ہجرت نبوی کا چھٹا سال

محرم بھی اجازت طلب کرے(حصہ اول)

عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ قَوْلُهُ: یَا أَیُّهَا الَّذِینُ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا،قَالَ:كَانَ الرَّجُلُ فِی الْجَاهِلِیَّةِ إِذَا لَقِیَ صَاحِبَهُ، لَا یُسَلِّمُ عَلَیْهِ، وَیَقُولُ: حُیِّیتَ صَبَاحًا وَحُیِّیتَ مَسَاءً، وَكَانَ ذَلِكَ تَحِیَّةَ الْقَوْمِ بَیْنَهُمْ،كَانَ أَحَدُهُمْ یَنْطَلِقُ إِلَى صَاحِبِهِ فَلا یَسْتَأْذِنُ حَتَّى یَقْتَحِمَ وَیَقُولَ: قَدْ دَخَلْتُ،فَیَشُقُّ ذَلِكَ عَلَى الرَّجُلِ وَلَعَلَّهُ یَكُونُ مَعَ أَهْلِهِ،فَغَیَّرَ اللهُ ذَلِكَ كُلَّهُ فِی سِتْرٍ وَعِفَّةٍ، وَجَعَلَهُ نَقِیًّا نَزِهًا مِنَ الدَّنَسِ وَالْقَذَرِ وَالدَّرَنِ، فَقَالَ: لَا تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا

مقاتل بن حیان آیت کریمہ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے گھروں  کے سوا دوسرے گھر میں  داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں  کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں  پر سلام نہ بھیج لو۔‘‘کے بارے میں  فرماتے ہیں  زمانہ جاہلیت میں  جب کوئی شخص اپنے کسی ساتھی سے ملتاتواسے سلام نہیں  کیاکرتاتھابلکہ یہ کہتاصبح بخیر،شام بخیر،اس وقت لوگوں  کاآپس میں  ملاقات کے وقت یہی سلام تھا، اورجب کسی کے گھرمیں  جاتاتواندرداخل ہونے کے لیے اجازت طلب نہیں  کیاکرتاتھابلکہ اچانک اندرداخل ہوجاتااورکہتاکہ میں  آگیاہوں ،یہ صورت حال گھروالوں  کوناگوارمحسوس ہوتی تھی کیونکہ ہوسکتاہے کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ مصروف ہوچنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان ساری عادات کوبدل کرایسے احکام دیے جن میں  سترپوشی اورعفت ہےاورپاکیزگی اورہرقسم کے میل کچیل سے صفائی اورطہارت کااہتمام ہے،حکم فرمایا’’اے ایمان والو! اپنے گھروں  کے سوادوسروں  کےگھروں  میں  ایسے ہی داخل نہ جاؤجب تک کہ صاحب خانہ سےاجازت نہ لے لواورگھر کے رہنے والوں  کوسلام نہ کرلو،یہ طریقہ کار تمہارے حق میں  سراسربہترہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘[1]

اجازت لینے کاحکم صرف دوسروں  کے گھرجانے کی صورت ہی میں  نہیں  ہے بلکہ خوداپنی ماں  بہنوں  کے پاس جانے کی صورت میں  بھی ہے ،

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: عَلَیْكُمْ أَنْ تَسْتَأْذِنُوا عَلَى أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ

عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اپنی ماں  اوربہنوں  کے پاس بھی جاناہوتوپہلے اجازت ضرور لے لیاکرو۔[2]

 عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّی أَكُونُ فِی مَنْزِلِی عَلَى الْحَالِ الَّتِی لَا أُحِبُّ أَنْ یَرَانِی أَحَدٌ عَلَیْهَا وَالِدٌ وَلَا وَلَدٌ وَإِنَّهُ لَا یَزَالُ یَدْخُلُ علیَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِی، وَأَنَا عَلَى تِلْكَ الْحَالِ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ: {یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى  أَهْلِهَا}، [3] . الْآیَةُ

عدی بن ثابت سے مروی ہےایک انصاری عورت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  آئی اورشکوہ کرنے لگی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کبھی میں  اس حال میں  ہوتی ہوں  کہ پسندنہیں  کرتی کہ کوئی مجھے دیکھے،خواہ باپ ہو،خواہ بیٹا،اورحالت یہ ہے کہ میں  اسی حال میں  ہوتی ہوں  اور گھروالے آتے جاتے ہیں ؟ تواس پریہ آیت نازل ہوئی’’ اے ایمان والو! اپنے گھروں  کے سوادوسروں  کےگھروں  میں  ایسے ہی داخل نہ جاؤجب تک کہ صاحب خانہ سےاجازت نہ لے لواورگھر کے رہنے والوں  کوسلام نہ کرلو،یہ طریقہ کار تمہارے حق میں  سراسربہترہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘ [4]

عَنْ زَیْنَبٍ، قَالَتْ:كَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَةٍ فَانْتَهَى إِلَى الْبَابِ، تَنَحْنَحَ وَبَزَقَ،  كَرَاهَةَ أَنْ یَهْجُمَ مِنَّا عَلَى أَمْرٍ یَكْرَهُهُ

زینب  رضی اللہ عنہا سے روایت ہے عبداللہ  رضی اللہ عنہ جب اپنے کسی کام سے فارغ ہوکرگھرآتے تودروازے پرپہنچ کرگلاصاف کرتے اورتھوکتے،کیونکہ وہ اس بات کوناپسندفرماتے کہ ہمارے پاس اچانک آجائیں  اورہمیں  کسی ناپسندیدہ حالت میں  دیکھیں ۔[5]

اوراللہ تعالیٰ نے اس چیزسے بھی منع فرمایا کہ بغیر اجازت کسی کے گھرمیں  داخل ہواجائےتاکہ مردوعورت کے درمیان اختلاط نہ ہو جو عام طور پر زنا یاقذف کاسبب بنتاہے۔

عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، أَسْتَأْذِنُ عَلَى أُمِّی؟فَقَالَ: نَعَمْ،قَالَ الرَّجُلُ: إِنِّی مَعَهَا فِی الْبَیْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَیه وَسَلم: اسْتَأْذِنْ عَلَیْهَافَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّی خَادِمُهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَیه وَسَلم: اسْتَأْذِنْ عَلَیْهَاأَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْیَانَةً؟قَالَ: لا،قَالَ: فَاسْتَأْذِنْ عَلَیْهَا

عطاء بن یسارسے مروی ہےایک شخص نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاکہ اپنی ماں  سے بھی اجازت طلب کروں ؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں ،اجازت طلب کرناماں  سے بھی ہے،اس شخص نے کہاکہ میں  توان کے ساتھ گھرمیں  رہتاہوں  (مقصدکہنے کایہ تھاکہ ماں  کامجھ سے پردہ نہیں  ہے پھر طلب اذن کی کیاضرورت ہے)رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان سے اجازت لے لیاکرو،اس شخص نے کہاکہ میں  ان کی خدمت کرتاہوں  (یعنی اس وجہ سے برابر آنا جاناہوتاہے،پھرطلب اذن کی کیاضرورت ہے ،دشواری بڑھ جائے گی )رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھاتے ہوئے فرمایااپنی ماں  کی خدمت میں  بھی حاضرہوناہے تب بھی اجازت حاصل کرلیاکروکیاتم اپنی ماں  کوننگی دیکھنا پسند کرو گے؟اس نے کہانہیں !آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو پھراسی وجہ سے کہتاہوں  کہ اجازت حاصل کرکے جاؤ۔[6]

وَقَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ الزُّهْرِیِّ. سَمِعْتُ هُزَیلَ بْنَ شُرَحْبِیلَ الْأَوْدِیَّ الْأَعْمَى أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ: عَلَیْكُمُ الْإِذْنُ عَلَى أُمَّهَاتِكُمْ

ابن جریج رحمہ اللہ  نے زہری رحمہ اللہ  سے روایت کیاہے کہ میں  نے ہزیل بن شرجیل اودی اعمیٰ سے سناکہ انہوں  نے عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے سناکہ اپنی ماؤں  کے پاس جانے سے قبل بھی اجازت طلب کرو۔[7]

رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم  نے آداب سکھلائے فرمایاپہلے سلام کرواور پھرداخل ہونے کی اجازت طلب کرو،

عَنْ رِبْعِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَارَجُلٌ مَنْ بَنِی عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِی بَیْتٍ فَقَالَ: أَلِجُ؟فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ: اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِّمْهُ الِاسْتِئْذَانَ فَقَالَ لَهُ قُلِ السَّلَامُ عَلَیْكُمْ أَأَدْخُلُ،فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَیْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ

ربعی رحمہ اللہ  سے روایت ہےبنوعامرکے ایک شخص نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اجازت چاہی جبکہ آپ گھرکے اندرتھےاوراس نے کہاکیامیں اندر آ سکتا ہوں ؟ تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے خادم سے فرمایااس کی طرف جاؤاوراسے اجازت طلب کرنے کاادب سکھاؤ اسے کہوکہ(اس طرح )کہے السلام علیکم کیامیں  اندرآسکتاہوں ؟اس آدمی نے یہ بات سن لی تو بولاالسلام علیکم کیامیں  اندرآسکتاہوں ؟تونبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے اجازت دے دی،اوروہ اندرآگیا۔[8]

چنانچہ سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ اوردوسرے صحابہ کران کایہی طریقہ تھاکہ سلام کہہ کراندرآنے کی اجازت طلب کرتے ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:   جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِی مَشْرُبَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللهِ، السَّلامُ عَلَیْكَ، أَیَدْخُلُ عُمَرُ؟

عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما سے مروی ہے سیدناعمر  رضی اللہ عنہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ اپنے حجرے میں  تھے انہوں  نے کہاالسلام علیکم اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !کیاعمر  رضی اللہ عنہ  اندر آسکتاہے۔[9]

اورتفاسیرمیں  اس طرح ہے

فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِأَمَةٍ لَهُ، یُقَالُ لَهَا رَوْضَةُ: قَوْمِی إِلَى هَذَا فَعَلِّمِیهِ، فَإِنَّهُ لَا یُحْسِنُ یَسْتَأْذِنُ، فَقُولِی لَهُ یَقُولُ: السَّلَامُ عَلَیْكُمْ، أَأَدْخُلُ

تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے لونڈی روضہ سے فرمایایہ شخص اجازت مانگنے کاطریقہ نہیں  جانتاجاکراسے اجازت طلب کرنے کے ادب سکھاؤاسے کہوکہ(اس طرح)کہے السلام علیکم کیامیں  اندرآسکتاہوں ؟۔[10]

تین مرتبہ اجازت طلب کرناچاہیے۔

عَنْ أَبِی مُوسَى الْأَشْعَرِیِّ؛ أَنَّهُ قَالَ:  قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَیه وَسَلم: الاسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ، وَإِلَّا فَارْجِعْ

ابوموسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تین مرتبہ اجازت طلب کرناچاہیے اگراجازت مل جائے توجاؤاگرکوئی جواب نہ ملےتوواپس لوٹ جاؤ۔[11]

سیدالخزرج سعد رضی اللہ عنہ بن عبادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے محبوب جاں  نثارتھے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ان کی ملاقات کے لیے تشریف لے گئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کامعمول تھاکہ اجازت کے بغیرکسی مکان میں  داخل نہیں  ہوتے تھے

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ السَّلامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ،فَقَالَ سَعْدٌ وَعَلَیْكُمُ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَلَمْ یُسْمِعِ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلاثًا وَرَدَّ عَلَیْهِ سَعْدٌ ثَلاثًا وَلَمْ یُسْمِعْهُ، فَرَجَعَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِی أَنْتَ مَا سَلَّمْتَ تَسْلِیمَةً إِلا هِیَ بِأُذُنِی وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَیْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ،   فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُول اللهِ، فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ مَلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ، فَاشْتَمَلَ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ رَسُول اللهِ یَدَیْهِ، وَهُوَ یَقُولُ:  اللهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آل سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ،

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سعد رضی اللہ عنہ کے مکان کے دروازے پرکھڑے ہوکرالسلام علیکم ورحمة اللہ فرمایا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کاجواب اتنی دبی زبان سے دیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سمع مبارک تک نہ پہنچا،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دوبارہ السلام علیکم ورحمة اللہ فرمایا،سعد رضی اللہ عنہ نے پھربہت آہستہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سلام کاجواب دیا پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تیسری مرتبہ السلام علیکم ورحمة اللہ فرمایا،اب کی باربھی سعد رضی اللہ عنہ  نے اپنی آوازبہت پست رکھی، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خیال فرمایاکہ سعد رضی اللہ عنہ مجھ کواجازت دینے میں  متامل ہیں  چنانچہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  واپس ہوچلے، اب سعد رضی اللہ عنہ فوراباہرآئے اورعرض کیااے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں  باپ آپ پرقربان میں  آپ کاسلام سن رہاتھااورآپ کے سلام کاجواب اس لیے آہستہ سے دے رہاتھاکہ آپ ہم پرکثرت سے سلام کریں ،سعد رضی اللہ عنہ کی بات سن کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  متبسم ہوگئے اوران کے گھرکے اندرتشریف لے گئے،سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے غسل کے انتظام کاحکم دیاچنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے غسل فرمایااس کے بعد سعد رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں  موٹے کپڑے کی ایک چادرپیش کی جوزعفران یاورس(ایک قسم کی خوشبودارگھاس)میں  رنگی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کواپنے جسم مبارک پر لپیٹ لیااورنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نےاپنے دونوں  ہاتھ اٹھاکردعامانگی اے اللہ!آل سعدپراپنی رحمت اورمہربانی نازل فرما،

قال ثُمَّ أَصَابَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ له سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأ عَلَیْهِ بِقَطِیفَةٍ، فَرَكِب رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،  فَقَالَ سَعْدٌ: یَا قَیْسُ اصحب رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،قَالَ قَیْسٌ: فقال لی رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ارْكَبْ، فَأَبَیْت،  ثم قال: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ”. قَالَ: فَانْصَرَفْتُ

پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کھانے میں  سے کچھ کھایا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے واپسی کاارادہ فرمایاتوسعد رضی اللہ عنہ نے اپناگدھا منگوایا اوراس پشت پر چادر بچھوائی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  گدھے پرسوارہوئے اوراپنے بیٹے سے فرمایا اے قیس! رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ جاؤ، قیس کہتے ہیں  میں  آپ کے ساتھ چل پڑا،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھ سے فرمایامیرے ساتھ سوارہوجاؤمگران کوپاس ادب مانع ہوااورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ بیٹھنے سے عذرکیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاسوارہوجاؤیاواپس چلے جاؤ، انہوں  نے سیدالامم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ بیٹھنے کی جرات نہ کی اورواپس چلے گئے۔[12]

اجازت طلبی کے وقت دروازے کے دائیں  یا بائیں  جانب کھڑا ہوناچاہیے تاکہ ایک دم سامنانہ ہواور بے پردگی کاامکان نہ رہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ یَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ، وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الْأَیْمَنِ، أَوِ الْأَیْسَرِ، وَیَقُولُ السَّلَامُ عَلَیْكُمْ، السَّلَامُ عَلَیْكُمْ،وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ یَكُنْ عَلَیْهَا یَوْمَئِذٍ سُتُورٌ

عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جب کسی دروازے پرجاتے تواس کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوا کرتے تھے بلکہ دائیں  یابائیں  جانب ہوکرکھڑے ہوتے اور فرماتے السلام علیکم،السلام علیکم،اوران دنوں  دروازوں  پرپردے نہیں  ہواکرتے تھے۔[13]

اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نےدروازے پرکھڑے ہو کر اندرجھانکنے سے بھی نہایت سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، قَالَ:  قَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَیْكَ بِغَیْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَیْنَهُ  لَمْ یَكُنْ عَلَیْكَ جُنَاحٌ

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےابوقاسم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااگرکوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیرتمہیں (جب کہ تم گھرکے اندرہو)جھانک کردیکھے توتم اسے کنکری سے ماردوجس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے توتم پرکوئی گناہ نہیں  ہے۔[14]

اورگھرسے کوئی پوچھے کہ توکون ہے؟تواجازت چاہنے والے کواپنا مشہور نام بتانا چاہیے۔

جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمَا، یَقُولُ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی دَیْنٍ كَانَ عَلَى أَبِی،  فَدَقَقْتُ البَابَ،فَقَالَ:مَنْ ذَا؟فَقُلْتُ: أَنَا،  فَقَالَ:أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهَا

جابربن عبداللہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےمیں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  اس قرض کے بارے میں  حاضر ہوا جومیرے والدپرتھا، میں  نے دروازہ کھٹکھٹایا،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اندرسے دریافت فرمایاکون ہے؟ میں  نے کہا میں  ہوں ،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب ناپسند فرمایا اورکہا میں ،میں کیاہے۔[15]

فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِیهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ یُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِنْ قِیلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ ‎﴿٢٨﴾‏ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ مَسْكُونَةٍ فِیهَا مَتَاعٌ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ‎﴿٢٩﴾‏ (النور)
’’ اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ، اور اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لیے پاکیزہ ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائدہ یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، تم جو کچھ بھی ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔‘‘

