدّتْ الْیَمَامَةُ مَعَ مُسَیْلِمَةَ وَذَلِكَ أَنّهُ قَامَ فِیهِمْ خَطِیبًا

ایک روایت ہےجب اہل یمامہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ مرتدہوگئے تو ثمامہ  رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیااے بنی حنیفہ ! تم اپنے آپ کواس گمراہی سے بچاؤجس میں  کہیں  ہدایت کا نام ونشان نہیں  ہےالبتہ یہ شقاوت وبدبختی ضرورہے جس کواللہ نے ان گمراہ لوگوں  کے حق میں  مقدرکردیاہے ،جن لوگوں  نے اس گمراہی کوقبول کیااورجن لوگوں  نے قبول نہیں  کیاان دونوں  کے درمیان یہ ایک سخت امتحان ہے۔(ابن اسحاق)

لیکن جب انہوں  نے دیکھاکہ اکثریت مسلمہ کذاب کے ساتھ ہی کھڑی ہے توفرمایااللہ تعالیٰ نے ان لوگوں  کوایک شدیدفتنہ میں  مبتلاکردیاہے اس لئے اللہ کی قسم میں  اس جگہ ہرگزنہ رہوں  گاجولوگ میرے ساتھ چلناچاہتے ہیں  وہ تیارہوجائےچنانچہ تین ہزارکے ایک گروہ کے ساتھ وہ یمامہ سے روانہ ہوکرعلاء بن حضرمی  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ شامل ہوگئے ۔

غزوہ بنی لحیان، ربیع الاول یاجمادی الاولیٰ چھ ہجری(جون،جولائی۶۲۷ء)

بنولحیان کے قبیلوں  عضل اورقارہ جو حجازکے بہت اندرعسفان کی حدودمیں  آبادتھے نے بنوہذیل کے کنوئیں  پرآٹھ اصحاب کوشہیدکردیاتھااوردوکواہل مکہ کے پاس بیچ دیاتھا جہاں  قریش نے انہیں  بے دردی سے قتل کردیاتھا،

قَالُوا: وجد رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَصْحَابِهِ وَجْدًا شَدِیدًا   خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِهِلَالِ رَبِیعٍ الْأَوّلِ سَنَةَ سِتّ فَبَلَغَ غُرَانَ وَعُسْفَانَ، وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِینَةِ ابْنُ أُمّ مَكْتُومٍ،فَخَرَجَ فِی مِائَتَیْ رَجُلٍ وَمَعَهُمْ عِشْرُونَ فَرَسًافَسَلَكَ عَلَى غُرَابٍ، جَبَلٍ بِنَاحِیَةِ الْمَدِینَةِ عَلَى طَرِیقِهِ إلَى الشّامِ، ثُمّ عَلَى مَحِیصٍ، ثُمّ عَلَى الْبَتْرَاءِ، ثُمّ صَفّقَ ذَاتَ الْیَسَارِ فَخَرَجَ عَلَى بِینٍ ثُمّ عَلَى صُخَیْرَاتِ الْیَمَامِ، ثُمّ اسْتَقَامَ بِهِ الطّرِیقُ عَلَى الْمَحَجّةِ مِنْ طَرِیقِ مَكّةَ، فَأَغَذّ السّیْرَ سَرِیعًا، حَتّى نَزَلَ عَلَى غُرَانٍ  ، وَهِیَ مَنَازِلُ بَنِی لِحْیَانَ، وَغُرَانٌ وَادٍ بَیْنَ آمَجَ وَعُسْفَانَ، إلَى بَلَدٍ یُقَالُ لَهُ سَایَةُ

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم عاصم بن ثابت  رضی اللہ عنہ اوردوسر ے اصحاب کے قتل کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے مگررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نپٹنے میں  قدرے تاخیرسے کام لیاکیونکہ بنولحیان کا علاقہ مکہ مکرمہ کے قریب تھا،مسلمانوں  اورکفارکے مابین سخت کشمکش جاری تھی ان حالات میں دشمن کے اتنے قریب جانا مناسب نہ تھا ،مگرغزوہ خندق کے بعد جب کفارکے مختلف گروہوں  میں  پھوٹ پڑگئی اوران کے عزائم بھی کمزورپڑگئے توآپ دشمنوں  سے کسی قدرمطمئن ہوگئےاب آپ نے محسوس کیاکہ بنولحیان سے اصحاب کا بدلہ لینے کاوقت آ گیاہے،چنانچہ آپ نے اظہارفرمایاکہ آپ شام جاکران مجرمین کوکیف کردارتک پہنچانے کے لئے ان پر غفلت میں  حملہ کرنا چاہتے ہیں ، چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول چھ ہجری کوغران اورعسفان کے لئے روانہ ہوئے، مدینہ منورہ پرابن ام مکتوم  رضی اللہ عنہا  کواپنانائب بنایااوردوسوصحابہ اوربیس گھوڑوں  کے ساتھ مدینہ سے خروج کیا اور یلغارکرتے ہوئے غراب نامی پہاڑکی راہ لی جو شام کوجانے والے راستے پرواقع ہے پھر مَخِیضٍ سے ہوتے ہوئے الْبَتْرَاءِ آئے اوریہاں  سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بائیں  جانب مڑے اوربین سے ہوتے ہوئے آپ  صُخَیْرَاتِ الْیَمَامِپر پہنچے اوریہاں  سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سیدھے مکہ مکرمہ کی شاہراہ جس سے حاجی جاتے ہیں  اختیارکی، وہاں  سے تیزی کے ساتھ مسافت طے فرماکر عسفان کے درمیان ایک وادی غُرَانٍ پرمنزل فرمائی جہاں  بنولحیان ٹھیراکرتے تھے، یہ غزان املج اورعسفان کے درمیان ایک وادی ہے جومقام  سَایَةُ  تک چلی جاتی ہے، یہیں  پرصحابہ  رضی اللہ عنہم  کو شہید کیاگیاتھاآپ نے یہاں  دوروزقیام فرمایااور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کے لئے دعائے رحمت کی۔

فَوَجَدَهُمْ قَدْ حَذِرُوا وَتَمَنّعُوا فِی رُءُوسِ الْجِبَالِ،فَلَمّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْطَأَهُ مِنْ غِرّتِهِمْ مَا أَرَادَ قَالَ لَوْ أَنّا هَبَطْنَا عُسْفَانَ لَرَأَى أَهْلُ مَكّةَ أَنّا قَدْ جِئْنَا مَكّةَ، فَخَرَجَ فِی مِائَتَیْ رَاكِبٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتّى نَزَلَ عُسْفَانَ،فَاخْرُجْ فِی عَشَرَةِ فَوَارِسَ. فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِیهِمْ حَتّى أَتَوْا الْغَمِیمَ ثُمّ رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ یَلْقَ أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: إنّ هَذَا یَبْلُغُ قُرَیْشًا فَیَذْعَرُهُمْ، وَیَخَافُونَ أَنْ نَكُونَ نُرِیدُهُمْ

مگردشمن کوآپ کی پیش قدمی کاپہلے ہی پتہ چل گیاتھااس لئے وہ میدان چھوڑکر پہاڑوں  کی چوٹیوں  میں  منتشرہوگئے اوران کاکوئی آدمی ہاتھ نہ لگا، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایامناسب ہوگاکہ ہم یہاں  سے عسفان پراتریں  تاکہ مکہ والے دیکھ لیں  کہ ہم خودمکہ آئے ہیں ، اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دوسوسوارصحابہ  رضی اللہ عنہم  کے ہمراہ اس مقام سے چل کرعسفان آئے(جومکہ مکرمہ سے چھتیس میل کے فاصلہ پرتہامہ کی حدودمیں  ہے)یہاں  سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدناابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ  کودس سواروں  کاایک دستہ دے کرروانہ کیاتاکہ قریش پر مسلمانوں  کی قوت اور جرات واضح ہوجائے اوران کی آمدکاحال سن کردہشت زدہ ہوجائیں  اس طلایہ گرددستہ نے كُرَاعَ الْغَمِیمِ تک چکرلگایااور پلٹ آئے اورکوئی قابل ذکرواقعہ پیش نہ آیا ، واپسی میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کوشام ہوگئی اورآپ چودہ دن مدینہ سے باہرگزارکربلاجدال وقتال آپ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئےاورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پریہ کلمات تھے

تَائِبُونَ آئِبُونَ، إِنْ شَاءَ اللهُ، حَامِدُونَ لِرَبِّنَا عَابِدُونَ، أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَهْلِ وَالْمَالِ

ہم لوٹ رہے ہیں ،توبہ کرتے ہیں اوران شاء اللہ اپنے رب کی حمدوثنابیان کرتے ہیں ،میں  اللہ کی پناہ مانگتاہوں  سفرکی مشقت برے انجام ،واپسی کے اندوہ وغم اورمال واسباب کی بدحالی دیکھنے سے۔[7]

سریہ عکاشہ  رضی اللہ عنہ بن محصن اسدی(الغمرکی طرف) ربیع الاول یاربیع الآخر ۶ ہجری

رَبِیعٍ الْأَوّلِ سَنَةَ سِتّ،بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عُكّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ فِی أَرْبَعِینَ رَجُلًا- مِنْهُمْ ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ، وَشُجَاعُ بْنُ وَهْبٍ، وَیَزِیدُ بْنُ رُقَیْشٍ،وَهُوَ مَاءٌ لِبَنِی أَسَدٍ عَلَى لیلتین مِن فید طریق الأول إلى المدینة،فَخَرَجَ سَرِیعًا یُغِذّ السّیْرَوَنَذَرَ الْقَوْمَ فَهَرَبُوا مِنْ مَائِهِمْ فَنَزَلُوا عَلْیَاءَ بِلَادِهِمْ، فَانْتَهَى إلَى الْمَاءِ فَوَجَدَ الدّارَ خُلُوفًافَبَعَثَ شُجَاعُ بْنُ وَهْبٍ طَلِیعَةً، فرأى أَثَرَ نَعَمٍ، فَتَحَمّلُوا فأصابوا ربئة لَهُمْ، فَأَمَّنُوهُ، فَدَلَّهُمْ عَلَى نَعَمٍ لِبَنِی عَمٍّ لَهُ، فَأَغَارُوا عَلَیْهَا، فَاسْتَاقُوا مِائَتَیْ بَعِیرٍ، فَأَرْسَلُوا الرَّجُلَ، وَحَدَرُوا النَّعَمَ إِلَى الْمَدِینَةِ، وَقَدِمُوا عَلَى  رَسُولُ اللهِ  صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ولم یَلْقَوْا كَیْدًا

ربیع الاول چھ ہجری کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عکاشہ بن محصن  رضی اللہ عنہ (جن کورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیرحساب کتاب جنت میں  داخلے کی خوشخبری سنائی تھی)کو چالیس مجاہدین کے ہمراہ جن میں  ثابت رضی اللہ عنہ  بن اقرم ،شجاع  رضی اللہ عنہ بن وھب اوریزید  رضی اللہ عنہ بن رقیش شامل تھے بنواسدکے کثیرپانی کے چشمہ الْغَمْرِجوغَمْرِ مَرْزُوقٍ کے نام سے معروف ہے کی طرف باغیوں  کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا،یہ مدینہ سے شمال مشرق کی طرف مکہ کے راستہ میں  فیدنامی قلعہ سے دودن کی مسافت پربنی اسدکاپانی (کاگھاٹ)واقع تھا،  عکاشہ  رضی اللہ عنہ  بڑی تیزی کے ساتھ سفرکرتے ہوئے الْغَمْرِ پہنچےمگر مسلمانوں  کی آمدکی خبرپاتے ہی دشمن دہشت زدہ ہوکر فرارہوگئے اورعَلْیَاءَ میں  جاکربیٹھ گئے ،مسلمانوں  نے ان کے گھروں  کوخالی پایا، عکاشہ  رضی اللہ عنہ  نے شجاع  رضی اللہ عنہ بن وہب کوان کی کھوج لگانے کے لئے بھیجاتوانہوں  نے اونٹوں  کے نشان قدم دیکھ لئے،اتفاقاً انہیں  کفار کاایک مخبر ہاتھ لگ گیاجس کو انہوں  نے امان دے دی تواس نے انہیں  اپنے چچازادبھائی کے اونٹ بتادیئے  چنانچہ مطلوبہ جگہ پرچھاپہ ماراگیا تو بغیر کسی لڑائی کے دوسواونٹ مال غنیمت میں  ملےاوروہ انہیں  ہانک کرمدینہ منورہ لے آئے۔[8]

سریہ محمد رضی اللہ عنہ بن مسلمہ(ذوقصہ کی طرف) ربیع الاول یاربیع الآخر چھ ہجری(اگست۶۲۷ء)

مسلمانوں  کومال غنیمت میں  حاصل ہونے والے جانوربہت ہوگئے تھے جومدینہ کی چراہ گاہ ہیفا میں  تھے(یہ چراگاہ مدینہ سے سات میل دورتھی)رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوخبرملی کہ قبائل بنوثعلبہ اورانمارجمع ہوکراس چراگاہ پرحملہ کرنے والے ہیں

بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ إِلَى بَنِی ثعلبة وبنی عوان وَهُمْ بِذِی الْقصَّةِ، وَبَیْنَهَا وَبَیْنَ الْمَدِینَةِ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ مِیلا طَرِیقُ الرَّبَذَةِ فِی عَشَرَةِ نَفَرٍ،فَوَرَدُوا عَلَیْهِمْ لَیْلا، فَأَحْدَقَ بِهِمُ الْقَوْمُ، وَهُمْ مِائَةُ رَجُلٍ، فَتَرَامَوْا سَاعَةً مِنَ اللیْلِ، ثُمَّ حَمَلَتِ الأَعْرَابُ عَلَیْهِمْ بِالرِّمَاحِ فَقَتَلُوهُمْ،وَوَقَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ جَرِیحًا، فَضُرِبَ كَعْبُهُ فَلَا یَتَحَرّكُ، وَجَرّدُوهُمْ مِنْ الثّیَابِ وَانْطَلَقُوا، فَمَرّ رَجُلٌ عَلَى الْقَتْلَى فَاسْتَرْجَعَ،وَمَرَّ بمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، فَحَمَلَهُ حَتَّى وَرَدَ بِهِ المدینة

چنانچہ اس سے پہلے کہ وہ چراگاہ پرحملہ کرتے رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد رضی اللہ عنہ بن مسلمہ ودس مجاہدین کی قیادت سونپ کر بنوثعلبہ بن سعد اوربنوعوان کی جانب جوثعلبہ میں  تھے بھیجاوہ لوگ ذی القصہ میں  تھے بنوثعلبہ وانمار کا قحط زدہ علاقہ مدینہ منورہ کےدرمیان الذبدیہ کے راستے پرچوبیس میل کافاصلہ ہے، یہ مختصر دستہ سارادن سفرکرتے ہوئے رات کے وقت وہاں  پہنچا مسلمانوں  کی نقل وحرکت کودیکھ کربنوثعلبہ کو کھٹکاتھاکہ مسلمان ان کی طرف بھی آئیں  گے اس لئے غنیم جن کی تعدادسوتھی مجاہدین کی گھات میں  چھپے ہوئے تھے ، وہ مجاہدین کے سونے کا انتظار کرنے لگے جب انہیں  یقین ہوگیاکہ وہ بے خبر سوگئے ہیں  توآخرشب ان پراچانک تیروں  سے حملہ کردیا،مجاہدین تیرلگنے سے بیدارہوئے اور بڑی دیرتک مزاحمت کرتے رہے اوردشمن کاایک آدمی قتل کر دیا ، مجاہدین زخمی ہوچکے تھے اس لئے بالآخربدوی ان پرغالب آگئے اورسوائے محمدبن مسلمہ  رضی اللہ عنہ  کے سارے مجاہدین شہید ہو گئے،محمدبن مسلمہ  رضی اللہ عنہ  بھی زخموں  سے چورچور تھے اورمردوں  کی طرح پڑے ہوئے تھے ،بدوں  نے ان میں  زندگی کے آثارمعلوم کرنے کے لئے ان کے ٹخنے پرضرب لگائی لیکن انہوں  نے برداشت کیا اورکوئی آوازنہ نکالی نہ ہی کوئی حرکت کی چنانچہ بدوں  نے انہیں  بھی مردہ سمجھ کرچھوڑدیا،بعدمیں  ایک اتفاقاًایک مسلمان وہاں  سے گزرااورانہیں  زخمی حالت میں  اٹھاکر مدینہ منورہ لے آیا۔[9]

سریہ ابی عبیدہ  رضی اللہ عنہ بن الجراح (ذوقصہ کی طرف)  ربیع الآخر چھ ہجری

فبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَبَا عُبَیْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فِی أَرْبَعِینَ رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِینَ حِینَ صَلَّوُا الْمَغْرِبَ،قَالُوا: أُجْدِبَتْ بِلادُ بَنِی ثَعْلَبَةَ وَأَنْمَارَ، وَوَقَعَتْ سَحَابَةٌ بِالْمرَاضِ إِلَى تغلمِینَ وَالْمرَاضِ، عَلَى سِتَّةٍ وَثَلاثِینَ مِیلا مِنَ الْمَدِینَةِ، فَسَارَتْ بنو محارب وثعلبة وأنمار إلى تلك الحسابة، وَأَجْمَعُوا أَنْ یُغِیرُوا عَلَى سَرْحِ الْمَدِینَةِ وَهِیَ ترْعَى بِهیفَاءَ، مَوْضِعٌ عَلَى سَبْعَةِ أَمْیَالٍ مِنَ المدینة،فَمَشَوْا لَیْلَتَهُمْ حَتَّى وَافَوْا ذَا الْقصَّةِ مَعَ عمَایَةِ الصُّبْحِ، فَأَغَارُوا عَلَیْهِمْ، فَأَعْجَزُوهُمْ هَرَبًا فِی الْجِبَالِ،فَأَصَابَ رَجُلا وَاحِدًا فَأَسْلَمَ وَتَرَكَهُ،فَأَخَذَ نَعَمًا مِنْ نَعَمِهِمْ، فَاسْتَاقَهُ وَرثَّةً مِنْ مَتَاعِهِمْ، وَقَدِمَ بِذَلِكَ الْمَدِینَةَ، فَخَمَّسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَقَسَّمَ مَا بَقِیَ عَلَیْهِمْ

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کاانتقام لینے کے لئے فوری طورپر ابوعبیدہ بن الجرح  رضی اللہ عنہ کوچالیس مجاہدین کے ساتھ رازداری کے پیش نظر مغرب کی نمازکے بعدروانہ فرمایا چونکہ بنوثعلبہ وانمار کاعلاقہ قحط زدہ اور مدینہ منورہ سے چوبیس میل دور ذوالقضہ میں  تھاجبکہ مرَاضِ نامی جگہ پر(جومدینہ سے چھتیس میل دورہے )بارشیں  ہورہی تھیں  اس لئے محارب،بنوثعلبہ اور انمار مرَاضِچلے گئے تھے، اسلامی لشکرساری رات ساتھ سفرکرنے کے بعدعلی الصباح ذوالقصہ پہنچااوران لوگوں  پرحملہ کردیا مگر بنوثعلبہ بڑی تیزی کے ساتھ پہاڑوں  میں  بھاگ کرچھپ گئے،ان کاایک آدمی قابومیں  آیاجس نے اسلام قبول کرلیااس لئے اسے چھوڑدیاگیا،مجاہدین نے ان کے سامان سے کچھ اسباب لے لیااور کچھ اونٹ اوربکریاں  پکڑلیں  اورانہیں  ہانک کر مدینہ لے آئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خمس نکالااورجوباقی بچااسے تقسیم فرمادیا۔[10]

سریہ جموم (بنوسلیم کی طرف)  ربیع الآخر ۶ ہجری

فِی شَهْرِ رَبِیعٍ الآخِرِ سَنَةَ سِتٍّ. قَالُوا: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ زَیْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَى بَنِی سُلَیْمٍ،فَسَارَ حَتَّى وَرَدَ الْجمُومَ، نَاحِیَةَ بَطْنِ نَخلٍ عَنْ یَسَارِهَا، وَبَطْنِ نخلٍ مِنَ الْمَدِینَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ بردٍ،فَأَصَابُوا عَلَیْهِ امْرَأَةً مِنْ مُزَیْنَةَ یُقَالُ لَهَا: حَلِیمَةُ، فَدَلَّتْهُمْ عَلَى مَحلَّةٍ مِنْ مَحَالِّ بَنِی سُلَیْمٍ، فَأَصَابُوا فِی تِلْكَ الْمَحلَّةِ نَعَمًا وَشَاءً وَأَسْرَى، فَكَانَ فِیهِمْ زَوْجُ حَلِیمَةَ الْمُزَنِیَّةِ،فَلَمَّا قَفَلَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِمَا أَصَابَ، وَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُزَنِیَّةِ نَفْسَهَا وَزَوْجَهَا

ربیع الآخرچھ ہجری کورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  کوبنوسلیم کی طرف روانہ فرمایا، وہ یلغارکرتے ہوئے الْجمُومَ میں  جاپہنچےجو بطن نخل کی بائیں  جانب اسی نواح میں  ہے جوبطن نخل سے چاربرد(اڑتالیس میل )ہے، جب مجاہدین وہاں  پہنچے توبدوی فرارہوگئے البتہ مزینہ قبیلے کی ایک عورت حلیمہ گرفتارہوگئی جس نے بنوسلیم کے ٹھکانوں  کی طرف راہنمائی کی،جہاں  سے مجاہدین کو بہت سے مویشی، بکریاں  اورقیدی ہاتھ آئے جن میں  حلیمہ مزنیہ کاخاوندبھی تھا زیدبن حارثہ ان سب کولے کر دودن بعدمدینہ واپس آگئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حلیمہ مزنیہ زید  رضی اللہ عنہ  کوہبہ فرمادی انہوں  نے اس سے شادی کرلی۔ [11]