طلب اجازت کاشرعی طریقہ:مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہاں  پہنچ کرسلام کرو اورپوچھو کہ کیامیں  اندرآسکتاہوں  ؟اگرصاحب خانہ اندرجانے کی اجازت دے دے تواندرجاؤ ، اوراگراجازت نہ ملے یعنی کسی وجہ سےصاحب خانہ کہےابھی نہیں  آسکتے توایسی حالت میں  فوراًواپس پلٹ جاؤ،اجازت دینے پراصرارنہ کرو اوراپنی ہتک اورانقباض محسوس کرکے ناراضی کا اظہارنہ کرو،اوراگرآوازدومگرگھرسےجواب نہ ملےتوزیادہ سے زیادہ تین مرتبہ اجازت کے لئے شرعی طریقہ اختیارکرو ،اگرتیسری مرتبہ بھی جواب نہ ملے توواپس پلٹ جاؤ ،تمہیں  برائیوں  سے پاک وصاف کرنے اورتمہاری نیکیوں  میں  اضافہ کرنے کے لئے یہ طریق کارتمہارے لئے بہترہےاورجوتم کرتے ہواللہ اسے خوب جانتاہے،اورایساگھرجس کے متعلق صراحت کے ساتھ معلوم نہیں  ہے کہ اس میں  کوئی ہے یانہیں  تواس طرح کے مشکوک حالت میں  بھی بغیراجازت اندرداخل ہونے کی اجازت نہیں  ہے،

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ، قَالَ:كُنْتُ فِی مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ، إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ،فَقَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ ثَلاَثًا، فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی فَرَجَعْتُ،فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ؟قُلْتُ: اسْتَأْذَنْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی فَرَجَعْتُ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَهُ فَلْیَرْجِعْ

ابوسعیدخدری  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں  انصارکی ایک مجلس میں  تھاابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ  تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں ، انہوں  نے کہامیں  نے سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ کے ہاں  تین مرتبہ اندرآنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں  ملااس لئے واپس چلاآیا،(جب سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا)توانہوں  نے دریافت کیا(اندرآنے میں  ) کیابات مانع تھی ؟ میں نے کہامیں  نے تین مرتبہ اندرآنے کی اجازت طلب کی اورجب مجھے کوئی جواب نہیں  ملاتوواپس چلا گیااوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاہے کہ جب تم میں  سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت طلب کرے اوراجازت نہ ملے توواپس چلاجاناچاہیے۔[16]

عَنْ أَنَسٍ أَوْ: غَیْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ:السَّلَامُ عَلَیْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَیْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَلَمْ یَسْمَعِ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا. وَرَدَّ عَلَیْهِ  سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ یُسْمعه،فَرَجَعَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،  وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، مَا سلمتَ تَسْلِیمَةً إِلَّا وَهِیَ بِأُذُنِی، وَلَقَدْ رَدَدْت عَلَیْكَ وَلَمْ أُسْمِعك، وأردتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكِ وَمِنَ الْبَرَكَةِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَیْتَ    فقرَّب إِلَیْهِ زَبیبًا فَأَكَلَ نَبِیُّ اللهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وصَلَّت عَلَیْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ

انس  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب فرمائی فرمایاالسلام علیکم ورحمة اللہ،سعد رضی اللہ عنہ نے جواب میں  وعلیک السلام ورحمة اللہ توکہہ دیامگرآوازاتنی دھیمی رکھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نہ سنیں  چنانچہ تین باریہی ہوا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سلام کرتے آپ جواب دیتے مگراتنی دھیمی آوازمیں  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نہ سنیں  ،اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم  وہاں  سے واپس لوٹ چلے،سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیچھے لپکے ہوئے آئے اورکہنے لگے اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی تمام آوازیں  میرے کانوں  میں  پہنچ رہی تھیں  میں  نے آپ کے ہرسلام کاجواب بھی دے دیاتھالیکن اس خیال سے کہ میں  آپ کی بہت ساری دعائیں  لے لوں  اور زیادہ برکت حاصل کروں  اس لئے اتنی دھیمی آوازمیں  جواب دیاکہ آپ کوسنائی نہ دے اب آپ اندرچلیں  اورتشریف رکھیں ، چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اندرداخل ہوئے،سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے کشمش لاکررکھی،اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے نوش فرمائیں ،اورفارغ ہوکرفرمانے لگے تمہاراکھانانیک لوگوں  نے کھایااورفرشتے تم پررحمت بھیج رہے ہیں ،تمہارے ہاں  روزے داروں  نے روزہ کھولا۔[17]

البتہ تمہارے لیے اس میں  کوئی مضائقہ نہیں  ہے کہ ایسے گھروں  میں  داخل ہوجاؤجوکسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں  اورجن میں  تمہارے فائدے(یاکام)کی کوئی چیزہو،یعنی ہوٹل،سرائے،مہمان خانے ،دوکانیں ،مسافرخانے وغیرہ جہاں  داخلہ کے لئے عام اجازت ہو،تم جوکچھ ظاہرکرتے ہواورجوکچھ چھپاتے ہوسب کی اللہ کوخبرہے۔

‏ قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ ‎﴿٣٠﴾(النور)
’’مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں، یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔‘‘

بے باک نگاہوں  کے متعلق ہدایات:

بعض علماء نے لکھاہے کہ نگاہیں  شہوت کی قاصداوراس کی پیامبرہیں کیونکہ آنکھوں  کافتنہ مہلک اوربہت سارے فتنوں  اورآفتوں  کابنیادی سبب ہے اس لئے نگاہ کی تاثیرکے باعث اسلام نے اعلان کیااے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !مسلمان مردوں  سے کہوکہ اپنی نگاہیں  نیچی رکھیں  یعنی جس چیزکودیکھنامناسب نہ ہواس سے نظریں  ہٹالیں  اورعورتوں  یامردوں  کے ساتھ بدکاری یاان کے علاوہ دوسری صورتوں  سے اپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کریں ،اسی طرح ان کوچھونے اوران کودیکھنے سے بچیں  ، آنکھوں  اورشرمگاہوں  کی حفاظت ان کے لئے زیادہ طہارت، پاکیزگی اوران کے اعمال خیرمیں  زیادہ اضافے کاباعث ہے،کیونکہ نگاہ تمام فواحش کی بنیادہےاس لئےاسلام نےنظرکوآنکھوں  کاگناہ قرار دیا ،

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ:أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِیَّاكُمْ وَالجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ، لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا، نَتَحَدَّثُ فِیهَا،  فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ أَبَیْتُمْ، فَأَعْطُوا الطَّرِیقَ حقَّه،قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِیقِ یَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ وكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ،  وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْیُ عَنِ الْمُنْكَرِ

ابوسعیدخدری  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاراستوں  میں  بیٹھنے سے بچو! (کیونکہ راستوں  اورچوکوں  پربلاوجہ معقول دھرنامارکربیٹھے رہنا شرفائکاکام نہیں ، ضرورت اورمجبوری کی کیفیت الگ چیز ہے)صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے عرض کیااے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری یہ مجلسیں  توبہت ضروری ہیں  ہم وہیں  روزمرہ کی گفتگوکیاکرتے ہیں ، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااچھاجب تم ان مجلسوں  میں  بیٹھناہی چاہتے ہوتوراستے کاحق ادا کیا کرویعنی راستے کواس کاحق دو،صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے عرض کیااے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! راستے کاحق کیاہے؟فرمایا (غیرمحرم عورتوں  کودیکھنے سے) نظر نیچی رکھنااور راہ گیروں  کو نہ ستانااورسلام کاجواب دینااوربھلائی کاحکم دینااوربرائی سے روکنا۔ [18]

عَنْ أَبِی أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:اكْفُلُوا لِی بِسِتٍّ أَكْفُلْ لَكُمِ الْجَنَّةَ: إِذَا حَدَّثَ أَحَدُكُمْ فَلَا یَكْذِبْ، وَإِذَا وَعَدَ فَلَا یُخْلِفْ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ فَلَا یَخُنْ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، وَكُفُّوا أَیْدِیَكُمْ

ابوامامہ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاتم مجھے چھ چیزوں  کی ضمانت دومیں  تمہیں  جنت کی ضمانت دیتاہوں ،جب تم میں  سے کوئی بات کرے توجھوٹ نہ بولے اورجب وعدہ کرے توخلاف ورزی نہ کرےاورجب امانت رکھی جائے تواس میں  خیانت نہ کرے اوراپنی نظرنیچی رکھواوراپنی شرم گاہوں  کی حفاظت کرواوراپنے ہاتھوں  کوروکو۔[19]

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظّه مِنَ الزِّنَى، أدرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ. فَزنى الْعَیْنَیْنِ: النَّظَرُ. وَزِنَى اللِّسَانِ: النطقُ. وَزِنَى الْأُذُنَیْنِ: الِاسْتِمَاعُ. وَزِنَى الْیَدَیْنِ: الْبَطْشُ. وَزِنَى الرِّجْلَیْنِ: الْخَطْیُ. وَالنَّفْسُ تمَنّى وَتَشْتَهِی، وَالْفَرْجُ یُصَدِّق ذَلِكَ أَوْ یُكذبه.

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے زناکاکوئی نہ کوئی حصہ لکھ دیاہے جس سے اسے لامحالہ گزرنا ہے، پس آنکھوں  کازنا(غیرمحرم کو )دیکھناہے اورغیرمحرم سے لگاوٹ کی گفتگوکرنا زبان کا زنا ہے اور کانوں  کازناآوازسے لذت حاصل کرناہےاور ہاتھوں  کازناچھوناہے اورپاؤں  کا زنا ناجائزمقصدکے لئے چلناہےاوردل کازناخواہش اور شہوات ہیں ،جب یہ ساری تمہیدیں  پوری ہوجاتی ہیں  توشرمگاہ اس کی تصدیق کردیتی ہے یااسے جھٹلادیتی ہے۔[20]

قَالَ جَرِیرٌ:سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفُجْاَءَةِ، فَأَمَرَنِی أَنْ  أَصْرِفَ بَصَرِی

جریربن عبداللہ الجبلی  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےمیں  نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاکہ جونظروفعتاً بے قصد پڑجاتی ہے اس کے متعلق کیاارشادہے توآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایاکہ میں  اپنی نگاہ پھیرلوں ۔[21]

عَنِ ابْنِ بُرَیْدَةَ، عَنْ أَبِیهِ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِیٍّ:یَا عَلِیُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ؛ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَیْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ

ابن بریدہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدناعلی  رضی اللہ عنہ  سے فرمایااے علی  رضی اللہ عنہ ! پہلی نظر کسی نامحرم پر پڑنے کے بعد اس پر دوسری نظر نہ ڈالنا کیونکہ پہلی نظر تو تمہیں  معاف ہوگی(جواچانک پڑ گئی )دوسری نہیں (عمداًدیکھنا) ۔[22]

عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: وَبَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:  لَعَنَ اللهُ النَّاظِرَ والْمَنْظُورَ إِلَیْهِ

حسن بصری  رحمہ اللہ سے روایت کی ہےانہوں  نے فرمایا کہ مجھے صحابہ سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ اس شخص پر کہ جس نے (بلا عذر و بغیر اضطرار ) دیکھا اور اس پر کہ جس کو دیکھا گیا اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ۔[23]

عَنْ أَبِی أُمَامَةَ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ یَغُضُّ بَصَرَهُ إِلَّا أَحْدَثَ اللهُ لَهُ عِبَادَةً یَجِدُ حَلَاوَتَهَا

ابوامامہ سے مروی ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا جس مسلمان کی نگاہ (بلا قصدوارادہ)کسی عورت کے حسن و جمال پرپڑجائے اور پھروہ فورًا اپنی نظر پھیرلے تواللہ اس کی عبادت میں  لطف اورلذت پیداکردیتاہے۔ [24]

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ النَّظْرَةَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِیسَ مَسْمُومٌ، مَنْ تَرَكَهَا مَخَافَتِی أَبْدَلْتُهُ إِیمَانًا یَجِدُ حَلَاوَتَهُ فِی قَلْبِهِ

عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہما سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااللہ رب العالمین کا ارشادہےنگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں  میں  سے ایک تیر ہے جوشخص مجھ سے ڈرکراس کو چھوڑدے گامیں  اس کے بدلے اسے ایسا ایمان دوں  گاجس کی حلاوت وہ اپنے دل میں  پائے گا۔[25]

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ یَضْمَنْ لِی مَا بَیْنَ لَحْیَیْهِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْهِ أَضْمَنْ لَهُ الجَنَّةَ

اورسہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایامجھے جوشخص دونوں  جبڑوں  کے درمیان کی چیز(یعنی زبان) اوردونوں  پاؤں  کے درمیان کی چیز (شرمگاہ)کی ضمانت دے دے میں  اس کے لئے جنت کی ضمانت دے دوں  گا ۔[26]

جیسےاللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی پہچان بیان فرمائی

 وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ۝۵ۙ  [27]

ترجمہ:جواپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کرتے ہیں ۔

عَنْ بَهْزٍ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی، عَنْ جَدِّی قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِی مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ:احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ یَمِینُكَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِی بَعْضٍ؟ قَالَ:إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا یَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا یَرَیَنَّهَا، قُلْتُ فَإِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِیًا؟ قَالَ: فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ یُسْتَحْیَا مِنْهُ

بہزبن حکیم رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےمیں  نے عرض کی اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ہمیں  ہمارے ستروں  کے بارے میں  کیافرماتے ہیں ،کیااختیارکریں  اورکیاچھوڑیں ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااپنی شرم گاہ کی حفاظت کروصرف اپنی بیوی یالونڈی سے اجازت ہے،میں  نے عرض کی اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !جب لوگ آپس میں  ملے جلے بیٹھے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاجہاں  تک ہوسکے کوئی تیراسترہرگزنہ دیکھے،میں  نے عرض کی اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !ہم میں  سے جب کوئی اکیلاہوتو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایالوگوں  کی نسبت اللہ اس کازیادہ حق دارہے کہ اس سے حیاکی جائے۔[28]

مگرہمارے ہاں  کے جاہل اوربدعتی لوگ ننگ دھڑنگ اوربے شعورلوگوں  کوولی اللہ سمجھتے ہیں ۔

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُولَ اللهِ مَا النَّجَاةُ قَالَ أَمْسِکْ عَلَیْکَ لِسَانَکَ وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ وَابْکِ عَلَی خَطِیئَتِکَ

عقبہ بن عامر سے مروی ہے   میں  نے عرض کیا اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نجات کیا ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا اپنی زبان قابو میں  رکھو اپنے گھر میں  رہو اور اپنی غلطیوں  پر رویا کرو۔[29]

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَقَاهُ اللهُ شَرَّ مَا بَیْنَ لَحْیَیْهِ وَشَرَّ مَا بَیْنَ رِجْلَیْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ

اور ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے زبان اور شرمگاہ کے شر سے محفوط کر دیا وہ جنت میں  داخل ہوگیا۔[30]

عَنْ أَبِی أُمَامَةَ،عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَتَغُضَّنَّ أَبْصَارَكُمْ، وَلَتَحْفَظُنَّ فُرُوجَكُمْ، وَلَتُقِیمُنَّ وُجُوهَكُمْ أَوْ لَتُكْسَفَنَّ وُجُوهُكُمْ

ابوامامہ سے مرفوعاًمروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایایاتوتم اپنی نگاہیں  نیچی رکھوگے اوراپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کروگے اوراپنے منہ سیدھے رکھوگے یااللہ تعالیٰ تمہارے صورتیں  بدل دے گا۔[31]

عن أبی هریرةَ قالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:كُلُّ عَیْنٍ بَاكِیَةٌ  یَوْمَ الْقِیَامَةِ، إِلَّا عَیْنًا غَضّت عَنْ مَحَارِمِ اللهِ، وَعَیْنًا سهِرت فِی سَبِیلِ اللهِ، وَعَیْنًا یَخْرُجُ مِنْهَا مِثْلُ رَأْسِ الذُّبَابِ، مِنْ خَشْیَةِ اللهِ، عَزَّ وَجَلَّ

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاہرآنکھ قیامت کے روزروئے گی مگروہ آنکھ جواللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں  کو دیکھنے سے بندرہے اوروہ آنکھ جواللہ تعالیٰ کی راہ میں  جاگتی رہے اوروہ آنکھ جواللہ عزوجل کے خوف سے رودے گواس میں  سے صرف مکھی کے سرکے برابر آنسوہی نکلا ہو۔[32]

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِیهَا، فَیَنْظُرُ كَیْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْیَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِی إِسْرَائِیلَ كَانَتْ فِی النِّسَاءِ

ابوسعید خدری  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایادنیا(ظاہرمیں )شریں  اورسبزہے(جیسے تازہ میوہ )اللہ تعالیٰ تمہیں  دنیامیں  حاکم کرنے والاہے پھروہ دیکھے گاکہ تم کیسے کام کرتے ہوتودنیاسے بچو(یعنی ایسی دنیاسے سے جواللہ تعالیٰ سے غافل کردے)اورعورتوں  سے بچوکیونکہ بنی اسرائیل میں  پہلاجوفتنہ پیداہواتھاوہ عورتوں  میں  تھا ۔[33]

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَكْتُ بَعْدِی فِتْنَةً هِیَ أَضَرُّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ

اسامہ بن زید  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایامیں  نے اپنے بعدمردوں  کونقصان پہنچانے والاعورتوں  سے زیادہ کوئی فتنہ نہیں  چھوڑا(کیونکہ یہ اکثر خلاف شرع کام کراتی ہیں  )۔[34]

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، أَوْ جَابِرٍ أَنَّ نَبِیَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ خُطْبَةً، فَأَطَالَهَا، وَذَكَرَ فِیهَا أَمْرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ، فَذَكَرَأَنَّ  أَوَّلَ مَا هَلَكَ بَنُو إِسْرَائِیلَ أَنَّ امْرَأَةَ الْفَقِیرِ كَانَتْ تُكَلِّفُهُ مِنَ الثِّیَابِ أَوِ الصِّبْغِ، أَوْ قَالَ: مِنَ الصِّیغَةِ مَا تُكَلِّفُ امْرَأَةُ الْغَنِیَّ

ابوسعیدخدری  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خطبہ ارشادفرمایاجس میں  دنیاوآخرت کے امور کا ذکر فرمایا،جس میں  فرمایا بنی اسرائیل کی ہلاکت کاپہلاسبب یہ بناکہ غریب کی بیوی اپنے شوہرسے ایسے کپڑوں  یازیورات کامطالبہ کرتی جوکسی امیرکی بیوی کرتی تھی[35]

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَبَاحٍ إِلَّا وَمَلَکَانِ یُنَادِیَانِ وَیْلٌ لِلرِّجَالِ مِنْ النِّسَائِ وَوَیْلٌ لِلنِّسَائِ مِنْ الرِّجَالِ

ابوسعید رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا ہر صبح دو فرشتے پکارتے ہیں  عورتیں  مردوں  کیلئے ہلاکت و بربادی ہیں  اور عورتیں  مردوں  کے لئے ہلاکت و بربادی ہیں ۔[36]

حكم الألبانی :ضعیف جدا

لوگ جوکچھ کریں  اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے،جیسےفرمایا

یَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ۝۱۹ [37]

ترجمہ:اللہ نگاہوں  کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں  نے چھپا رکھے ہیں ۔

‏ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُیُوبِهِنَّ ۖ وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِی إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِی أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَیْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِینَ لَمْ یَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا یَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِینَ مِنْ زِینَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِیعًا أَیُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ‎﴿٣١﴾‏(النور)
’’ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والدکے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو ! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ نجات پاؤ۔‘‘

گھرسے باہرآنے کے آداب:آنکھوں  کی بے باکی اوران کی آزادی شہوت میں  انتشاراورشرمگاہ میں  ابھارپیداکرتی ہے،شہوت کے معاملہ میں  جوحال مردوں  کاہے کم وبیش یہی حال عورتوں  کابھی ہے بلکہ ان کی نگاہ تواوربھی فتنے جگاتی ہے ،جیساکہ شاعرنے کہا

كُلُّ الْحَوَادِثِ مَبْدَؤُهَا مِنْ النَّظَرِ،وَمُعْظَمُ النَّارِ مِنْ مُسْتَصْغَرِ الشَّرَرِ

تمام حادثات کی ابتدانظرسے ہی ہوتی ہےاورآگ کابھڑکاؤچھوٹی سی شراری سے ہی ہوتاہے

كَمْ نَظْرَةٍ فَعَلَتْ فِی قَلْبِ صَاحِبِهَا،فِعْلَ السِّهَامِ بِلَا قَوْسٍ وَلَا وَتَرِ

کتنی ہی نظریں  دیکھنے والے پراتنااثرکرجاتی ہیں،کہ قوس وکمان سے نکلاتیربھی اتنااثرنہیں  کرتا۔[38]

ووقع الْإِجْمَاعُ عَلَى أَنَّ النظرأَعْظَمُ آفَةً عَلَى الْقَلْبِ، وَأَسْرَعُ الْأُمُورِ فِی خَرَابِ الدِّینِ وَالدُّنْیَا

اورابن الحاج رحمہ اللہ  فرماتے ہیں اس بات پراجماع ہے کہ نظردل کے لیے سب سے بڑی آفت ہے اوردین ودنیاکوخراب کرنے کے لیے سب سے زیادہ تیزہے۔

کیونکہ چہرے کاکھلارکھنااس کی طرف غیرمحرموں  کے دیکھنے کاسبب بنتاہے جس سے بات ناجائزتعلقات تک جاپہنچتی ہے،جیساکہ کسی نے کہا۔

نَظْرَةٌ   فَابْتِسَامَةٌ فَسَلَامٌ فَكَلَامٌ فَمَوْعِدٌ فَلِقَاءٌ

ایک اشارہ ہوادوہاتھ بڑھے اوربات ہوئی اورعہدوپیمان ہوئے اورلقاء وملاقات ہوگئی۔[39]

اورجذبات میں  بھی عموماًعورتیں  آگے ہوتی ہیں اورجلدمتاثرہوناان کے لئے ایک مستقل مرض ہے اس لئے پہلے مردوں  کونگاہیں  نیچی رکھنے کاحکم دیاگیا،اس آیت کاسبب نزول ہوں  بیان کیاگیاہے،

أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِیَّ حَدَّث: أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ مُرْشدَة كَانَتْ فِی مَحِلٍّ لَهَا فِی بَنِی حَارِثَةَ، فَجَعَلَ النِّسَاءُ یَدْخُلْنَ عَلَیْهَا غَیْرَ مُتَأزّرات فَیَبْدُو مَا فِی أَرْجُلِهِنَّ مِنَ الْخَلَاخِلِ، وَتَبْدُو صُدُورُهُنَّ وَذَوَائِبُهُنَّ،فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: مَا أَقْبَحَ هَذَا،  فَأَنْزَلَ اللهُ: وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ

جابربن عبداللہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےاسماء بنت مرثد رضی اللہ عنہ  بنوحارثہ میں  اپنے کھجوروں  کے باغ میں  تھیں ،اور عورتیں  اپنے دستورکے مطابق ان کے پاس چادراوڑھے بغیرہی آنے لگیں جس سے ان کےپاؤں  کی پازیبیں اور ان کے سینے اورمینڈھیاں  ننگی ہوگئیں ،انہیں  اس طرح دیکھ کراسماء  رضی اللہ عنہا نے کہا یہ کتنی بری بات ہے؟ جس پریہ آیات نازل ہوئیں جس میں  مسلمان عورتوں  کوبھی بطورخاص حکم فرمایا گیا’’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! مسلمان عورتوں  کوبھی حکم دے دو کہ اگرکسی وجہ سے گھروں سے باہر نکلنا پڑے تو وہ بھی اپنی نگاہ جھکا کررکھیں  یعنی جس چیزکودیکھنامناسب نہ ہواس سے نظریں  ہٹالیں اور مردوں  پرشہوت کی نظرڈالنے سے اپنی آنکھوں  کو بچائے رکھیں ۔‘‘[40]

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَمَیْمُونَةُ، قَالَتْ: فَبَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَدَخَلَ عَلَیْهِ،  وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُمِرْنا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:احْتَجِبَا مِنْهُ،فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، أَلَیْسَ هُوَ أَعْمَى لَا یُبْصِرُنَا ولا یعرفنا؟فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:أَفَعَمْیَاوَانِ أَنْتُمَا، أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ

ام المومنین سلمہ  رضی اللہ عنہا سے مروی ہےمیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں  موجودتھی جبکہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا  بھی وہیں  تھیں  کہ اتنے میں  ابن ام مکتوم  رضی اللہ عنہا آگئے اوریہ ان دنوں  کی بات ہے جبکہ ہمیں  پردے کے احکام دے دیے گئے تھے، تورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااس سے پردہ کرو،ہم نے عرض کیااے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !کیایہ نابینانہیں  ہیں  ،ہمیں  دیکھتانہیں اورپہچانتابھی نہیں  ہے؟تونبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاتوکیاتم بھی اندھی ہوتم اسے نہیں  دیکھتی ہو؟۔[41]

حكم الألبانی:ضعیف

عَنْ عَائِشَةَأَنَّهَا احْتَجَبَتْ مِنْ أَعْمَى ، فَقِیلَ لَهَا إنَّهُ لَا یَنْظُرُ إلَیْك ؟ قَالَتْ لَكِنِّی أَنْظُرُ إلَیْهِ

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام مالک  رحمہ اللہ نے ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا کے بارہ میں  نقل کیاہے کہ انہوں  نے ایک نابیناشخص سے بھی اپنے آپ کوڈھانپ کررکھا،انہیں کہاگیایہ توآپ کونہیں  دیکھ سکتا؟ فرمایا میں  تواسے دیکھ سکتی ہوں ۔[42]

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِی بَكْرٍ، رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ:كُنَّا نُغَطِّیَ وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ، وَكُنَّا نَتَمَشَّطُ قَبْلَ ذَلِكَ فِی الْإِحْرَامِ

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں  ہم اپنے چہروں  کولوگوں  سے ڈھانپ لیتی تھیں  اوراس سے پہلے احرام کی حالت میں  کنگھی بھی کرلیاکرتی تھیں ۔[43]

عَنْ أبی أُمَامَةَ مَرْفُوعًا:لَتغضُنَّ أَبْصَارَكُمْ، وَلَتَحْفَظُنَّ فُرُوجَكُمْ، ولتقیمُنّ وُجُوهَكُمْ أَوْ: لَتُكْسَفَنَّ وُجُوهُكُمْ

ابوامامہ سے مرفوعاً مروی ہےاپنی نظروں  کو جھکاؤاوراپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کرواوراپنے چہروں  کوسیدھارکھوورنہ تمہارے چہرے بگاڑدیئے جائیں  گے۔[44]

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:فَالْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاهُمَا النَّظَرُ

اورابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا آنکھیں  بھی زناکرتی ہیں  اوران کازنا(ناجائز)دیکھناہے۔[45]

اورمردوں  اورعورتوں  کے ساتھ بدکاری یاان کے علاوہ دوسری صورتوں  سے ناجائز شہوت رانی سے بھی پرہیز کریں  ،ایساباریک یاچست لباس نہ پہنیں  جس سے بدن اندر سے جھلکے یابدن کے خدوخال نمایاں  ہوں ،اپنے جسم کوچھپانے کے لئےاس وقت اپنی چادریں  اپنے اوپرڈال لیاکریں  اوراپنےبدن کی تراش خراش ظاہرنہ ہونے دیں  بجز اس کے جس کاچھپاناممکن نہ ہویعنی کپڑے ،گاؤن یابرقعےوغیرہ ۔

لِیُخَالِفْنَ شعارَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَاهِلِیَّةِ، فَإِنَّهُنَّ لَمْ یَكُنَّ یَفْعَلْنَ ذَلِكَ، بَلْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَمُرُّ بَیْنَ الرِّجَالِ مُسَفِّحَةً بِصَدْرِهَا، لَا یُوَارِیهِ شَیْءٌ، وَرُبَّمَا أَظْهَرَتْ عُنُقَهَا وَذَوَائِبَ شَعْرِهَا وَأَقْرِطَةَ آذَانِهَا

دورجاہلیت میں  یہ رواج تھاکہ عورتیں  اپنے سینوں  پرکوئی کپڑا ڈالے بغیرمردوں  کے درمیان چلتی پھرتی رہتی تھیں   جس سےبسااوقات گردن اوربال،چوٹی اوربالیاں  وغیرہ صاف نظرآتی تھیں [46]

{ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰی جُیُوْبِهِنَّ }  وَذَلِكَ لِأَن جُیُوبهنَّ كَانَت وَاسِعَة تبدو مِنْهَا نحورهن وصدروهن وَمَا حوالیها، وَكن یسدلن الْخمر من ورائهن فَتبقى مكشوفة

علامہ عینی نے بخاری کی شرح میں  اس موقع پرلکھاہےیہ آیت ’’اور اپنے سینوں  پر اپنی اوڑھنیوں  کے آنچل ڈالے رہیں ۔‘‘اس لیے نازل ہوئی، ان کے گریبان چوڑے ہوتے تھے جن سے ان کے سینے اور اس کے اطراف نظرآتے تھے اوروہ دوپٹوں  کوپشت کی طرف ڈالتی تھیں  جس سے سینے کھلے رہ جاتے تھے اس لیے حکم ہواکہ سامنے ڈالیں  تاکہ سینہ چھپ جائے۔[47]

  وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰی جُیُوْبِهِنَّ ،

فرمایا’’ اور اپنے سینوں  پر اپنی اوڑھنیوں  کے آنچل ڈالے رہیں ۔‘‘ یہاں  لفظ خمراستعمال ہوا ہے جوخِمَارکی جمع ہے جوکہ خُمُرِ سے مشتق ہے جس کا معنی چھپانااورڈانپناہے اس لیے شراب کوخَمْرِ کہتے ہیں  کیونکہ وہ پینے والے کی عقل کوڈھانپ دیتی ہے اورچھپادیتی ہے اور اخْتَمَرَتْ الْمَرْأَةُ وَتَخَمَّرَتْ اس وقت لغت میں  بولاجاتاہے جب عورت اپنے چہرے کوڈھانپ لے اورچھپالے توخِمَارُکہتے ہیں  اس کپڑے کوجسے عورت اپنے سر، چہرے گردن اورسینے کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کرتی ہے تواس میں  چہرے کوشامل کیاگیاہے،

 وَمِنْهُ خِمَارُ الْمَرْأَةِ لِأَنَّهُ یَسْتُرُ وَجْهَهَا

جیسےامام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی سے عورت کاخمارہے جواس کے چہرے کو چھپاتاہے۔[48]

جب یہ آیت نازل ہوئی توصحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی عورتوں  نے یہی معنی سمجھااور فوراًاس پرعمل کیا اور اپنے اوپرموٹے کپڑوں  کی چادریں  لے لیں ۔

بَابُ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰی جُیُوْبِهِنَّ

اس لیے امام بخاری  رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں  باقاعدہ باب باندھا ہے’’اور اپنے سینوں  پر اپنی اوڑھنیوں  کے آنچل ڈالے رہیں ۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:یَرْحَمُ اللهُ نِسَاءَ المُهَاجِرَاتِ الأُوَلَ، لَمَّا أَنْزَلَ اللهُ:وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰی جُیُوْبِهِنَّ  شَقَّقْنَ مُرُوطَهُنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِهَا

اورام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  سے مروی ہے انہوں  نے فرمایااللہ تعالیٰ ان مہاجرات (ہجرت کرنے والی)پہلی عورتوں پررحم فرمائےجنہوں  نے جب اللہ تعالیٰ کاقول’’اور اپنے سینوں  پر اپنی اوڑھنیوں  کے آنچل ڈالے رہیں ۔‘‘ نازل ہواتو اپنی چادریں  پھاڑکر(چہروں  کوڈھانپ لیا)خماربنالیے۔[49]

چنانچہ عورت کی عزت وآبروکی حفاظت کے لئے فرمایا اوراپنے سینوں  پراپنی اوڑھنیوں  کے آنچل ڈالے رہیں  تاکہ سر، گردن ،سینے اورچھاتی کاپردہ ہوجائے،جیسے فرمایا

یٰٓاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ۝۰ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ۝۰ۭ وَكَانَ اللهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۝۵۹ [50]

ترجمہ:اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ! اپنی بیویوں  اور بیٹیوں  اور اہل ِ ایمان کی عورتوں  سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں  کے پلولٹکا لیا کریں ،یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں  اور نہ ستائی جائیں ، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: یَرْحَمُ اللهُ نِسَاءَ المُهَاجِرَاتِ الأُوَلَ، لَمَّا أَنْزَلَ اللهُ:وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُیُوبِهِنَّ، شَقَّقْنَ مُرُوطَهُنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِهَا

ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اللہ تعالیٰ ان عورتوں  پررحم کرے جنہوں  نے پہلی ہجرت کی تھی جب اللہ تعالیٰ نے آیت اوراپنے دوپٹے اپنے سینوں  پر ڈالے رہا کریں  (تاکہ سینہ اورگلا وغیرہ نظرنہ آئے)نازل فرمائی توانہوں  نے اپنی چادروں  کوپھاڑکران کے دوپٹے(اوڑھنیاں ) بنا لیے۔[51]

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللهُ عَنْهَاأَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ، فَأَثْنَتْ عَلَیْهِنَّ، وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمِدْنَ إِلَى حُجُورٍ  أَوْ حُجُوزٍ، شَكَّ أَبُو كَامِلٍ  فَشَقَقْنَهُنَّ فَاتَّخَذْنَهُ خُمُرًا

ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  نے انصارکی عورتوں  کاذکرفرمایاان کی تعریف کی اوران کے اچھے اعمال بیان کیے اورکہا جب سورۂ النورنازل ہوئی توان کی عورتوں  نے پردوں  کے کپڑے یامردوں  کی چادریں  لیں  اور انہیں  پھاڑکراپنے لئے پردے کی چادریں  بنالیں (یعنی موٹے کپڑے کی چادریں  بنالیں )۔[52]

حكم الألبانی:ضعیف الإسناد

توخمارلینے کی شرط یہ ہے کہ وہ اتناباریک نہ ہوکہ اس کے نیچے سے بال اورچہرہ اور گردن اورسینہ اورزیورات کی جگہ نظرآئے،

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِی عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ:دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمنِ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ. وَعَلَى حَفْصَةَ خِمَارٌ رَقِیقٌ.یشف عن جبینها فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَكَسَتْهَا خِمَاراً كَثِیفاً، وقالت: أما تعلمین ما أنزل الله فی سورة النور؟