 سریہ زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  (العیص کی طرف) جمادی الاولیٰ چھ ہجری(ستمبر۶۲۷ئ)

بَلَغَهُ أَنّ عِیرًا لِقُرَیْشٍ أَقْبَلَتْ مِنْ الشّامِ، فَبَعَثَ زَیْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِی سَبْعِینَ وَمِائَةِ رَاكِبٍ، فَأَخَذُوهَا وَمَا فِیهَا. وَأَخَذُوا یَوْمَئِذٍ فِضّةً كَثِیرَةً لِصَفْوَانَ  ، وَأَسَرُوا نَاسًا مِمّنْ كَانَ فِی الْعِیرِ مَعَهُمْ،وَأَتَى أبو العاص الْمَدِینَةَ، فَدَخَلَ عَلَى زینب بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَجَارَ بِهَا، وَسَأَلَهَا أَنْ تَطْلُبَ لَهُ مِن  ْرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ مَالِهِ عَلَیْهِ، وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ ،فَأَجَارَتْهُ،فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ الْفَجْرَ قَامَتْ عَلَى بَابِهَا فَنَادَتْ بِأَعْلَى صَوْتِهَا: إِنِّی قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِیعِ

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوخبرملی کہ قریش کاایک تجارتی کارواں  ابوالعاص بن ربیع کی قیادت میں شام سے واپس آرہاہے ، اس پرآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  کوایک سو ستر سواروں  کے ایک دستہ کے ساتھ مقام العیص (جو مدینہ سے چار دن کی مسافت پرہے)کی طرف روانہ فرمایاجہاں  سے سے قریش کے تجارتی کارواں  گزرتے تھے، زید بن حارثہ  رضی اللہ عنہ  نے کارواں  پرچھاپہ مارا وہاں  دشمنوں  کوہزیمت اٹھانی پڑی،مگران کے مال سے لدے سواونٹ جس میں  صفوان بن امیہ بن خلف کی بہت سی چاندی بھی تھی اورایک سو ستر افراد مجاہدین کے ہاتھ لگ گئے، زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  تمام مال غنیمت اور قیدیوں  کو لے کرمدینہ حاضرہوگئے ،آپ   صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مال صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  میں  تقسیم فرمادیا،سردارقافلہ ابو العاص  رضی اللہ عنہ  کسی طرح ان کے نرخنہ سے بچ نکلنے میں  کامیاب ہوگئے تھے،ابو العاص جو تجارت ،دولت اورامانت کے اعتبار سے مکہ مکرمہ کے معدودے چندمشاہیرمیں  تھے مکہ مکرمہ جانے کے بجائے مدینہ منورہ چلے گئے اور اسی رات کوکسی طرح اپنی اہلیہ زینب  رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اورپناہ طلب کرکے اپنااوردوسرے لوگوں  کامال واپس کرنے کی درخواست کی، زینب  رضی اللہ عنہا نے انہیں  پناہ دے دی،دوسرے روزجب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نمازکے لئے تشریف لائے تو زینب  رضی اللہ عنہا نے اس کااعلان بھی کردیاکہ انہوں  نے ابوالعاص کوپناہ دی ہےاس لئے کوئی انہیں  نقصان نہ پہنچائے،

قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَیُّهَا النَّاسِ، هَلْ سَمِعْتُمْ مَا سَمِعْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَاَلَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ مَا عَلِمْتُ بِشَیْءٍ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى سَمِعْتُ مَا سَمِعْتُمْ، إنَّهُ یُجِیرُ عَلَى الْمُسْلِمِینَ أَدْنَاهُمْ، الْمُؤْمِنُونَ یَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ یُجِیرُ عَلَیْهِمْ أَدْنَاهُمْ وَقَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَارَتْ،فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِیُّ  صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ  إِلَى مَنْزِلِهِ دَخَلَتْ عَلَیْهِ زَیْنَبُ فَسَأَلَتْهُ أَنْ یَرُدَّ عَلَى أَبِی الْعَاصِ مَا أَخَذَ مِنْهُ فَفَعَلَ. وَأَمَرَهَا أَنْ لا یَقْرَبَهَا فَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لَهُ مَا دَامَ مُشْرِكًا

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کواس واقعہ کاکوئی علم نہ تھا نماز کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوکرفرمایااللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں  محمدکی جان ہے!میں  اس واقعہ سے لاعلم ہوں  جواورجس وقت تم لوگوں  نے سنا وہی میں  نے بھی سناکہ مسلمان کمتر لوگوں  کو پناہ دیتے ہیں ،تحقیق خوب سمجھ لوکہ مسلمانوں  میں  سے ادنیٰ سے ادنیٰ اور کمترسے کمتربھی کسی کوپناہ دے سکتاہے،یہ ارشادفرماکر اپنی بیٹی کے گھرگئے اورانہیں  نصیحت فرمائی کہ تم نے ابوالعاص کوپناہ دی تواس کی عزت واکرام کرنا مگرخلوت نہ کرناکیونکہ اس کے شرک کے سبب وہ تم پر حلال نہیں ہیں انہوں  نے عرض کیامیں  الگ ہی رہوں  گی مگرمیں  چاہتی ہوں  کہ ان کے قافلہ سے جومال واسباب لیاگیاہے وہ بھی انہیں واپس کر دیا جائے کیا عجب اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق مل جائے اوروہ اسلام قبول کرلیں ،

فَقَالَ لَهُمْ: إنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنَّا حَیْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ، وَقَدْ أَصَبْتُمْ لَهُ مَالًا، فَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَرُدُّوا عَلَیْهِ الَّذِی لَهُ، فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ فَهُوَ فَیْءُ اللهِ الَّذِی أَفَاءَ عَلَیْكُمْ، فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ ،فَقَالُوا:یَا رَسُولَ اللهِ، بَلْ نَرُدُّهُ عَلَیْهِ،فَرَدُّوهُ عَلَیْهِ، حَتَّى إنَّ الرَّجُلَ لِیَأْتِیَ بِالدَّلْوِ، وَیَأْتِیَ الرَّجُلُ بِالشَّنَّةِ  وَبِالْإِدَاوَةِ ، حَتَّى إنَّ أَحَدَهُمْ لِیَأْتِیَ بِالشِّظَاظِ، حَتَّى رَدُّوا عَلَیْهِ مَالَهُ بِأَسْرِهِ، لَا یَفْقِدُ مِنْهُ شَیْئًا

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم پھرصحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کی طرف آئے اورانہیں  فرمایاابوالعاص کاجوتعلق ہم سے ہے وہ تم سب کو معلوم ہے اگرتم ابوالعاص کاسامان رکھنا چاہو تو تمہیں  پوراپورا اختیار ہے شرعاًیہ تمہاراحصہ ہے اورتمہاری چیزہے اگرتم بطور احسان اس کا مال اسے واپس لوٹادوتویہ عین خوشی کی بات ہوگی،سب صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ! ہم بخوشی ان کی تمام چیزیں  واپس کردیتے ہیں ،چنانچہ ہرایک اپنے مکان کودوڑااورسب صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے خوش دلی سے تمام مال واسباب حتی کہ ڈول رسی وغیرہ تک انہیں  واپس لوٹادیا،ان سے پوچھاگیاکہ اب تمہاری کوئی چیزباقی تونہیں  رہی ؟ابوالعاص  رضی اللہ عنہ  نے کہانہیں ،

ثُمَّ احْتَمَلَ إلَى مَكَّةَ، فَأَدَّى إلَى كُلِّ ذِی مَالٍ مِنْ قُرَیْشٍ مَالَهُ، وَمَنْ كَانَ أَبْضَعَ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ، هَلْ بَقِیَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ عِنْدِی مَالٌ لَمْ یَأْخُذْهُ، قَالُوا: لَا. فَجَزَاكَ اللهُ خَیْرًا، فَقَدْ وَجَدْنَاكَ وَفِیًّا كَرِیمًا، قَالَ: فَإِنّی أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلّا اللهُ وَأَنّ مُحَمّدًا رَسُولُ اللهِ، لَقَدْ أَسْلَمْت بِالْمَدِینَةِ، وَمَا مَنَعَنِی أَنْ أُقِیمَ بِالْمَدِینَةِ إلّا أَنْ خَشِیت أَنْ تَظُنّوا أَنّی أَسْلَمْت لِأَنْ أَذْهَبَ بِاَلّذِی لَكُمْ،ثُمّ رَجَعَ إلَى النّبِیّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَرَدّ عَلَیْهِ زَیْنَبَ بِذَلِكَ النّكَاحِ

ابوالعاص اپناتمام مال لیکرمکہ مکرمہ روانہ ہوگئے اورجاکرجن عورتوں  اورمردوں  نے تجارت میں  رقم لگائی تھی ان کاحق بمعہ منافع اداکردیا،جب سب کچھ اداکرچکے توکعبہ میں  کھڑے ہو کر کہا لوگو! جس جس کاحق مجھ پرتھااسے پہنچ گیاکیا کسی کا سامان باقی تو نہیں  رہ گیا؟ سب کہنے لگے اللہ تم کوجزائے خیردے تم بڑے امانت داراورکریم ہو بیشک آپ نے نہایت ایمانداری اورنیک نیتی سے جوکچھ ہماراتھاہمیں  پوراپورا پہنچادیا ہے،اب انہوں  نے کہاتم سب میرے اسلام کے گواہ رہومیں  نے مدینہ منورہ میں  کلمہ لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیاہے،میں  نے چاہاکہ میں  وہیں  اپنے اسلام کااعلان کردوں  لیکن پھریہ خیال کیاکہ تم سمجھوگے میں  نے تمہارامال لینے کی خاطر ایسا کیا ہے ،اس لئے میں  تمہارے حق سے سبکدوش ہوکر ہجرت کرکے داراسلام میں  جارہاہوں ، چنانچہ آپ واپس مدینہ منورہ میں  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  حاضرہوگئے،اس وقت تک کفارپرمسلمان عورتیں  کے حرام کیے جانے کاحکم نازل نہیں  ہواتھااس لئے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ سال کی مفارقت کے بعدنکاح اول پرہی زینب  رضی اللہ عنہا کوابوالعاص  رضی اللہ عنہ کے گھررخصت کر دیا۔[12]

ابوالعاص  رضی اللہ عنہ کوزینب بنت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے بہت محبت تھی ، انہوں  نے ان کی مدح میں  یہ دوشعرکہے۔

ذَكَرَتْ زَیْنَبُ لَمَا یَمّمَتْ إضَمًا،فَقُلْت: سَقْیًا لِشَخْصِ یَسْكُنُ الْحَرَمَا

مجھے زینب یادآئی تومیں  نے کہاکہ حرم کاہرایک باشندہ سرسبزوشاداب رہے

بِنْتُ الْأَمِینِ جَزَاهَا اللهُ صَالِحَةً،وَكُلّ بَعْلٍ سَیُثْنِی بِاَلّذِی عَلِمَا

زینب توامین کی بیٹی صالحہ ہےاورایک شوہراپنی ایسی بیوی کی تعریف ہی کرے گاجیسے اوصاف کہ مجھے اس کے معلوم ہیں

زینب  رضی اللہ عنہا سے ہجرت سے سات آٹھ سال قبل ایک بیٹا علی بن ابی العاص پیدا ہوئے تھے۔[13]

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوان سے بڑی محبت تھی اس لئے انہیں  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سے مانگ کر خود تربیت فرمائی تھی، ماں  کی نسبت سے آپ  رضی اللہ عنہا  علی  رضی اللہ عنہ  زینبی کہلاتے تھے ، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ہراہم موقعوں  پرانہیں  اپنے ہمراہ رکھتے تھے،

وأردفه رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ  یَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ

فتح مکہ کے روز جبکہ انکی عمر چودہ پندرہ برس کی تھی یہ نواسہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اونٹنی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ردیف تھے۔ [14]

انہی علی بن ابی العاص  رضی اللہ عنہ  کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھوں  پرچڑھایا تھا تاکہ وہ بیت اللہ کوبتوں  کی نجاستوں  سے پاک کر سکیں ۔[15]

أنه قُتِلَ یَوْمَ الیَرْمُوكِ

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے نواسوں  میں  علی  رضی اللہ عنہ زینبی(علی بن ابی العاص  رضی اللہ عنہ ) سب سے پہلے بائیس سال کی بھرپورجوانی میں  پندرہ  ہجری کورومن امپائر کے خلاف جنگ یرموک میں  شہادت کے منصب پرفائزہوئے، علی بن ابی العاص  رضی اللہ عنہ  سے ایک دوسال چھوٹی زینب  رضی اللہ عنہا کی ایک بیٹی امامہ  رضی اللہ عنہ  بنت ابی العاص بھی تھیں  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بھی بہت پیارکرتے تھے،جب مسجدنبوی میں  نمازکے لئے تشریف لاتے تو امامہ  رضی اللہ عنہ  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں  پرسوارہوتیں ،

عَنْ أَبِی قَتَادَةَ الأَنْصَارِیِّ،أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ كَانَ یُصَلِّی وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَیْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ ،  فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا

ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نمازپڑھتے وقت(بعض اوقات فطری محبت کی وجہ سے) ابوامامہ رضی اللہ عنہ  بنت زینب  رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کواٹھائے ہوئے ہوتے تھے،جب آپ سجدہ میں  جانا چاہتے توانہیں  نیچے اتاردیتے اورجب دوبارہ قیام کے لئے کھڑے ہوتے توپھراپنی گردن پربٹھا لیتے تھے۔[16]

أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِیَّ، یَقُولُ:رَأَیْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی لِلنَّاسِ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِی الْعَاصِ، عَلَى عُنُقِهِ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا

ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں  ہےمیں  نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کودیکھاکہ آپ لوگوں  کونمازپڑھانے کے دوران میں  امامہ رضی اللہ عنہ  دخترابی العاص  رضی اللہ عنہ  کواپنی گردن (یعنی کندھے)پراٹھائے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  جب سجدہ کرتے تواسے نیچے بٹھادیتے۔[17]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کے بارے میں  فرمایا

أَحَبِّ أَهْلِی إِلَیَّ

اہل بیت میں  سے میری سب سے پیاری ۔[18]

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں  ہی یہ جوان ہوگئیں  تھیں ،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد جب فاطمہ  رضی اللہ عنہا  بنت محمدرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فوت ہوگئیں  تو ان کی وصیت کے مطابق سیدناعلی  رضی اللہ عنہ  نے ان سے نکاح فرمایا تھا۔[19]

سریہ زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  (الطرف یاطرق) جمادی الآخرہ چھ ہجری

 فِی جُمَادَى الْآخِرَةِ سَنَةَ سِتّ  بَعَثَ  رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ زید بْنَ حَارِثَةَ إلَى الطّرَفِ إلَى بَنِی ثَعْلَبَةَ، فَخَرَجَ فِی خَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، وَهُوَ مَاءٌ قَرِیبٌ مِنَ الْمِرَاضِ دُونَ النَّخِیلِ، عَلَى سِتَّةٍ وَثَلاثِینَ مِیلا مِنَ الْمَدِینَةِ،  فَهَرَبَتِ الْأَعْرَابِ، وَخَافُوا أَنْ یَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ سَارَ إِلَیْهِمْ،فَأَصَابَ مِنْ نَعَمِهِمْ عِشْرِینَ بَعِیرًا  وَغَابَ أَرْبَعَ لَیَالٍ

جمادی الآخرہ چھ ہجری کورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  کوصرف پندرہ مجاہدین کی قیادت عطافرماکربنوثعلبہ کی سرکوبی کے لئے علاقہ الطّرَفِ یاطرق کی طرف روانہ فرمایا جومِرَاضِ کے قریب مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلے پرایک چشمہ کانام ہے،غنیم مجاہدین کی خبرپاتے ہی منتشر ہوگئے،انہیں  یہ بھی خیال تھاکہ شایدرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم خودان کے پیچھے چلے آرہے ہیں ،زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  کوغنیمت میں  بیس اونٹ اورکچھ بکریاں  ہاتھ لگیں ،اوروہ چاردن بعدانہیں  مدینہ منورہ لے کرحاضرہوگئے۔[20]

 سریہ زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ (وادی القریٰ کی طرف)  رجب چھ ہجری

فِی رَجَبٍ سَنَةَ سِتّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ زید بْنَ حَارِثَةَ إِلَى وَادِی الْقُرَى

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  کوبارہ مجاہدین کادستہ دے کروَادِی الْقُرَى(مدینہ منورہ سے قریب شام کے راستے میں  پڑتاہے) کی طرف روانہ فرمایامگرجب مجاہدین وہاں  پہنچے تووادی القریٰ کی لوگوں  نے ان پرحملہ کردیا جس سے نوصحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  شہیدہوگئے ،زندہ بچ جانے والے صحابہ  رضی اللہ عنہم  بھی زخمی ہوئے۔[21]

سریہ سیف البحر

جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ یَقُولُ:بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِیرُنَا أَبُو عُبَیْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِیرَ قُرَیْشٍ ،فَأَمَرَ أَبُو عُبَیْدَةَ بِأَزْوَادِ الجَیْشِ، فَجُمِعَ فَكَانَ مِزْوَدَیْ تَمْرٍ،فَكَانَ یَقُوتُنَا كُلَّ یَوْمٍ قَلِیلٌ قَلِیلٌ حَتَّى فَنِیَ فَلَمْ یَكُنْ یُصِیبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ، فَقُلْتُ: مَا تُغْنِی عَنْكُمْ تَمْرَةٌ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِینَ  فَنِیَت

جابربن عبداللہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ایک قافلہ کاپتہ معلوم کرنے کے لئے ابوعبیدہ بن جراح  رضی اللہ عنہ  کوتین سوسواروں  کاایک لشکردے کرروانہ فرمایاجب ہم مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اورابھی کچھ فاصلہ طے کیاتوہمارازادراہ ختم ہوگیا،ابوعبیدہ  رضی اللہ عنہ  نے حکم دیاکہ سب لوگ اپنااپنابچاہوازادراہ لے آئیں ،سب نے اپنااپنابچاہوازادراہ جمع کیااوریہ کچھ کھجوریں  تھیں  جس سے صرف دوتھیلے کھجوروں  کےجمع ہوگئے،ابوعبیدہ  رضی اللہ عنہ  ہم کواس سے ہرروزتھوڑی تھوڑی کھجوریں  دیتے تھے جب یہ بھی ختم ہوگئیں  توروزانہ فی کس ایک ایک کھجور تک نوبت پہنچی، وہب نے کہامیں  نے جابر  رضی اللہ عنہ سے پوچھاکہ ایک کھجورسے کیاہوتارہاہوگا؟جابر  رضی اللہ عنہ نے کہاوہ ایک کھجوربھی غنیمت تھی۔

فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِیدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الخَبَطَ،فَسُمِّیَ ذَلِكَ الجَیْشُ جَیْشَ الخَبَطِ

ایک روایت میں  ہے ہم سا حل سمندرپرپندرہ دن رہے اورہمیں  سخت بھوک اورفاقے کاسامناکرناپڑا نوبت یہاں  تک پہنچی کہ پیٹ بھرنے کے لئے ببول کے پتے جھاڑ جھاڑکرکھاتے رہے،اسی لئے اس سریہ کانام جیش الخبط(درخت کے پتے جھاڑکرکھانے والالشکر) پڑگیا

قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَیْدَةَ نَهَاهُ، فَأَلْقَى لَنَا البَحْرُ دَابَّةً یُقَالُ لَهَا العَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ ، وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَیْنَا أَجْسَامُنَا

جابر  رضی اللہ عنہ  کا کہنا ہے کہ بھوک سے تنگ آکرایک مجاہد(قیس  رضی اللہ عنہ  بن سعد)نے تین اونٹ ذبح کیے،پھرتین اونٹ ذبح کیے ،پھرتین اونٹ ذبح کیےلیکن پھرامیردستہ ابوعبیدہ  رضی اللہ عنہ نے انہیں  اونٹ ذبح کرنے سے منع کردیا(کیونکہ اگرسب اونٹ ذبح کردیئے جاتے توجہادمیں  خلل واقع ہوتا)اللہ نے ہماری مددفرمائی اور سمندر نے ہمارے لیے ایک مچھلی جیسا جانورکنارے پرپھینک دیاجس کانام عنبرتھا۔اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا

وَیَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ۔۔۔[22]

ترجمہ:اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔

۔۔۔ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ    [23]

ترجمہ:یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

ہم نے اسے نصف ماہ تک کھایااوراس کی چربی سے تیل کاکام لیاجس سے ہمارے بدن کی طاقت وقوت پھرلوٹ آئی،

فَأَخَذَ أَبُو عُبَیْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ، فَنَصَبَهُ فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ، قَالَ سُفْیَانُ:مَرَّةً ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِیرًا فَمَرَّ تَحْتَهُ،فَلَمَّا قَدِمْنَا المَدِینَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ:كُلُوا، رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللهُ،أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ  فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ فَأَكَلَهُ

بعدمیں  ابوعبیدہ  رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی نکال کرکھڑی کروائی اورجولشکرمیں  سب سے لمبے آدمی تھے انہیں  اس کے نیچے سے گزارا،سفیان  رضی اللہ عنہ  بن عیینہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیاکہ ایک پسلی نکال کرکھڑی کردی اورایک شخص کواونٹ پرسوارکرایااس کو چھوئے بغیراس کے نیچے سے گزرگیا(ہم نے مچھلی کے گوشت کے کچھ ٹکڑے توشہ کے طورپررکھ لئے)اورمدینہ منورہ پہنچے تونبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضر ہو کراس مچھلی کا تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایایہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے سمندرسے ایک رزق نکالا ہے اسے کھاؤاور اگرتمہارے پاس ہے توہمیں  بھی کھلاؤ،اس پرایک آدمی نے اس کاگوشت لاکرآپ کی خدمت میں  پیش کیا جس کو آپ نے تناول فرمایا۔[24]

غزوہ بنی مصطلق(غزوہ مریسیع)خزاعہ کی شاخ شعبان چھ ہجری (نومبر۶۲۷ء)

أَنَّهُ لَمَّا بَلَغَهُ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ أَبِی ضِرَارٍ سَیِّدَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ سَارَ فِی قَوْمِهِ، وَمَنْ قَدَرَ عَلَیْهِ مِنَ الْعَرَبِ یُرِیدُونَ حَرْبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَبَعَثَ بُرَیْدَةَ بْنَ الْحُصَیْبِ الْأَسْلَمِیَّ یَعْلَمُ لَهُ ذَلِكَ، فَأَتَاهُمْ وَلَقِیَ الْحَارِثَ بْنَ أَبِی ضِرَارٍ، وَكَلَّمَهُ وَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُمْ ،فَنَدَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَأَسْرَعُوا فِی الْخُرُوجِ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَى الْمَدِینَةِ زَیْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَقِیلَ: أبا ذر، وَقِیلَ: نمیلة بن عبد الله اللیثی، وَخَرَجَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ لِلَیْلَتَیْنِ خَلَتَا مِنْ شَعْبَانَ

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کواطلاع ملی کہ(خزاعہ کی ایک شاخ) بنی مصطلق کے سردارحارث بن ابی ضرارنے اپنی قوم اورعرب کے دوسرے قبائل کوساتھ ملاکرمسلمانوں  سے لڑنے کے لئے ایک لشکرتیارکیاہے اورکسی بھی وقت مدینہ منورہ پرحملہ کرسکتاہے،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ  کوخبرکی تصدیق کے لئے روانہ فرمایاانہوں  نے جاکر معلومات لیں  اور واپس آکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس خبرکی تصدیق کی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے لوگوں  کوجمع کیااورجلدی روانہ ہوگئے،چنانچہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے دوشعبان یوم دوشنبہ کو مدینہ منورہ پر زیدبن حارثہ  رضی اللہ عنہ  یا ابوذرغفاری یانمیلہ بن عبداللہ لیثی کواپنانائب مقررفرمایااور دشمن کواپنی سرحدوں  سے دوررکھنے کے لئے مہاجرین وانصارکے ساتھ آپ مدینہ سے نکلے،

وَقَادُوا الْخُیُولَ وَهِیَ ثَلَاثُونَ فَرَسًا، فِی الْمُهَاجِرِینَ مِنْهَا عَشَرَةٌ وَفِی الْأَنْصَارِ عِشْرُونَ،  وَلِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَرَسَانِ، وَكَانَ عَلِیّ عَلَیْهِ السّلَام فَارِسًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَالزّبَیْرُ، وَعَبْدُ الرّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَیْدِ اللهِ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو. وَفِی الْأَنْصَارِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَأُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ، وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ، وَقَتَادَةُ بْنُ النّعْمَانِ، وَعُوَیْمُ بْنُ سَاعِدَةَ، وَمَعْنُ بْنُ عَدِیّ، وَسَعْدُ بْنُ زَیْدٍ الْأَشْهَلِیّ، وَالْحَارِثُ بْنُ حَزْمَةَ  ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأُبَیّ بْنُ كَعْبٍ، وَالْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ، وَزِیَادُ بْنُ لَبِیدٍ، وَفَرْوَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَمُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِع

اس غزوہ میں  کل تیس گھوڑے شامل تھے جن میں  دس گھوڑے مہاجرین اور بیس گھوڑے انصارکے پاس تھے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ دوگھوڑے تھے، اورسیدنا علی  رضی اللہ عنہ ،سیدناابوبکر  رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ ،سیدناعثمان  رضی اللہ عنہ ،زبیر  رضی اللہ عنہ ،عبدالرحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ ،طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ،مقدادبن عمرو رضی اللہ عنہ اورانصارمیں  سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ ،اسیدبن حضیر رضی اللہ عنہ ،ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ ،قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ،عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ ، معن بن عدی رضی اللہ عنہ ،سعدبن زیداشہلی رضی اللہ عنہ ،حارث بن حزمہ رضی اللہ عنہ ،معاذبن جبل  رضی اللہ عنہ ،ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ،ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ،حباب بن المنذر رضی اللہ عنہ ،زیادبن لبید رضی اللہ عنہ ،فروہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، اورمعاذبن رفاعہ بن رافع گھوڑوں  پرسوارتھے

وَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ كَثِیرٌ مِنْ الْمُنَافِقِینَ لَمْ یَخْرُجُوا فِی غَزَاةٍ قَطّ مِثْلِهَا، لَیْسَ بِهِمْ رَغْبَةٌ فِی الْجِهَادِ إلّا أَنْ یُصِیبُوا مِنْ عَرَضِ الدّنْیَا ،وَمَعَهُ مِنْ نِسَائِهِ عَائِشَةُ وَأُمّ سَلَمَةَ،وَبَلَغَ الْحَارِثَ بْنَ أَبِی ضِرَارٍ، وَمَنْ مَعَهُ مَسِیرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَقَتْلُهُ عَیْنَهُ الَّذِی كَانَ وَجَّهَهُ لِیَأْتِیَهُ بِخَبَرِهِ، وَخَبَرِ الْمُسْلِمِینَ، فَخَافُوا خَوْفًا شَدِیدًا، وَتَفَرَّقَ عَنْهُمْ مَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنَ الْعَرَبِ،حَتَّى لَقِیَهُمْ عَلَى مَاءٍ مِنْ مِیَاهِهِمْ یُقَالُ لَهُ الْمُرَیْسِیعُ، مِنْ نَاحِیَةِ قُدَیْدٍ إِلَى السَّاحِلِ، فَضَرَبَ عَلَیْهِ قُبَّتَهُ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہمراہ منافقین کثیرتعدادمیں  شریک ہوئے جواس سے پہلے اس طرح کسی غزوہ میں  شریک نہیں  ہوئے تھے ،انہیں  جہادسے کوئی غرض نہیں  تھی وہ صرف مال غنیمت کے لالچ میں شامل ہوئے تھے،اس غزوہ میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواج میں  ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  اورام المومنین ام سلمہ  رضی اللہ عنہا  بھی آپ کے ہمراہ تھیں ، بنی مصطلق کے سردارحارث بن ابی ضرارنے لشکراسلامی کی نقل وحرکت معلوم کرنے کے لئے ایک مخبرکوبھیجالیکن مجاہدین کے ہاتھوں  گرفتارہوکرقتل ہوگیا،جب حارث بن ابی ضرا ر اوراس کے ساتھیوں  کواپنے مخبرکے قتل ہونے اوررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع ملی توخوف کے مارے عرب قبائل اس سے الگ ہوگئے آخررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مُرَیْسِیعُ پہنچے جوساحل سمندرکے قریب قُدَیْدٍکے کنارے پرپانی کی جگہ تھی، یہاں  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کاخیمہ کھڑاکیاگیا،

فَتَهَیَّئُوا لِلْقِتَالِ، وَصَفَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَرَایَةُ الْمُهَاجِرِینَ مَعَ أَبِی بَكْرٍ الصِّدِّیقِ، وَرَایَةُ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ،فَتَرَامَوْا بِالنَّبْلِ سَاعَةً، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، فَحَمَلُوا حَمْلَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَكَانَتِ النُّصْرَةُ، وَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، وَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ، وَسَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَالذَّرَارِی وَالنَّعَمَ وَالشَّاءَ ،وَقُتِلَ عَشَرَةٌ مِنْهُمْ وَأُسِرَ سَائِرُهُمْ

چنانچہ قتال کی تیاری کی گئی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کی صف بندی فرمائی مہاجرین کاعلم سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کو اور انصارکاعلم سعدبن عبادہ  رضی اللہ عنہ کوعطافرمایا، کچھ دیرتک تیراندازی ہوتی رہی اس کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان لوگوں  پریکبارگی حملہ کاحکم دیا،اسی وقت اللہ کی مددپہنچی اورمسلمانوں  کوفتح نصیب ہوئی ،کفارشکست کھاکربھاگ گئے اور ان میں  سے جوقتل ہوتا تھا ہوگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  عورتوں ، بچوں  اور چوپائے کو اپنے قبضے میں  کر لیادس لوگ قتل ہوگئے اورباقی لوگوں  کو جن کی تعدادسات سوسے زیادہ تھی گرفتارکرلیااوران کے اونٹ وبکریوں  مال غنیمت کے طورپرہاتھ لگیں ۔[25]

وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ جُوَیْرِیَةَ

انہی قیدیوں  میں  بنومصطلق کے سردارحارث بن ابی ضرارکی بیٹی جویریہ بنت حارث بھی تھیں (جومسافع بن صفوان کی بیوی تھیں )۔[26]

وَقَدْ أُصِیبَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ یُقَالُ لَهُ هِشَامُ بْنُ صُبَابَةَ، أَصَابَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ رَهْطِ عُبَادَةَ بْنِ الصّامِتِ، وَهُوَ یَرَى أَنّهُ مِنْ الْعَدُوّ فَقتله خطأ

مسلمانوں  میں  سے صرف ایک شخص ہشام بن صبابہ  رضی اللہ عنہ  ایک انصاری کے ہاتھوں  غلطی سے قتل ہوگئے جس کا تعلق عبادہ بن صامت  رضی اللہ عنہ  کی جماعت سے تھا انہوں  نے اسے دشمن سمجھ کر قتل کر دیا۔[27]

وَكَانَ مِنْ جُمْلَةِ السَّبْیِ جُوَیْرِیَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ سَیِّدِ الْقَوْمِ، وَقَعَتْ فِی سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ، فَكَاتَبَهَافَأَدَّى عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَتَزَوَّجَهَافَأَعْتَقَ الْمُسْلِمُونَ بِسَبَبِ هَذَا التَّزْوِیجِ مِائَةَ أَهْلِ بَیْتٍ مَنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ قَدْ أَسْلَمُوا، وَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

مال غنیمت اوراسیروں  کومجاہدین میں  تقسیم کردیاگیابنومصطلق کے سردارحارث بن ابی ضرارکی بیٹی جویریہ بنت حارث، ثابت بن قیس  رضی اللہ عنہ  کے حصہ میں  آئیں ،انہوں  نے اس سے مکاتبت کر لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی کتابت کی رقم ادافرمائی اورپھران سے نکاح کرلیا،اس پرمسلمانوں  نے بنومصطلق کے تقریباًسوغلام آزادکردیئے جومسلمان ہوچکے تھے اورکہایہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سسرال ہیں ۔ [28]

فَاشْتَهَیْنَا النِّسَاءَ، وَاشْتَدَّتْ عَلَیْنَا العُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا العَزْلَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، وَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ،فَقَالَ:مَا عَلَیْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى یَوْمِ القِیَامَةِ إِلَّا وَهِیَ كَائِنَةٌ

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں  اورغلاموں  کوتقسیم فرمادیاتو بعض صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کوعورتوں  کی شدید خواہش ہوئی لیکن وہ لونڈیوں  کاحاملہ ہونے کوپسندنہ کرتے تھے اس لئے انہوں  عزل کا ارادہ کیامگرانہیں  خیال ہواکہ جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم موجودہیں  توان سے پوچھے بغیرعزل نہیں  کرناچاہیےچنانچہ انہوں  نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضر ہو کر عزل کرنے کے بارے میں  سوال کیا،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعزل نہ کرنے میں  تمہاراکوئی حرج نہیں  ،قیامت تک جس جان نے پیداہوناہے وہ پیداہوکررہے گی۔[29]

فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ

پھرکچھ عرصہ بعدرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہی ہے وہ زندہ گاڑھی ہوئی (زندہ درگور) لڑکی جس کے بارے میں  قیامت کے روز پوچھا جائے گا ۔[30]

عزل کے بارے میں  اختلاف رائے ہے۔

وَقَدِ اخْتَلَفَ السّلف فِی حكم الْعَزْل قَالَ بن عَبْدِ الْبَرِّ لَا خِلَافَ بَیْنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّهُ لَا یُعْزَلُ عَنِ الزَّوْجَةِ الْحُرَّةِ إِلَّا بِإِذْنِهَا لِأَنَّ الْجِمَاعَ مِنْ حَقِّهَا وَلَهَا الْمُطَالَبَةُ بِهِ وَلَیْسَ الْجِمَاعُ الْمَعْرُوفُ إِلَّا مَا لَا یَلْحَقُهُ عزل وَوَافَقَهُ فِی نقل هَذَا الْإِجْمَاع بن هُبَیْرَةَ۔

عزل کے بارے میں  علمائے سلف کے یہاں  اختلاف پایاجاتاہے ،ابن البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں  کہ علماء کے ہاں  اس ضمن میں  کوئی اختلاف نہیں  پایاجاتاکہ آزادمنکوحہ بیوی کے ساتھ اس کی اجازت کے بغیرعزل درست نہیں  اس لیے کہ مجامعت اس کاجائزحق ہے جس کاوہ مطالبہ کرسکتی ہے اورمعروف جماع وہی ہے جومع الانزال ہو،ابن ہبیرہ نے اس پراجماع نقل کیاہے۔

لِلشَّافِعِیَّةِ الْجَزْمُ بِالْمَنْعِ إِذَا امْتَنَعَتْ وَفِیمَا إِذَا رَضِیَتْ وَجْهَانِ أَصَحُّهُمَا الْجَوَازُ وَهَذَا كُلُّهُ فِی الْحُرَّةِ وَأَمَّا الْأَمَةُ فَإِنْ كَانَتْ زَوْجَةً فَهِیَ مُرَتَّبَةٌ عَلَى الْحُرَّةِ إِنْ جَازَ فِیهَا فَفِی الْأَمَةِ أَوْلَى وَإِنِ امْتَنَعَ فَوَجْهَانِ أَصَحُّهُمَا الْجَوَازُ تَحَرُّزًا مِنْ إِرْقَاقِ الْوَلَدِ

اس اجماع پریہ تنقیدکی گئی ہے کہ بیوی جب عزل پرراضی نہ ہوتوشوافع اس کے ممنوع ہونے کے قائل ہیں  اوراگربیوی عزل پرراضی ہوتواس میں  دوآرائیں  ہیں  اوران دونوں  میں  سے صحیح ترعزل کاجوازہے ،یہ مسلک آزاد عورت کے بارے میں  ہیں  ،لونڈی کے بارے میں  رائے یہ ہے کہ اگروہ منکوحہ ہوتواس کاآزادعورت پرقیاس کیاجائے گااگرعزل آزادعورت کے ساتھ جائزہے تومنکوحہ لونڈی کے ساتھ بھی یقیناًجائزہےاوراگرآزادعورت کے ساتھ جائزنہیں  تومنکوحہ لونڈی کے بارے میں  دوصورتیں  ہیں  ان دونوں  میں  سے صحیح ترصورت عزل کا جوازہے کہ غلام بچے پیدانہ ہوں ۔

وَإِنْ كَانَتْ سُرِّیَّةً جَازَ بِلَا خِلَافٍ عِنْدَهُمْ إِلَّا فِی وَجْهٍ حَكَاهُ الرُّویَانِیُّ فِی الْمَنْعِ مُطلقًا كمذهب بن حَزْمٍ وَإِنْ كَانَتِ السُّرِّیَّةُ مُسْتَوْلَدَةً فَالرَّاجِحُ الْجَوَازُ فِیهِ مُطْلَقًا لِأَنَّهَا لَیْسَتْ رَاسِخَةً فِی الْفِرَاشِ وَقِیلَ حُكْمُهَا حُكْمُ الْأَمَةِ الْمُزَوَّجَةِ

لونڈی کے ساتھ عزل کے جائزہونے پر اتفاق ہےالبتہ الرویانی کہتے ہیں  کہ عزل مطلقاًناجائزہے،امام ابن حزم رحمہ اللہ کابھی یہی مسلک ہے،اگرلونڈی ام ولدہوتواس کے بارے میں  راجح مذہب عزل کا مطلقاً جائز ہونا ہے اس لیے کہ وہ باقاعدہ منکوحہ کی طرح نہیں  ہے ،بعض اہل علم کہتے ہیں  کہ ام ولدلونڈی منکوحہ کاحکم رکھتی ہے،

هَذَا وَاتَّفَقَتِ الْمَذَاهِبُ الثَّلَاثَةُ عَلَى أَنَّ الْحُرَّةَ لَا یَعْزِلُ عَنْهَا إِلَّا بِإِذْنِهَا وَأَنَّ الْأَمَةَ یَعْزِلُ عَنْهَا بِغَیْرِ إِذْنِهَا وَاخْتَلَفُوا فِی الْمُزَوَّجَةِ فَعِنْدَ الْمَالِكِیَّةِ یَحْتَاجُ إِلَى إِذْنِ سَیِّدِهَا وَهُوَ قَوْلُ أَبِی حَنِیفَةَ وَالرَّاجِحُ عَنْ مُحَمَّدٍ وَقَالَ أَبُو یُوسُفَ وَأَحْمَدُ الْإِذْنُ لَهَا وَهِیَ رِوَایَةٌ عَنْ أَحْمَدَ وَعَنْهُ بِإِذْنِهَا وَعَنْهُ یُبَاحُ الْعَزْلُ مُطْلَقًا وَعَنْهُ الْمَنْعُ مُطْلَقًا

تین ائمہ اس بات پرمتفق ہیں  کہ آزادعورت کی اجازت کے بغیراس کے ساتھ عزل جائزنہیں  جبکہ لونڈی کی اجازت کے بغیراس کے ساتھ عزل کیاجاسکتاہے البتہ منکوحہ لونڈی کے بارے میں  اختلاف ہے ،مالکیہ کے نزدیک اس کے مالک سے اذن لینے کی ضرورت ہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کاموقف بھی یہی ہے اورمحمدبن حسن رحمہ اللہ کاراجح قول بھی یہی ہے ،امام احمد رحمہ اللہ اورقاضی ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس منکوحہ لونڈی کی اجازت پرموقوف ہے ،امام احمدسے ایک روایت تویہی ہے جبکہ ان سے دوسری روایت یہ نقل کی گئی ہے کہ عزل مطلقا ًجائزہے اورانہی سے تیسری روایت یہ نقل کی گئی ہے کہ عزل مطلقاًممنوع ہے۔[31]

عبداللہ بن ابی کی فتنہ پردازی

اس غزوہ سے فارغ ہوکررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ابھی چشمہ مریسیع پرہی قیام پذیرتھے کہ اس دوران سیدناعمر  رضی اللہ عنہ  کے ظریف الطبع مزدورجہجاہ بن مسعود غفاری اوربنوعوف بن خزرج کے حلیف سنان بن وبرجہنی کے درمیان بالکل معمولی بات پر جھگڑاہوگیا

فَكَسَعَ أَنْصَارِیًّا، فَغَضِبَ الأَنْصَارِیُّ غَضَبًا شَدِیدًا حَتَّى تَدَاعَوْا، وَقَالَ الأَنْصَارِیُّ: یَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ المُهَاجِرِیُّ: یَا لَلْمُهَاجِرِینَ،فَخَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الجَاهِلِیَّةِ؟ ثُمَّ قَالَ: مَا شَأْنُهُمْ  فَأُخْبِرَ بِكَسْعَةِ المُهَاجِرِیِّ الأَنْصَارِیَّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:دَعُوهَا فَإِنَّهَا خَبِیثَةٌ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَقَدْ تَدَاعَوْا عَلَیْنَا، لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى المَدِینَةِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ

جھگڑایہ تھاکہ جہجاہ بن مسعودغفاری نے مذاق میں  سنان بن وبرجہنی کی پیٹھ پرتھپڑماردیاانصاری بہت سخت غصہ ہوااوراس نے  کہااے قبائل انصار!میری مددکوپہنچو،یہ دیکھ کر مہاجر نےکہاا ےمہاجرین میری مددکوپہنچو، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں  یہ شرانگیز نعرے سنے توآپ باہرتشریف لائے اورپوچھا فرمایایہ ایام جاہلیت کی پکارکیسی ہے ؟ لوگوں  کایہ کیاحال ہے کہ میری موجودگی میں  جاہلیت کے نعرے بلندہورہے ہیں ؟ آپ کے صورت حال دریافت کرنے پر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کواس جھگڑے کی پوری روئیدادبتلائی، نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا (جاہلیت کی )اس پکارکو(ہمیشہ ہمیشہ کے لئے)ترک کردو،یہ خبیث پکارہے،عبداللہ بن ابی سلول نے(جاہلی تعصب کوبھڑکانے کے لئے) کہایہ مہاجرین اب ہمارے خلاف اپنی قوم کودہائی دینے لگےمدینہ منورہ پہنچ کرہم سمجھ لیں  گے ہم جوعزت والے ہیں ان ذلیلوں  (مہاجروں ) کو مدینہ منورہ سے نکال دیں  گے۔ [32]