ام علقمہ سے مروی ہےمیں  نے حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو دیکھاکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زوج عائشہ  رضی اللہ عنہا  کے پاس گئیں  ان پرباریک خمارتھاجس سے ان کی پیشانی ظاہرہورہی تھی، توعائشہ  رضی اللہ عنہا نے اس پرسختی سے کہا کیا تونہیں  جانتی کہ سورۂ النورمیں  اللہ تعالیٰ نے پردہ نازل کیاہے؟ پھرموٹاخمارمنگواکران کوپہنایا۔[53]

هَذَا الْحَدِیثُ الصَّحِیحُ صَرِیحٌ فِی أَنَّ النِّسَاءَ الصَّحَابِیَّاتِ الْمَذْكُورَاتِ فِیهِ فَهِمْنَ أَنَّ مَعْنَى یَقْتَضِی سِتْرَ وُجُوهِهِنَّ ، وَقَدْ أَثْنَتْ عَائِشَةُ رَضِیَ اللهُ عَنْهَا عَلَى تِلْكَ النِّسَاءِ بِمُسَارَعَتِهِنَّ لِامْتِثَالِ أَوَامِرِ اللهِ فِی كِتَابِهِ، وَمَعْلُومٌ أَنَّهُنَّ مَا فَهِمْنَ سَتْرَ الْوُجُوهِ

علامہ محمدالامین الشنقیطی فرماتے ہیں (ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  کی)یہ حدیث اس باب میں  صریح ہے کہ صحابیات نے اس آیت کامعنی چہروں  کاچھپاناہی لیاچنانچہ انہوں  نے اسی پرعمل کرتے ہوئے اپنے چہروں  کوچھپالیااوراسی لیے ام المومنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا نے باقاعدہ ان عورتوں  کی تعریف ومدح کی جنہوں  نے یہ حکم سن کراس پرعمل کی جلدی کی تھی اوربدیہی بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھتی تھیں  وہ اپنے پاس سے اس آیت کامعنی متعین نہیں  کرسکتی تھیں ۔[54]

فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ لِنِسَاءِ قُرَیْشٍ لَفَضْلا وَإِنِّی وَاللهِ مَا رَأَیْتُ أَفْضَلَ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ أَشَدَّ تَصْدِیقًا بِكِتَابِ اللهِ، وَلَا إِیمَانًا،بِالتَّنْزِیلِ لَقَدْ أُنْزِلَتْ سُورَةُ النُّورِ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُیُوبِهِنَّ انْقَلَبَ رِجَالُهُنَّ إِلَیْهِنَّ یَتْلُونَ عَلَیْهِنَّ مَا أُنْزِلَ إِلَیْهِنَّ فِیهَا، وَیَتْلُو الرَّجُلُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ، وَعَلَى كُلِّ ذِی قَرَابَتِهِ، مَا مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا قَامَتْ إِلَى مِرْطِهَا الْمُرَحَّلِ فَاعْتَجَرَتْ بِهِ تَصْدِیقًا وَإِیمَانًا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنْ كِتَابِهِ، فَأَصْبَحْنَ یُصَلِّینَ وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُعْتِجِرَاتٍ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِنَّ الْغِرْبَانَ

چنانچہ عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں قریش کی عورتوں  کے لیے بلاشبہ فضل ہےاوراللہ کی قسم!میں  نےکتاب اللہ کی تصدیق کرنے اوراس پرایمان لانے میں  انصارکی عورتوں  سے بڑھ کرکوئی بھی عورت نہیں  دیکھی ،جب اللہ تعالیٰ نے سورئہ نورمیں ’’اور اپنے سینوں  پر اپنی اوڑھنیوں  کے آنچل ڈالے رہیں ۔‘‘   نازل فرمائی توان کے مردحضرات (اس نئی وحی)کولے کرگھروں  کی طرف پلٹے اورہرشخص نے اپنی بیوی ،بیٹی ،بہن اورکسی بھی قرابت دارخاتون کوبلاکراللہ تعالیٰ کاپیغام سنایا،توپھرکیاتھاہرانصاری عورت نےاپنے بستروں  کی چادریں  یاکمبل پھاڑکراپنے لیے اوڑھنیاں  بنالیں  تاکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تصدیق اورایمان کااظہارہو،   چنانچہ صبح کووہ تمام عورتیں  اس طرح چادریں  لپیٹے ہوئےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیچھے نمازپڑھنے آئیں  کہ لگتاتھاگویاکہ ان کے سروں  پرکوئے بیٹھے ہوئے ہیں ۔[55]

 عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: {یُدْنِینَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیبِهِنَّ}، [56]، خَرَجَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِنَّ الْغِرْبَانَ مِنَ الأَكْسِیَةِ

اورام المومنین ام سلمہ  رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب عورتوں  کے متعلق یہ حکم نازل ہوا’’اور اپنے سینوں  پر اپنی اوڑھنیوں  کے آنچل ڈالے رہیں ۔‘‘توانصاری عورتیں  جب باہرنکلتیں  توایسے لگتاکہ ان کے سروں  پرکوئے بیٹھے ہوں  ان سیاہ چادروں  کی وجہ سے جووہ اپنے سروں  پرلینے لگی تھیں ۔[57]

اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی موٹے کپڑے کی چادرکے بارے میں  تصریح فرمائی،

عَنْ دِحْیَةَ بْنِ خَلِیفَةَ الْكَلْبِیِّ، أَنَّهُ قَالَ: أُتِیَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِیَّ، فَأَعْطَانِی مِنْهَا قُبْطِیَّةً، فَقَالَ:اصْدَعْهَا صَدْعَیْنِ، فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِیصًا، وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ  ،  فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ: وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا یَصِفُهَا

دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مصرکے سفیدباریک کپڑے لائے گئے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان میں  سی ایک کپڑا مجھے بھی عنایت فرمایااورکہااس کے دوٹکڑے کرلوایک کی تم قمیص بنالواوردوسرااپنی اہلیہ کودے دووہ اس کواپنی اوڑھنی بنالے،پھرجب میں  نے پشت پھیری توآپ نے فرمایااپنی بیوی کوکہناکہ اس کے نیچے کوئی اور کپڑالگالے تاکہ اس کے جسم کوظاہرنہ کرے۔[58]

حكم الألبانی: ضعیف

 أَنَّ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَیْرِ قَدِمَ مِنَ الْعِرَاقِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِی بَكْرٍ بِكِسْوَةٍ من ثیاب مرویة وقوهیة رقاق عتاق بعد ما كُفَّ بَصَرُهَا،  قَالَ: فَلَمَسَتْهَا بِیَدِهَا ثُمَّ قَالَتْ: أُفٍّ! رُدُّوا عَلَیْهِ كِسْوَتَهُ،قَالَ: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَیْهِ وَقَالَ: یَا أُمَّهْ إِنَّهُ لا یَشِفُّ، قَالَتْ: إِنَّهَا إِنْ لَمْ تَشِفَّ فَإِنَّهَا تَصِفُ، قال: فَاشْتَرَى لَهَا ثِیَابًا مَرْوِیَّةً وَقَوْهِیَّةً فَقَبِلَتْهَا وَقَالَتْ: مِثْلَ هَذَا فَاكْسُنِی

ہشام بن عروہ سے مروی ہے منذربن زبیرایک بارعراق کے سفرسے لوٹے اورواپسی پرایک لباس جوکہنہ اورباریک تھااسماء  رضی اللہ عنہا کی خدمت میں  بھیجااس وقت اسماء  رضی اللہ عنہا کی بینائی جاچکی تھی،انہوں  نے وہ کپڑااپنے ہاتھ سے ٹٹولااورفرمایاافسوس!یہ لباس منذرکوواپس کردو،منذرکویہ بات ناگوارمحسوس ہوئی چنانچہ کہااے اماں  جان!یہ لباس اگرچہ کچھ باریک ہے مگراس سے جسم نہیں  جھلکے گا، انہوں  نے فرمایالیکن اس سے جسم کے اعضاء کی بناوٹ ظاہرہوگی،منذرنے اسماء  رضی اللہ عنہا کے لیے ایک نسبتا ًموٹالباس خریدلیاجسے اسماء  رضی اللہ عنہا نے قبول کرلیااورفرمایامجھے اس قسم کالباس پہنایاکرو۔[59]

اوراپنےحسن وجمال میں  نکھارپیداکرنے کے لئے جوخوشنمالباس اورسر،منہ اورہاتھوں  اورپاؤں  کے زیوارت پہنتی ہیں وہ ظاہرنہ کریں ،البتہ جوکچھ اس آرائش وزیبائش میں  سے ظاہرہوجائےتواس پرکوئی مواخذہ نہیں  ہے،

عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ:وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا قَالَ:هِیَ الثِّیَابُ

جیسے عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہما نے’’ اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں  بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے۔‘‘ کی تفسیرمیں  فرمایااس سے مرادکپڑے ہیں ۔[60]

 عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ،وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَهُنَّ قَالَ:لَا خُلْخَالَ وَلَا شَنْفَ وَلَا قُرْطَ وَلَا قِلَادَةَ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا قَالَ: الثِّیَابُ

مستدرک حاکم میں  عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہما نے’’ اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں  ۔‘‘کے بارے میں  فرمایاکہ اس سے پازیب،بالیاں  اورہاروغیرہ مرادہیں  اور’’بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے۔‘‘سے کپڑے مراد ہیں ۔ [61]

اسلام نے اظہارزینت، بے پردگی،لوچ دارگفتگو اوراس طرح کی دوسری چیزوں  سے سختی کے ساتھ روکا ہے البتہ اپنے ان خصوصی رشتہ داروں  کے سامنے آنے کی اجازت دی ہے جن کواپنے خصوصی رشتہ کی وجہ سے طبعاًعورت کے لئے خیرکی خواہش ہوتی ہے،اورجن کی طرف جنسی میلان بھی نہیں  ہوتاجس سے فتنے میں  مبتلاہونے کااندیشہ ہو جیسے باپ،حقیقی بھائی،حقیقی بیٹااورحقیقی بھتیجا وغیرہ ۔

لَمَّا أَمَرَ تَعَالَى النِّسَاءَ بِالْحِجَابِ مِنَ الْأَجَانِبِ، بیَّن أَنَّ هَؤُلَاءِ الْأَقَارِبَ لَا یَجِبُ الِاحْتِجَابُ مِنْهُمْ، كَمَا اسْتَثْنَاهُمْ فِی سُورَةِ النُّورِ، عِنْدَ قَوْلِهِ:وَلا یُبْدِینَ زِینَتَهُنَّ إِلا لِبُعُولَتِهِنَّ

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں  جب اللہ تعالیٰ نے عورتوں  کو(مذکورہ آیت میں )حجاب کاحکم دیاتواس کے ساتھ ان قریبی رشتہ داروں  کی ایک فہرست بھی بیان کردی جن سے پردہ ضروری نہیں  ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ان رشتہ داروں  کوسورہ النورکی آیت’’وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں  مگر ان لوگوں  کے سامنے شوہر، باپ، شوہروں  کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں  کے بیٹے، بھائی، بھائیوں  کے بیٹے ، بہنوں  کے بیٹے ، اپنے میل جول کی عورتیں ، اپنے مملوک، وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں ، اور وہ بچے جو عورتوں  کی پوشیدہ باتوں  سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں ۔‘‘  میں  متثنیٰ قراردیاہے۔[62]

کیونکہ عورت کی ساری زینت خاوندکے لئے ہوتی اورخاوندکے لئے عورت کا سارابدن ہی حلال ہے چنانچہ خاوندکو سب پرمقدم رکھ کرفرمایااپنے خاوند یااپنے باپ کے سامنے ان میں  دادا، پردادا، نانا،پرنانااوراس سے اوپرسب شامل ہیں  یااپنے خاوندکے باپ یعنی خسراس میں  خسر کا باپ ، دادا،پردادااوپرتک سب شامل ہیں  یااپنے خاوندکے بیٹے اس میں  پوتے ، پرپوتےنیچے تک سب شامل ہیں  یااپنے عینی،اخیافی اورعلاتی بھائی کے بیٹے،اس میں  پوتے،پرپوتے،نواسے نیچے تک سب شامل ہیں  یا اپنے بھتیجوں  اوران کے بیٹے نیچے تک سب شامل ہیں  یااپنے بھانجوں  ان میں  تینوں  قسم کی بہنوں  کی اولادشامل ہے یااپنی میل جول کی مسلمان عورتوں  کے ، اور ان عورتوں  کو بھی اس بات سے منع کردیاگیاکہ وہ اپنے خاوندوں  کے سامنے دوسری عورتوں  کے خدوخال اورزیب وزینت کابیان کریں ،

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:لَا تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ یَنْظُرُ إِلَیْهَا

عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہما سے مروی ہےکوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعداپنے شوہرسے اس کاحسن وجمال ،خدوخال اورزیب وزینت بیان نہ کرے گویاکہ وہ اسے دیکھ رہاہے۔[63]

فَإِنَّ الْحِكْمَةَ فِی هَذَا النَّهْیِ خَشْیَةُ أَنْ یُعْجِبَ الزَّوْجَ الْوَصْفُ الْمَذْكُورُ فَیُفْضِی ذَلِكَ إِلَى تَطْلِیقِ الْوَاصِفَةِ أَوْ الِافْتِتَانِ بِالْمَوْصُوفَةِ

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نہی میں  حکمت یہ ہے کہ ڈرہے کہ کہیں  خاونداس عورت کاحلیہ (حسن وجمال ، خدوخال اورزیب وزینت )سن کراس پرفداہوکراپنی عورت کوطلاق دے دے یااس کے فتنہ میں  مبتلانہ ہوجائے۔[64]

اسی طرح یہی تعلیم مردکے لئے بھی ہے کہ کسی مردکی اپنی بیوی کے سامنے مبالغہ آمیز تعریف نہ کرے۔

یااپنی لونڈیوں  کے یاوہ بوڑھے،نامرداورخصی مومن یاکافرغلام مردجوگھروں  میں خدمت میں  مشغول رہتے ہیں  اور جن کاعورتوں  کی طرف کوئی میلان نہیں  ہے ۔لیکن وہ مخنث ،ہیجڑےجوبدزبان اوربرائی پھیلانے والے ہوں  وہ اس حکم میں  شامل نہیں  ہیں ،جیسے غزوہ طائف کے موقع پریہ واقعہ ہوا۔

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی الْبَیْتِ، فَقَالَ لِأَخِی أُمِّ سَلَمَةَ: یَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِی أُمَیَّةَ إِنْ فَتَحَ اللهُ عَلَیْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَإِنِّی أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَیْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا یَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَیْكُمْ

ام المومنین ام سلمہ  رضی اللہ عنہا سے مروی ہےایک مخنث ان کے پاس تھا(جس کانام ہیت یاتہیب یامائع تھا)اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  گھرمیں  تھے تواس نے ام سلمہ  رضی اللہ عنہا کے بھائی سے کہااے عبداللہ بن امیہ!اگراللہ تعالیٰ نے کل طائف پرتم کوفتح دی تومیں  تجھے غیلان کی لڑکی دکھادوں  گاجب وہ سامنے آتی ہے تواس کے پیٹ پرچارسلوٹیں  ہوتی ہیں  اورجب وہ پیٹھ موڑکرجاتی ہے توآٹھ معلوم ہوتی ہیں (دونوں  طرف سے یعنی موٹی ہے اورعرب موٹی عورتوں  کوپسندکرتے تھے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ بات سنی تو فرمایاآئندہ یہ تمہارے پاس اندرنہ آیاکرے،اس سے پردہ کرلو۔[65]

مومن اورکافرغلام سے پردہ واجب نہیں  بلکہ رخصت ہے۔

عَنْ أَنَسٍ،  أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، قَالَ: وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِیَ اللهُ عَنْهَا ثَوْبٌ، إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ یَبْلُغْ رِجْلَیْهَا، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَیْهَا لَمْ یَبْلُغْ رَأْسَهَا،  فَلَمَّا رَأَى النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ:إِنَّهُ لَیْسَ عَلَیْكِ بَأْسٌ، إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ

انس  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ فاطمہ  رضی اللہ عنہا کے لئے ایک غلام لائے جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کوہبہ کیاتھا،انس  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں  فاطمہ  رضی اللہ عنہا  پرایساکپڑاتھاکہ اگروہ اسے سرپرلپیٹیں  توان کے پاؤں  تک نہ پہنچتاتھا اور اگرپاؤں  چھپاتیں  توسرپرنہ رہتاتھا،پس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی اس الجھن کودیکھا تو فرمایا تمہارے لئے کوئی حرج کی بات نہیں  تمہارے سامنے صرف تمہارے والدہیں  اورتمہارا غلام[66]

أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعَدَة الْفَزَارِیَّ كَانَ أَسْوَدَ شَدِیدَ الْأَدْمَةِ

اس غلام کانام عبداللہ بن مسعدہ تھایہ فرازی تھےاورسخت سیاہ فام تھے۔

لیکن اگرغلام آزاد کر دیا گیاہوتو پھر اس سے پردہ کرناہوگا۔

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ، وَكَانَ عِنْدَهُ مَا یُؤَدِّی فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ

ام المومنین ام سلمہ  رضی اللہ عنہا سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں  سے فرمایاتم میں  سے جس کسی کامکاتب غلام ہوجس سے شرط طے ہوگئی ہوکہ اتناروپیہ دے دے توتو آزاد ہوگا ، پھراس کے پاس اس قدرمال ہوجووہ اداکرسکتا ہو  توتمہیں چاہیے کہ اس سے پردہ کرو۔[67]

یاان کم سن لڑکوں  کے جوابھی عورتوں  کے پردے کی باتوں  سے واقف نہیں  ہیں کے سواکسی کے سامنے نہ آئیں  ۔

دیوروں اورجیٹھوں  کا گھروں  میں  عام آنا جانا ہوتاہے اورعورتیں  اکثران کے سامنے نکلتی ہیں اورمثل محرم کے ان کے سامنے اپنے اعضاء کھولے رہتی ہیں  توایک صحابی  رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ مسئلہ دریافت کیا۔

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ:أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِیَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ،فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: یَا رَسُولَ اللهِ، أَفَرَأَیْتَ الحَمْوَ؟ قَالَ:الحَمْوُ المَوْتُ

عقبہ بن عامر  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاعورتوں  میں  جانے سے بچتے رہو (یعنی مردوں  کاعورتوں  کی محفلوں  میں  جاناممنوع ہے)اس پرقبیلہ انصارکے ایک صحابی  رضی اللہ عنہ نے عرض کیااے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !دیورکے متعلق آپ کی کیارائے ہے؟(وہ اپنی بھاوج کے پاس جاسکتاہے یانہیں ؟)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا دیور (یاجیٹھ) کاجاناتوہلاکت ہے(کیونکہ یہ غیرمحرم ہے اوراس سے نکاح ہو سکتا ہے)۔[68]

اس حدیث میں  غیرمحرم مردکی غیرمحرم عورت کے ساتھ خلوت کی ممانعت کردی گئی تاکہ وہ علیحدگی اورتنہائی میں  رہ کربرائی نہ کرسکیں ۔

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سےحَمْوکے بارے میں  پوچھاگیا۔

الحَمْوَ: جمعه الأحماء، وهم الأصهار من قِبَل الزَّوْج، والأختان من قِبل الْمَرْأَة، والأصهار تجمع الْفَرِیقَیْنِ أَیْضا، وَأَرَادَ هَهُنَا أَخا الزَّوْج، فَإِنَّهُ لَا یكون محرما للْمَرْأَة، وَإِن كَانَ أَرَادَ أَبَا الزَّوْج وَهُوَ محرم، فَكیف بِمن لَیْسَ بِمحرم؟!