فَقَالَ لَهُمْ: هَذَا مَا فَعَلْتُمْ بِأَنْفُسِكُمْ، أَحْلَلْتُمُوهُم بِلَادكُمْ، وَقَاسَمْتُمُوهُمْ أَمْوَالَكُمْ، أَمَا وَاَللَّهِ لَوْ أَمْسَكْتُمْ عَنْهُمْ مَا بِأَیْدِیكُمْ لَتَحَوَّلُوا إلَى غَیْرِ دَارِكُمْ

پھرانصارکورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور مہاجرین کے خلاف ابھارنے کے لئے کہایہ مصیبت تمہاری اپنی خریدی ہوئی ہے ،تم لوگوں  نے ہی انہیں  مدینہ منورہ اوراپنے گھروں  میں  جگہ دی اور ان کے مددکے لئے اپنے اموال بڑی فراخدلی سے ان میں  تقسیم کردیئے اگرتم اپنے ہاتھ ان لوگوں  سے روک لیتے تویہ کہیں  اورچلے جاتے ۔[33]

لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى یَنْفَضُّوا وَقَالَ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِینَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّی أَوْ لِعُمَرَ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ،فَدَعَانِی فَحَدَّثْتُهُ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَیٍّ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَكَذَّبَنِی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَهُ

اب ان کا علاج یہ ہے کہ جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس ہیں  ان پرخرچ کرنا بند کر دو پھر وہ خودہی منتشرہوجائیں  گے اورکہاجب ہم مدینہ منورہ میں  جائیں  گے تو ہم جوعزت والے ہیں  ان ذلیلوں  (مہاجروں ) کو مدینہ منورہ سے نکال دیں  گے، زیدبن ارقم  رضی اللہ عنہ  نے جواس وقت کم سن تھے یہ کلمات خبیثہ سن لئے اور انہوں  نے ابی کی اس بات کاذکراپنے چچا یا سیدناعمر  رضی اللہ عنہ  سے کیاانہوں  نے اس بات کی خبر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچادی ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھےکوبلایااورواقعہ کے بارے میں  پوچھامیں  نے ساراواقعہ من وعن آپ کے گوش گزار کر دیا، پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اوراس کے ساتھیوں  کوبلایا اوران کلمات کے بارے میں پوچھامگراس نے اوراس کے تمام ساتھیوں  نے قسمیں  کھاکراس واقعہ کا صاف انکار کر دیا۔

جیسے انہی منافقین کے بارے میں  ایک مقام پرفرمایا

یَحْلِفُوْنَ بِاللهِ مَا قَالُوْا۝۰ۭ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ ۔۔۔۝۷۴ [34]

ترجمہ:یہ لوگ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں  کہ ہم نے وہ بات نہیں  کہی حالانکہ انہوں  نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَفَعَتْ رِیحُ جِیفَةٍ مُنْتِنَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّیحُ؟ هَذِهِ رِیحُ الَّذِینَ یَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِینَ

جابربن عبداللہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ تھے کہ سخت بدبواٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاتم کومعلوم ہے کہ یہ کس چیزکی بدبوہے،یہ بدبوان لوگوں  کے منہ سے آرہی ہے جواس وقت مسلمانوں  کی غیبت(بدگوئی)کررہے ہیں ۔[35]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ،أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِذَا كَذَبَ العَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ المَلَكُ مِیلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ؟

عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایابندہ جب جھوٹ بولتاہے توفرشتہ جھوٹ کی بدبوکی وجہ سے ایک میل دورچلاجاتاہے۔[36]

فَأَصَابَنِی هَمٌّ لَمْ یُصِبْنِی مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِی البَیْتِ،فَنِمْتُ،فَقَالَ لِی عَمِّی: مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَمَقَتَكَ؟فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: إِذَا جَاءَكَ المُنَافِقُونَ ،فَبَعَثَ إِلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ فَقَالَ:إِنَّ اللهَ قَدْ صَدَّقَكَ یَا زَیْدُ

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان منافقین کوسچاسمجھ لیااور مجھے لڑکا سمجھ کرمیری بات کوغلط سمجھاجس پرمجھےسخت ملال ہوا کہ ایساکبھی نہیں  ہواتھاپھرمیں  اٹھ کراپنی منزل پر جا کر بیٹھ گیا اورکچھ دیر بعد سو گیا(جب ان کے چچاکومعلوم ہواتو وہ ان کے پاس آئے اور زید  رضی اللہ عنہ  کورنجیدہ اورپرملال دیکھ کر)میرے چچا نے کہامیراخیال نہیں  تھاکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  تمہاری تکذیب کریں  گے اور تم پرخفگی کا اظہارکریں  گے؟(کچھ زیادہ دیرنہیں  گزری تھی کہ )رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایاب وہ آپ کی خدمت اقدس میں  پہنچے توآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے زید  رضی اللہ عنہ !اللہ نے تمہاری تصدیق کردی ہے،پھرآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نازل شدہ آیات کی تلاوت فرمائی ،جس میں  اللہ تعالیٰ نے زیدبن ارقم  رضی اللہ عنہ  کی صداقت اور عبداللہ بن ابی کے کردارکوپوری طرح طشت ازبام کردیا۔[37]

مضامین سورۂ المنافقون

اس سورۂ میں  منافقوں  کے اخلاق،ان کے جھوٹ،ان کی ریشہ دوانیاں ،مسلمانوں  کے لیے ان کے بغض وعناداوران کے ظاہروباطن کے تضاد کو بے نقاب کیاگیاہے،یوں  تومنافقوں  کامکروہ چہرہ اورقابل نفرت اوصاف کئی دوسری سورتوں  میں  بھی دکھائے گئے ہیں  لیکن یہ سورۂ توگویاصرف ان کی مذمت کے لیے مخصوص ہے ، سورۂ کی ابتدامنافقین کی صفات سے ہوئی جن میں  نمایاں  ترین صفات جھوٹ،مکروفریب،دھوکااورظاہروباطن کاتضادتھا،ان کے دلوں  میں  کچھ تھااورزبانوں  پرکچھ تھا۔

سورۂ کے اختتام پرمسلمانوں  کوسمجھایاگیاہے کہ کہیں  وہ بھی منافقوں  کی طرح مال واولادکی محبت میں  مشغول ہوکراللہ کے ذکراوراطاعت سے غافل نہ ہوجائیں  اورانہیں  ترغیب دی گئی ہے کہ وہ موت کے آنے سے پہلے خرچ کرلیں  ورنہ موت آجانے کے بعدسوائے حسرت وافسوس کے کچھ باقی نہیں  رہے گا۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ یَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ یَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَكَاذِبُونَ ‎﴿١﴾‏ اتَّخَذُوا أَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا یَعْمَلُونَ ‎﴿٢﴾‏ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُونَ ‎﴿٣﴾‏ ۞ وَإِذَا رَأَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِنْ یَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ ۖ یَحْسَبُونَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ ۚ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۖ أَنَّىٰ یُؤْفَكُونَ ‎﴿٤﴾‏(المنافقون)
’’تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اللہ کی راہ سے رک گئے، بیشک برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں، یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان لا کر پھر کافر ہوگئے پس ان کے دلوں پر مہر کردی گئی اب یہ نہیں سمجھتے، جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں،یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے لگائی ہوئی ، ہر( سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں ،یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔‘‘

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جب یہ منافق یعنی عبداللہ بن ابی اوراس کے ساتھی تمہارے پاس آتے ہیں  تواپنے عقدے کے برعکس آپ کواپنے ایمان کایقین دلانے کے لئے قسمیں  کھا کھا کر کہتے ہیں  ہم گواہی دیتے ہیں  کہ آپ یقیناًاللہ کے سچے رسول ہیں ،ہاں  اللہ یقیناًجانتاہے کہ تم واقعی اللہ کے رسول ہومگراللہ گواہی دیتاہے کہ یہ منافق اپنے دعویٰ ایمان میں  قطعی جھوٹے ہیں  ،انہوں  نے خلوص نیت سے اسلام اورآپ کی رسالت کو تسلیم نہیں  کیابلکہ انہوں  نے اپنے لئے آسانیاں  پیداکرنے اور تمہاری تلواروں  کی زدسے بچنے کے لئے اپنی قسموں  کوڈھال بنارکھاہے،جیسےفرمایا

وَیَحْلِفُوْنَ بِاللهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ۝۰ۭ وَمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ۝۵۶ [38]

ترجمہ:وہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں  کہ ہم تمہی میں  سے ہیں  حالانکہ وہ ہرگز تم میں  سے نہیں  ہیں  اصل میں  تو وہ ایسے لوگ ہیں  جو تم سے خوف زدہ ہیں ۔

اوراس طرح یہ خود اللہ تعالیٰ کے راستے سےرکتے ہیں  اوردوسروں  کے دلوں  میں  بھی شک وشبہ اوروسوسے پیداکرکےاللہ کی راہ پرچلنے سےروکتے ہیں ،جیسے ایک مقام پران کی سازش کاذکرفرمایا

وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ۝۷۲ۚۖ [39]

ترجمہ:اہل کتاب میں  سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس کے نبی کے ماننے والوں  پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صحیح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کر دو شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں ۔

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَہُمْ وَعِنْدَ اللہِ مَكْرُہُمْ۝۰ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُہُمْ لِتَزُوْلَ مِنْہُ الْجِبَالُ۝۴۶ [40]

ترجمہ:انہوں  نے اپنی ساری ہی چالیں  چل دیکھیں ، مگر ان کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ ان کی چالیں  ایسی غضب کی تھیں  کہ پہاڑ ان سے ٹل جائیں ۔

کیسی بری حرکتیں  ہیں  جویہ لوگ کررہے ہیں  ،یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں  نے اظہار ایمان کرنے کے باوجودکفرپرقائم رہنے کافیصلہ کیا،صراط مستقیم کوچھوڑکرضلالت کی راہ اختیارکی تو  اللهَ عَلَّامُ الْغُیُوب کودھوکہ دینے کے جرم میں  اللہ نے ان کے دلوں  پرمہرلگادی ہے،اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کوسوچنے اورسمجھنے کی صلاحیت سلب کردی ہے،اب تم انہیں  کتنے ہی دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کرو یہ کچھ نہیں  سمجھیں  گے،بھلائی ان کے دلوں  میں  کبھی بھی داخل نہیں  ہوسکے گی ،جیسے فرمایا

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَاۗءٌ عَلَیْہِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۝۶خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ۝۰ۭ وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَةٌ۝۰ۡوَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۝۷ۧ  [41]

ترجمہ:جن لوگوں  نے(ان باتوں  کو تسلیم کرنے سے)انکار کر دیاان کے لئے یکساں  ہےخواہ تم انہیں  خبردار کرو یا نہ کروبہرحال وہ ماننے والے نہیں ،اللہ نے ان کے دلوں  اور ان کے کانوں  پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں  پر پردہ پڑگیا ہے ،وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔

فرمایا انہیں  دیکھوتوان کے قدوقامت اورچہروں  کی تروتازگی کی وجہ سے تمہیں بڑے شاندارنظرآئیں  گے،یہ اتنے خوش گفتارہیں  کہ تم ان کی زبان کی فصاحت وبلاغت کی وجہ سے باتوں  کے سحرمیں  ڈوب جاؤ،عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں عبداللہ بن ابی بڑے ڈیل ڈول کا،تندرست، بڑاخوبصورت اورچرب الزبان تھا،مگراخلاقی روح سے خالی ہونے کی وجہ سے یہ گویالکڑی کے کندے ہیں  جودیوارکے ساتھ چن کررکھ دیئے گئے ہوں  جودیکھنے والوں  کوبھلے تو لگتے ہیں  لیکن کسی کوکوئی فائدہ نہیں  پہنچاسکتیں ،یعنی یہ بالکل ناکارہ ہیں ،

أَنَّهَا خَبَرُ مُبْتَدَأٍ مَحْذُوفٍ،شُبِّهُوا فِی جُلُوسِهِمْ فِی مَجَالِسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَنِدِینَ بِهَا بِالْخُشُبِ الْمَنْصُوبَةِ الْمُسْنَدَةِ إِلَى الْحَائِطِ الَّتِی لَا تَفْهَمُ وَلَا تَعْلَمُ

امام شوکانی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مبتدامحذوف کی خبرہے اورمطلب ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مجلس میں  اس طرح بیٹھتے ہیں  جیسے دیوارکے ساتھ لگی ہوئی لکڑیاں  ہیں  جوکسی بات کوسمجھتی ہیں  نہ جانتی ہیں ۔[42]

ہرزورکی آوازکویہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں  ،جیسےفرمایا

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ۔۔۔۝۰۝۶۴ [43]

ترجمہ:یہ منافق ڈر رہے ہیں  کہ کہیں  مسلمانوں  پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں  کے بھید کھول کر رکھ دے۔

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ۝۰ۚۖ فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَہُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُہُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ۝۰ۚ فَاِذَا ذَہَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِـنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَی الْخَــیْرِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللہُ اَعْمَالَہُمْ۝۰ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَی اللہِ یَسِیْرًا۝۱۹ [44]

ترجمہ:جو تمہارا ساتھ دینے میں  سخت بخیل ہیں  خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں  جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں  کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں  لیے تمہارے استقبال کو آ جاتے ہیں  یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں  لائے ، اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دیئے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ لِلْمُنَافِقِینَ عَلَامَاتٍ  یُعْرَفُونَ بِهَا: تَحِیَّتُهُمْ لَعْنَةٌ، وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ، وَغَنِیمَتُهُمْ غُلُولٌ، وَلَا یَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا، وَلَا یَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دَبْرًا، مُسْتَكْبِرِینَ، لَا یَأْلَفُونَ وَلَا یُؤْلَفُونَ، خُشُبٌ بِاللَّیْلِ، صُخُبٌ بِالنَّهَارِ  وَقَالَ یَزِیدُ، مَرَّةً: سُخُبٌ بِالنَّهَارِ

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایایقیناًمنافقین کی کچھ علامات ہیں  جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں ،ان کا سلام ودعالعنت ہےاوران کاکھانالوٹ مارہے ، اوران کی غنیمت خیانت ہے اورمساجدکے قریب بہت کم آتے ہیں ،وہ نمازبہت تاخیرسے اداکرتے ہیں اوربے حدمتکبرہیں ،نہ محبت کرتے ہیں  اورنہ محبت کیے جاتے ہیں ،رات کولکڑیاں  ہیں  اوردن کوبہت جھگڑالواورشوروغوغاکرنے والے ، حدیث میں  آنے والے اس لفظ صُخُبٌ کویزیدبن مرہ نے  سُخُبٌ یعنی سین کے ساتھ پڑھاہے اوردونوں  کامعنی ایک ہی ہیں ۔[45]

یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اورمسلمانوں  کے پکے دشمن ہیں  ، ان کے ظاہرسے دھوکانہ کھائیں  بلکہ ان چھپے دشمنوں  ، آستین کے سانپوں  سے ہروقت ہوشار رہیں ،اللہ کی ان پرلعنت اورپھٹکار یہ کیوں  راہ ہدایت کو چھوڑ کرگمراہی اختیار کررہے ہیں ۔

‏وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَیْتَهُمْ یَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ ‎﴿٥﴾‏ سَوَاءٌ عَلَیْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ یَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ‎﴿٦﴾‏ هُمُ الَّذِینَ یَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ یَنْفَضُّوا ۗ وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَا یَفْقَهُونَ ‎﴿٧﴾‏ یَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِینَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَا یَعْلَمُونَ ‎﴿٨﴾‏(المنافقون)
’’ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تمہارے لیے اللہ کے رسول استغفار کریں تو اپنے سر مٹکاتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے رک جاتے ہیں ، ان کے حق میں آپکا استغفار کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز نہ بخشے گا، بیشک اللہ تعالیٰ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا، یہی وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ ادھر ادھر ہوجائیں اور آسمان و زمین کے خزانے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں لیکن یہ منافق بےسمجھ ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینے جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، سنو ! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمانداروں کے لیے ہےلیکن یہ منافق جانتے نہیں۔‘‘

پھررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اوراس کے ساتھیوں  کوبلایاتاکہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب فرمائیں  مگرمنافقین نے اپنے سرمتکبرانہ اندازسے مٹکا دیئے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ جب ان سے کہاجاتاہےکہ آؤتاکہ اللہ کارسول تمہارے لئے بخشش و مغفرت کی دعاکرے توغروراورتمکنت کے ساتھ اپنے سرکوجھٹکادیتے ہیں  اورمعافی طلب کرنے کواپنی توہین سمجھ کربیٹھے رہتے ہیں ،

قَالَ ابْنُ أَبِی عُمَرَ: حوَّلَ سُفْیَانُ وَجْهَهُ عَلَى یَمِینِهِ، وَنَظَرَ بِعَیْنِهِ شَزْرا ثُمَّ قَالَ: هُمْ  هَذَا؟

ابن ابی عمر  رضی اللہ عنہ نے فرمایا سفیان منافق نے اپنامنہ دائیں  جانب پھیرلیاتھااورغضب وتکبرکے ساتھ ترچھی آنکھ سے گھور رہاتھاپھرکہایہ کیاہے؟۔[46]

اورتم دیکھتے ہوکہ وہ سرکشی ،بغض وعناداوربڑے تکبرکے ساتھ حق کی اتباع نہیں  کرتے،جیسے ایک مقام پرمنافقین کے بارے میں  فرمایا

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا۝۶۱ۚ [47]

ترجمہ:اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں  کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں ۔

اے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے نفاق پراصرارکی وجہ سے وہ ایسے مقام پرپہنچ چکے ہیں  کہ تم چاہئے ان کے لئے مغفرت کی دعاکرویانہ کروان کے لئے یکساں  ہے، اگریہ اپنے نفاق سے تائب نہ ہوئے اور نفاق پرہی مرگئے تو اللہ ہرگزانہیں  معاف نہ کرے گا،جیسے فرمایا

 اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْلَهُمْ۝۰ۭ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللهُ لَهُمْ۝۰ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهٖ۝۰ۭ وَاللهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۝۸۰ۧ [48]

ترجمہ:اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ! تم خواہ ایسے لوگوں  کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں  معاف کر دینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں  ہرگز معاف نہ کرے گا اس لیے کہ انہوں  نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور اللہ فاسق لوگوں  کو راہِ نجات نہیں  دکھاتا۔

ایک مقام پرمنافقین پر غیض وغضب کااظہارفرمایا

وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِهٖ۝۰ۭ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَاتُوْا وَهُمْ فٰسِقُوْنَ۝۸۴  [49]

ترجمہ:اور آئندہ ان میں  سے جو کوئی مرے اس کی نمازِ جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہوناکیونکہ انہوں  نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ مرے ہیں  اس حال میں  کہ وہ فاسق تھے۔

اللہ فاسق لوگوں  کوہرگزہدایت نہیں  دیتا،جیسےفرمایا

۔۔۔ وَاللهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِــمِیْنَ۝۱۰۹  [50]

ترجمہ: ایسے ظالم لوگوں  کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں  دکھاتا ۔

یہ وہی لوگ ہیں  جوشدت عداوت کی بناپراپنے زعم فاسدکے مطابق کہتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور ان کے ساتھیوں  پرخرچ کرنا بند کر دو پھریہ خودہی منتشرہوجائیں  حالاں  کہ زمین اورآسمانوں  کے خزانوں  کامالک اللہ ہے ، وہ اپنی حکمت سےجس کوچاہتاہے رزق عطافرماتا ہے اورجسےچاہتاہے اس کارزق تنگ کردیتاہے،جسے چاہتاہے اس کے لئے رزق کے ذرائع آسان بنادیتاہے اورجس کے لئے چاہتاہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کردیتاہےجیسے ایک مقام پرفرمایا

۔۔۔ وَاللهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَاۗءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۝۲۱۲ [51]

ترجمہ: رہا دنیا کا رزق ! تو اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے بے حساب د ے۔

۔۔۔ اِنَّ اللهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَاۗءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۝۳۷ [52]

ترجمہ: اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

اس لئے اگریہ انصارمہاجرین کے ساتھ تعاون نہیں  کریں   گے تواللہ کے خزانوں  میں  کچھ کمی نہیں  ہےمگریہ منافق اس حقیقت کو سمجھتے نہیں ہیں ،اوررئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اوراس کے ساتھی یہ کہتے ہیں  کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں  توجوعزت والاہے (یعنی خودعبداللہ بن ابی اوراس کے ساتھی) وہ ذلیل یعنی(نعوذباللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اوران کے رفقاء کومدینہ منورہ سے نکال باہرکرے گا۔

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ‎﴿٩﴾‏ وَأَنْفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِی إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِیبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِینَ ‎﴿١٠﴾‏ وَلَنْ یُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا ۚ وَاللَّهُ خَبِیرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ‎﴿١١﴾‏(المنافقون)
’’اے مسلمانو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں، اور جو ایسا کریں وہ بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں، اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں ہوجاؤں، اور جب کسی کا مقررہ وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے۔‘‘

تمام مسلمانوں  کومخاطب کرکے فرمایااے لوگوجوایمان لائے ہو!ہم نے تمہیں  چندروزہ دنیاوی زندگی کے لئے مال ودولت ،مویشی اوراولادیں  دیں  ہیں جن سے تم محبت بھی کرتے ہو مگرمال ودولت جمع کرنے کی لگن اوراہل وعیال کی محبت تم پراتنی غالب نہ آجائے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام وفرائض سے غافل ہوجاؤاوراللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدوں  کوپھلانگ جاؤ،جیسےفرمایا

اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۝۰ۭ وَاللهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۝۱۵ [53]

ترجمہ:تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں ، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔

جولوگ دنیاوی مال واسباب جمع کرنے اوراہل وعیال کی محبت میں  اللہ تعالیٰ کے ذکرکوبھول جائیں  گے روزآخرت وہی خسارے میں  رہنے والے ہیں ،بلکہ جوپاکیزہ رزق ہم نے تمہیں  دیاہے اس میں  سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں  یتیموں ،مسکینوں ،بیواؤں ،مسافروں  ،جہادفی سبیل اوردوسرے خیرکے کاموں میں  خرچ کروقبل اس کے کہ تم میں  سے کسی کی موت کاوقت آجائے اوراس وقت وہ اپنی کوتاہی پرحسرت کااظہارکرتے ہوئے التجاکرے کہ اے میرے رب!کیوں  نہ تونے مجھے زندگی کی تھوڑی سی مہلت اوردے دی کہ میں  تیری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صدقہ دیتااورصالحہ لوگوں  میں  شامل ہوجاتا،جیسےفرمایا

وَاَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِیْبٍ۝۰ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِـــعِ الرُّسُلَ۔۔۔۝۰۝۴۴ۙ [54]

ترجمہ:اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  !اس دن سے تم انہیں  ڈرا دو جب کہ عذاب انہیں  آلے گا اس وقت یہ ظالم کہیں  گے کہ اے ہمارے رب !ہمیں  تھوڑی سی مہلت اور دے دے ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں  گے اور رسولوں  کی پیروی کریں  گے۔

حَتّٰٓی اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ۝۹۹ۙ [55]

ترجمہ:(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں  گے ) یہاں  تک کہ جب ان میں  سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ اے میرے رب ! مجھے اسی دنیا میں  واپس بھیج دیجیے( تاکہ میں  نیک اعمال کر لوں  ) ۔

مگراس وقت صدقہ وخیرات یادعوت حق قبول کرنے یادنیامیں  واپس آنے کی یہ آرزوکرنامحض حماقت ہے کیونکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کاوقت آجاتاہے تواللہ اس کوہرگزمزیدمہلت نہیں  دیتا، جیسے فرمایا

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَہَا وَمَا یَسْـتَاْخِرُوْنَ۝۴۳ۭ [56]

ترجمہ:کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی۔

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ: ذَكَرْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الزِّیَادَةَ فِی الْعُمْرِ  فَقَالَ:إِنَّ اللهَ لَا یُؤَخِّرُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا، وَإِنَّمَا زَیَادَةُ الْعُمْرِ بِالذُّرِّیَّةِ الصَّالِحَةِ یَرْزُقُهَا الْعَبْدَ فَیَدْعُونَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ، فَیَلْحَقُهُ دُعَاؤُهُمْ فِی قَبْرِهِ، فَذَلِكَ زَیَادَةُ الْعُمْرِ فَذَلِكَ زَیَادَةُ الْعُمْرِ

ابودرداء  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے زیادتی عمرکاذکرکیا،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاجب موت کاوقت آجاتاہے توپھروہ مؤخرنہیں  ہوتی ،زیادتی عمرصرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کونیک صالحہ اولاددے دے جواس کے مرنے کے بعداس کے حق میں  دعاکرتی رہے اوروہ دعااسے اس کی قبرمیں  پہنچتی رہے،یہ ہے زیادہ عمر۔[57]

اورتم جواچھے یابرے اعمال کرتے ہواللہ اس سے پوری طرح باخبرہے اوروہ تمہاری نیتوں  کے مطابق تمہارے اچھے برے اعمال کی جزادے گا ۔

فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ: دَعْنِی أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا المُنَافِقِ،فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:دَعْهُ، لاَ یَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ أَصْحَابَهُ

سیدناعمر  رضی اللہ عنہ  نے کھڑے ہوکر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیااے اللہ کےرسول   صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت عطافرمائیں  کہ میں  اس خبیث (عبداللہ بن ابی)کی گردن اڑا دوں  ، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اے عمر  رضی اللہ عنہ !) رہنے دو،لوگ کہیں  گے کہ محمداپنے اصحاب کوبھی قتل کرتے ہیں ۔[58]

جب عبداللہ بن ابی کے لڑکے عبداللہ  رضی اللہ عنہ  کوجونہایت نیک طینت انسان تھے پوری تفصیل کاعلم ہوا

وتبرأ عَبْد اللهِ بْن عَبْد اللهِ بْن أُبَیِّ من فعل أَبِیه وأتى رسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: یَا رَسُول الله أَنْت وَالله الْعَزِیز وَهُوَ الذَّلِیل، أَو قَالَ: أَنْت الْأَعَز وَهُوَالْأَذَل، وَإِن شِئْت وَالله لنخرجنه من الْمَدِینَة

تو انہوں نے اپنے منافق باپ سے بیزاری کااعلان کیااوررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  آکرعرض کی اےاللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی صاحب عزت ہیں  اوروہ ذلیل ترین انسان ہے ،اللہ کی قسم! اگرآپ چاہیں  توہم اس کومدینہ سے نکال دیں  گے۔[59]

أَنَّ عَبْدَ اللهِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، إنَّهُ بَلَغَنِی أَنَّكَ تُرِیدُ قَتْلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَیٍّ فِیمَا بَلَغَكَ عَنْهُ، فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمُرْنِی بِهِ، فَأَنَا أَحْمِلُ إِلَیْك رَأسه،فو الله لَقَدْ عَلِمَتْ الْخَزْرَجُ مَا كَانَ لَهَا مِنْ رَجُلٍ أَبَرَّ بِوَالِدِهِ مِنِّی،  وَإِنِّی أَخْشَى أَنْ تَأْمُرَ بِهِ غَیْرِی فَیَقْتُلَهُ، فَلَا تَدَعُنِی نَفْسِی أَنْظُرُ إلَى قَاتِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَیٍّ یَمْشِی فِی النَّاسِ، فَأَقْتُلَهُ فَأَقْتُلَ رَجُلًا مُؤْمِنًا بِكَافِرِ، فَأَدْخُلَ النَّارَ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:بَلْ نَتَرَفَّقُ بِهِ، وَنُحْسِنُ صُحْبَتَهُ مَا بَقِیَ مَعَنَا

انہوں  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی عرض کی اے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ میرے باپ کوقتل کرناچاہتے ہیں  اس بات کی وجہ سے جوآپ نے اس کی سنی ہے،اے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم !اگرآپ واقعی اسے قتل کرناچاہتے ہیں  توآپ یہ کام میرے سپردکردیں  اللہ کی قسم !میں  اس کاسرلاکرآپ کی خدمت میں  پیش کردوں  گا اللہ کی قسم! خزرج اس بات کوجانتے ہیں  کہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرنے والانہیں  ہےاورمجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگرآپ نے میرے سواکسی اورکواس کے قتل کاحکم فرمایااوراس نے قتل کر دیا تو مجھے یہ ہرگزگوارہ نہیں  ہوگاکہ اس کوزمین پرزندہ چھوڑدوں  پھرمیں  اس مومن کوکافرکے بدلہ میں  قتل کرنے سے دوزخ میں  چلاجاؤں  گا ، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گزارشات سن کران کے حق میں  دعائے خیرفرمائی اور انہیں اپنے باپ کے ساتھ بدسلوکی کرنے سے منع فرمایا اوران سے فرمایانہیں  ہم اسے قتل نہیں  کریں  گے بلکہ نرمی کا  برتاؤکریں  گے اورجب تک وہ ہمارے ساتھ رہے گاہم اس سے اچھی طرح پیش آتے رہیں  گے۔[60]

قَالَ وَجَاءَ إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ بَلَغَنِی أَنَّكَ تُرِیدُ أَنْ تَقْتُلَ أَبِی، فَوَالَّذِی بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَأَمَّلْتُ وَجْهَهُ قَطُّ هَیْبَةً لَهُ، لَئِنْ شِئْتَ أَنْ آتِیَكَ بِرَأْسِهِ لَآتِیَنَّكَ، فَإِنِّی أَكْرَهُ أَنْ أَرَى قَاتِلَ أَبِی

ایک روایت میں  ہے عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں  حاضرہوئے اورعرض کیااے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اطلاع ملی کہ آپ میرے والد کو قتل کر نا چاہتے ہیں  ، اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اپنے باپ کی ہیبت کی وجہ سے میں  نے آج تک نگاہ اٹھاکران کے چہرے کی طرف نہیں  دیکھالیکن اگرآپ اس پر ناراض ہیں  تومجھے حکم فرمائیں  ،میں  اس کی گردن آپ کے قدموں  میں  لاکرڈال دوں  گاکسی اورکواس کے قتل کاحکم نہ دیجئے گاایسانہ ہوکہ میں  اپنے والدکے قاتل کواپنی آنکھوں  سے چلتاپھرتانہ دیکھ سکوں  گا۔ [61]

فَلَمَّا اسْتَقَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَسَارَ، لَقِیَهُ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ، فَحَیَّاهُ بِتَحِیَّةِ النُّبُوَّةِ وَسَلَّمَ عَلَیْهِ، ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللهِ، وَاَللَّهِ لَقَدْ رُحْتَ فِی سَاعَةٍ مُنْكَرَةٍ، مَا كُنْتَ تَرُوحُ فِی مِثْلِهَا،فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مَا بَلَغَكَ مَا قَالَ صَاحِبُكُمْ؟قَالَ: وَأَیُّ صَاحِبٍ یَا رَسُولَ اللهِ؟قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَیٍّ،  قَالَ: وَمَا قَالَ؟ قَالَ: زَعَمَ أَنَّهُ إنْ رَجَعَ إلَى الْمَدِینَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ،قَالَ: فَأَنْتَ یَا رَسُولَ اللهِ وَاَللَّهِ تُخْرِجُهُ مِنْهَا إنْ شِئْتُ. هُوَ وَاَللَّهِ الذَّلِیلُ وَأَنْتَ الْعَزِیزُ ،  ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، ارْفُقْ بِهِ، فو الله لَقَدْ جَاءَنَا اللهُ بِكَ، وَإِنَّ قَوْمَهُ لَیَنْظِمُونَ لَهُ الْخَرَزَ لِیُتَوِّجُوهُ، فَإِنَّهُ لَیَرَى أَنَّكَ قَدْ اسْتَلَبْتَهُ مُلْكًا

اس کے بعدبہت سویرے جس میں  رسول اللہ عام طورپرسفرکرنے کے عادی نہ تھے آپ نے سفرکاحکم دے دیاجب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  واپسی کے لئے روانہ ہونے لگے تواسیدبن حضیر رضی اللہ عنہ  نے حاضرخدمت ہوکرپہلے سلام عرض کیاپھرعرض کیااے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم آپ بہت سویرے چل پڑے حالانکہ آپ ایسے وقت کبھی سفرنہ فرماتے تھے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایاکیاتمہیں  کچھ علم ہے تمہارے ساتھی نے کیابات کہی ہے؟ انہوں  نے دریافت کیااے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم !کون ساساتھی ؟فرمایاعبداللہ بن ابی،انہوں  نے دریافت کیاکہ اس نے کیاکہاہے؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ کہتاہے کہ جب وہ مدینہ منورہ واپس ہو گاتووہاں  کامعززطبقہ پست طبقہ کو نکال باہرکرے گا،اسید رضی اللہ عنہ  نے عرض کیااللہ کی قسم!اے اللہ کےرسول   صلی اللہ علیہ وسلم !اگرآپ چاہیں  توآپ ہی اسے وہاں  سے نکال باہرکریں  واللہ وہ خودہی ذلیل ہے آپ معزز ہیں ،پھر عرض کیااے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم !اس سے نرمی کابرتاؤکریں  اس لئے کہ عین وقت پرجب اس کی قوم اس کے لئے موتی جواہرات کا تاج تیارکررہی تھی تاکہ اس کی تاجپوشی کردے تو اللہ نے آپ کوبھیج دیاتب سے اس کایہ خیال ہے کہ آپ نے آکراس کی بادشاہت چھین لی ہے۔[62]

ثُمَّ مَشَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ یَوْمَهُمْ ذَلِكَ حَتَّى أَمْسَى، وَلَیْلَتَهُمْ حَتَّى أَصْبَحَ، وَصَدْرَ یَوْمِهِمْ ذَلِكَ حَتَّى آذَتْهُمْ الشَّمْسُ، ثُمَّ نَزَلَ بِالنَّاسِ ، فَلَمْ یَلْبَثُوا أَنْ وَجَدُوا مَسَّ الْأَرْضِ فَوَقَعُوا نِیَامًا، ثُمّ رَاحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِالنّاسِ وَسَلَكَ الْحِجَازَ حَتّى نَزَلَ عَلَى مَاءٍ بِالْحِجَازِ فُوَیْقَ النّقِیعِ ; یُقَالُ لَهُ بَقْعَاءُ،  فَلَمّا رَاحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ هَبّتْ عَلَى النّاسِ رِیحٌ شَدِیدَةٌ آذَتْهُمْ وَتَخَوّفُوهَا،  فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لَا تَخَافُوهَا، فَإِنّمَا هَبّتْ لِمَوْتِ عَظِیمٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْكُفّارِ، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِینَةَ وَجَدُوا رِفَاعَةَ بْنَ زَیْدِ بْنِ التَّابُوتِ، أَحَدَ بَنِی قَیْنُقَاعَ، وَكَانَ عَظِیمًا مِنْ عُظَمَاءِ یَهُودَ، وَكَهْفًا لِلْمُنَافِقِینَ، مَاتَ فِی ذَلِكَ الْیَوْمِ

پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اس دن اوررات بھرچلے جب صبح ہوئی تودھوپ نے لوگوں  کو ستایا آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ایک جگہ اترے ،لوگوں  کے بدن جونہی زمین پرٹکے انہیں  فوراہی نیندآگئی،پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  حجازکے راستہ پرتشریف لائے اورایک چشمہ پرجس کو بَقْعَاءُ کہتے تھے فروکش ہوئے،  پھرجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اس مقام سے روانہ ہوئے توسخت قسم کی آندھی چلی جس سے لوگ پریشان ہوگئے اوراس کی شدت سے دہشت زدہ ہوگئے، رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاڈرنے کی کوئی بات نہیں  یہ ہواکسی بڑی کافرشخصیت کی موت کی وجہ سے چلی ہے،جب یہ لوگ مدینہ منورہ واپس پہنچے تومعلوم ہواکہ رفاعہ بن ثابت بن تابوت اسی دن مرگیاتھاجس دن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سفرشروع فرمایاتھااورتیز آندھی چلی تھی ، یہ قبیلہ قینقاع کاایک فرد،یہودکابہت بڑاآدمی اور منافقوں  کے لئے ایک محفوظ قلعہ اوران کی پناہ گاہ تھا۔[63]

أَنَّ النَّاسَ لَمَّا قَفَلُوا رَاجِعِینَ إِلَى الْمَدِینَةِ، وَقَفَ عبدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ هَذَا عَلَى بَابِ الْمَدِینَةِ، وَاسْتَلَّ سَیْفَهُ،فَجَعَلَ النَّاسُ یَمُرُّونَ عَلَیْهِ   فَلَمَّا جَاءَ أَبُوهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَیٍّ قَالَ لَهُ ابْنُهُ: وَرَاءَكَ،فَقَالَ: مَا لَكَ؟ وَیْلَكَ، فَقَالَ: والله لا تجوز من هاهنا حَتَّى یأذنَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ الْعَزِیزُ وَأَنْتَ الذَّلِیلُ،فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِنَّمَا یَسِیرُ سَاقَةً،فَشَكَا إِلَیْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنَهُ، فَقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللهِ: وَاللهِ یَا رَسُولَ اللهِ لَا یَدْخُلُهَا حَتَّى تَأْذَنَ لَهُ،  فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَا إِذْ أَذِنَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَجُز الْآنَ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے لشکرکے ہمراہ مدینہ منورہ پہنچےتوعبداللہ بن ابی کابیٹاعبداللہ مدینہ کے دروازے پرتلوارکھینچ کرکھڑے ہوگئے،لوگ مدینہ میں  داخل ہونے لگے یہاں  تک کہ ان کاباپ عبداللہ بن ابی بھی آگیاتویہ فرمانے لگے یہاں  سے دوررہواورمدینہ میں  داخل ہونے کی کوشش نہ کرو،عبداللہ بن ابی نے کہاتوبربادہوتم مجھے مدینہ میں  داخل ہونے سے کیوں  روک رہے ہو؟عبداللہ  رضی اللہ عنہ  نے فرمایاجب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تمہیں  مدینہ منورہ میں  داخل ہونے کی اجازت نہ فرمادیں  تواندرداخل نہیں  ہوسکتا،عزت واکرام اورشان ومرتبہ والے تورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہی ہیں  اورآپ ذلیل ورسوا ہیں ،بیٹے کی یہ بات سن کریہ ایک طرف کھڑاہوگیایہاں  تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی عادت مبارک تھی کہ لشکرکے آخری حصہ میں  ہوتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کودیکھ کراس نے اپنے بیٹے کی شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عبداللہ  رضی اللہ عنہ سے پوچھاکہ اسے کیوں  یہاں  روک رکھاہے؟عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ  رضی اللہ عنہ  نے عرض کیااللہ کی قسم !جب تک آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اجازت نہ ہویہ مدینہ کے اندرداخل نہیں  ہوسکتا،چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نےاسے مدینہ میں  داخل ہونے کی اجازت فرمائی تب عبداللہ  رضی اللہ عنہ  نے اپنے والد کو شہرمیں  داخل ہونے دیا۔[64]

قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَیٍّ ابْنِ سَلُولَ، لِأَبِیهِ: وَاللهِ لَا تَدْخُلُ الْمَدِینَةَ أَبَدًا حَتَّى تَقُولَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الْأَعَزُّ، وَأَنَا الْأَذَلُّ

ایک روایت میں  ہےعبداللہ  رضی اللہ عنہ  نے اپنے والدسے کہااللہ کی قسم !جب تک تواپنی زبان سے یہ نہ کہہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  عزت واکرام اورشان ومرتبہ والے ہیں  اورمیں  ذلیل ورسواہوں  تب تک تومدینہ میں  داخل نہیں  ہوسکتا۔[65]

اس کے بعدبھی عبداللہ بن ابی کوئی شرارت کرتاتواس کے ہم قوم اسی کوملامت کرتے اورڈانٹتے اورمجرم گردانتے تھے۔

كَیْفَ تَرَى یَا عُمَرُ، أَمَا وَاَللَّهِ لَوْ قَتَلْتُهُ یَوْمَ قُلْتَ لِی اُقْتُلْهُ، لَأُرْعِدَتْ لَهُ آنُفٌ، لَوْ أَمَرْتهَا الْیَوْمَ بِقَتْلِهِ لَقَتَلْتُهُ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: قَدْ وَاَللَّهِ عَلِمْتُ لَأَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ بَرَكَةً مِنْ أَمْرِی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدناعمر  رضی اللہ عنہ  سے فرمایاتھااے عمر  رضی اللہ عنہ !اب بولو!اگرتم اسی دن اسے قتل کردیتے توتمہارے اس اقدام پربے شمارلوگ ناک بھوں  چڑھاتے لیکن آج صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ اگرمیں  اس کی قوم کوحکم دوں  تووہ خوداپنے ہاتھوں  اسے قتل کرڈالے گی، سیدناعمر  رضی اللہ عنہ کہنے لگے اللہ رب العزت کی قسم !مجھے کامل یقین ہے کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رائے گرامی میرے خیال سے بہت افضل اورمبارک ہوتی ہے۔[66]

واقعہ افک(  ماہ شعبان چھ ہجری  )

اسی غزوے سے واپسی میں  ایک دوسراواقعہ بھی پیش آیاجوکچھ یوں  ہے ،

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَیْنَ أَزْوَاجِهِ، فَأَیُّهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَقْرَعَ بَیْنَنَا فِی غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِیهَا سَهْمِی، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الحِجَابُ،فَكُنْتُ أُحْمَلُ فِی هَوْدَجِی وَأُنْزَلُ فِیهِ ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْكَ وَقَفَلَ، دَنَوْنَا مِنَ المَدِینَةِ قَافِلِینَ ، آذَنَ لَیْلَةً بِالرَّحِیلِ

ام المومنین عائشہ صدیقہ طاہرہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب سفر کاارادہ کرتے توازواج مطہرات  رضی اللہ عنہن کے درمیان قرعہ ڈالاکرتے تھے پھر جس کانام نکلتاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  انہیں  اپنے ساتھ سفرمیں  لے جاتے تھے،عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ ایک غزوہ( بنی مصطلق)کے موقع پرجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قرعہ ڈالا اور میرے نام کاقرعہ نکلااورمیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ سفرپرروانہ ہوئی ،یہ واقعہ پردہ کے حکم کے نازل ہونے کے بعدکاہے، چنانچہ روانگی کے وقت مجھے ہودج سمیت اٹھاکر سوارکردیا جاتاتھا اوراسی کے ساتھ اتارلیاجاتاتھااس طرح ہم سفرپرروانہ ہوئے پھرجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے غزوہ سے فارغ ہوگئے تومدینہ منورہ کوواپس ہوئے واپسی میں  اب ہم مدینہ منورہ کے قریب تھے اورایک مقام پرپڑاؤتھاجہاں  سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کوچ کارات میں  اعلان فرمایا