امام بغوی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں  حَمْوُکی جمع احماء ہے اوراس کااطلاق عورت کے خاوندکی جانب سے مردرشتہ داراورمردکی عورت کی جانب بہنوں  پرہوتاہے اورالْأَصْهَارَکالفظ دونوں  فریقوں  کوجمع کرتاہے اوریہاں  پراس سے مرادخاوندکابھائی ہے اس لیے کہ بھابھی کامحرم نہیں  ہے اوراگرخاوندکاباپ مرادہوتووہ محرم ہے،پھراس آدمی کے ساتھ خلوت کس طرح صحیح ہوگی جوغیرمحرم ہو؟

ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ:وَسَمِعْتُ اللیْثَ بْنَ سَعْدٍ، یَقُولُ:الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ، وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ، ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ

اورعبداللہ بن وھب سے مروی ہے میں  نے لیث بن سعد کو فرماتے ہوئے سناحموخاوندکابھائی اوراس کی مثل خاوندکے قریبی رشتہ دارجیسے چچاکابیٹا۔[69]

اتَّفَقَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِاللُّغَةِ عَلَى أَنَّ الْأَحْمَاءَ أَقَارِبُ زوج الْمَرْأَة كأبیه وَعَمه وأخیه وبن أَخِیه وبن عَمه وَنَحْوهم وَأَن الاختان أَقَارِبُ زَوْجَةِ الرَّجُلِ وَأَنَّ الْأَصْهَارَ تَقَعُ عَلَى النَّوْعَیْنِ

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل لغت کااس بات پراتفاق ہے کہ احماء عورت کے خاوندکے قریبی رشتہ دارہیں  جیساکہ مردکاباپ،چچا،بھائی ،بھتیجا،چچازادوغیرہ اورآدمی کی بیوی کی قریبی رشتہ داربہنیں  اورالْأَصْهَارَکالفظ ان دونوں  انواع پربولاجاتاہے۔[70]

الْمُرَادُ فِی الْحَدِیثِ أَقَارِبُ الزَّوْجِ غَیْرُ آبَائِهِ وَأَبْنَائِهِ لِأَنَّهُمْ مَحَارِمُ لِلزَّوْجَةِ یَجُوزُ لَهُمُ الْخَلْوَةُ بِهَا وَلَا یُوصَفُونَ بِالْمَوْتِ،قَالَ وَإِنَّمَا الْمُرَادُ الْأَخُ وبن الْأَخ وَالْعم وبن الْعم وبن الْأُخْتِ وَنَحْوُهُمْ مِمَّا یَحِلُّ لَهَا تَزْوِیجُهُ لَوْ لَمْ تَكُنْ مُتَزَوِّجَةً وَجَرَتِ الْعَادَةُ بِالتَّسَاهُلِ فِیهِ فَیَخْلُو الْأَخُ بِامْرَأَةِ أَخِیهِ فَشَبَّهَهُ بِالْمَوْتِ وَهُوَ أَوْلَى بِالْمَنْعِ مِنَ الْأَجْنَبِیِّ

اورفرماتے ہیں  حدیث میں  حموسے مرادخاوندکے قریبی رشتہ دارہیں  ،اس کے باپ اوربیٹوں  کے علاوہ اس لیے کہ سسراورخاوندکابیٹاعورت کے محرم ہیں  ،ان کے ساتھ خلوت جائزہے اورانہیں  موت سے موصوف نہیں  کیاجاتا، یہاں  مطلب خاوندکا بھائی، بھتیجا، چچا، چچا کا بیٹا ، بھانجاوغیرہ ہیں  جس کے ساتھ اس عورت کانکاح حلال ہوجبکہ وہ غیرشادی شدہ ہواوراس مسئلہ میں  عموماًغفلت برتی جاتی ہے کہ آدمی اپنی بھابھی سے خلوت وتنہائی اختیار کرتا ہے اسے موت سے تشبہ دی گئی اوراجنبی کی نسبت یہ ممانعت کے زیادہ لائق ہے[71]

وَإِنَّمَا الْمُرَادُ أَنَّ الْخَلْوَةَ بِقَرِیبِ الزَّوْجِ أَكْثَرُ مِنَ الْخَلْوَةِ بِغَیْرِهِ وَالشَّرُّ یُتَوَقَّعُ مِنْهُ أَكْثَرُ مِنْ غَیْرِهِ وَالْفِتْنَةُ بِهِ أَمْكَنُ لِتَمَكُّنِهِ مِنَ الْوُصُولِ إِلَى الْمَرْأَةِ وَالْخَلْوَةِ بِهَا مِنْ غَیْرِ نَكِیرٍ عَلَیْهِ بِخِلَافِ الْأَجْنَبِیِّ

اورایک مقام پرفرماتے ہیں اس کامطلب یہ ہے کہ شوہرکے قریبی کی خلوت دیگرافرادکی نسبت زیادہ ہوتی ہے اوراس سے شرکی توقع دیگرافرادکی نسبت زیادہ ہوتی ہے اورعورت کی طرف اس کی رسائی کی بناپرفتنہ زیادہ ممکن ہے اوراجنبی آدمی کے علاوہ اس کوبغیرانکارکے تنہائی حاصل ہوجاتی ہے۔[72]

مَعْنَاهُ أَنَّ الْخَلْوَةَ بِالْأَحْمَاءِ مُؤَدِّیَةٌ إِلَى الْفِتْنَةِ وَالْهَلَاكِ فِی الدِّینِ فَجَعَلَهُ كَهَلَاكِ الْمَوْتِ

قاضی عیاض رحمہ اللہ  فرماتے ہیں دیوروجیٹھ وغیرہ سے خلوت فتنے اوردین میں  تباہی کوجنم دیتی ہے پس اس کوموت کی تباہی کی طرح بنادیا۔[73]

الْمَعْنَى أَنَّ خَلْوَةَ الرجل بِامْرَأَة أَخِیه أَو بن أَخِیهِ تَنْزِلُ مَنْزِلَةَ الْمَوْتِ

امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کامطلب آدمی کااپنے بھائی یابھتیجے کی بیوی سے خلوت موت کے مقام پراترتی ہے اورعرب مکروہ چیزکوموت سے تعبیرکرتے ہیں ۔[74]

هِیَ كَلِمَةٌ تَقُولُهَا الْعَرَبُ مَثَلًا كَمَا تَقُولُ الْأَسَدُ الْمَوْتُ أَیْ لِقَاؤُهُ فِیهِ الْمَوْتُ وَالْمَعْنَى احْذَرُوهُ كَمَا تَحْذَرُونَ الْمَوْتَ

امام ابن الاعربی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں  یہ ایساکلمہ ہے جسے عرب اس طرح استعمال کرتے ہیں  کہ آپ کہیں  شیرموت ہے تواس کامطلب یہ ہوتاہے کہ اس کی ملاقات میں  موت ہے اور مفہوم یہ ہے کہ اس سے اس طرح ڈروجیسے تم موت سے ڈرتے ہو۔[75]

ان تمام ائمہ سلف  رحمہ اللہ کی تشریحات سے معلوم ہواکہ دیورجیٹھ وغیرہ کواپنی بھابھی کے ساتھ خلوت وتنہائی اختیار کرنا حرام ہے،اس سے کئی مفاسدوفتن جنم لیتے ہیں  اسی طرح کسی مردکے لیے اپنی سالی اوربیوی کی چچازاد،خالہ زادوغیرہ سے خلوت کرنابھی منع ہے اوراس کے مفاسدہمارے معاشرے کے اندرموجودہیں ۔

ابْنَ عَبَّاسٍ، یَقُولُ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ یَقُولُ:لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ، وَلَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِی مَحْرَمٍ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ امْرَأَتِی خَرَجَتْ حَاجَّةً، وَإِنِّی اكْتُتِبْتُ فِی غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا قَالَ:انْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ

عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما سے مروی ہےمیں  نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں  کہ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں  نہ رہے سوائے اس کے کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو اور نہ کوئی عورت سفر کرے سوائے اس کے کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو، ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میری بیوی حج کے لئے نکلی ہے اور میرا نام فلاں  فلاں  غزوہ میں  لکھ دیا گیا ہے،  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ تو جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔[76]

عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ:لَا یَدْخُلَنَّ رَجُلٌ، بَعْدَ یَوْمِی هَذَا، عَلَى مُغِیبَةٍ، إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ

عبداللہ بن عمروبن العاص  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  منبرپرکھڑے ہوئے اورارشادفرمایاآج کے بعدمرداس عورت کے پاس نہ جائے جس کاخاونداس کے گھرنہ ہو الا کہ اگراس کے ساتھ ایک یادوشخص ہوں  توپھرجاسکتاہے(تاکہ فتنہ سے محفوظ رہے اوروہ بھی صرف نیکی کی غرض سے جاسکتاہے یہ مقصودنہیں  کہ اگربدمعاشی کرنی ہے تو اکیلا نہ جائے بلکہ ایک دوکوساتھ لے کر جائے)۔[77]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بِالجَابِیَةِ فَقَالَ:إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِی مِثْلِ مَقَامِی هَذَا فَقَالَ:أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِی، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَهُمْ، ثُمَّ یَجِیءُ قَوْمٌ یَحْلِفُ أَحَدُهُمْ عَلَى الْیَمِینِ قَبْلَ أَنْ یُسْتَحْلَفَ عَلَیْهَا، وَیَشْهَدُ عَلَى الشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ یُسْتَشْهَدَ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ یَنَالَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ، فَلْیَلْزَمُ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنَ  الِاثْنَیْنِ أَبْعَدُ،وَلا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّیْطَانُ،  وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَسُرُّهُ حَسَنَتُهُ وَتَسُوؤُهُ سَیِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ

عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےسیدناعمرفاروق  رضی اللہ عنہ مقام جابیہ پرخطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے توفرمایاایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اسی طرح خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے جیسے میں  کھڑا ہوا ہوں ، اور فرمایا کہ میں  تمہیں  اپنے صحابہ کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتا ہوں  یہی حکم ان کے بعد والوں  اور ان کے بعد والوں  کا بھی ہے، اس کے بعد جھوٹ اتنا عام ہوجائے گا کہ گواہی کی درخواست سے قبل ہی آدمی گواہی دینے کے لئے تیار ہوجائے گا ،سو تم میں  سے جو شخص جنت کا ٹھکانہ چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ جماعت کو لازم پکڑے کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے،یاد رکھو! تم میں  سے کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت میں  نہ بیٹھے کیونکہ ان دو کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے،اور جس شخص کو اپنی نیکی سے خوشی اور برائی سے غم ہووہ مومن ہے۔[78]

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:أَلَا لَا یَبِیتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَیِّبٍ، إِلَّا أَنْ یَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ

جابربن عبداللہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا آگاہ رہو نکاح کرنے والے یا محرم کے علاوہ کوئی آدمی کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات نہ گزارے۔[79]

أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِی هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَیْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَهِیَ تَحْتَهُ یَوْمَئِذٍ، فَرَآهُمْ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَیْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ:لَا یَدْخُلْ رَجُلٌ بَعْدَ یَوْمِی هَذَا عَلَى مُغِیبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ

عمروبن العاص  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےبنو ہاشم کے کچھ لوگ ایک مرتبہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں  آئے ہوئے تھے ان کے زوج محترم سیدنا ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  بھی تشریف لے آئے چونکہ وہ ان کی بیوی تھیں  اس لیے انہیں  اس پر ناگواری ہوئی،انہوں  نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ میں  نے خیر ہی دیکھی (کوئی برا منظر نہیں  دیکھا لیکن پھر بھی اچھا نہیں  لگا) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا اللہ نے انہیں  بچا لیا،    اس کے بعد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  منبر پر تشریف لائے اور فرمایا آج کے بعد کوئی شخص کسی ایک عورت کے پاس تنہا نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک اور یا دو آدمی ہوں  (تاکہ فتنہ سے محفوظ رہے اوروہ بھی صرف نیکی کی غرض سے جاسکتاہے یہ مقصودنہیں  کہ اگربدمعاشی کرنی ہے تواکیلانہ جائے بلکہ ایک دوکو ساتھ لے کر جائے)[80]

عَنْ جَابِرٍ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَلِجُوا عَلَى الْمُغِیبَاتِ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ

جابربن عبداللہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاشوہروں  کی غیر موجودگی میں  عورتوں  کے پاس نہ جاؤکیونکہ شیطان تم میں  سے کسی کے اندرخون کی طرح گردش کرتاہے۔[81]

وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ

’’وہ اپنے پاؤں  زمین پرمارتی ہوئی نہ چلاکریں  کہ اپنی جوزینت انہوں  نے چھپارکھی ہے اس کالوگوں  کوعلم ہوجائے۔‘‘

وذكر الزینة دون مواقعها: للمبالغة فی الأمر بالتصوّن والتستر

علامہ زمحشری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مقامات زینت کے بجائے زینت کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں  تاکہ ان مقامات کوچھپانے اورپوشیدہ رکھنے کے حوالے سے حکم میں  مبالغہ کیاجاسکے۔[82]

كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِی الْجَاهِلِیَّةِ إِذَا كَانَتْ  تَمْشِی فِی الطَّرِیقِ وَفِی رَجْلِهَا خَلْخَالٌ صَامِتٌ لَا یُسْمَعُ صَوْتُهُ ضَرَبَتْ بِرِجْلِهَا الْأَرْضَ،فَیَعْلَمُ الرِّجَالُ طَنِینَهُ، فَنَهَى اللهُ الْمُؤْمِنَاتِ عَنْ مَثَلِ ذَلِكَ. وَكَذَلِكَ إِذَا كَانَ شَیْءٌ مِنْ زِینَتِهَا مَسْتُورًا

دورجاہلیت میں  رواج تھاکہ عورت جب رستے میں  چلتی اوراس نے پاؤں  میں پازیب پہنی ہوتی جس کی آوازسنائی نہ دیتی تووہ اپنےپاؤں  کو زورزور سے زمین پرمار کرچلتی تاکہ پیرکازیوریعنی پازبیں  بجیں  ، جس سے مردوں  کوپازیب کی چھنک معلوم ہوجاتی،اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں  کوایساکرنے سےسختی سے منع کیا۔[83]

پس عورت کی ہرایک ایسی حرکت منع ہے جس سے اس کاکوئی چھپا ہوا سنگھارکھل سکے،چنانچہ فرمایا اپنے گھروں  سےاپنےپاؤں  میں  پازیب ڈال کریااونچی ایڑی کے سینڈل پہن کر اور خوشبو لگاکرنہ نکلیں  کہ پازیبوں  کی جھنکار یا سینڈل کی ٹک ٹک سے اور خوشبوکی مہک سے مرداس کی طرف متوجہ ہوں ۔

عَنْ أَبِی مُوسَى،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ عَیْنٍ زَانِیَةٌ، وَالمَرْأَةُ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالمَجْلِسِ فَهِیَ كَذَا وَكَذَا یَعْنِی زَانِیَةً

ابوموسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہرآنکھ زانیہ ہے اور عورت جب خوشبولگاکرمردوں  کے بیٹھنے کی جگہ سے گزرےوہ ایسی ویسی ہے یعنی زانیہ ہے ۔[84]

اورعورتوں کوجائزنہیں  کہ خوشبولگاکرباہرنکلیں  خواہ مسجدہی جاناہو۔

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، قَالَ: لَقِیَتْهُ امْرَأَةٌ وَجَدَ مِنْهَا رِیحَ الطِّیبِ یَنْفَحُ ، وَلِذَیْلِهَا إِعْصَارٌ، فَقَالَ: یَا أَمَةَ الْجَبَّارِ، جِئْتِ مِنَ الْمَسْجِدِ؟  قَالَتْ: نَعَمْ ،  قَالَ: وَلَهُ تَطَیَّبْتِ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ حِبِّی أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ لِامْرَأَةٍ تَطَیَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ، حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الجَنَابَةِ

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےابوہریرہ  رضی اللہ عنہ کوایک عورت ملی انہوں  نے اس سے عطرکی خوشبومحسوس کی، اوراس کی چادرکاپلوبھی غباراڑاتاآرہاتھاانہوں  نے اس سے کہااے جبارکی بندی!بھلاتومسجدسے آرہی ہے؟اس نے کہاہاں ،انہوں  نے کہاتوکیااسی کے لئے تو نے خوشبولگائی تھی ؟وہ کہنے لگی ہاں ، انہوں  نے کہامیں  نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم  سے سناہے آپ فرماتے تھے جوعورت اس مسجدکے لیے خوشبولگاکرآئے اس کی نمازقبول نہیں  حتی کہ واپس جائے اوراس اہتمام سے غسل کرے جیسے کہ وہ جنابت سے کرتی ہے ۔[85]

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ، وَلَكِنْ لِیَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ

اورابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااللہ کی بندیوں  کواللہ کی مسجدوں  میں  آنے سے منع نہ کرومگروہ خوشبولگاکرنہ آئیں ۔[86]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں  کوہدایت فرمائی کہ وہ راستہ اورگلی میں  چلتے ہوئے عین درمیان میں  چلنے کے بجائے اس کی ایک جانب ہوکر چلا کریں ،یہ کیفیت ان کے باحیا اور باوقارہونے کی علامت ہے۔

عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ، عَنْ أَبِیهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ: وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَاءِ فِی الطَّرِیقِ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ: اسْتَأْخِرْنَ ، فَإِنَّهُ لَیْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِیقَ عَلَیْكُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِیقِ،فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْتَصِقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَیَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوقِهَا بِهِ

ابواسیدانصاری  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےمیں  نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے سناآپ نے فرمایاجبکہ آپ مسجدسے نکل رہے تھے اورمردعورتوں  کے درمیان راستے میں  گھس کرچل رہے تھے، تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں  سے فرمایاپیچھے پیچھے رہوتمہیں  مناسب نہیں  کہ راستے کے عین درمیان میں  چلوبلکہ راستے (اورگلی)کے اطراف میں  چلاکرو،چنانچہ یہ معمول بن گیاکہ عورتیں  دیوارکے ساتھ لگ کرچلاکرتی تھیں  حتی کہ اس کاکپڑادیوارکے ساتھ اٹک اٹک جاتاتھااس لیے کہ وہ دیوارکے ساتھ لگ کرچلتی تھیں ۔[87]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اس بات کوبھی ناپسندکرتے تھے کہ عورتیں  بلاضرورت اپنی آوازمردوں  کوسنائیں ۔

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:التَّسْبِیحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِیقُ لِلنِّسَاءِ

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا(نمازمیں  اگرکوئی بات پیش آجائے تو)مردوں  کوسبحان اللہ کہنااورعورتوں  کوہاتھ پرہاتھ مارکریعنی تالی بجا کر امام کواطلاع دینی چاہیے۔[88]

أَبَا أُمَامَةَ یَقُولُ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:اكْفُلُوا لِی بِستّ أَكْفُلْ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ،  إِذَا حدَّث أَحَدُكُمْ فَلَا یَكْذِبْ،وَإِذَا اؤْتُمِنَ فَلَا یَخُن،وَإِذَا وَعَد فَلَا یُخْلِفْ،وغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وكُفُّوا أَیْدِیَكُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ

ابوامامہ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کوفرماتے ہوئے سناآپ فرمارہے تھےتم مجھےچھ چیزوں  کے ضمانت دومیں  تمہیں  جنت کی ضمانت دیتاہوں ، جب بات کرو توجھوٹ نہ بولواورامانت میں  خیانت نہ کرواوروعدہ خلافی نہ کرواوراپنی نظریں  نیچی رکھواورہاتھوں  کوظلم سے بچائے رکھواوراپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کرو۔[89]

اے مومنو!دورجاہلیت میں  تم سب جولغزشیں  اورغلطیاں  کرتے رہے ہواس پر تم سب مل کراللہ سے توبہ کرو اور جاہلیت کی تمام بدخصلتوں  سے باز آجاؤ، اگر تم ایساکروگے توقع ہے کہ فلاح ونجات پاؤگے۔

وَأَنْكِحُوا الْأَیَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ یَكُونُوا فُقَرَاءَ یُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ‎﴿٣٢﴾(النور)
’’تم سے جو مرد عورت بےنکاح ہوں ان کا نکاح کردو اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی، اگر وہ مفلس بھی ہونگیں تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا، اللہ تعالیٰ کشادگی والا علم والا ہے۔‘‘

نکاح کاحکم اوروعدہ غناء:زناکے نقصانات بیان کرنے کے بعداللہ تعالیٰ نے سرپرستوں  کوحکم فرمایاکہ مردجس کی بیوی نہ ہویعنی وہ کنواراہویارنڈواہواورعورت جس کاخاوندنہ ہویعنی وہ کنواری ہویابیوہ یا مطلقہ ہو اوراپنے لونڈی اور غلاموں  کاجن کارویہ ٹھیک ہواور تم ان میں  یہ صلاحیت محسوس کروکہ وہ ازواجی زندگی نباہ لیں  گے توان کے نکاح کی فکرکرو کیونکہ عفت وعصمت کی حفاظت کاسب سے بڑاذریعہ اوران کی جنسی خواہشات کی تسکین کا بہترین حل یہی ہوسکتاہے ،ان کی غربت اورتنگ دستی نکاح میں  مانع نہیں  ہونی چاہیے، اگرخاونداورنکاح کرنے والے غریب اورتنگ دست ہوں  گے تواللہ اپنے فضل وکرم سے ان کے رزق میں  وسعت اورفراخی پیدافرمادے گا ،

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: {وَأَنْكِحُوا الْأَیَامَى مِنْكُمُ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ} قَالَ: أَمَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ بِالنِّكَاحِ، وَرَغَّبَهُمْ فِیهِ , وَأَمَرَهُمْ أَنْ یُزَوِّجُوا أَحْرَارَهُمْ وَعَبِیدَهُمْ، وَوَعَدَهُمْ فِی ذَلِكَ الْغِنَى

عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  آیت کریمہ’’تم میں  سے جو لوگ مجرد ہوں  اور تمہارے لونڈی غلاموں  میں  سے جو صالح ہوں  ان کے نکاح کردو۔‘‘کے بارے میں  فرماتے ہیں  اللہ تعالیٰ نے نکاح کاحکم فرمایاہےاور شادی کی ترغیب دی ہے ،اور آزادغلام سب لوگوں  کوشادی کاحکم دیاہے اورشادی کرنے کی وجہ سے خوش حالی کاوعدہ فرمایاہے ۔[90]

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ثَلاَثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللهِ عَوْنُهُمْ،الْمُجَاهِدُ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالمُكَاتَبُ الَّذِی یُرِیدُ الأَدَاءَوَالنَّاكِحُ الَّذِی یُرِیدُ العَفَافَ

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاتین شخص ہیں  جن کی اللہ ضرور مدد فرماتا ہےاللہ کی راہ میں  جہاد کرنے والامکاتب غلام جوادائیگی کی نیت رکھتاہے  اورنکاح کرنے والاجوپاک دامنی کی نیت سے نکاح کرے۔[91]

عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ، قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّیقَ، رَضِیَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَطِیعُوا اللهَ فِیمَا أَمَرَكُمْ بِهِ مِنَ النِّكَاحِ، یُنْجِزْ لَكُمْ مَا وَعَدَكُمْ مِنَ الْغِنَى

سعیدبن عبدالعزیزکہتے ہیں   سیدناابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ کاقول ہے تم نکاح کے بارے میں  اللہ تعالیٰ حکم مانو اللہ تعالیٰ کا تم سے اپناغنی کاوعدہ پورافرمائے گا۔[92]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: الْتَمِسُوا الْغِنَى فِی النِّكَاحِ ، یَقُولُ اللهُ تَعَالَى:إِنْ یَكُونُوا فُقَرَاءَ یُغْنِهِمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ

عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہما کاقول ہے نکاح کے ساتھ خوش حالی کوتلاش کروکیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے اگروہ غریب ہوں  تواللہ اپنے فضل سے ان کوغنی کردے گا۔[93]

جاء رجل الی النبی  صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یشکوا لفقر فقال علیہ الصلاة والسلام تزوج ،  فتزوج،ثم جاء الیہ ثانیة یشکوا لفقر،فقال لہ تزوج،فتزوج ،ثم جاء الیہ ثالثا یشکو الفقر، فقال لہ تزوج، فتزوج ، ثم جاء الیہ رابعا یشکوا لفقر، فقال لہ تزوج، فتزوج الرابعة،   وکانت تحسن الغزل، فعلمت ثلاث النسوة الغزل والنسیج ، فانفرجت ضائقة الرجل وصارمن الاغنیاء لانہ اصبح مدیرمصنع تعمل فیہ زوجاتہ

اس بارے میں ایک روایت ہےایک شخص نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت اقدس میں  حاضرہوااوراپنی تنگ دستی کاذکرکیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاشادی کر لو، اس نے شادی کرلی،پھروہ دوسری مرتبہ حاضرحدمت ہوااوراپنی تنگ دستی کاشکوہ کیا،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاشادی کرلو،اس نے شادی کرلی، پھروہ تیسری مرتبہ حاضرحدمت ہوااوراپنی تنگ دستی کاشکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاشادی کرلو،اس نے شادی کرلی، پھروہ چوتھی مرتبہ حاضرحدمت ہوا اور اپنی تنگ دستی کاشکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاشادی کرلو،اس نے چوتھی شادی کرلی، وہ عورت سلائی کڑھائی کاکام جانتی تھی،اس نے پہلی تین عورتوں  کوبھی کام سکھایا اس طرح اس کی تنگ دستی ختم ہوگئی اوروہ غنی ہوگیا ۔[94]

شیخ البانی رحمہ اللہ  نے اسے ضعیف قراردیاہے۔

اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بھلائی اورفضل عظیم کامالک ہے اوران سب کوجانتاہے جوفضل وکرم کے مستحق ہیں ۔

وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِینَ لَا یَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ یُغْنِیَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِینَ یَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیهِمْ خَیْرًا ۖ وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِی آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَیَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا ۚ وَمَنْ یُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ ‎﴿٣٣﴾‏ (النور)
’’ اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں سے جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو، اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی دو ، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کر دے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘

بحالت مجبوری عفت کی تاکید:کیونکہ نکاح سے عفت وہ عصمت کی حفاظت ہوتی ہے اورآدمی حرام کاری سے بچ جاتاہے اس سلسلہ میں  فرمایااورجونکاح کاموقع نہ پائیں  انہیں  چاہیے کہ جب تک شادی کی استطاعت حاصل نہ ہوجائے عفت آبی اختیار کریں  یہاں  تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کوغنی کردے،جیسے فرمایا

وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ۝۰ۭ وَاللہُ اَعْلَمُ بِـاِیْمَانِكُمْ۝۰ۭ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ۝۰ۚ فَانْكِحُوْھُنَّ بِـاِذْنِ اَھْلِہِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ۝۰ۚ فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ۝۰ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ۝۰ۭ وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۝۲۵ۧ [95]

ترجمہ:اور جو شخص تم میں  سے اتنی طاقت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتو ں (محصنات) سے نکاح کر سکے اسے چاہیے کہ تمہاری ان لونڈیوں  میں  سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں  ہوں  اور مومنہ ہوں ، اللہ تمہارے ایمانوں  کا حال خوب جانتا ہے ، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو لہٰذا ان کے سرپرستوں  کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کر لو اور معروف طریقہ سے ان کے مہر ادا کر دو تاکہ وہ حصار نکاح میں  محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں  آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں  اور نہ چوری چھپے آشنائیاں  کریں ، پھر جب وہ حصار نکاح میں  محفوظ ہو جائیں  اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں  تو ان پر اس سزا کی بنسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں  (محصنات) کے لیے مقرر ہے،یہ سہولت تم میں  سے ان لوگوں  کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔

عَنْ عِكْرِمَةَ، فِی قَوْلِهِ: {وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِینَ لَا یَجِدُونَ نِكَاحًا} قَالَ: هُوَ الرَّجُلُ یَرَى الْمَرْأَةَ فَكَأَنَّهُ یَشْتَهِی،فَإِنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ فَلْیَذْهَبْ إِلَیْهَا فَلْیَقْضِ حَاجَتَهُ مِنْهَا، وَإِنْ لَمْ یَكُنْ لَهُ امْرَأَةٌ فَلْیَنْظُرْ فِی مَلَكُوتِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى یُغْنِیَهُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ

عکرمہ  رحمہ اللہ نے آیت ’’اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں  ۔‘‘کے بارے میں  بیان کیاہے اس سے مرادوہ شخص ہے جوکسی عورت کودیکھتاہے تووہ خواہش کرنے لگتاہے تواس کے لیے حکم یہ ہے کہ اگربیوی ہے تووہ اس کے پاس جاکراس سے اپنی حاجت پوری کرلے،اوراگراس کی بیوی نہ ہوتووہ آسمانوں  اورزمین کی سلطنت دیکھے حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے غنی کردے۔[96]

اورجنسی خواہش کوقابوکرنے کے لئے روزہ بہترین زریعہ ہے،

فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:كُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لاَ نَجِدُ شَیْئًا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ البَاءَةَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ  لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ

عبداللہ  رضی اللہ عنہ  بن مسعودفرماتے ہیں ہم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں  نوجوان تھے اورہمیں  کوئی چیزمیسرنہیں  تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہم سےفرمایانوجوانوں کی جماعت!تم میں  جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہواسے نکاح کرلیناچاہیے کیونکہ یہ نظرکونیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والاعمل ہےاورجوکوئی نکاح کی(بوجہ غربت)طاقت نہ رکھتاہواسے چاہیے کہ(کثرت سے نفلی) روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کوتوڑدے گا۔ [97]

اورایک حدیث میں  نکاح کامقصدبھی بیان فرمایاکہ اس سے منشاتولدوتناسل اورنسل انسانی کی بقاہے تاکہ قوم کے افرادکی تعدادزیادہ سے زیادہ ہو،

أَنَّ  رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قال:تَزَوَّجوا، تَوَالَدُوا، تَنَاسَلُوا، فَإِنِّی مُبَاهٍ بِكُمُ الْأُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ

ایک روایت میں  ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاشادی کرو،نسل کوپروان چڑھاؤاوربڑھاؤپس بلاشبہ میں  تمہاری وجہ سے روزقیامت امتوں  پر فخرکروں  گا۔[98]

ضعیف روایت ہے۔

معاشرتی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے اسی مضمون کی ایک اور حدیث ہے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ، وَیَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْیًا شَدِیدًا، وَیَقُولُ: تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، إِنِّی مُكَاثِرٌ الْأَنْبِیَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ

انس بن مالک  رضی اللہ عنہما سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایانکاح کا حکم دیا کرتے اور تبتل سے سختی سے منع کرتےاورفرمایاایسی عورتوں  سے شادی کروجوبہت محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی ہوں  بلاشبہ میں  تمہاری کثرت سے دیگرامتوں  پرفخرکرنے والاہوں ۔[99]

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ یُعِینَهُ وَأَنْ یُبَارِكَ لَهُ،  مَنْ سَعَى فِی فِكَاكِ رَقَبَةٍ ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ یُعِینَهُ، وَأَنْ یُبَارِكَ لَهُ، وَمَنْ تَزَوَّجَ ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ یُعِینَهُ، وَأَنْ یُبَارِكَ لَهُ، وَمَنْ أَحْیَا أَرْضًا مَیِّتَةً ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ یُعِینَهُ، وَأَنْ یُبَارِكَ لَهُ

جابر  رضی اللہ عنہ  کا بیان ہےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاکہ جوشخص تین کام اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرکے کرے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کی مدد وبرکت فرمائےگا، جو غلام کو آزاد کرے اوردل میں  اس کی خوشنودی کاجذبہ رکھے تواللہ تعالیٰ پرحق ہے کہ وہ اس شخص کی مددکرے اوراس کوبرکت عطا کرے،اورجو شخص شادی کرے اوردل میں  اللہ کی خوشنودی کاجذبہ رکھے تواللہ تعالیٰ پرحق ہے کہ وہ اس شخص کی مددکرے اوراس کوبرکت عطا کرے،اور جو بنجر زمین کو آباد کرے اوردل میں  اللہ کی خوشنودی کاجذبہ رکھے تواللہ تعالیٰ پرحق ہے کہ وہ اس شخص کی مددکرے اوراس کوبرکت عطا کرے۔[100]

اسلام کیونکہ غلامی کی حوصلہ شکنی کرتاہے اس لئے مالکوں  کوتاکیدفرمائی کہ تمہارے غلاموں  میں  سے جواپنی آزادی کامعاوضہ اداکرنے کی پیشکش کرے اور تمہیں  معلوم ہوکہ ان کے اندرمال کمانے کی صلاحیت ہواوروہ مسلمانوں  کے خلاف دشمنی کے تلخ جذبات نہ رکھتاہو اوردیانت اور راست بازی ہوتو اس کے قول پراعتمادکرکے معاہدہ کیاجاسکے تومدت مقررکرکے ان کی درخواست قبول کرلو۔

یَحْیَى بْنُ أَبِی كَثِیرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: {فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیهِمْ خَیْرًا}، [101]، قَالَ:إِنْ عَلِمْتُمْ مِنْهُمْ حِرْفَةً، وَلَا تُرْسِلُوهُمْ كَلًّا عَلَى النَّاسِ

یحییٰ بن ابی کثیرسےمروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا’’ ان سے مکاتبت کرلو اگر تمہیں  معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے ۔‘‘ فرمایا اگر تمہیں  معلوم ہوکہ وہ کمانے کی صلاحیت رکھتاہے تومکاتبت کرلویہ نہ ہوکہ اسے لوگوں  سے بھیگ مانگتے پھرنے کے لئے چھوڑ دو۔[102]

أَنَّ سِیرِینَ، سَأَلَ أَنَسًا، المُكَاتَبَةَ  وَكَانَ كَثِیرَ المَالِ  فَأَبَى،فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: كَاتِبْهُ فَأَبَى، فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ،  وَیَتْلُو عُمَرُ: فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیهِمْ خَیْرًا

روایت ہےمحمدبن سیرین کے والد سیرین نے جو مالدار تھے اپنے آقاانس  رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کی درخواست کی لیکن انس  رضی اللہ عنہ  نے قبول کرنے سے انکارکردیا،اس پرسیرین سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کے پاس شکایت لے کرگئے، سیدناعمر  رضی اللہ عنہ نے(انس  رضی اللہ عنہ  سے )فرمایاکہ کتابت کامعاملہ کر لے ، انہوں  نے پھربھی انکارکردیاتوسیدناعمر  رضی اللہ عنہ نے انہیں  درے سے مارااوریہ آیت پڑھی ’’ ان سے مکاتبت کرلو اگر تمہیں  معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے ۔‘‘چنانچہ انس  رضی اللہ عنہ  نے کتابت کامعاملہ کرلیا۔[103]

اوراگراللہ تعالیٰ نے تمہیں  صاحب حیثیت بنایاہے توتم بھی اس کے ساتھ مالی تعاون کرویاکچھ حصہ معاف کر دوتاکہ وہ اپنے قدموں  پرکھڑے ہو سکیں ،جیسے فرمایا

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِیْلِ۝۰ۭ فَرِیْضَةً مِّنَ اللهِ۝۰ۭ وَاللهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۝۶۰ [104]

ترجمہ:یہ صدقات تو دراصل فقیروں  اور مسکینوں  کے لیے ہیں  اور ان لوگوں  کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں  ، اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو ،نیز یہ گردنوں  کے چھڑانے اور قرض داروں  کی مدد کرنے میں  اوراللہ کی راہ میں  اور مسافر نوازی میں  استعمال کرنے کے لیے ہیں ،ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔

ایک مقام پرفرمایا

فَكُّ رَقَبَةٍ۝۱۳ۙ [105]

ترجمہ:کسی گردن کو غلامی سے چُھڑانا ۔

عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِیٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِی عَمَلًا یُدْخِلُنِی الْجَنَّةَ، قَالَ: لَئِنْ كُنْتَ أَقَصَرْتَ الْخُطْبَةَ، لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ،قَالَ: أَوَلَیْسَا وَاحِدًا؟قَالَ: لَا عِتْقُ النَّسَمَةِ: أَنْ یَنْفَرِدَ بِعِتْقِهَا، وَفُكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ یُعِینَ فِی ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ،قَالَ:وَالْفَیْءُ عَلَى ذِی الرَّحِمِ الظَّالِمِ،فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ، فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ،فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ، فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَیْرٍ

براء بن عازب  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےایک اعرابی نے آکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے عرض کیامجھے وہ عمل بتائیے جومجھے جنت میں  پہنچا دے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تو نے بڑے مختصرالفاظ میں  بہت بڑی بات پوچھ ڈالی،غلام آزادکراورغلاموں  کوآزادی حاصل کرنے میں  مدددے،اس نے کہاکیا ایک نہیں ؟فرمایاغلام کو آزاد کرنا صرف یہی نہیں  کہ اسے آزاد کر دیا جائے بلکہ کسی غلام کو آزاد کرنے میں  اگر قیمت کی ضرورت پڑے تو بھی دے،کسی کوجانوردے توخوب دودھ دینے والادے،اورفرمایا تیراجورشتہ دارتیرے ساتھ ظلم سے پیش آئے اس کے ساتھ نیکی کر،اوراگریہ نہیں  کرسکتاتوبھوکے کوکھاناکھلا،پیاسے کوپانی پلا،بھلائی کی تلقین کراوربرائی سے منع کر،اوراگریہ بھی نہیں  کرسکتا تو اپنی زبان کوروک کررکھ ، اگریہ کھلے توبھلائی کے لئے کھلے ورنہ بندرہے۔[106]

چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اپنے مکاتبوں  کاکچھ حصہ معاف کر دیاکرتے تھے۔

عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ: فِی قَوْلِ اللَّهِ: {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِی آتَاكُمْ}،[107]] قَالَ: رُبُعُ الْمُكَاتَبَةِ

سیدناعلی  رضی اللہ عنہ سے مروی ہےاللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق’’ اوران کواس مال میں  سے دو جو اللہ نے تمہیں  دیاہے۔‘‘  سیدناعلی  رضی اللہ عنہ ہمیشہ چوتھاحصہ معاف کردیاکرتے تھے۔ [108]

دورجاہلیت میں سب سے بری حالت مجبوراوربے کس لونڈیوں  کی تھی، لونڈیوں  کے حریص مالک دنیاکاحقیرفائدہ اورناپاک کمائی حاصل کرنے کے لئے اپنی جوان خوبصورت لونڈیوں  کو مجبورکرکے ان پریومیہ کچھ ٹیکس عائدکردیتے کہ وہ ہرروز اتنی رقم کما کراپنے مالک کودے گی یہ ٹیکس انہیں  اپنے مالکوں  کوادا کرنا پڑتا تھا خواہ کسی طریقہ سے وہ کماکر لائیں  ، کیونکہ وہ کسی اورطریقہ سے اتنی بڑی رقم حاصل نہیں  کر سکتی تھی اس لئے اپنے مالک کا مطالبہ پورا کرنے کے لئے کتنی ہی لونڈیاں  زناکا پیشہ اختیار کرتی تھیں  ،اس لئے ایک کھلا سا کرتا جس کے گریبان پر کوئی بندنہ ہوتاپہن کر،پاؤں  میں  پازیب پہن کربازاروں  میں  اپنے پاؤں  زمین پرمارکر تاکہ پازیب کی جھنکار لوگ سنیں  اورمتوجہ ہوں  جسم فروشی کے لئے پھرتی رہتیں ۔

ایک صورت یہ تھی کہ لونڈیوں  کے رئیس المنافقین عبداﷲ بن ابی جیسے مالک سردار جس نے چھ لونڈیوں  پر مشتمل مدینہ میں  ایک باقاعدہ چکلہ کھول رکھا تھا اپنی جوان وخوبصورت لونڈیوں  (قلیقیات )کو باقاعدہ ایک گھر (مواخیر) میں  بٹھاکران گھروں  پر جھنڈے لگا دیتے تاکہ دور سے ہی حاجت مند کو معلوم ہوجائے کہ وہ اپنی حاجت کہاں  پوری کرسکتا ہے،اس طرح لوگ جوان لونڈیوں  کے کسب سے دولت بھی حاصل کرتے ، اپنے دور دراز سے آئے ہوئے معززمہمانوں  کی خاطر تواضع بھی   کرتے، اور ان لونڈیوں  سے بچے ہونے کی صورت میں  لونڈیوں  اورغلاموں  کا اضافہ بھی ہو جاتا، تھاان میں  بعض لونڈیاں  خدمت نبوی میں  حاضرہوئیں  اور اپنی حسرت انگیزکہانی سنائی ،

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِی قَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:وَلا تُكْرِهُوا فَتَیَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ،قَالَ: نَزَلَتْ فِی عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَیٍّ، كَانَتْ عِنْدَهُ جَارِیَةٌ، وَكَانَ یُكْرِهُهَا عَلَى الزِّنَا فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:فَإِنَّ اللهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ

عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  اللہ تعالیٰ کے فرمان’’اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفور و رحیم ہے ۔‘‘کے بارے میں  کہتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں  نازل ہوئی اس کے پاس ایک لونڈی تھی اوروہ اسے زناکاری پرمجبورکرتاتھاتواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی’’ اورجوکوئی ان کومجبورکرے تواس جبرکے بعداللہ ان کے لیے غفورورحیم ہے۔‘‘[109]

عَنِ الزُّهْرِیِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ جَارِیَةٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَیٍّ یُقَالُ لَهَا: مُعَاذَةُ  یُكْرِهُهَا عَلَى الزِّنَا،فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلامُ نَزَلَتْ:: {وَلا تُكْرِهُوا فَتَیَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ}  إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ}

زہری رحمہ اللہ نے انس  رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک لونڈی تھی جس کانام معاذہ تھاوہ اسے بدکاری پرمجبورکیاکرتاتھا، جب اسلام آیاتویہ آیت کریمہ نازل ہوئی’’ اوراپنی لونڈیوں  کواپنے دینوی فائدوں  کی خاطرقجہ گری پرمجبورنہ کروجبکہ وہ خودپاک دامن رہناچاہتی ہوں  اورجوکوئی ان کومجبورکرے تواس جبرکے بعداللہ ان کے لیے غفورورحیم ہے۔‘‘[110]

 عَنْ جَابِرٍ فِی هَذِهِ الْآیَةِ:وَلا تُكْرِهُوا فَتَیَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِی أَمَةٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَیِّ بْنِ سَلُولٍ یُقَالُ لَهَا: مُسَیْكَة، كَانَ یُكْرِهُهَا عَلَى الْفُجُورِوَكَانَتْ لَا بَأْسَ بِهَا فَتَأْبَى ، فَأَنْزَلَ اللهُ، عَزَّ وَجَلَّ، هَذِهِ الْآیَةَ إِلَى قَوْلِهِ {وَمَنْ یُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ

اورجابرسے اس آیت’’اوراپنی لونڈیوں  کواپنے دینوی فائدوں  کی خاطرقجہ گری پرمجبورنہ کرو۔‘‘کے بارے میں  روایت ہےیہ آیت کریمہ عبداللہ بن ابی سلول کی لونڈی کے بارے میں  نازل ہوئی ہے جس کانام مسیکہ تھا وہ اسے بدکاری پرمجبورکرتااوروہ اچھی عورت تھی اس لیے وہ بدکاری سے انکارکردیتی تھی،تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت’’ اور اپنی لونڈیوں  کو اپنے دنیوی فائدوں  کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ، اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفور و رحیم ہے۔‘‘ نازل فرمائی۔‘‘[111]

فَأَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ , فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَیْهِ

اورتفسیرطبری میں  یہ اضافہ ہے یہ لونڈی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں  حاضرہوئی اوراس بارے میں  شکایت کی۔[112]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَوْلُهُ:وَلَا تُكْرِهُوا فَتَیَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا، یَقُولُ: وَلَا تُكْرِهُوا إِمَاءَكُمْ عَلَى الزِّنَا فَإِنْ فَعَلْتُمْ فَإِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ لَهُنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ، وَإِثْمُهُنَّ عَلَى مَنْ أَكْرَهَهُنَّ

عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  سے آیت’’ اور اپنی لونڈیوں  کو اپنے دنیوی فائدوں  کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ۔‘‘ کے بارے میں  روایت ہے، انہیں  زناپرمجبورنہ کرو اگرتم نے ایساکیاتواللہ تعالیٰ انہیں  بخشنے والامہربان ہے اوران کا گناہ اسے ہوگاجوان کومجبورکرے گا۔[113]

یعنی یہ سب روایات رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول ہی کے بارے میں  ہیں ۔

چنانچہ اسلام نے اپنے فرزندوں  اوراپنی دختروں  کواس پستی سے نکالااور اورقحبہ گری کے کاروبار کو بالکل خلاف قانون قراردینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل فرمایا اوراپنی لونڈیوں  کواپنے دینوی فائدوں  کی خاطرقجہ گری،بدکاری پر مجبور نہ کرواگروہ خوداپنی مرضی سے اس بدکاری کی مرتکب ہوگی تواپنے جرم کی وہ خودذمہ دارہوگی ، قانون اس کے جرم پراس کوپکڑے گا لیکن اگراس کامالک ان کی مرضی کے خلاف ان کومجبورکرے گا تواس ظلم و جبرکے بعداللہ تعالیٰ ان لونڈیوں  کوتوبخش دے گامگران پرجبرکرنے والے مالکوں  پرگرفت کرے گا اور انہیں  دردناک عذاب سے دوچارکرے گا ،

عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ:أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ، وَمَهْرِ البَغِیِّ، وَحُلْوَانِ الكَاهِنِ

عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہما سے مروی ہےرسول اللہ؍ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کتے کی قیمت ،بدکارعورت کے مہراورکاہن کی مٹھائی سے(بھی )منع فرمایاہے۔[114]

أَبَا هُرَیْرَةَ، قَالَ:نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، وَكَسْبِ الْبَغِیِّ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے ایک روایت میں  ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سینگی لگانے والے کی کمائی،بدکارعورت کی کمائی اورکتے کی قیمت سے منع فرمایاہے۔[115]

حَدَّثَنِی رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ،عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِیثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِیِّ خَبِیثٌ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِیثٌ

اوررافع بن خدیج سے مروی ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کتے کی قیمت ناپاک ہےاوربدکارعورت کی کمائی ناپاک ہے اورسینگی لگانے والے کی کمائی ناپاک ہے۔[116]

عَنْ أَبِی ذَرٍّ الْغِفَارِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللهَ قَدْ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِی الْخَطَأَ، وَالنِّسْیَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَیْهِ

ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااللہ تعالیٰ نے میری امت کوبھول چوک اورجس پر زبردستی کی جائے معاف کردیاہے۔[117]

[1] تفسیرابن ابی حاتم۲۵۶۵؍۸

[2] تفسیرطبری۱۴۷؍۱۹

[3] النور: 27

[4] تفسیرطبری۱۴۷؍۱۹، تفسیرالقرطبی۲۱۳؍۱۲

[5] تفسیر طبری ۱۴۸؍۱۹،مسنداحمد۳۶۱۵

[6] موطاامام مالک کتاب الإستئذان باب الاسْتِئْذَانُ۱۷۶،السنن الکبری للبیہقی۱۳۵۵۸

[7] تفسیرطبری۱۴۸؍۱۹

[8] سنن ابوداودکتاب الادب بَابُ كَیْفَ الِاسْتِئْذَانُ۵۱۷۷

[9] مسند احمد ۲۷۵۶،سنن ابوداودکتاب الادب بَابٌ فِی الرَّجُلِ یُفَارِقُ الرَّجُلَ ثُمَّ یَلْقَاهُ أَیُسَلِّمُ عَلَیْهِ؟۵۲۰۱، تفسیر القرطبی۲۱۷؍۱۲

[10] تفسیرطبری ۱۴۶؍۱۹، تفسیرالقرطبی ۲۱۵؍۱۲

[11]موطاامام مالک کتاب الإستئذان باب الاسْتِئْذَانُ۱۷۷

[12] اسدالغابة ۴۴۱؍۲،تاریخ دمشق لابن عساکر۲۵۳؍۲۰،شرف المصطفی۳۷۲؍۴

[13] سنن ابوداود کتاب الادب بَابُ كَمْ مَرَّةً یُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِی الِاسْتِئْذَانِ ۵۱۸۶

[14] صحیح بخاری كِتَابُ الدِّیَاتِ باب من اطلع فی بیت قوم ففقوواعینہ فلادیة لہ۶۹۰۲،صحیح مسلم کتاب الاداب بَابُ تَحْرِیمِ النَّظَرِ فِی بَیْتِ غَیْرِهِ ۵۶۴۳