فَقُمْتُ حِینَ آذَنُوا بِالرَّحِیلِ، فَمَشَیْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الجَیْشَ،فَلَمَّا قَضَیْتُ شَأْنِی أَقْبَلْتُ إِلَى رَحْلِی، فَلَمَسْتُ صَدْرِی، فَإِذَا عِقْدٌ لِی مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ،فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِی فَحَبَسَنِی ابْتِغَاؤُهُ، قَالَتْ: وَأَقْبَلَ  الرَّهْطُ الَّذِینَ كَانُوا یُرَحِّلُونِی، فَاحْتَمَلُوا هَوْدَجِی فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِیرِی الَّذِی كُنْتُ أَرْكَبُ عَلَیْهِ،  وَهُمْ یَحْسِبُونَ أَنِّی فِیهِ،وَكَانَ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ یَهْبُلْنَ، وَلَمْ یَغْشَهُنَّ اللحْمُ، إِنَّمَا یَأْكُلْنَ العُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمْ یَسْتَنْكِرِ القَوْمُ خِفَّةَ الهَوْدَجِ حِینَ رَفَعُوهُ وَحَمَلُوهُ وَكُنْتُ جَارِیَةً حَدِیثَةَ السِّنِّ،فَبَعَثُوا الجَمَلَ فَسَارُوا  وَوَجَدْتُ عِقْدِی بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الجَیْشُ

جب لشکرکے کوچ کا اعلان ہوچکاتومیں  کھڑی ہوئی اورتھوڑی دورچل کرلشکرکے حدودسے آگے نکل گئی، پھرقضائے حاجت سے فارغ ہوکرجب میں  اپنے کجاوے کے پاس آگئی پہنچی تو وہاں  پہنچ کر جومیں  نے اپناسینہ ٹٹولاتو میرا ہار جوسفیدوسیاہ خشبودارخرمہروں  کاتھاجوظفار(یمن کے ایک شہر)سے آتے ہیں  وہ میرے گلے میں  نہیں  ہے،میں  پھرواپس ہوئی اوراپناہار ڈھونڈنے میں  لگ گئی،اس تلاش میں  مجھے دیرہوگئی، فرمایاکہ جولوگ مجھے سوارکیاکرتے تھے وہ آئے اورمیرے ہودج کواٹھاکرانہوں  نے میرے اونٹ پررکھ دیاجس پرمیں  سوارہواکرتی تھی اورانہوں  نے سمجھاکہ میں  ہودج کے اندرہی موجودہوں ،ان دنوں عام طورپرعورتیں  بہت ہلکی پھلکی ہوتی تھیں  ،ان کے جسم پرزیادہ گوشت نہیں  ہوتاتھاکیونکہ انہیں  بہت معمولی خوراک ملاکرتی تھی،اس لئے ہودج کے اٹھا نے والوں  نے جب ہودج اٹھایاتوہودج کے ہلکے پن میں  انہیں  کوئی فرق محسوس نہیں  ہوااوراس وقت میں  ایک نوعمرلڑکی تھی(اس وقت عائشہ  رضی اللہ عنہا  کی عمر پندرہ برس سے کم تھی) الغرض اونٹ کواٹھاکروہ بھی روانہ ہو گئےجب لشکرگزرگیاتومجھے بھی اپنا ہار مل گیا

فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَیْسَ بِهَا مِنْهُمْ دَاعٍ وَلاَ مُجِیبٌ،فَتَیَمَّمْتُ مَنْزِلِی الَّذِی كُنْتُ بِهِ ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَیَفْقِدُونِی فَیَرْجِعُونَ إِلَیَّ، فَبَیْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِی مَنْزِلِی، غَلَبَتْنِی عَیْنِی فَنِمْتُ،وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ المُعَطَّلِ السُّلَمِیُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِیُّ مِنْ وَرَاءِ الجَیْشِ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِی، فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَعَرَفَنِی حِینَ رَآنِی، وَكَانَ رَآنِی قَبْلَ الحِجَابِ ، فَاسْتَیْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِینَ عَرَفَنِی ، فَخَمَّرْتُ وَجْهِی بِجِلْبَابِی،وَوَاللهِ مَا تَكَلَّمْنَا بِكَلِمَةٍ، وَلاَ سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَیْرَ اسْتِرْجَاعِهِ ،وَهَوَى حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، فَوَطِئَ عَلَى یَدِهَا، فَقُمْتُ إِلَیْهَا فَرَكِبْتُهَا،

پھرجب میں  واپس اپنے مقام پر آئی تووہاں  خا لی میدان اوربالکل سناٹاتھا،نہ کوئی پکارنے والااورنہ کوئی جواب دینے والا، اس لئے میں  وہاں  آئی جہاں  میرااصل قیام تھامجھے یقین تھاکہ جلدہی میرے نہ ہونے کاانہیں  علم ہوجائے گااورمجھے لینے کے لئے واپس لوٹ آئیں  گے،رات کی تھکن اسوقت کی کوفت اورجاگنے نے مجھے پریشان کردیاتھاجس کی وجہ سے کچھ یوں  ہی سی اونگھ آگئی،صفوان بن معطل سلمی ذکوانی  رضی اللہ عنہ  جو لشکرکے پیچھے مقررکیے گئے تھے (تاکہ لشکرکی کوئی گری پڑی چیزاٹھالیں )انہوں  نے ایک سوئے ہوئے انسان کاسایہ دیکھااورجب (قریب آکر)مجھے دیکھاتوپہچان گئے کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے وہ مجھےدیکھ چکے تھے، جب وہ پہچان گئےتواناللہ واناالیہ راجعون پڑھنے لگے، ان کی آوازسے میں  جاگ اٹھی اورفوراًچادرسے اپناچہرہ چھپالیا،اللہ کی قسم !میں  نے ان سے ایک لفظ بھی نہیں  کہااورنہ سوائےاناللہ واناالیہ راجعون کے میں  نے ان کی زبان سے کوئی لفظ سناوہ سواری سے اترگئے اوراسے میرے قریب بٹھایااوراس کے اگلے پیرپراپناپاؤں  رکھاکہ وہ اٹھ نہ سکے(اورام المومنین عائشہ  رضی اللہ عنہا  اس پر سوارہوسکیں )میں  اٹھی اوراس پر سوار ہوگئی،

فَقَالَتْ لَهَا زَیْنَبُ: یَا عَائِشَةُ، مَا قُلْتِ حِینَ رَكَبْتِیهَا؟ قَالَتْ: قُلْتُ: حَسْبِیَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِیلُ   قَالَتْ: قُلْتِ كَلِمَةَ الْمُؤْمِنِینَ

جب سب معاملہ صاف ہوگیاتوام المومنین زینب  رضی اللہ عنہا نے عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  سے پوچھایہ توبتاؤجب تم اونٹ پرسوارہوئی تھیں  توتم نے کیاکلمات کہے تھے عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  نے جواب دیا’’ہمارے لیے اللہ کافی ہے اوروہ بہترین کارسازہے۔‘‘اس پرزینب  رضی اللہ عنہا بول اٹھیں  کہ تم نے مومنوں  کاکلمہ کہاتھا۔[67]

فَانْطَلَقَ یَقُودُ بِی الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَیْنَا الجَیْشَ مُوغِرِینَ فِی نَحْرِ الظَّهِیرَةِ وَهُمْ نُزُولٌ ،قَالَتْ: فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ

اب انہوں  نے اونٹ کی نکیل تھامی اورلشکرکی تلاش میں  روانہ ہوئےجب لشکرکے قریب پہنچے توٹھیک دوپہرکاوقت تھااورلشکرنے پڑاؤکیاہواتھا، فرماتی ہیں  کہ پھرجسے ہلاک ہوناتھاوہ ہلاک ہوا۔

غزوہ بدرسے غزوہ خندق تک کے تمام عرصہ میں  ہرطرف مشرکین اوریہودی شکست پرشکست کھارہے تھے اوراب وہ سوچنے پرمجبورہوگئے کہ مسلمانوں  کی طاقت کومحض ہتھیاروں  اورلشکروں  کے بل پرشکست دیناناممکن ہے،چنانچہ ایک بڑی اورفیصلہ کن جنگ کے لئےیہودیوں  نے اپنی چالبازیوں  اوروعدوں سے تمام عرب قبائل کوجمع کیا اوردس ہزارکالشکرلے کرمدینہ منورہ پرچڑھ دوڑے مگرایک ماہ تک ہرطرح کی کوشش کرنے کے بعدناکام ہوکربھاگ کھڑے ہوئے،یہودیوں  کی مسلمانوں  کوختم کرنے کی یہ بہت بڑی کوشش تھی جوبری طرح ناکام ہوگئی اوراسی کودیکھ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا

لَنْ تَغْزُوَكُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا، وَلَكِنَّكُمْ تَغْزُونَهُمْ

اس سال کے بعدقریش تم پرچڑھائی نہیں  کرسکیں  گے بلکہ تم لوگ ان پرچڑھائی کروگے۔[68]

یعنی واضح اعلان فرمادیاکہ دشمنوں  کی مسلمانوں  پر چڑھائی کرنے کی قوت وطاقت ختم ہوچکی ہے اب ہم اپنے بچاؤکی جنگ نہیں  کریں  گے بلکہ دشمن پرچڑھائی کریں  گے،ان تمام واقعات پرنظردوڑائیں  توکہیں  بھی مسلمانوں  کی تعداددشمنوں  سےزیادہ نہیں  تھی ،آبادی کے لحاظ سے بھی مسلمان کفارسے بہت کم تھے، مسلمانوں  کواسلحہ کی برتری بھی حاصل نہ تھی بلکہ ہرمقام پر کفارکاپلہ ہی بھاری تھا،مسلمان معاشی طوراوراثرورسوخ کے اعتبارسےبھی بہت کمزورتھے،دشمنوں  کے پاس ہرطرح کے معاشی وسائل وافر طور پر موجودتھے جبکہ مسلمان فاقوں  کی وجہ سےپیٹ پرپتھرباندھنے پرمجبورتھے،اس کے علاوہ قریش کی پشت پر عرب کے تمام مشرک اوراہل کتاب قبائل کھڑے تھےجبکہ مسلمانوں  کاایک اللہ وحدہ لاشریک پرایمان لانے کی وجہ سے کوئی ہمدردنہیں  تھا،مگران تمام حالات میں  مسلمانوں  کوایک اخلاقی برتری حاصل تھی جسے دشمن خوب اچھی طرح محسوس کرتے تھے اوروہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تربیت یافتہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی بے داغ سیرتیں ،مسلمانوں  کاآپس میں  اتحادو یگانیت،ایثاروقربانی اورہرطرح کے حالات میں نظم وضبط،مقصدکوحاصل کرنے کے لئےصبروبرداشت، اپنے نظریہ پرکامل یقین اوربیدارمغزقیادت جس کی وجہ سے دشمن امن وجنگ ہرمقام پرشکست پرشکست کھارہاتھا ،جب دشمنوں  نے یہ دیکھاکہ میدان جنگ میں  مسلمانوں  کوشکست دیناممکن نہیں  تواندرسے منافقین اورباہرسے مشرکین اوریہودکاگٹھ جوڑہوگیاکہ مسلمانوں  پرداخلی فتنہ انگیزیوں  کاسلسلہ شروع کیاجائے،دشمنوں  کے اس گٹھ جوڑکاپہلاواقعہ اس وقت پیش آیاجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اللہ کے حکم سے اپنے متبنیٰ زیدبن حارثہ کی مطلقہ بیوی ام المومنین زینب  رضی اللہ عنہا بنت جحش سے شادی کرلی ،منافقین توموقعہ کے انتظارتھے انہوں  نے اس کوبنیادبناکرپروپیگنڈاکاایک طوفان عظیم کھڑاکردیا اور باہرسے مشرکین اوریہودنے ان کی آوازمیں  آوازملائی ،منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے اس شدت سے پروپیگنڈاکیاکہ کئی مسلمان اس سے متاثرہوئے مگراللہ کا کلام سن کرانہیں  حقیقت حال کاعلم ہوااوروہ مطمئن ہوگئے،اب جب ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  ایک لشکری کے ساتھ اکیلے لشکرگاہ میں  پہنچیں  تو منافقین کو دوسرا موقعہ ملااوررئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول نے کہااللہ کی قسم یہ بچ کرنہیں  آئی ہے اب اپنی آنکھوں  سے دیکھ لوتمہارے نبی کی چہیتی بیوی نے رات ایک اورشخص کے ساتھ گزاری ہے اور اب وہ اسے علانیہ لشکرمیں  لے کرآگیاہے اس طرح اس نے اللہ کی پکڑسے بے خوف ہوکرحرم رسول کی عزت پرہاتھ ڈالا ۔

وَكَانَ الَّذِی تَوَلَّى كِبْرَ الإِفْكِ عَبْدُ اللهِ بْنُ  أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ،قَالَ عُرْوَةُ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ یُشَاعُ وَیُتَحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ، فَیُقِرُّهُ وَیَسْتَمِعُهُ وَیَسْتَوْشِیهِ،وَقَالَ عُرْوَةُ أَیْضًا: لَمْ یُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الإِفْكِ أَیْضًا إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ، وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ،فِی نَاسٍ آخَرِینَ لاَ عِلْمَ لِی بِهِمْ، غَیْرَ أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ، كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى، وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ یُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ،قَالَ عُرْوَةُ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ، أَنْ یُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ

اصل میں  تہمت کابیڑارئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول نے اٹھارکھاتھا۔ عروہ نے بیان کیاکہ مجھے معلوم ہواہے کہ وہ اس تہمت کاچرچاکرتااوراس کی مجلسوں  میں  اس کاتذکرہ ہوا کرتا تھا ، وہ اس کی تصدیق کرتا،خوب غوراورتوجہ سے سنتااورپھیلانے کے لئے خوب کھودکریدکرتا، عروہ نے پہلی سندکے حوالے سے یہ بھی کہاکہ حسان بن ثابت،مسطح بن اثاثہ اورحمنہ بنت جحش کے سواتہمت لگانے میں  شریک کسی کابھی نام نہیں  لیاکہ مجھے اس کاعلم ہوتااگرچہ اس میں  شریک ہونے والے بہت سے تھے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایاکہ جن لوگوں  نے تہمت لگائی وہ بہت سے ہیں  لیکن اس معاملہ میں  سب سے بڑھ چڑھ کرحصہ لینے والاعبداللہ بن ابی ابن سلول تھا،عروہ نے بیان کیاکہ عائشہ  رضی اللہ عنہا اس پربڑی خفگی کااظہارکرتی تھیں ،اگران کے سامنے حسان بن ثابت  رضی اللہ عنہ کوبرابھلاکہاجاتاتو وَتَقُولُ: إِنَّهُ الَّذِی قَالَ:آپ فرماتیں  کہ یہ شعرحسان  رضی اللہ عنہ نے ہی کہے ہیں  ۔

فَإِنَّ أَبِی وَوَالِدَهُ وَعِرْضِی، لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ

میرے والداورمیرے والدکے والداورمیری عزت،محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی عزت کی حفاظت کے لئے تمہارے سامنے ڈھال بنی رہیں  گی

ایک موقعہ پرحسان بن ثابت نے ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا کے بارے میں  یہ شعرکہے تھے

حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیبَةٍ، وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الغَوَافِلِ

وہ سنجیدہ اورپاک دامن ہیں  جس پرکبھی تہمت نہیں  لگائی گئی،وہ ہرصبح بھوکی ہوکرنادان بہنوں  کاگوشت نہیں  کھاتی۔[69]

بہرحال یہ افوہ فوراًجنگ کی آگ کی طرح مدینہ منورہ کی چھوٹی سی آبادی میں  پھیل گئی پھرکچھ لوگ بغیرتحقیق اس بات کوپھیلانے لگے اورکچھ لوگوں  نے اس افواہ کی تردیدکی

قَالَتْ لِأَبِی أَیُّوبَ: أَلَا تَسْمَعُ  مَا یَقُولُ النَّاسُ فِی عَائِشَةَ؟ قَالَ: بَلَى، وَذَلِكَ الْكَذِبُ،أَفَكُنْتِ یَا أُمَّ أَیُّوبَ فَاعِلَةً ذَلِكَ ؟قَالَتْ: لَا وَاللهِ نَعُوذُ بِاللهِ! قَالَ: فَعَائِشَةُ وَاللهِ خَیْرٌ مِنْكِ

ابوایوب خالدبن زیدانصاری  رضی اللہ عنہ  سے ان کی اہلیہ ام ایوب  رضی اللہ عنہا نے کہاام المومنین عائشہ  رضی اللہ عنہا  کے بارے میں  جوکچھ کہا جا رہا ہے وہ آپ نے سنا؟انہوں  نے کہاہاں  میں  نے سناہے اور یقیناًیہ جھوٹ کاایک پلندہ ہے،اے ام ایوب  رضی اللہ عنہا !تم ہی بتلاؤکیاتم کبھی ایسافحش فعل کرسکتی ہو؟انہوں  نے کہا میں  توایسانہیں  کرسکتی،ابوایوب رضی اللہ عنہ  نے فرمایاپس ام المومنین عائشہ  رضی اللہ عنہا  توتم سے کہیں  افضل اوربہترہیں  وہ یہ کیسے کرسکتی ہیں ۔[70]

قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَدِمْنَا المَدِینَةَ، فَاشْتَكَیْتُ حِینَ قَدِمْتُ شَهْرًا وَالنَّاسُ یُفِیضُونَ فِی قَوْلِ أَصْحَابِ الإِفْكِ،  لاَ أَشْعُرُ بِشَیْءٍ مِنْ ذَلِكَ ، وَهُوَ یَرِیبُنِی فِی وَجَعِی أَنِّی لاَ أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِی كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِینَ أَشْتَكِی،إِنَّمَا یَدْخُلُ عَلَیَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَیُسَلِّمُ، ثُمَّ یَقُولُ:كَیْفَ تِیكُمْ ، ثُمَّ یَنْصَرِفُ،فَذَلِكَ یَرِیبُنِی وَلاَ أَشْعُرُ بِالشَّرِّ،حَتَّى خَرَجْتُ حِینَ نَقَهْتُ، فَخَرَجْتُ مَعَ أُمِّ مِسْطَحٍ قِبَلَ المَنَاصِعِ، وَكَانَ مُتَبَرَّزَنَا، وَكُنَّا لاَ نَخْرُجُ إِلَّا لَیْلًا إِلَى لَیْلٍ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الكُنُفَ قَرِیبًا مِنْ بُیُوتِنَاقَالَتْ: وَأَمْرُنَا  أَمْرُ العَرَبِ الأُوَلِ فِی البَرِّیَّةِ قِبَلَ الغَائِطِ، وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُیُوتِنَا

ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں  کہ مدینہ منورہ آتے ہی میری طبیعت بگڑگئی اورپورے ایک مہینے تک میں  بیماررہی،اس عرصہ میں  لوگوں  میں  تہمت لگانے والوں  کی افواہوں  کابڑاچرچارہا ،اس بیماری کی مدت میں  میں  نے رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے اس لطف وکرم میں  البتہ نمایاں  فرق دیکھاجوعموماًمیں  اپنی بیماری کے زمانہ میں  پایاکرتی تھی لیکن اس کی کوئی وجہ میری سمجھ میں  نہیں  آتی تھی ،لوگوں  کی چہ میگوئیاں  میرے کانوں  تک نہیں  پہنچی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میرے پاس تشریف لاتے سلام کرتے اوردریافت فرماتے کیسی طبیعت ہے؟ صرف اتناپوچھ کرواپس تشریف لے جاتے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس طرزعمل سے مجھے شبہ تھالیکن شر(جوپھیل چکاتھا)اس کامجھے کوئی احساس نہیں  تھا(میری بیماری پرکچھ اوپربائیس دن گزرچکے تھے اور نقاہت بہت بڑھ گئی تھی )جب کچھ افاقہ ہواتومیں  ام مسطح  رضی اللہ عنہا  کے ساتھ مناصع کی طرف گئی ،مناصع (مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر)ہمارے رفع حاجت کی جگہ تھی ہم یہاں  صرف رات کے وقت جاتے تھے ،یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب بیت الخلاہمارے گھروں  سے قریب بن گئے تھے ،ام المومنین  رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ ابھی ہم عرب کے قدیم طریقے پرعمل کرتے اورمیدان میں  رفع حاجت کے لیے جایا کرتے تھے اورہمیں  اس سےگھن آتی تھی کہ بیت الخلاہمارے گھروں  کے قریب بنائے جائیں ،

قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ، وَهِیَ ابْنَةُ أَبِی رُهْمِ بْنِ المُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ، خَالَةُ أَبِی بَكْرٍ الصِّدِّیقِ، وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ المُطَّلِبِ،فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ بَیْتِی حِینَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِی مِرْطِهَا فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ،فَقُلْتُ لَهَا: بِئْسَ مَا قُلْتِ، أَتَسُبِّینَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا؟ فَقَالَتْ: أَیْ هَنْتَاهْ وَلَمْ تَسْمَعِی مَا قَالَ؟قَالَتْ: وَقُلْتُ: مَا قَالَ؟ فَأَخْبَرَتْنِی بِقَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ،قَالَتْ: فَازْدَدْتُ مَرَضًا عَلَى مَرَضِی