[15] صحیح بخاری کتاب الاستئذان بَابُ إِذَا قَالَ مَنْ ذَا؟ فَقَالَ أَنَا۶۲۵۰،صحیح مسلم كتاب الْآدَابِ بَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا إِذَا قِیلَ مَنْ هَذَا ۵۶۳۷،جامع ترمذی أَبْوَابُ الاِسْتِئْذَانِ وَالآدَابِ بَابُ مَا جَاءَ فِی التَّسْلِیمِ قَبْلَ الاِسْتِئْذَانِ۲۷۱۱،سنن ابوداودکتاب الادب بَابُ الرَّجُلِ یَسْتَأْذِنُ بِالدَّقِّ۵۱۸۷،سنن ابن ماجہ کتاب الادب بَابُ الِاسْتِئْذَانِ ۳۷۰۹، مسند احمد ۱۴۹۰۹، صحیح ابن حبان۵۸۰۸،السنن الکبری للبیہقی۱۷۶۷۰، شعب الایمان۸۴۴۳، شرح السنة للبغوی ۳۳۲۴

[16] صحیح بخاری کتاب الاستئذان بَابُ التَّسْلِیمِ وَالِاسْتِئْذَانِ ثَلاَثًا ۶۲۴۵ ، صحیح مسلم کتاب الاداب باب الاستئذان۵۶۲۶ ،سنن ابوداودکتاب الادب باب کم مرة یسلم الرجل فی الاستئذان ۵۱۸۰،مسنداحمد۱۱۰۲۹،سنن الدارمی ۲۶۷۱

[17] مسنداحمد۱۲۴۰۶

[18] صحیح بخاری كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ باب قول لہ اللہ تعالیٰ یٰایھاالذین آمنوا لاتدخلوا بیوتا غیربیوتکم۶۲۲۹،صحیح مسلم کتاب اللباس بَابُ النَّهْیِ عَنِ الْجُلُوسِ فِی الطُّرُقَاتِ وَإِعْطَاءِ الطَّرِیقِ حَقَّهُ۵۵۶۳ ، سنن ابوداودکتاب الادب بَابٌ فِی الْجُلُوسِ فِی الطُّرُقَاتِ ۴۸۱۵،مسنداحمد۱۱۳۰۹

[19] معجم الصحابہ للبغوی ۳۸۴؍۳،المعجم الکبیرللطبرانی۸۰۱۸

[20] صحیح بخاری کتاب القدر بَابُ قول اللہ وَحَرَامٌ عَلَى قَرْیَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لاَ یَرْجِعُونَ۶۶۱۲،صحیح مسلم كتاب الْقَدَرِ بَابُ قُدِّرَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا وَغَیْرِهِ۶۷۵۳، مسنداحمد۸۹۳۲

[21] صحیح مسلم کتاب الاداب بَابُ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ۵۶۴۴، مسند احمد ۱۹۱۶۰، صحیح ابن حبان۵۵۷۱،مستدرک حاکم ۳۴۹۸

[22] مسنداحمد۲۲۹۹۱،سنن ابوداودكِتَاب النِّكَاحِ بَابُ مَا یُؤْمَرُ بِهِ مِنْ غَضِّ الْبَصَرِ ۲۱۴۹

[23] شعب الایمان۷۳۹۹

[24] مسند احمد ۲۲۲۷۸،المعجم الکبیر للطبرانی ۷۸۴۲

[25] المعجم الکبیرللطبرانی۱۰۳۶۲، مستدرک حاکم۷۸۷۵،مسند الشهاب القضاعی۲۹۲

[26] صحیح بخاری کتاب الرقاق بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ۶۴۷۴ ،جامع ترمذی ابواب الزھدبَابُ مَا جَاءَ فِی حِفْظِ اللِّسَانِ۲۴۰۸، مسنداحمد ۲۲۸۲۳، مستدرک حاکم ۸۰۶۵

[27] المومنون۵

[28] مسنداحمد۲۰۰۳۴،سنن ابوداودكِتَاب الْحَمَّامِ بَابُ مَا جَاءَ فِی التَّعَرِّی۴۰۱۷، جامع ترمذی أَبْوَابُ الأَدَبِ بَابُ مَا جَاءَ فِی حِفْظِ العَوْرَةِ ۲۷۶۹،سنن ابن ماجہ كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ التَّسَتُّرِ عِنْدَ الْجِمَاعِ ۱۹۲۰،السنن الکبری للنسائی۸۹۲۳

[29] جامع ترمذی أَبْوَابُ الزُّهْدِ بَابُ مَا جَاءَ فِی حِفْظِ اللِّسَانِ۲۴۰۶

[30] جامع ترمذی أَبْوَابُ الزُّهْدِ بَابُ مَا جَاءَ فِی حِفْظِ اللِّسَانِ۲۴۰۹

[31] المعجم الکبیرللطبرانی ۷۸۴۰

[32] المخلصیات ۲۸۱۹ ،الجہادلابن ابی عاصم ۱۴۸

[33] صحیح مسلم کتاب الرقاق بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَیَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ ۶۹۴۸

[34] صحیح مسلم کتاب الرقاق بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَیَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ ۶۹۴۵،صحیح بخاری كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ مَا یُتَّقَى مِنْ شُؤْمِ المَرْأَةِ۵۰۹۶،جامع ترمذی أَبْوَابُ الأَدَبِ بَابُ مَا جَاءَ فِی تَحْذِیرِ فِتْنَةِ النِّسَاءِ۲۷۸۰

[35] التوحیدلابن خزیمة۷۵۸؍۲،سلسلة الأحادیث الصحیحة۵۹۱

[36] سنن ابن ماجہ كِتَابُ الْفِتَنِ بَابُ فِتْنَةِ النِّسَاءِ۳۹۹۹

[37] المومن۱۹

[38] الکبائرللذھبی۵۹؍۱،الزواجرعن افتراف الکبائر۲۳۳؍۲

[39] تفسیرالمنار۴۵۷؍۹

[40] تفسیرابن ابی حاتم ۲۵۷۳؍۸،تفسیرابن کثیر۴۴؍۶

[41] سنن ابوداودکتاب الباس بَابٌ فِی قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ۴۱۱۲،جامع ترمذی ابواب الادب بَابُ مَا جَاءَ فِی احْتِجَابِ النِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ۲۷۷۸

[42] تلخیص الحبیر۱۴۸۸

[43] مستدرک حاکم۱۶۶۸

[44] المعجم الکبیرللطبرانی ۷۸۴۰

[45] مسند احمد ۸۵۲۶

[46]۔تفسیرابن کثیر۴۶؍۶

[47] عمدة القاری شرح صحیح بخاری۹۲؍۱۹

[48] فتح الباری۴۸؍۱۰

[49] صحیح بخاری كِتَابُ تَفْسِیرِ القُرْآنِ سورة النور بَابُ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُیُوبِهِنَّ بَابُ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُیُوبِهِنَّ۴۷۵۸

[50] الاحزاب۵۹

[51] صحیح بخاری کتاب التفسیرسورة النوربَابُ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُیُوبِهِنَّ ۴۷۵۸،۴۷۵۹

[52] سنن ابوداودکتاب اللباس بَابٌ فِی قَوْلِهِ تَعَالَى یُدْنِینَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیبِهِنَّ۴۱۰۰

[53] جلباب المرأة المسلمة فی الکتاب والسنة۱۲۶؍۱،موطاامام مالک اللِّبَاسُ کتاب مَا یُكْرَهُ لِلنِّسَاءِ لِبَاسُهُ مِنَ الثِّیَابِ،السنن الکبری للبیہقی۳۲۶۵،شرح السنة للبغوی۳۰۸۳

[54] أضواء البیان فی إیضاح القرآن بالقرآن ۲۴۹؍۶

[55] تفسیرابن ابی حاتم۱۴۴۰۶،۲۵۷۵؍۸

[56] الأحزاب: 59

[57] سنن ابوداودکتاب اللباس بَابٌ فِی قَوْلِهِ تَعَالَى یُدْنِینَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیبِهِنَّ۴۱۰۱

[58] سنن ابوداودکتاب اللباس بَابٌ فِی لِبْسِ الْقَبَاطِیِّ لِلنِّسَاءِ۴۱۱۶

[59] ابن سعد۱۹۹؍۸

[60] تفسیرطبری ۔جامع البیان۱۵۶؍۱۹

[61] مستدرک حاکم ۳۴۹۹

[62] تفسیرابن کثیر۴۵۶؍۶

[63] صحیح بخاری کتاب باب لاَ تُبَاشِرِ المَرْأَةُ المَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَ۵۲۴۰،جامع ترمذی ابواب الادب بَابٌ فِی كَرَاهِیَةِ مُبَاشَرَةِ الرِّجَالِ الرِّجَالَ وَالمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ ۲۷۹۲،السنن الکبری للنسائی ۹۱۸۷،صحیح ابن حبان۴۱۶۱،شرح السنة للبغوی۲۲۴۹، مسند احمد ۳۶۰۹،معجم ابن عساکر۱۱۸۷

[64] فتح الباری ۳۳۸؍۹

[65] صحیح مسلم کتاب السلام بَابُ مَنْعِ الْمُخَنَّثِ مِنَ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ الْأَجَانِبِ ۵۶۹۰

[66] ۔سنن ابوداودکتاب اللباس بَابٌ فِی الْعَبْدِ یَنْظُرُ إِلَى شَعْرِ مَوْلَاتِهِ ۴۱۰۶

[67] مصنف ابن ابی شیبة۲۰۵۸۲

[68] صحیح بخاری کتاب بَابُ لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا ذُو مَحْرَمٍ، وَالدُّخُولُ عَلَى المُغِیبَةِ۵۲۳۲ ،صحیح مسلم کتاب السلام بَابُ تَحْرِیمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِیَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَیْهَا۵۶۷۴،مصنف ابن ابی شیبة ۱۷۶۵۹، مسنداحمد۱۷۳۴۷،سنن الدارمی ۲۶۸۴

[69] صحیح مسلم كتاب السَّلَامِ بَابُ تَحْرِیمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِیَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَیْهَا۵۶۷۶

[70] فتح الباری۳۳۱؍۹

[71] فتح الباری۳۳۱؍۹

[72] فتح الباری۳۳۲؍۹

[73] فتح الباری۳۳۲؍۹

[74] فتح الباری ۳۳۲؍۹

[75] فتح الباری۳۳۲؍۹

[76] صحیح بخاری كتاب جزاء الصید بَابُ حَجِّ النِّسَاءِ۱۸۶۲،وكِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّیَرِ بَابُ مَنِ اكْتُتِبَ فِی جَیْشٍ فَخَرَجَتِ امْرَأَتُهُ حَاجَّةً، أَوْ كَانَ لَهُ عُذْرٌ، هَلْ یُؤْذَنُ لَهُ ۳۰۰۶،وكِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا ذُو مَحْرَمٍ، وَالدُّخُولُ عَلَى المُغِیبَةِ ۵۲۳۳،صحیح مسلم كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَیْرِهِ۳۲۷۲

[77] صحیح مسلم كتاب السَّلَامِ بَابُ تَحْرِیمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِیَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَیْهَا۵۶۷۷

[78] جامع ترمذی ابواب الفتن بَابُ مَا جَاءَ فِی لُزُومِ الجَمَاعَةِ ۲۱۶۵، مسنداحمد۱۷۷،مستدرک حاکم۳۸۷،شرح السنة للبغوی۲۲۵۳

[79] صحیح مسلم کتاب السلام بَابُ تَحْرِیمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِیَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَیْهَا۵۶۷۳

[80] صحیح مسلم كتاب السَّلَامِ بَابُ تَحْرِیمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِیَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَیْهَا۵۶۷۷،مسنداحمد۶۷۴۴

[81] جامع ترمذی أَبْوَابُ الرَّضَاعِ بَابُ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِیَةِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِیبَاتِ۱۱۷۲

[82] تفسیرالزمحشری ۔الكشاف عن حقائق غوامض التنزیل۲۳۰؍۳

[83] تفسیرابن کثیر۴۹؍۶

[84] جامع ترمذی ابواب الادب بَابُ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِیَةِ خُرُوجِ الْمَرْأَةِ مُتَعَطِّرَةً ۲۷۸۶،سنن نسائی کتاب الزینة باب مَا یُكْرَهُ لِلنِّسَاءِ مِنَ الطِّیبِ۵۱۲۹،سنن ابوداودكِتَاب التَّرَجُّلِ بَابُ مَا جَاءَ فِی الْمَرْأَةِ تَتَطَیَّبُ لِلْخُرُوجِ ۴۱۷۳

[85] سنن ابوداودکتاب الترجل بَابُ مَا جَاءَ فِی الْمَرْأَةِ تَتَطَیَّبُ لِلْخُرُوجِ۴۱۷۴ ، سنن ابن ماجہ کتاب الفتن بَابُ فِتْنَةِ النِّسَاءِ۴۰۰۲

[86] سنن ابوداودکتاب بَابُ مَا جَاءَ فِی خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ۵۶۵،مسنداحمد۱۰۸۳۵

[87] سنن ابوداودکتاب الادب بَابٌ فِی مَشْیِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ فِی الطَّرِیقِ ۵۲۷۲

[88]صحیح بخاری ابواب العمل فی الصلاةبَابُ التَّصْفِیقِ لِلنِّسَاءِ۱۲۰۳، صحیح مسلم کتاب الصلاة بَابُ تَسْبِیحِ الرَّجُلِ وَتَصْفِیقِ الْمَرْأَةِ إِذَا نَابَهُمَا شَیْءٌ فِی الصَّلَاةِ۹۵۴،جامع ترمذی ابواب الصلوٰة بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ التَّسْبِیحَ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِیقَ لِلنِّسَاءِ۳۶۹،سنن ابوداودکتاب الصلاة بَابُ التَّصْفِیقِ فِی الصَّلَاةِ۹۳۹،سنن ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوٰة بَابُ التَّسْبِیحِ لِلرِّجَالِ فِی الصَّلَاةِ وَالتَّصْفِیقِ لِلنِّسَاءِ ۱۰۳۴، مسنداحمد۷۵۵۰

[89] المعجم الاوسط۲۵۳۹

[90] تفسیرطبری۱۶۶؍۱۹،تفسیرابن ابی حاتم۲۵۸۲؍۸

[91] جامع ترمذی ابواب فضائل الجہادبَابُ مَا جَاءَ فِی الْمُجَاهِدِ وَالنَّاكِحِ وَالمُكَاتَبِ وَعَوْنِ اللهِ إِیَّاهُمْ ۱۶۵۵،سنن ابن ماجہ كِتَابُ الْعِتْقِ بَابُ الْمُكَاتَبِ ۲۵۱۸،السنن الکبری للنسائی۵۳۰۷ ، مسند احمد ۹۶۳۱

[92] تفسیرابن ابی حاتم ۱۴۴۴۹، ۲۵۸۲؍۸

[93] تفسیرابن کثیر۵۱؍۶،تفسیرطبری ۱۶۶؍۱۹، تفسیرابن ابی حاتم۸۶۸؍۳

[94] سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة وأثرها السیئ فی الأمة ۴۰۹؍۷

[95] النسائ۲۵

[96] تفسیرابن ابی حاتم۲۵۸۲؍۸

[97] صحیح بخاری کتاب النکاح بَابُ مَنْ لَمْ یَسْتَطِعِ البَاءَةَ فَلْیَصُمْ۵۰۶۶، صحیح مسلم کتاب النکاح بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَیْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ ۳۳۹۸،سنن ابوداود کتاب النکاح بَابُ التَّحْرِیضِ عَلَى النِّكَاحِ ۲۰۴۶ ، مسنداحمد۴۰۲۳

[98] تفسیر ابن کثیر۵۱؍۶

[99] مسند احمد۱۲۶۱۳، مسند البزار ۶۴۵۶، صحیح ابن حبان ۴۰۲۸،المعجم الاوسط ۵۰۹۹، السنن الصغیرللبیہقی ۲۳۵۱،شعب الایمان۵۰۹۹

[100] المعجم الصغیر للطبرانی ۷۳۷، مجمع الفوائد ۴۰۹۷

[101] النور: 33

[102] المراسیل لابی داود۱۸۵،السنن الکبری للبیہقی۲۱۶۰۱،معرفة السنن والآثار۲۰۶۶۶

[103] صحیح بخاری کتاب المکاتب بَابُ المُكَاتِبِ، وَنُجُومِهِ فِی كُلِّ سَنَةٍ نَجْمٌ

[104] التوبة ۶۰

[105] البلد۱۳

[106] شعب الایمان۴۰۲۶

[107] النور: 33

[108] تفسیرطبری۱۷۲؍۱۹

[109] كشف الأستار عن زوائد البزار۶۱؍۳

[110] كشف الأستار عن زوائد البزار۶۱؍۳

[111] تفسیرابن ابی حاتم۲۵۸۸؍۸،السنن الکبری للنسائی۱۱۳۰۱

[112] تفسیرطبری۱۷۴؍۱۹

[113] تفسیرطبری۱۷۵؍۱۹،تفسیرابن ابی حاتم ۲۵۹۱؍۸

[114] صحیح بخاری كِتَابُ البُیُوعِ بَابُ ثَمَنِ الكَلْبِ ۲۲۳۷،صحیح مسلم كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ بَابُ تَحْرِیمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِیِّ، وَالنَّهْیِ عَنْ بَیْعِ السِّنَّوْرِ۴۰۰۹،السنن الکبری للنسائی۴۷۸۵

[115] مسنداحمد۷۹۷۶

[116] صحیح مسلم كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ بَابُ تَحْرِیمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِیِّ، وَالنَّهْیِ عَنْ بَیْعِ السِّنَّوْرِ۴۰۱۲

[117] سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق بَابُ طَلَاقِ الْمُكْرَهِ وَالنَّاسِی۲۰۴۴

Related Articles