فرمایاالغرض میں  اورام مسطع رضی اللہ عنہا (رفع حاجت کے لئے)گئے ام مسطح رضی اللہ عنہا  ابورہم بن مطلب بن عبدمناف کی بیٹی اوران کی والدہ صخر بن عامرکی بیٹی اورابوبکر  رضی اللہ عنہ کی خالہ ہوتی ہیں ،انہی کے بیٹے مسطح بن اثاثہ بن عبادبن مطلب ہیں ، پھرمیں  اورام مسطح  رضی اللہ عنہا  حاجت سے فارغ ہوکراپنے گھرکی طرف واپس آرہی تھی کہ ام مسطح  رضی اللہ عنہا اپنی چادرمیں  الجھ گئیں  اور عورتوں  کی عادت کے مطابق ان کی زبان سے کوسنانکل گیا اور کہامسطع ذلیل ہو،میں  نے کہاآپ نے بری بات زبان سے نکالی ہے ایک ایسے شخص کوآپ براکہہ رہی ہیں  جو غزوہ بدرمیں  شریک ہوچکاہے؟ انہوں  نے اس پرکہاکیوں  مسطح کی باتیں  تم نے نہیں  سنیں ؟ام المومنین  رضی اللہ عنہا نے فرمایامیں  نے پوچھاانہوں  نے کیاکہاہے؟بیان کیاپھرانہوں  نے تہمت لگانے والوں  کی باتیں  سنائیں ، فرماتی ہیں  ان کی باتیں  سن کرمیرے توپاؤں  تلے سے زمین نکل گئی اور میری بیماری بڑھ گئی اورمجھ پرموت کا سارا سماں  طاری ہوگیا،

فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَیْتِی دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:كَیْفَ تِیكُمْ؟فَقُلْتُ لَهُ: أَتَأْذَنُ لِی أَنْ آتِیَ أَبَوَیَّ؟ قَالَتْ: وَأُرِیدُ أَنْ أَسْتَیْقِنَ الخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا قَالَتْ: فَأَذِنَ لِی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِأُمِّی: یَا أُمَّتَاهُ، مَاذَا یَتَحَدَّثُ النَّاسُ؟ قَالَتْ: یَا بُنَیَّةُ، هَوِّنِی عَلَیْكِ، فَوَاللهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِیئَةً عِنْدَ رَجُلٍ یُحِبُّهَا، لَهَا ضَرَائِرُ، إِلَّا كَثَّرْنَ عَلَیْهَا،قَالَتْ: فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللهِ، أَوَلَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا؟

جب میں  اپنے گھرواپس آئی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میرے پاس تشریف لائے اورسلام کے بعددریافت کیاکیسی طبیعت ہے؟میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے عرض کیاکہ کیاآپ مجھے اپنے والدین کے گھرجانے کی اجازت مرحمت فرمائیں  گے؟ام المومنین  رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ میراارادہ یہ تھاکہ ان سے اس خبرکی تصدیق کروں  گی،فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے اجازت مرحمت فرمادی،(گھرجاکر)میں  نے اپنی والدہ ام رومان  رضی اللہ عنہا  سے دریافت کیاکہ کیا واقعی میری نسبت کچھ ایسی بات اڑرہی ہے ؟والدہ نے فرمایابیٹی !فکرنہ کراللہ کی قسم ! ایساشایدہی کہیں  ہواہوکہ ایک خوش روعورت کسی ایسے شوہرکے ساتھ ہوجواس سے محبت کرتاہواوراس کی سوکنیں  بھی ہوں  اوراس پرتہمتیں  نہ لگائی گئی ہوں ،اس کی عیب جوئی نہ کی گئی ہو؟ام المومنین  رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ اس پرمیں  نے کہاسبحان اللہ(میری سوکنوں  سے اس کا کیا تعلق) اس کاتوعام لوگوں  میں  چرچاہے،

قَالَتْ: فَبَكَیْتُ تِلْكَ اللیْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لاَ یَرْقَأُ لِی دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْكِی،قَالَتْ: وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَیْدٍ حِینَ اسْتَلْبَثَ الوَحْیُ یَسْأَلُهُمَا وَیَسْتَشِیرُهُمَا فِی فِرَاقِ أَهْلِهِ، قَالَتْ: فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِی یَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ، وَبِالَّذِی یَعْلَمُ لَهُمْ فِی نَفْسِهِ،فَقَالَ أُسَامَةُ: أَهْلَكَ، وَلاَ نَعْلَمُ إِلَّا خَیْرًا، وَأَمَّا عَلِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ یُضَیِّقِ اللهُ عَلَیْكَ، وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِیرٌ، وَسَلِ الجَارِیَةَ تَصْدُقْكَ

فرمایاکہ ادھرپھرمیں  نے جوروناشروع کیاتورات بھرروتی رہی اسی طرح صبح ہوگئی اورمیرے آنسوکسی طرح نہ تھمتے تھے اورنہ نیندہی آتی تھی،اس واقعہ سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہت پریشان تھے (تحقیق حال کے لئے)آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے عائشہ  رضی اللہ عنہا  کے چال چلن کے متعلق تحقیق شروع کی،فرمایا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا علی  رضی اللہ عنہ بن ابی طالب اوراسامہ بن زید  رضی اللہ عنہ کواپنی بیوی کوعلیحدہ کرنے کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے بلایاکیونکہ اس سلسلہ میں  اب تک آپ پروحی نازل نہیں  ہوئی تھی،فرمایااسامہ  رضی اللہ عنہ نے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کواسی کے مطابق مشورہ دیاجووہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیوی (مرادخوداپنی ذات سے ہے)کی پاکیزگی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ان سے محبت کے متعلق جانتے تھے چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ  نے کہاکہ آپ کی بیوی میں  مجھے خیروبھلائی کے سواکچھ معلوم نہیں  ہے،لیکن سیدنا علی  رضی اللہ عنہ نے( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی پریشانی کورفع کرنے کے لئے) کہااے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں  رکھی ہے اوران کے علاوہ اورعورتیں  بھی ہیں  آپ انہیں  طلاق دے کردوسرانکاح کرلیں  ہاں مزیدتحقیق گھرکی لونڈی( بریرہ رضی اللہ عنہا )سے کرلیں ،صحیح واقعات سامنے آ جائیں  گے

قَالَتْ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بَرِیرَةَ، فَقَالَ:أَیْ بَرِیرَةُ، هَلْ رَأَیْتِ مِنْ شَیْءٍ یَرِیبُكِ؟ قَالَتْ لَهُ بَرِیرَةُ: وَالَّذِی بَعَثَكَ بِالحَقِّ، مَا رَأَیْتُ عَلَیْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ غَیْرَ أَنَّهَا جَارِیَةٌ حَدِیثَةُ السِّنِّ، تَنَامُ عَنْ عَجِینِ أَهْلِهَا، فَتَأْتِی الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ ،فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: اصْدُقِی رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ وَاللهِ مَا عَلِمْتُ عَلَیْهَا إِلَّا مَا یَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ

فرمایاپھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بریرہ  رضی اللہ عنہا  کوبلایااوران سے دریافت فرمایاعائشہ  رضی اللہ عنہا  کی تم نے کبھی کوئی بات اس قسم کی دیکھی ہے جس سے کوئی شک وشبہ ہو سکے ؟بریرہ رضی اللہ عنہا  نے عرض کیا اللہ کی قسم جس نے آپ کوحق کے ساتھ مبعوث فرمایاہے میں  نے ان کے اندرایسی کوئی بات نہیں  دیکھی جوبری ہو ،اتنی بات ضرورہے کہ وہ ایک نو عمرلڑکی ہیں  آٹا گوند کر سوجاتی ہیں  اوربکری آکر اسے کھا جاتی ہے یعنی وہ تواس قدرغافل اوربے خبرہے کہ اسے آٹے اوردال کی بھی خبرنہیں  وہ دنیاکی ان چالاکیوں  کوکیسے جان سکتی ہے،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعض اصحاب نے اسے جھڑکااورکہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سچ سچ بول دےانہوں  نے کہاسبحان اللہ!اللہ کی قسم میں  توعائشہ  رضی اللہ عنہا  کو ایسا جانتی ہوں  جیسے سنارخالص سرخ سونے کی ڈلی کوجانتاہے (یعنی بے عیب)

قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِی، فَقَالَ لِزَیْنَبَ:مَاذَا عَلِمْتِ، أَوْ رَأَیْتِ؟فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللهِ أَحْمِی سَمْعِی وَبَصَرِی، وَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَیْرًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَهِیَ الَّتِی كَانَتْ تُسَامِینِی مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللهُ بِالوَرَعِ،قَالَتْ: وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا، فَهَلَكَتْ، فِیمَنْ هَلَكَ،ثُمّ سَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أُمّ أَیْمَنَ فَقَالَتْ: حَاشَى سَمْعِی وَبَصَرِی أَنْ أَكُونَ عَلِمْت أَوْ ظَنَنْت بِهَا قَطّ إلّا خَیْرًا، وَمَا كَانَ یَدْخُلُ بَیْتًا مِنْ بُیُوتِی إلّا مَعِی، وَیَقُولُونَ عَلَیْهِ غَیْرَ الْحَقّ

ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا نے فرمایامیرے معاملہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ام المومنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے بھی مشورہ کیاتھاآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے پوچھاکہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  کے متعلق تمہاری کیامعلومات ہیں  کیاتم نے اس میں  کوئی شک وشبہ والی بات دیکھی ہے؟انہوں  نے عرض کیااے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم !میں  اپنی آنکھوں  اورکانوں  کومحفوظ رکھتی ہوں  (کہ ان کی طرف خلاف واقعہ نسبت کروں )اللہ کی قسم !میں  ان کے بارے میں  خیرکے سوااورکچھ نہیں  جانتی،فرماتی ہیں  زینب  رضی اللہ عنہا ہی تمام ازواج مطہرات میں  میرے مقابل کی تھیں  لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے تقویٰ اورپاکبازی کی وجہ سے انہیں  محفوظ رکھا، فرمایاالبتہ ان کی بہن حمنہ رضی اللہ عنہا نے غلط راستہ  اختیارکیااورہلاک ہونے والوں  کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوئی تھیں ، پھررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال ام ایمن  رضی اللہ عنہا  سے بھی کیا انہوں  نے کہامیں  اپنی آنکھوں  اورکانوں  کومحفوظ رکھتی ہوں  (کہ ان کی طرف خلاف واقعہ نسبت کروں )میں  ان کے بارے میں  خیرکے سوااورکچھ نہیں  جانتی،آپ کے گھروں  میں  میرے علاوہ اورکوئی نہیں  جاتا اور لوگ ان کے بارے میں  غلط بات کہہ رہے ہیں ۔[71]

ایک طرف عبداللہ بن ابی بن سلول کی ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  پر تہمت کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  انتہائی پریشان ہیں ،ایسے ہی لوگوں  کے بارے میں  اللہ تعالیٰ نے فرمایا

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا۝۵۷ [72]

ترجمہ:جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں  ان پر دنیا اور آخرت میں  اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رُسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔

اورہرطرف سےمعاملہ کی تحقیق کررہے ہیں  اوردوسری طرف صفوان  رضی اللہ عنہ  سخت پریشان ہیں ،جب وہ اس ناخوشگواربہتان کوسنتے ہیں  توبے ساختہ ان کی زبان سے نکلتا

وَاللهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَى قَطُّ

میرے رب کی قسم !میں  نے آج تک کسی عورت کاکپڑانہیں  کھولا۔[73]

وَاَللهِ، مَا قِیلَ لَنَا هَذَا فِی الْجَاهِلِیّةِ فَكَیْفَ بعد انٔ أَعَزَّنَا بِالإِسْلامِ

سیدناابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ  انتہائی غمناک ہیں  اور رہ رہ کرفرماتےواللہ! میرے گھرانے پرایساالزام توکفرمیں  بھی کبھی نہیں  لگاپھر اسلام لانے کے بعدیہ کیسے ہوسکتاہےجب اللہ نے ہمیں  عزت وشرف بخشا۔[74]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کاخطبہ اوراظہارحقیقت:

قَالَتْ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مِنْ یَوْمِهِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَیٍّ، وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ، فَقَالَ:یَا مَعْشَرَ المُسْلِمِینَ، مَنْ یَعْذِرُنِی مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِی عَنْهُ أَذَاهُ فِی أَهْلِی، وَاللهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِی إِلَّا خَیْرًا  وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَیْهِ إِلَّا خَیْرًا وَمَا یَدْخُلُ عَلَى أَهْلِی إِلَّا مَعِی،قَالَتْ: فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ أَخُو بَنِی عَبْدِ الأَشْهَلِ، فَقَالَ: أَنَا یَا رَسُولَ اللهِ أَعْذِرُكَ، فَإِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ

جب ہرطرف سے تحقیق کرنے کے بعد اس واقعہ کاکوئی ثبوت نہ ملاتوفرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مسجدتشریف لے گئے اورمنبرپرکھڑے ہوکر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کوخطاب فرمایااوررئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کامعاملہ رکھاآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااے گروہ مسلمین !اس شخص کے بارے میں  میری کون مددکرے گاجس کی اذیتیں  اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ گئی ہیں  ، اللہ کی قسم! میں  نے اپنی بیوی میں خیرکے سوا اور کوئی چیزنہیں  دیکھی،اورنام بھی ان لوگوں  نے ایک ایسے شخص(صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جوام المومنین کواپنے اونٹ پرلائے تھے) کالیاہے جس کے بارے میں  بھی میں  خیرکے سوا اورکچھ نہیں  جانتا،وہ جب بھی میرے گھرآئے تو میرے ساتھ ہی آئے،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان سن کر بنو عبداشہل کے بھائی سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ  انصاری بے باکانہ کھڑے ہوئے اورعرض کیا اے اللہ کےرسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے میں  آپ کاانتقام لینے کے لئے تیار ہوں  اگر وہ قبیلہ اوس سے ہے تو میں  اس کی گردن ماردوں  گااوراگروہ قبیلہ خزرج میں  سے ہے توآپ ہمیں  حکم دیں  ہم اسکی بجاآوری کے لئے مستعد ہیں ،

قَالَتْ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الخَزْرَجِ، وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ، وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَهُوَ سَیِّدُ الخَزْرَجِ، قَالَتْ: وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا، وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الحَمِیَّةُ، فَقَالَ لِسَعْدٍ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللهِ لاَ تَقْتُلُهُ، وَلاَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، وَلَوْ كَانَ مِنْ رَهْطِكَ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ یُقْتَلَ ،فَقَامَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدٍ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللهِ لَنَقْتُلَنَّهُ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ المُنَافِقِینَ، قَالَتْ: فَثَارَ الحَیَّانِ الأَوْسُ، وَالخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ یَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى المِنْبَرِ، قَالَتْ: فَلَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُخَفِّضُهُمْ، حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ

فرمایایہ سن کرقبیلہ خزرج کا ایک آدمی کھڑا ہوا ،حسان کی والدہ ان کی چچازادبہن تھیں  یعنی سعدبن عبادہ  رضی اللہ عنہ  جوقبیلہ خزرج کے سردارتھےاوراس سے پہلے بڑے صالح اور مخلصین میں  سے تھے لیکن آج قبیلہ کی حمیت ان پرغالب آگئی،انہوں  نے سعد رضی اللہ عنہ کومخاطب کرکے کہااللہ کی قسم !تم جھوٹے ہوتم اسے قتل نہیں  کرسکتے اورتمہارے اندراتنی طاقت ہے اوروہ تمہارے قبیلہ کاہوتاتوتم اس کے قتل کانام نہ لیتے،اس کے بعد اسیدبن حضیر رضی اللہ عنہ  جوسعدبن معاذکے چچیرے بھائی کھڑے ہوئے اورسعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ کومخاطب کرکے کہااللہ کی قسم !تم جھوٹے ہوہم اسے ضرورقتل کریں  گے،اب اس میں  شبہ نہیں  رہاکہ تم بھی منافق ہواورمنافقوں  کی طرف سے مدافعت کرتے ہو( سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے بعدفوت ہوگئے تھے اوریہ واقعہ غزوہ بنی مصطلق ہے جوچھ ہجری میں  ہوااس پرتمام اہل سیرکااجماع ہے،قاضی عیاض  رحمہ اللہ نے کہاسعدبن معاذ رضی اللہ عنہ کاذکراس روایت میں  وہم ہے اورصحیح یہ ہے کہ دونوں  باراسیدبن حضیر رضی اللہ عنہ نے گفتگوکی)اس پراوس وخزرج کے دونوں  قبیلے بھڑک اٹھے اورقریب تھاکہ تلوارچل پڑے اوراس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  منبرپرتشریف فرماتے تھے فرمایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے طرفین کوٹھنڈاکیاہرایک کودوسرے سے الگ کیااور سمجھا بجھا کراس اٹھنے والے فتنے کوبٹھادیااورکوئی عملی قدم نہ اٹھایا۔

ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  کاغم:

قَالَتْ: فَبَكَیْتُ یَوْمِی ذَلِكَ كُلَّهُ لاَ یَرْقَأُ لِی دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، قَالَتْ: وَأَصْبَحَ أَبَوَایَ عِنْدِی، وَقَدْ بَكَیْتُ لَیْلَتَیْنِ وَیَوْمًا، لاَ یَرْقَأُ لِی دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، حَتَّى إِنِّی لَأَظُنُّ  أَنَّ البُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِی، فَبَیْنَا أَبَوَایَ جَالِسَانِ عِنْدِی وَأَنَا أَبْكِی، فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَیَّ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ  فَأَذِنْتُ لَهَا  فَجَلَسَتْ تَبْكِی مَعِی،قَالَتْ: فَبَیْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَیْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ قَالَتْ: وَلَمْ یَجْلِسْ عِنْدِی مُنْذُ قِیلَ مَا قِیلَ قَبْلَهَا

فرماتی ہیں میں  اس روزپورادن روتی رہی ، نہ میرے آنسوتھمتے تھے اورنہ آنکھ لگتی تھی،فرمایاصبح کے وقت میرے والدین میرے پاس آئے ، دوراتیں  اورایک دن میرا روتے ہوئے گزرگیاتھااس پورے عرصہ میں  نہ میرے آنسورکے اورنہ نیند آئی ایسا معلوم ہوتاتھاکہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا،ابھی میرے والدین میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے اورمیں  روئے جارہی تھی کہ قبیلہ انصارکی ایک خاتون نے اندرآنے کی اجازت چاہی،میں  نے انہیں  اجازت دے دی،اوروہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کررونے لگیں ، فرماتی ہیں ہم ابھی اسی حالت میں  تھے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے آپ نے سلام کیااوربیٹھ گئے، فرمایاجب سے مجھ پرتہمت لگائی گئی تھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  میرے پاس نہیں  بیٹھے تھے

 وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لاَ یُوحَى إِلَیْهِ فِی شَأْنِی بِشَیْءٍ، قَالَتْ: فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حِینَ جَلَسَ، ثُمَّ قَالَ:أَمَّا بَعْدُ، یَا عَائِشَةُ، إِنَّهُ بَلَغَنِی عَنْكِ كَذَا وَكَذَا، فَإِنْ كُنْتِ بَرِیئَةً، فَسَیُبَرِّئُكِ اللهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ، فَاسْتَغْفِرِی اللهَ وَتُوبِی إِلَیْهِ، فَإِنَّ العَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ، تَابَ اللهُ عَلَیْهِ

ایک مہینہ گزرگیاتھااورمیرے بارے میں  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کووحی کے ذریعہ کوئی اطلاع نہیں  دی گئی تھی،فرمایابیٹھنے کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا امابعد!اے عائشہ  رضی اللہ عنہا !مجھے تمہارے بارے میں  اس اس طرح کی خبرملی ہے اگرواقعی تم اس معاملہ میں  پاک وصاف ہوتواللہ تعالیٰ تمہاری پاکی خودبیان کردے گالیکن اگرتم نے کسی گناہ کا قصد کیاتھاتواللہ تعالیٰ سے بخشش ومغفرت طلب کرواوراس کے حضورتوبہ کروکیونکہ بندہ جب(اپنے گناہوں  کا)اعتراف کرلیتاہے اورپھراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  خلوص نیت سےتوبہ کرتاہے تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتاہے

فَقُلْتُ: أَلَا تَسْتَحِی مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَذْكُرَ شَیْئًا؟

میں  نے کہاہائے کیسی بے شرمی کی بات ہے؟ ایک اجنبی عورت کے سامنے میری یہ رسوائی؟۔[75]

قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِی حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً ، فَقُلْتُ لِأَبِی: أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَنِّی فِیمَا قَالَ: فَقَالَ أَبِی: وَاللهِ مَا أَدْرِی مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِأُمِّی: أَجِیبِی رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِیمَا قَالَ: قَالَتْ أُمِّی: وَاللهِ مَا أَدْرِی مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَقُلْتُ: وَأَنَا جَارِیَةٌ حَدِیثَةُ السِّنِّ: لاَ أَقْرَأُ مِنَ القُرْآنِ كَثِیرًا،إِنِّی وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُ: لَقَدْ سَمِعْتُمْ هَذَا الحَدِیثَ حَتَّى اسْتَقَرَّ فِی أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ،فَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّی بَرِیئَةٌ، لاَ تُصَدِّقُونِی، وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ، وَاللهُ یَعْلَمُ أَنِّی مِنْهُ بَرِیئَةٌ، لَتُصَدِّقُنِّی،فَوَاللهِ لاَ أَجِدُ لِی وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا یُوسُفَ حِینَ قَالَ:فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللهُ المُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ،ثُمَّ تَحَوَّلْتُ وَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِی

ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اپناکلام پورا کرچکے تومیرے آنسواس طرح خشک ہوگئے کہ ایک قطرہ بھی محسوس نہیں  ہوتا تھا،میں  نے پہلے اپنے والدین سے کہاکہ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کوآپ کے کلام کاجواب دیں  والدنے فرمایااللہ کی قسم ! میں  کچھ نہیں  جانتاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے مجھے کیا کہنا چاہیے، پھرمیں  نے اپنی والدہ سے کہاکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوکچھ فرمایا ہے وہ اس کاجواب دیں  والدہ نے بھی یہی کہااللہ کی قسم ! مجھے کچھ نہیں  معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے مجھے کیا کہناچاہیے،اس لئے میں  نے خودہی عرض کیاحالانکہ میں  بہت کم عمرلڑکی تھی اورقرآن مجیدبھی میں  نے زیادہ نہیں  پڑھاتھا،اللہ کی قسم !مجھے بھی معلوم ہواہے کہ آپ لوگوں  نے اس طرح کی افواہوں  پرکان دھرااوربات آپ لوگوں  کے دلوں  میں  اترگئی اورآپ لوگوں  نے اس کی تصدیق کی، اب اگرمیں  یہ کہوں  کہ میں  اس تہمت سے بری ہوں  توآپ لوگ میری بات کی تصدیق نہیں  کریں  گےاوراگراس گناہ کااقرارکرلوں  اوراللہ تعالیٰ خوب جانتاہے کہ میں  اس سے بری ہوں  توآپ لوگ اس کی تصدیق کرنے لگ جائیں  گے، پس اللہ کی قسم !میری اورآپ لوگوں  کی مثال یوسف  علیہ السلام جیسی ہے جب انہوں  نے کہاتھاپس صبرجمیل بہترہے اوراللہ ہی کی مدددرکارہے اس بارے میں  جوتم کہہ رہے ہوپھرمیں  نے اپنارخ دوسری طرف کرلیااوراپنے بسترپرلیٹ گئی،

وَاللهُ یَعْلَمُ أَنِّی حِینَئِذٍ بَرِیئَةٌ، وَأَنَّ اللهَ مُبَرِّئِی بِبَرَاءَتِی، وَلَكِنْ وَاللهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللهَ مُنْزِلٌ فِی شَأْنِی وَحْیًا یُتْلَى، لَشَأْنِی فِی نَفْسِی كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ یَتَكَلَّمَ اللهُ فِیَّ بِأَمْرٍوَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ یَرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی النَّوْمِ رُؤْیَا یُبَرِّئُنِی اللهُ بِهَافَوَاللهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَهُ، وَلاَ خَرَجَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ البَیْتِ، حَتَّى أُنْزِلَ عَلَیْه  فَأَخَذَهُ مَا كَانَ یَأْخُذُهُ مِنَ البُرَحَاءِ،حَتَّى إِنَّهُ لَیَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِنَ العَرَقِ مِثْلُ الجُمَانِ وَهُوَ فِی یَوْمٍ شَاتٍ مِنْ ثِقَلِ القَوْلِ الَّذِی أُنْزِلَ عَلَیْهِ

اللہ خوب جانتاتھاکہ میں  اس معاملہ میں  قطعاًبری تھی اوروہ خودمیری برات ظاہرکرے گاکیونکہ میں  واقعہ بری تھی، لیکن اللہ کی قسم !مجھے اس کاکوئی وہم وگمان بھی نہ تھاکہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ قرآن مجیدمیں  میرے معاملے کی صفائی نازل فرمائے گاکیونکہ میں  خودکواس سے بہت کمترسمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملہ میں  خودکلام فرمائے گامجھے توصرف اتنی امیدتھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کوئی خواب دیکھیں  گے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ میری برات فرمادے گا،لیکن اللہ کی قسم !ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اس مجلس سے اٹھے بھی نہیں  تھے اورنہ اورکوئی گھرکاآدمی وہاں  سے اٹھاتھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پروحی نازل ہونی شروع ہوئی اورآپ پروہ کیفیت طاری ہوئی جووحی کی شدت میں  طاری ہوتی تھی، موتیوں  کی طرح پسینے کے قطرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے چہرے سے گرنے لگے حالانکہ سردی کاموسم تھا یہ اس شدت وحی کی وجہ سے تھاجوآپ پرنازل ہورہی تھی

فو الله مَا فَرَغْتُ وَلَا بَالَیْتُ لِعِلْمِی بِبَرَاءَتِی، وَأَمَّا أبوای فو الله مَا سُرِّیَ عَنْ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسَیْ أَبَوَیَّ سَتَخْرُجَانِ فَرَقًا مِنْ أَنْ یَأْتِیَ الله بِتَحْقِیقِ مَا قَالَ النَّاسُ

عائشہ  رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں  جس وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  پروحی کانزول شروع ہوااللہ کی قسم !میں  توبالکل بے خوف تھی کیونکہ میں  جانتی تھی کہ میں  بالکل بری ہوں  اوراللہ تعالیٰ مجھ پرظلم نہیں  فرمائے گالیکن میرے ماں  باپ کا خوف سے یہ حال تھاکہ مجھ کواندیشہ ہواکہ ان کی جان نہ نکل جائے ،ان کویہ خوف تھاکہ مباداوحی اس کے موافق نہ نازل ہوجائے جیساکہ لوگ کہتے ہیں ۔[76]

سیدناابوبکر  رضی اللہ عنہ کااپنابیان ہے کہ ادھرمیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کووحی کی حالت میں  دیکھتاادھرمیں  خطرہ بڑھ جاتالیکن جب میری نگاہ اپنی بیٹی پرجوسچی تھی پڑتی اوراس کاچہرہ کھلاہوااورمطمئن پاتاتومجھے قدرے سکون ہوجاتا

قَالَتْ: فَسُرِّیَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ یَضْحَكُ ، فَكَانَتْ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ:یَا عَائِشَةُ، أَمَّا اللهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ، قَالَتْ: وَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى:إِنَّ الَّذِینَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ

فرمایاتھوڑی دیرکے بعدجب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم  تبسم فرمارہے تھے،سب سے پہلاکلمہ جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان مبارک سے نکلاوہ یہ تھاآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااے عائشہ  رضی اللہ عنہا !اللہ تعالیٰ نے تمہاری برات نازل کردی ہے،فرمایااللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا جولوگ تہمت تراشی میں  شریک ہوئے ہیں  ۔۔۔اس سلسلہ میں دس آیتیں  نازل ہوئیں ۔[77]

خط کشیدہ الفاظ صحیح مسلم میں  ہیں ۔

قَالَتْ:فَقَالَتْ أُمِّی: قَوْمِی فَقَبِّلِی رَأْسَ رَسُولِ اللهِ،فَقُلْتُ: وَاللهِ لاَ أَقُومُ إِلَیْهِ، فَإِنِّی لاَ أَحْمَدُ إِلَّا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ،قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا نَزَلَ عُذْرُهَا فَقَبَّلَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهَا فَقُلْتُ أَلَا عَذَرْتَنِی،  فَقَالَ أَیُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِی وَأَیُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِی إِذَا قُلْتُ مَا لَا أَعْلَمُ

فرمایااس پرمیری والدہ نے کہااٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ستائش کرواورآپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سرکابوسہ لو،میں  نے کہانہیں ،اللہ کی قسم !میں  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ستائش نہیں  کروں  گی بلکہ میں  اللہ عزوجل کے سوااورکسی کی حمدوثنانہیں  کروں  گی (کہ اسی نے میری برات نازل کی ہے) عائشہ  رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں  سیدناابوبکر  رضی اللہ عنہ  نے جب اپنی لخت جگرکے عصمت وعفت پراللہ تعالیٰ کی شہادت سن لی تواٹھے اوراس کی پیشانی کوبوسہ دیا، بیٹی نے کہااے میرے باپ! آپ نے مجھے پہلے کیوں  نہ معذوراوربے قصور سمجھا، سیدناابوبکر  رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایااور جواب دیاکون ساآسمان مجھ پرسایہ ڈالے اورکونسی زمین مجھ کو اٹھائے اورتھامے جبکہ میں  اپنی زبان سے وہ بات کہوں  جس کامجھ کوعلم نہ ہو۔[78]

قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إلَى النّاسِ مَسْرُورًا فَصَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَیْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمّ تَلَا عَلَیْهِمْ بِمَا نَزَلَ عَلَیْهِ فِی بَرَاءَةِ عَائِشَةَ

فرماتی ہیں پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  خوشی خوشی لوگوں  کی طرف تشریف لے گئے منبرپرچڑھے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنابیان فرمائی پھرام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  کی برات میں  جوآیات نازل ہوئی تھیں  وہ پڑھ کرسنائیں ۔[79]

[1] عیون الأثر۱۱۲؍۲

[2] ابن سعد۶۰؍۲،عیون الآثر۱۱۲؍۲،مغازی واقدی ۵۳۵؍۲

[3] ابن ہشام۵۳۸؍۲

[4] صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ وَفْدِ بَنِی حَنِیفَةَ، وَحَدِیثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ ۴۳۷۲،زادالمعاد۲۴۸؍۳،فتح الباری ۸۷؍۸،البدایة والنہایة۵۹؍۵،السیرة النبویة لابن کثیر۹۲؍۴

[5] المومن۱تا۳

[6] شرح الزرقانی علی المواھب۱۰۳؍۳

[7] تاریخ طبری ۵۹۵؍۲،الروض الانف ۲۹۱؍۶،ابن سعد۷۹؍۲،مغازی واقدی ۵۳۶؍۲

[8] ابن سعد۶۵؍۲،البدایة والنہایة۲۰۲؍۴،تاریخ طبری۶۴۰؍۲،عیون الآثر ۱۴۱؍۲، مغازی واقدی ۵۵۰؍۲

[9] عیون الآثر۱۴۱؍۲،ابن سعد۶۵؍۲،تاریخ طبری ۶۴۰؍۲، مغازی واقدی۵۵۰؍۲

[10] ابن سعد۶۵؍۲،عیون الآثر۱۴۳؍۲،تاریخ طبری ۶۴۱؍۲، مغازی واقدی ۵۵۲؍۲،دلائل النبوة للبیہقی ۸۳؍۴،شرح الزرقانی علی المواھب۱۲۲؍۳

[11] ابن سعد۶۶؍۲، عیون الآثر ۱۴۴ ؍۲،شرح الزرقانی علی المواھب۱۲۴؍۳

[12] ابن سعد۲۷؍۸،ابن ہشام۶۵۷؍۱ ،الروض الانف ۱۳۵؍۵، تاریخ طبری ۵۰۰؍۱۱،البدایة والنہایة ۴۰۱؍۳، زادالمعاد۲۵۱؍۳، دلائل النبوة للبیہقی ۸۵؍۴،مغازی واقدی ۵۵۳؍۲،شرح الزرقانی علی المواھب ۱۲۵؍۳، السیرة النبویة لابن کثیر۵۲۰؍۲

[13] رحمة للعالمین۱۰۲؍۲

[14] امتاع الأسماع ۳۵۵؍۵، سبل الہدی والرشاد فی سیرة خیر العباد ۳۷۹؍۷،معرفة اصحابة لابی نعیم۳۱۹۴؍۶، اسدالغابة۱۱۸؍۴، اصحابة فی تمیزاصحابة۴۶۹؍۴

[15] الصداقتہ العظمی ۳۲

[16] صحیح بخاری کتاب الصلوٰة بَابُ إِذَا حَمَلَ جَارِیَةً صَغِیرَةً عَلَى عُنُقِهِ فِی الصَّلاَةِ۵۱۶، صحیح مسلم كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْیَانِ فِی الصَّلَاةِ۱۲۱۲،سنن ابوداودکتاب الصلاة بَابُ الْعَمَلِ فِی الصَّلَاةِ۹۱۷،مسنداحمد۲۲۵۲۴،سنن الدارمی۱۴۰۰،صحیح ابن حبان ۱۱۰۹،البدایة والنہایة۳۲۹؍۵، ابن سعد۱۸۵؍۸

[17] صحیح مسلم كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْیَانِ فِی الصَّلَاةِ۱۲۱۴،سنن ابوداودکتاب الصلاة بَابُ الْعَمَلِ فِی الصَّلَاةِ۹۱۹

[18] سیر أعلام النبلاء۲۰۷؍۵

[19] رحمة للعالمین۱۰۲؍۲

[20] دلائل النبوة للبیہقی ۸۴؍۴،تاریخ طبری ۶۴۱؍۲،عیون الآثر۱۴۵؍۲،ابن سعد ۶۷؍۲، زادالمعاد۲۵۱؍۳

[21] مغازی واقدی ۵؍۱

[22] الطلاق۳

[23] الحدید۲۱

[24] صحیح بخاری کتاب المغازیبَابُ غَزْوَةِ سِیفِ البَحْرِ، وَهُمْ یَتَلَقَّوْنَ عِیرًا لِقُرَیْشٍ، وَأَمِیرُهُمْ أَبُو عُبَیْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ۴۳۶۰،۴۳۶۱،۴۳۶۲،صحیح مسلم كِتَابُ الصَّیْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا یُؤْكَلُ مِنَ الْحَیَوَانِ بَابُ إِبَاحَةِ مَیْتَاتِ الْبَحْرِ۴۹۹۸،۴۹۹۹،۵۰۰۰

[25] زادالمعاد۲۳۰؍۳،عیون الآثر۱۲۹؍۲،البدایة والنہایة۱۷۸؍۴،ابن سعد۴۸؍۲،شرح الزرقانی علی المواھب ۵؍۳،مغازی واقدی ۴۰۴؍۱،السیرة النبویة لابن کثیر۲۹۷؍۳

[26] صحیح بخاری کتاب العتق بَابُ مَنْ مَلَكَ مِنَ العَرَبِ رَقِیقًا، فَوَهَبَ وَبَاعَ وَجَامَعَ وَفَدَى وَسَبَى الذُّرِّیَّةَ ۲۵۴۱،صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیربَابُ جَوَازِ الْإِغَارَةِ عَلَى الْكُفَّارِ الَّذِینَ بَلَغَتْهُمْ دَعْوَةُ الْإِسْلَامِ، مِنْ غَیْرِ تَقَدُّمِ الْإِعْلَامِ بِالْإِغَارَةِ ۴۵۱۹،سنن ابوداودکتاب الجہاد بَابٌ فِی دُعَاءِ الْمُشْرِكِینَ ۲۶۳۳،مسنداحمد۴۸۵۷

[27] الروض الانف ۱۸؍۷

[28] زادالمعاد۲۳۰؍۳

[29] صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ غَزْوَةِ بَنِی المُصْطَلِقِ، مِنْ خُزَاعَةَ، وَهِیَ غَزْوَةُ المُرَیْسِیعِ عن ابی سعیدخدری ۴۱۳۸،صحیح مسلم کتاب النکاح بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ ۳۵۴۴،سنن ابوداودکتاب النکاح بَابُ مَا جَاءَ فِی الْعَزْلِ ۲۱۷۲، مسنداحمد۱۱۶۴۷،مصنف ابن ابی شیبة۳۶۸۳۶،شرح السنة للبغوی۲۲۹۵

[30]صحیح مسلم کتاب النکاح بَابُ جَوَازِ الْغِیلَةِ، وَهِیَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ عن جدامة۳۵۶۵

[31] فتح الباری۳۰۸؍۹

[32] صحیح بخاری کتاب المناقب بَابُ مَا یُنْهَى مِنْ دَعْوَةِ الجَاهِلِیَّةِ۳۵۱۸، وکتاب التفسیرسورہ المنافقون بَابُ قَوْلِهِ سَوَاءٌ عَلَیْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، لَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ، إِنَّ اللهَ لاَ یَهْدِی القَوْمَ الفَاسِقِینَ ۴۹۰۵ ،صحیح مسلم كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَابُ نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًاعن جابر ۶۵۸۳

[33] ابن ہشام۲۹۱؍۲، الروض الانف ۲۰؍۷،عیون الآثر ۱۳۰؍۲،تاریخ طبری ۶۰۵؍۲،البدایة والنہایة ۱۸۰؍۴،دلائل النبوة للبیہقی۵۲؍۴

[34] التوبة۷۴

[35] مسند احمد ۱۴۷۸۴ ،الصمت لابن ابی دنیا۲۱۶،زم الغیبةوالنمیمة لابن ابی دنیا۷۹،الترغیب والترھیب للمنذری۴۲۹۹،فتح الباری ۴۷۰؍۱۰

[36] جامع ترمذی ابواب البروالصلة بَابُ مَا جَاءَ فِی الصِّدْقِ وَالكَذِبِ۱۹۷۲

[37] صحیح بخاری تفسیرسورہ المنافقون بَابُ قَوْلِهِ إِذَا جَاءَكَ المُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ ۴۹۰۰، ۴۹۰۲

[38] التوبة۵۶

[39] آل عمران۷۲

[40] ابراہیم۴۶

[41]البقرة ۶ ،۷

[42] فتح القدیر للشوکانی ۲۷۴؍۵

[43] التوبة۶۴

[44] الاحزاب ۱۹

[45] مسنداحمد۷۹۲۶

[46] تفسیرابن کثیر۱۲۷؍۸

[47] النسائ۶۱

[48] التوبة۸۰

[49] التوبة۸۴

[50] التوبة۱۰۹

[51] البقرة۲۱۲

[52] آل عمران۳۷

[53] التغابن۱۵

[54] ابراہیم۴۴

[55] المومنون۹۹

[56] المومنون۴۳

[57] فتح القدیر للشوکانی ۲۳۲؍۲،تفسیرابن ابی حاتم ۱۷۹۴۲، ۳۱۷۴؍۱۰، الدرالمثورفی التفسیربالماثور۴۴۸؍۳، التفسیر المنیر للزحیلی ۱۵۹؍۱۴

[58]صحیح بخاری کتاب التفسیرتفسیرسورہ المنافقون بَابُ قَوْلِهِ سَوَاءٌ عَلَیْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ عن زیدبن ارقم وجابر ۴۹۰۵،وکتاب المناقب بَابُ مَا یُنْهَى مِنْ دَعْوَةِ الجَاهِلِیَّةِ عن جابر ۳۵۱۸

[59] الدرر فی اختصار المغازی والسیر۱۸۹؍۱

[60] ابن ہشام۲۹۱؍۲،دلائل النبوة للبیہقی۶۲؍۴،الروض الانف۲۳؍۷،عیون الآثر۱۳۱؍۲،تاریخ طبری ۶۰۸؍۲، البدایة والنہایة۱۸۱؍۴

[61] مسند حمیدی ۱۲۷۶

[62] ابن ہشام ۲۹۲،۲۹۳؍۲، الروض الانف ۲۱؍۷، عیون الآثر۱۳۰؍۲،تاریخ طبری ۶۰۶؍۲،البدایة والنہایة۱۸۰؍۴،دلائل النبوة للبیہقی۵۳؍۴،السیرة النبویة لابن کثیر۲۹۹؍۳

[63] ابن ہشام ۲۹۲؍۲،الروض الانف۲۱؍۷،عیون الآثر۱۳۱؍۲،تاریخ طبری ۶۰۶؍۲،البدایة والنہایة ۱۸۰؍۴،السیرة النبویة لابن کثیر۳۰۰؍۳

[64] تفسیرابن کثیر۱۵۷؍۸ ،تفسیرفی ظلال القران ۳۵۷۶؍۶، التفسیرالوسیط لطنطاوی۴۰۷؍۱۴،توفیق الرحمٰن فی دروس القرآن۲۸۸؍۴

[65] جامع ترمذی أَبْوَابُ تَفْسِیرِ الْقُرْآنِ بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ الْمُنَافِقِینَ ۳۳۱۵، مسندحمیدی۱۲۷۶

[66] ابن ہشام۲۹۳؍۲،الروض الانف۲۳؍۷،عیون الآثر۱۳۲؍۲،سبل الهدى والرشاد، فی سیرة خیر العباد۳۵۵؍۴،السیرة الحلبیة۳۹۴؍۲

[67] تفسیرابن کثیر۲۵؍۶

[68] ابن ہشام۲۵۴؍۲، الروض الانف۲۵۳؍۶،عیون الآثر۱۰۹؍۲

[69] صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ حَدِیثِ افک ۴۱۴۶

[70] ابن ہشام ۳۰۲؍۲،الروض الانف۴۲؍۷،مغازی واقدی ۴۳۴؍۲، السیرة الحلیبة ۴۱۲؍۲

[71] مغازی واقدی۴۳۲؍۲

[72] الاحزاب۵۷

[73] مسند احمد ۲۴۳۱۷،صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ حَدِیثِ افک ۴۱۴۱

[74] فتح الباری ۴۸۰؍۸،المعجم الکبیر للطبرانی۱۶۴،السیرة النبویة على ضوء القرآن والسنة۲۶۷؍۲

[75] تفسیرابن کثیر۲۳؍۶،الدرالمثورفی تفسیر بالماثور۱۴۵؍۶

[76] تفسیر الرازی ۳۴۰؍۲۳

[77] صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ حَدِیثِ افک ۴۱۴۶،وکتاب التفسیربَابُ لَوْلاَ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ المُؤْمِنُونَ وَالمُؤْمِنَاتُ، بِأَنْفُسِهِمْ خَیْرًا ۴۷۵۰،وکتاب الشھادات بَابُ تَعْدِیلِ النِّسَاءِ بَعْضِهِنَّ بَعْضًا۲۶۶۱،صحیح مسلم کتاب التوبة بَابٌ فِی حَدِیثِ الْإِفْكِ وَقَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاذِفِ۷۰۲۰،۷۰۲۲، مسند احمد ۲۵۶۲۳،۲۴۳۱۷، صحیح ابن حبان ،دلائل النبوة للبیہقی ۶۴؍۴،عیون الآثر۱۳۶؍۲، المعجم الکبیرللطبرانی ۱۵۰

[78] روح المعانی ۳۱۷؍۹، فتح الباری ۴۷۷؍۸

[79] مغازی واقدی۴۳۴؍۲

Related Articles